سفر امریکہ ۴
Al-Risala, November 1998, pp. 18–25
By Maulana Wahiduddin Khan
، ستمبر کو دوبارہ مذکورہ ہندو صاحبان دو اور صاحبان کو لے کر آئے۔ یہ ڈاکٹرامت باروٹ (757-5382108 Tel) اور مسٹر جینت باروٹ (4830370 .Tel) تھے۔ ان لوگوں سے دیر تک بات ہوتی رہی۔ یہ سب سوادھیائے تحریک سے جڑے ہوئے لوگ ہیں۔ بتایا کہ پورے امریکہ میں سوادھیائے کے ۳۰ سنٹر (کیندر) ہیں۔
ڈاکٹر نجم اختر صاحب امریکہ میں اپنا موجودہ کام چھوڑ کر سعودی عرب کی ایک یونی ورسٹی میں جا رہے ہیں۔ وہاں وہ ٹیچنگ جاب کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے مقابلے میں امریکہ کی تنخواہ ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ انھوں نے جب یہاں کا کام چھوڑنے کے لیے کہا تو کمپنی کے یہودی چیرمین نے انھیں پیش کش کی کہ، ہم تمہاری سالانہ تنخواہ میں پانچ ہزار ڈالر زیادہ کر دیں گے، تم یہاں سے مت جاؤ۔
پھر ڈاکٹر نجم اختر صاحب کیوں یہاں سے جا رہے ہیں۔ اس کا دو سبب ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہاں کے آزاد ماحول میں ان کے بچے خراب ہو جائیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ کا جذبہ بہت قابل قدر ہے، مگر اس کا تعلق نقل مکانی سے نہیں۔ آپ اپنی اگلی نسل کو اس سے روک نہیں سکتے۔ بڑے ہونے کے بعد آپ کے بیٹے اور پوتے دوبارہ یہیں آئیں گے، جیسا کہ دوسروں کے بیٹے اور پوتے کر رہے ہیں۔
دوسری بات ان کے ذہن میں یہ ہے کہ امریکہ میں اپنی صلاحیتوں کو میں ”دشمن“ کے حق میں مفید بنا رہا ہوں یہاں اور بھی بہت سے نیک دل مسلمان ہیں جو اس طرح سوچتے ہیں اور اس بنا پر یہاں سے چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ مگر مجھے اس طرز فکر سے اتفاق نہیں۔ اس طرز فکر کا سبب یہ ہے کہ یہ مسلمان ان ”اغیار“ کو دشمنِ اسلام کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ حالانکہ خود یہ طرز فکر اسلام کے حق میں سب سے بڑی دشمن ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ ہم ان کو مدعو سمجھیں اور ان سے مدعو والا معاملہ کریں۔
اگر مذکورہ فکر کو اختیار کیا جائے تو کبھی بھی دعوت کا عمل شروع نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ داعی کے مقابلے میں مدعو ہمیشہ برتر پوزیشن میں ہوتا ہے۔ وہ داعی کا استحصال کر رہا ہوتا ہے۔ لیے دعوت کا عمل صرف اس وقت شروع ہو گا جب کہ معاملہ کو اس ذہن سے نہ دیکھا جائے۔
تاتاریوں نے ہزاروں مسلمانوں کو پکڑ کر اپنا خادم بنا لیا۔ یہی غلام اور خادم تھے جنھوں نے خاموش تبلیغ کے ذریعہ تاتاریوں کو مسلمان بنا دیا۔ یہ مسلمان اگر سوچتے کہ میں اپنے آپ کو ان دشمنوں کی خدمت میں کیوں لگاؤں تو تاتاریوں کے درمیان دعوت کا عمل شروع ہی نہ ہوتا اور اسلام کی تاریخ کا وہ شاندار باب کبھی نہ لکھا جاتا جس کو اقبال نے اس طرح نظم کیا ہے : ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان یہاں دعوتی مقصد کے تحت رہیں ، اور بقیہ چیزوں کو اپنے ذہن سے بالکل نکال دیں۔
ماونٹ ہالی کے سنٹر کی پشت پر بہت دور تک کھلا ہوا سر سبز میدان ہے۔ سنٹر کا ایک دروازہ اس کی طرف کھلتا ہے۔ ۶ستمبر کی صبح کو میں نے یہ دروازہ کھولنا چاہا تو وہ غیر مقفل تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں اسی طرح دوسرے دروازے بھی غیر مقفل پڑے رہتے ہیں۔ یہاں چوری وغیرہ کا کوئی اندیشہ نہیں۔ جب کہ اس سے پہلے جب میں نیو یارک میں تھا تو وہاں دروازہ کو پوری طرح بند رکھنا پڑتا تھا، کیونکہ وہاں چوری کا بھی اندیشہ رہتا ہے اور تشدد کا بھی۔ اب اگر کوئی شخص صرف نیو یارک کی ایک خبر لے کر اس کو جنرلائز کرے تو وہ کہے گا کہ امریکہ جرائم کا ملک ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ ماونٹ ہالی کی مثال لے کر اس کو جنرلائز کرے تو وہ امریکہ کی بالکل دوسری تصویر پیش کرے گا جس میں امریکہ اسلام کی اخلاقی قدروں کا حامل دکھائی دینے لگے گا۔
تاریخ کی اکثر غلطیاں اسی قسم کے غلط جنرلائزیشن کے نتیجہ میں پیش آئی ہیں۔ حال کا زیادہ گہرائی کے ساتھ مطالعہ نہیں کرتے۔ ان کے سامنے پوری تصویر کا کوئی ایک پہلو آتا اسی ایک پہلو کو وہ کل پہلو سمجھ لیتے ہیں۔ اور پھر اس کے بارہ میں ایک کلی بیان دے دیتے اس قسم کا بیان ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔ جنرلائزیشن کی یہ غلطی اسلامی تاریخ یا مسلم سماج کے بارہ میں بھی کی جاتی ہے اور دوسروں کے بارہ میں بھی۔
۶ستمبرکو جمعہ کا دن تھا۔ مجھ سے خطبہ کے لیے اور نماز پڑھانے کے لیے کہا گیا۔ میں نے اس سے معذرت کی۔ البتہ خطبہ سے پہلے ۲۰ منٹ کی ایک تقریر کی۔ پہلے 10 منٹ تک
انگریزی میں اور اس کے بعد 1 منٹ اردو میں۔
اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر آپ مکہ اور مدینہ جائیں تو وہاں آپ صحابہ کی بہت کم قبریں اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ اسلام کا پیغام لے کر ساری دنیا میں پھیل گئے۔ چنانچہ ان کی قبریں بھی زیادہ تر باہر ہیں۔ حضرت عبادہ بن ثابت کی اہلیہ کی قبر قبرص میں ہے۔ حضرت خالد کی قبر حمص میں۔ حضرت معاذ بن جبل کی قبر اردن میں، وغیرہ۔
میں نے کہا کہ تاریخ دوبارہ اپنے آپ کو دہرارہی ہے۔ دوبارہ مسلمان اپنے ملکوں سے نکل کر امریکہ میں اور دوسرے مغربی ملکوں میں بڑی تعداد میں آگئے ہیں۔ یہ لوگ اگر چہ ابتداً معاش کے جذبہ کے تحت آئے تھے۔ مگر حالات نے انہیں بتایا کہ تمہیں اسلام کی نمایندگی کرنا ہے، ورنہ تم اپنا وجود کھو دو گے۔ چنانچہ آج یہ مسلمان تمام مغربی دنیا میں کثرت سے مسجد اور اسلامی مرکز اور دینی ادارے بنارہے ہیں۔ بے شمار تعداد میں اسلامی لٹریچر لوگوں تک ان کا وجود بذات خود یہاں اسلام کو موضوعِ بحث بنا دیتا ہے۔ یہاں ایک مسلمان ڈاکٹر کا حال معلوم ہوا۔ وہ اپنے فن میں نہایت ماہر ہیں۔ یہاں تقریباً ایک ملین ڈالَر کمایا۔ شاندار مکان بنایا۔ بچوں کو نہایت اعلیٰ تعلیم دلائی۔ ان کا جھگڑا خود اپنے بیوی بچوں سے ہوگیا ہے۔ بیوی بچے ایک طرف ہیں اور وہ دوسری زندگی سخت پریشانیوں کا شکار ہو گئی ہے۔ ذیابیطس اور دوسری بیماریاں بھی انہیں لاحق شاندار مکان، شاندار کاریں اور شاندار بزنس، کسی چیز میں اب ان کے لیے سکون باقی نہیں رہا۔ جھگڑے کا آغاز یہاں سے ہوا کہ ان کے مطب میں لڑکیاں کام کرتی ہیں۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر صاحب پر شبہ ہو گیا۔ بات بڑھتے بڑھتے آخری حد پر پہنچ گئی۔ اس طرح کے واقعات یہاں بہت زیادہ ہیں۔ امریکہ ایک طرف دولت کی کثرت کی جگہ اسی کے ساتھ وہ اس بات کی بھی ایک عبرت ناک مثال ہے کہ مادی فراوانی کبھی کسی کو سکون نہیں دیتی۔
۷ ستمبر ۱۹۹۶ء کو اسلامی مرکز (ماونٹ ہالی) میں نمازِ فجر کے بعد مجھ سے درس کے لیے کہا گیا۔
حاضرین میں زیادہ تر انگریزی جاننے والے تھے۔ اس رعایت سے میں نے انگریزی میں حدیث کا درس دیا۔ یہ درس اس حدیث پر مبنی تھا : من صلى (الصبح فهو في ذمة الله (جس نے صبح کی نماز ادا کی وہ اللہ کی گارنٹی میں آگیا)
میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز مصلیوں کے اندر ایسے انسانی اوصاف پیدا کرتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ دوسروں کی طرف سے مامون و محفوظ ہوجاتے ہیں۔ ان صفات کو چار الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے ــ تواضع ، تشکر ، اطاعت ، سلامتی ، ڈسپلن : modesty, thanksgiving, submission, peace, discipline. ابتدائی چار صفات انفرادی اخلاق سے تعلق رکھتی ہیں۔ پانچویں صفت اجتماعی صفت ہے اور وہ نماز با جماعت کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے ۔
مولانا ذکی الدین شرفی یہاں مسلسل طور پر مختلف قسم کے اسلامی پروگرام چلا رہے ہیں۔ کو جناب فضل الرحمن صاحب کے مکان پر ہفتہ وار پروگرام تھا۔ صبح سویرے روانہ ہو کر ہم لوگ فضل الرحمن صاحب کے مکان پر پہنچے۔ یہاں اور بھی کئی لوگ اکٹھے تھے۔ ان کے مکان کے بیسمنٹ میں فجر کی نماز ادا کی گئی۔ مولانا ذکی الدین صاحب کی مؤثر قرأت نے اس کو بہت پُر تاثیر نماز کے بعد مولانا ذکی الدین شرفی نے قرآن کا درس دیا۔
آخر میں میں نے یہ حدیث پڑھی : ذاق طعم الايمان من رضى بالله ربا وبمحمد رسولا میں نے کہا کہ ایمان اور اسلام کا ایک فارم ہے اور دوسری چیز اس کی روح اور یہ ویسا ہی ہے جیسے ایک پھل میں چھلکا اور مغز ہوتا ہے۔ ذائقہ والی دین داری کو اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ فارم سے گزر کر روح اور اسپرٹ تک پہنچ جائے۔ اللہ کا نام لینا ایک ظاہری اعتبار سے ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب آپ اللہ کا نام لیں تو اللہ کی صفات کمال کو یاد کر کے آپ کا سینہ لرز اٹھے۔ اس کا نام پر ذائقہ ایمان ہے۔ نماز کی ایک ظاہری ادائیگی ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ نماز ادا کرتے ہوئے آپ کی پوری شخصیت خشوع اور تواضع کے احساسات میں ڈھل جائے۔ اسی طرح زکوٰۃ کی ادائیگی کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ حساب کر کے مقرر رقم کسی کو دے دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب آپ رقم دے رہے ہوں تو آپ الذین
یونتون ما آتتی وقلوبہم وجلة کی تصویر بنا ہوا ہو۔ یہی معاملہ تمام اسلامی اعمال کا ہے۔ پروگرام کے بعد ناشتہ کی مجلس میں ہالینڈ سے آئے ہوئے ایک صاحب نے بتایا کہ المعجم المفهرس الالفاظ الحديث النبوی ہالینڈ کے شہر لائیڈن میں پہلی بار اٹھارویں صدی میں چھاپی گئی۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہاکہ ڈچ لوگوں نے جب یہ منصوبہ بنایا کہ مسلم قوموں کو غلام بنائیں تو انھوں نے اپنے غلاموں کے مزاج اور مذہب کو سمجھنے کے لیے اس قسم کے میں نے کہا کہ اس قسم کا کام مغربی ملکوں نے موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانہ پر کیا ہے۔ مگر ان کو سازش وغیرہ سمجھنے کے، بجائے زیادہ بہتر یہ ہے کہ ان کو اس حدیث کا مصداق قرار دیا ان اللہ لیؤيد هذا الدين برجل فاجر (اللہ اس دین کی تائید برے آدمی کے ذریعہ بھی کرے گا)
۷ ستمبر کی شام کو ہم لوگ اسلامک سوسائٹی ، سنٹرل جرسی پہنچے۔ یہاں عصر اور مغرب کے درمیان میرا خطاب رکھا گیا تھا۔ یہ کافی وسیع اور شاندار مرکز ہے۔ اس میں مسجد کے علاوہ کئی شعبے ہیں ۔ حاضرین میں بیشتر غیر اردو داں تھے۔ اس لیے یہاں مجھ کو انگریزی میں خطاب کرنا پڑا۔ میں نے اپنی مفصل تقریر میں بتایا کہ مسلمانوں کے موجودہ مسائل کا واحد حل دعوہ ورک میں نے کہا کہ اسلام کی حیثیت آئیڈیا لوجیکل سپر پاور کی ہے ۔ اسلام کو بطور دعوت پیش کرنا ہی اس وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ مگر ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور دعوت کی بھی ایک قیمت ہے۔ یہ قیمت مدعو سے یک طرفہ محبت ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اسلام کی دعوتی قوت کو استعمال کریں تو آپ کو اس کی قیمت دینی پڑے گی۔
پھر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کا مدعو کوئی استثنائی طور پر ظالم نہیں ہے۔ مدعو سے ہمیشہ ہی داعی کو ظلم و زیادتی کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تم ضروری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دعوت کا کام کرو تو تمہارا دشمن بھی تمہارا دوست بن جائے گا۔ گویا کہ ہر دشمن امکانی طور پر ہمارا دوست ہے۔ مگر یہ دشمن اس وقت دوست بنتا ہے جب کہ اس کی زیادتی کے باوجود اس کے ساتھ خیر خواہی کا سلوک کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات سے اس عمل کی مثالیں بیان کیں۔
سنٹرل جرسی کی اسیلامک سوسائٹی میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ ان میں کئی عرب بھی تھے ۔ یہ ادارہ سنہ ۱۹۰۸ میں قائم ہوا ۔ اس کے سابق صدر سے میں نے پوچھا کہ کیا اس کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ پیش آئی ، انھوں نے کہا کہ کوئی رکاوٹ نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ امریکی پڑوسیوں سے ہمارا رشتہ اچھا ہو۔ پولیس سے بہتر تعلق ہو اور دوسرے اداروں کو ہم نے شکایت کا موقع نہ دیا تو یہاں کبھی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی ، یہ بات جناب محمد عبد الحمید صدیقی نے بتائی۔ وہ ۱۹۷۱ سے امریکہ میں ہیں۔ اور اسلامک سوسائٹی ، سنٹرل جرسی کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ نیو جرسی ایک اسٹیٹ ہے ، جس کا ایک حصہ جرسی ہے۔ یہ علاقہ بہت زیادہ سر سبز ہے۔ طرف باغات اور زرعی فارم پھیلے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ اس کو گارڈن اسٹیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ ۵ ستمبر کی شام کو عصر اور مغرب کے درمیان ماؤنٹ ہالی کی مسجد میں ایک اجتماع ہوا۔ زیادہ تر عورتیں شریک تھیں۔ اس میں خطاب کا موضوع تھا کہ امریکی معاشرہ میں بچوں کا اسلامی اس پر بولتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا :
میں نے کہا کہ اگلی نسل کا اسلامی تحفظ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک مولوی صاحب کو مقرر کردیں جو روزانہ شام کو آکر دینیات پڑھا دیں۔ یا کوئی دینی رسالہ آپ اپنے بچوں کے نام جاری کر دیں۔ یا انھیں کلچرل نوعیت کی کچھ چیزوں کا عادی بنانے کی کوشش کریں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اگر آپ کو اپنے بچوں کو اسلامائز کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنے گھر کو اسلامائز کیجئے ۔ کے گھر میں دنیا کا چرچا نہ ہو بلکہ دین کا چرچا ہو۔ گھر کا ماحول مادی رنگ میں رنگا ہوا نہ ہو بلکہ آخرت کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔
دوسری بات یہ کہ آپ اپنے بچوں کے اندر داعیانہ اسپرٹ پیدا کریں۔ یہ ایک اصول ہے کہ جو داعی نہیں بنتا اس کو مدعو بننا پڑتا ہے۔ اس لیے اگر آپ نے اپنے بچوں کے اندر داعیانہ اسپرٹ نہیں پیدا کی تو وہ دوسروں سے متاثر ہو کر رہیں گے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کا قانون کبھی نہیں بدلتا۔
تیسری چیز یہ کہ یہاں ہر بچہ انگریزی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ بچہ کو اردو یا عربی زبان بھی ضرور پڑھائی جائے ، تاکہ وہ اسلامی لٹریچر
سے استفادہ کے قابل ہو سکے ۔ انگریزی میں بقدر ضرورت لٹریچر موجود نہیں ہے۔ اس لیے صرف انگریزی زبان کافی نہیں ہو سکتی۔
بعد کو ایک صاحب ملے اور انھوں نے ایک سوال کیا۔ میں نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص اپنے بچہ کو ڈاکٹری نہ پڑھائے۔ اور جب وہ بڑا ہو جائے تو پبلک مارکیٹ سے ڈاکٹری کا جعلی سرٹیفیکٹ خرید کر اس کو ڈاکٹر بنانا چاہے تو یہ کیسا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو پاگل پن ہے۔ میں نے کہا کہ ہمارے اکثر سرپرستوں کا حال یہی ہے۔ وہ اپنے بچہ کو پہلے غیر جنتی راستہ پر چلائیں گے اس کے بعد چاہیں گے کہ اس سے جنت کا ٹکٹ حاصل کر کے اسے دے دیں۔ تو ایسا ٹکٹ صرف کسی خوش خیال آدمی کے ذہن میں ہو سکتا ہے۔ وہ حقیقی دنیا میں کبھی نہیں پایا جاتا۔ امریکی نو مسلم عبدالرحمن صاحب ۸ ستمبر کو عشاء کی نماز کے بعد ملاقات کے لیے آئے۔ میں نے ان کو چند حدیثیں سنائیں۔ وہ بہت خوش ہوئے ۔ میں نے کہا کہ اسلام میں ہر چیز کا انحصار نیت پر ہے۔ نیت اچھی ہو تو ہر چھوٹا یا بڑا کام ثواب بن جاتا ہے۔ مثلاً ایک چیز آپ کو بروقت نہیں مل رہی آپ نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کو انتظار کے خانے میں ڈال دیا تو وہ ثواب بن گیا۔ اسی طرح آپ کو کسی نے برا کہا۔ آپ کو غصہ آ گیا۔ آپ نے اللہ کی خاطر صبر کر لیا تو پھر صبر کرنا عظیم ثواب اسی طرح ہر چیز میں نیت کا پہلو شامل ہے ۔ اور ہر کام اچھی نیت کے ساتھ ثواب بن
۸ستمبر کی صبح کو ماؤنٹ ہالی میں الرسالہ مشن سے اتفاق رکھنے والوں کا اجتماع ہوا۔ آخر کا ر الرسالہ فورم انٹرنیشنل کے نام سے ایک باقاعدہ تنظیم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اجتماع میں جو باتیں طے کی گئیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ الرسالہ لٹریچر کی ویب سائٹ (انٹرنیٹ) شروع کیا جائے ۔ اس طرح الرسالہ مشن ان شاء اللہ ورلڈ وائڈ ویب (WWW) سے مربوط ہو جائے گا۔
اس کے تحت ان شاء اللہ الیکٹرانک میل (ای میل) کے پتوں کی ایک عالمی فہرست بنائی جائے گی ۔ تاکہ دنیا بھر میں ہر جگہ ای میل کے ذریعہ الرسالہ کا پیغام پہنچایا جا سکے۔ اس سلسلہ میں رابطہ کا ٹیلی فون نمبر یہ ہے : خواجہ کلیم الدین، نیو یارک (2583435-718 .Tel)
اس پروگرام میں ایک فلسطینی نوجوان امام یحییٰ الھندی (5439449-202 .Tel) بھی تھے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور نہایت سنجیدہ بھی۔ انھوں نے کہا کہ اسنا کی کانفرنس میں ایک اسٹال پر میں نے آپ کی انگریزی کتابیں دیکھیں۔ ان کا ٹائٹل (نام) مجھے بہت پسند آیا۔ اور میں نے تمام کتابیں خرید لیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے میں ایک مسجد میں امام تھا۔ وہاں انتہا پسند عربوں کا غلبہ وہ کہتے تھے کہ نماز کے بعد یہ دعا کرو کہ اے خدا، امریکہ کو تباہ کر دے (O Allah, destroy America) مگر میں اس قسم کی دعا نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ وہاں اتنا اختلاف بڑھا کہ مجھے وہاں سے چھوڑ دینا پڑا۔
ڈاکٹر عرفان انیس عمر (ٹمپل یونیورسٹی) بھی اس پروگرام میں شریک تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں امریکی مسلمانوں کے اندر ایک بڑی تبدیلی محسوس کر رہا ہوں۔ چند سال پہلے جب میں یہاں آیا اس وقت یہ حال تھا کہ امریکہ کا لفظ لوگوں کی زبانوں میں زہر گھول دیتا تھا۔ مگر آج وہ شدت ختم ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اب لوگ حقیقت پسندی کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اسلامی مرکز کے ذریعہ ۱۹۷۰میں’’حدیبیہ پرنسپل" کو اختیار کرنے کے نام پر جو فکری مہم شروع کی گئی تھی وہ آج نہ صرف انڈیا میں بلکہ امریکہ تک کے فکر کو متاثر کر رہی ہے اور اسی کے ساتھ ہر جگہ دعوت کے راستے کھل رہے ہیں۔ حدیبیہ پرنسپل کو ابتدائی لوگوں نے بزدلی اور پسپائی سے تعبیر کیا تھا۔ مگر آج ساری مسلم دنیا میں بلا اعلان یا اعلان کے ساتھ یہی فکر چھاتا چلا جا رہا حدیبیہ پرنسپل دراصل نام ہے یک طرفہ طور پر مصالحانہ انداز اختیار کر کے داعی اور مدعو کے درمیان نارمل تعلق قائم کرنے کا، تاکہ دعوت کا عمل جاری ہو جائے۔ یہ عمل آج شروع ہو چکا ہے۔ اور یہ فطرت کا قانون ہے کہ ایک صحیح عمل جب شروع ہو جائے تو وہ اپنے اختتام پر پہنچ کر رہتا ہے۔
امام یحییٰ نے بتایا کہ یہاں ایسے مسلمان ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ، تو امریکہ کو تباہ کر دے :