ڈرواس سے جو وقت ہے آنے والا
Al-Risala, November 1998, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں حضرت آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بیان ہوا ہے۔ ان کا نام ہابیل اور قابیل قابیل ایک بات پر ہابیل سے غصہ ہو گیا۔ اس کے دل میں اپنے بھائی کے خلاف حسد اور بغض پیدا ہو گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ قابیل ایک روز ہابیل کو جان سے مارنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ ہابیل ایک مخلص اور پاک باز انسان تھا۔ قرآن کے بیان کے مطابق اس نے اپنے بھائی قابیل سے کہا کہ: اگر تم مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لئے تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی لے لے پھر تو آگ والوں میں شامل ہو جائے۔ اور یہی سزا ہے ظلم کرنے والوں کی۔
یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ......... کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ دینار۔ اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت میں نماز اور روزہ اور زکاہ کے ساتھ آئے۔ اسی کے ساتھ اس نے کسی کو گالی دی ہو کسی پر الزام لگایا ہو اور کسی کا مال کھایا ہو، اور کسی کا خون بہایا ہو اور کسی کو مارا ہو۔ تو اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن کے ساتھ اس نے زیادتی کی تھی۔ پھر اگر معاملہ برابر ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس کے اوپر ڈال دیئے جائیں گے۔ پھر اس کو آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ۴۱۸/۳)
یہ ایک نہایت سنگین صورت حال ہے جس سے آدمی کو ڈرنا چاہئے۔ آزمائش کے لئے بنائی گئی ہے۔ اس لئے یہاں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہے
اس آزادی کی بنا پر آدمی اکثر بے خوف ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہاں زیادتی کرنے والے کا ہاتھ فوراً پکڑا نہیں جاتا، اس لئے وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں جو چاہوں کروں، میرے لئے خطرہ کی کوئی بات نہیں۔
مگر یہ ایک انتہائی بھیانک بھول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے کسی عمل کا جو سخت انجام انسان کے سامنے آنے والا ہے، اگر وہ اس کو پیشگی طور پر جان لے تو وہ بولنے کے بجائے خاموشی کو پسند کرے۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں اس طرح رک جائیں جیسے کہ ان میں جان
قرآن و حدیث کے مذکورہ بیان کے مطابق، آج کی دنیا میں اگر کوئی شخص کسی آدمی کے خلاف زیادتی کرے، مثلاً وہ اس پر جھوٹا الزام لگائے، وہ اس کے مال و جائیداد پر ناحق قبضہ کرلے، وہ اس کی آبرو ریزی کرے، یا اور کسی قسم کی زیادتی کرے تو یہ معاملہ اسی دنیا میں ختم ہو جانے والا نہیں۔
موت کے بعد جب تمام لوگ قیامت میں اکٹھا کئے جائیں گے تو وہاں ظالم اور مظلوم کا مقدمہ خدا کی عدالت میں پیش ہوگا۔ وہاں ہر آدمی مجبور ہوگا کہ بے بسی کے ساتھ اپنے خلاف فیصلہ کو مان لے۔ خدا کے حکم کے مطابق اس وقت ایسا کیا جائے گا کہ ظالم کے اچھے اعمال اس سے لے کر مظلوم کے خانہ میں ڈال دیئے جائیں گے اور اگر ظالم کے پاس نیکیاں کم ہوں تو مظلوم کی برائیوں کو ظالم کے اوپر ڈال دیا جائے گا۔ اور اس کے بعد ظالم کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے گڑھے میں پھینک دیا جائے گا تا کہ وہ ابد تک اپنے کئے کی سزا بھگتار ہے- آدمی اگر اپنے قول و عمل کے اس بھیانک انجام کو سوچے جو کل سامنے آنے والا ہے تو اچانک اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔