سائنسی مزاج
Al-Risala, November 1998, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
۲ جون ۱۹۹۸ کو دور درشن (نئی دہلی) میں ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس میں چھ آدمی میرے سوا ایک مرکزی وزیر، ایک سوشل ایکٹوسٹ، ایک پروفیسر، ایک انگریزی جرنلسٹ اور ایک تعلیم یافتہ خاتون۔ اس کا موضوع سائنٹفک ٹیمپر (سائنسی مزاج) تھا۔ میں نے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے ۱۹۴۷ میں کہا تھا کہ ہمارے دیش کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ سائنٹفک ٹیمپر (سائنسی مزاج) ہے۔ مگر آزادی کے پچاس سال بعد بھی لوگوں میں سائنٹفک ٹیمپر پیدا نہ ہو سکا۔ اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو اس رخ پر ایجوکیٹ نہیں کیا گیا۔
میں نے کہا کہ سب سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ سائنٹفک ٹیمپر سے کیا مراد جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، اس سے مراد حقیقت پسند انہ نقطہ نظر (realistic پیغمبر اسلام ﷺ کی ایک دعا ہے۔ اس دعا میں آپ نے جن چیزوں کو خدا سے مانگا ان میں سے ایک یہ تھی: ! اللَّهُمَّ ارنا الاشیاء كماهی (اے خدا ، ہمیں چیزوں کو ویساہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں) اس کے مطابق ، سائنسی مزاج یا سائنسی سوچ کا مطلب ہے : جیسا ہے ویسا سوچنا (as it is thinking)
اس قسم کی سائنسی سوچ زندگی کے لئے بے حد اہم ہے، ایک فرد کے لئے بھی اور پوری قوم کے لئے بھی۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو ہم سے الگ اپنا وجود رکھتی ہے، اس کے اپنے قوانین ہیں۔ وہ خود اپنے اٹل اصولوں پر چل رہی ہے۔ ایسی حالت میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ اپنے آس پاس کی دنیا کو کھلے ذہن کے تحت دیکھا جائے ۔
قانون کو اس کی اصل صورت میں سمجھا جائے ۔ اسی سے وہ چیز پیدا ہو سکتی ہے جس کو حقیقت پسندانہ سوچ کہا جائے ۔ اس سے آدمی اس قابل ہو سکتا ہے کہ چیزوں کے بارے میں وہی رائے قائم کرے جو کہ بطور واقعہ ہونا چاہئے۔ اسی کا نام سائنسی مزاج ہے، اور وہی لوگ اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں جن کے اندر اس قسم کا مزاج پایا جاتا ہو۔ سائنسی سوچ دراصل اس سوچ کا نام ہے جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔ تعلق مادی دنیا سے بھی ہے اور انسانی دنیا سے بھی۔ مثال کے طور پر آپ کو ایک دریا کے اوپر پل بنانا ہے۔ اب سائنسی طریقہ یہ ہو گا کہ آپ موم کے ذریعہ اپنا یہ پل نہ بنائیں، بلکہ لوہے کے ذریعہ بنائیں۔ اسی طرح آپ کو غلہ کی فصل اگانی ہے تو آپ غلہ کا بیج زمین میں ڈالیں نہ کہ پتھر یا پلاسٹک کے ٹکڑے اپنے کھیت میں بکھیر دیں۔
یہی معاملہ انسانی دنیا کا بھی ہے۔ انسانی دنیا میں بھی کوئی نتیجہ اس وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب کہ اس میں متعلقہ حقائق کی پوری رعایت کی گئی ہو۔ بصورت دیگر ظاہری کوشش کے باوجود مطلوب نتیجہ نکلنے والا نہیں۔
آپ کسی کو اپنا حامی بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کے ضمیر کو متحرک کرنا ہو گا۔ آپ اس کی انا کو چوٹ پہنچائیں تو وہ برعکس طور پر آپ کا دشمن بن جائے گا۔ دوسروں سے کچھ پانا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ دوسروں کی نظر میں آپ دینے والے بن جائیں، کیونکہ لوگ اسی کو دیتے ہیں جس سے انہیں خود بھی مل رہا ہو۔ لوگوں کے درمیان عزت کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو تواضع کی روش اختیار کرنی پڑے گی۔ کیونکہ عزت کا مقام تواضع کرنے والے کو ملتا ہے نہ کہ گھمنڈ کرنے والے