O Allah, destroy America.
Al-Risala, November 1998, pp. 26–42
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے امریکہ کے زمانۂ قیام میں یہاں کی ایک مسجد میں نماز پڑھی۔ دوسری رکعت کے آخر میں امام صاحب نے ہاتھ اٹھا کر قنوت نازلہ پڑھی۔ اس میں انھوں نے کہا: اللهم عذب الكفرة والمشريكين الذين يصدون عن سبيلك ويقاتلون اولياءك (اے اللہ! کافروں اور مشرکوں کو عذاب دے جو تیرے راستے سے روکتے ہیں اور تیرے اولیاء سے جنگ کرتے ہیں)
ایک مسلم رہنما کے جلسہ میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے امریکہ کے خلاف پرجوش تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ملک کے اندر آپ نہایت اچھا نظام دیکھیں گے۔ نے مکمل ڈیموکریسی قائم کر رکھی ہے۔ مگر یہی لوگ ہیں جو عراق میں بم گراتے ہیں۔ جو اپنے مفاد کی خاطر مسلم ملکوں کو لڑاتے ہیں۔ اپنے ملک کے اندر وہ جمہوری ہیں اور باہر کے ملکوں میں منافق: Democracy at home, hippocracy abroad مسلمانوں کی اکثریت اپنی زبان سے اسی قسم کی باتیں کرتی ہے۔ اس کے باوجود مولانا ذکی الدین شرفی کے بیان کے مطابق، تقریباً ۹بلین مسلمان اپنے ملکوں سے آ کر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ ساری دنیا میں مسلم نوجوانوں کی پہلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح امریکہ پہنچ جائے۔ حالانکہ امریکہ کا شہری بننے کے لیے جو حلف لینا پڑتا ہے وہ روایتی اسلامی عقیدہ کے سراسر خلاف ہے۔ ایک دین دار مسلمان جنھوں نے یہ حلف لے کر امریکی شہریت حاصل کی ہے، ان سے کہا گیا کہ ایسے غلط حلف پر کیوں آپ نے دستخط کیا۔ وہ بولے، میاں، میں نے جج کے سامنے ہاتھ تو ضرور اٹھا دیا تھا مگر میں اس وقت بھی اپنے دل میں اس پر لاحول پڑھ رہا تھا۔ مزید یہ کہ ایک صاحب کے بیان کے مطابق، یہاں آنے والے مسلمانوں میں بمشکل دو فی صد مسلمان ہیں جو یہاں کی مسجدوں یا اسلامی اداروں سے وابستہ ہیں۔ بقیہ ۹۸ فی صد مسلمان صرف اپنی دنیوی سرگرمیوں میں مشغول
یہ چند واقعات بتاتے ہیں کہ جو مسلمان امریکہ میں آ کر آباد ہوئے ہیں، ان کی دینی اور اخلاقی حالت کیا ہے۔
9 ستمبر کو مولانا ذکی الدین شرفی سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہ گفتگو ماؤنٹ ہالی کے اسلامک سنٹر موضوع موجودہ مسلمانوں کا مسئلہ تھا۔ میں نے کہاکہ جہاں تک ہندوستانی مسلمانوں کا تعلق ہے
ان کا اصل مسئلہ ہندو تعصب نہیں ہے بلکہ نااہل لیڈروں کی غلط رہنمائی ہے۔ ہندوستان میں جو مسائل تھے وہ صرف ہندوستان کے لیے مخصوص نہیں تھے، وہ کسی ایک یا دوسری صورت میں ہر جگہ یہ دراصل فطری چیلنج کا مسئلہ تھا نہ کہ کسی قوم کے تعصب یا ظلم کا مسئلہ۔ مگر نااہل مسلم لیڈروں نے ان مسائل کو ہندو تعصب کا مسئلہ بتایا، اور اس بنیاد پر علاحدگی کی دھواں دھار تحریک انھیں اس بات کا شعور نہیں تھا کہ ہندو تعصب سے رہائی کے نام پر چلائی جانے والی تحریک کا آخری ہملک انجام یہ ہونا ہے کہ مسلمانوں کی زیادہ بڑی تعداد دوبارہ انھیں ہندوؤں کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو جائے ۔
لیڈروں نے تو ہندوستانی مسلمانوں کے معاملے کو آخری حد تک بگاڑ دیا تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ دوبارہ مسلمانوں کا شعور صحیح رخ پر جاگنا شروع ہوا۔ اور اب خدا کے فضل سے ہندوستان کے مسلمانوں نے تعمیر کے راستہ پر اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ ہندوستانی مسلمان دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ مسلمان بن جائیں گے۔
پاکستان کے ذیل میں میں نے کہا کہ مولانا مودودی اور ان کے ساتھیوں نے اپنی پوری تحریک اس مفروضہ پر کھڑی کی کہ وہ مسلم لیگ کے پیدا کردہ مومنٹم کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اس دنیا میں ایسا ممکن نہیں کہ مومنٹم کسی اور کے نام پر پیدا ہو اور کوئی دوسرا اسے استعمال کرے۔ مولانا ذکی الدین شرفی نے کہا کہ مگر جماعت اسلامی پاکستان کا تو دعویٰ ہے کہ یہ مومنٹم خود مولانا مودودی کا پیدا کیا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ اگر اس کو مان لیا جائے تو مسئلہ اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔ کی پوری تحریک ہندو اکثریت کے خوف پر اٹھائی گئی تھی، جب کہ پاکستان کو حقیقی اسلامی نظام میں ڈھالنے کے لیے خدا کے خوف کا سرمایہ درکار تھا۔ اور یہ مزید اضافہ کے ساتھ نا ممکن ہے کہ خوفِ ہندو پر برپا ہونے والی حرکت کو اچانک خوفِ خدا پر مبنی حرکت میں تبدیل کر دیا جائے ۔ " انقلابی اسلام" کے ایک علم بردار سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں پاکستان میں انقلاب لایا گیا۔ افغانستان میں اسلامی انقلاب لایا گیا ۔ ایران میں اسلامی انقلاب مگر انقلاب کے باوجود کہیں اسلام نہ آسکا۔ انھوں نے کہا کہ انقلاب تو ایک جاری عمل ہے۔
اسلامی انقلاب کا راز یہ ہے کہ وہ ہر دن اور ہر لمحہ زندہ رہتا ہے۔ انقلاب کے بعد بھی انقلاب جاری رہتا ہے:
The secret of the Islamic revolution is that it is lived everyday at every instant. After the revolution, the revolution continues. میں نے کہا کہ کیا آپ اس کو مانتے ہیں کہ اسلامی انقلاب کا مستند نمونہ وہ انقلاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عرب میں آیا۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ میں نے کہا کہ پھر وہ انقلاب تو بتاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی انقلاب صحیح معنوں میں صرف فرسٹ جنریشن میں زندہ رہتا ہے۔ دوسری جنریشن اور تندہ زنی جنریشن میں وہ کمزور پڑ جاتا ہے اور اس پر زوال آنے لگتا ہے۔ پھر آپ کون سا نیا انقلاب لائیں گے جو تمام قوانین فطرت کے خلاف جاری عمل بن جائے۔ جو پہلی نسل کے بعد اگلی نسلوں میں مزیداضافے کے ساتھ ترقی کرتا رہے۔ ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ ایک اجتماع میں مجھ سے کہا گیا کہ میں ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں کچھ بیان کروں ۔ میں نے یہاں کے حالات پر کچھ باتیں کہیں۔ آخر میں سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اقتصادی اچھوت بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سب ان نام نہاد لیڈروں کی باتیں ہیں جو آپ کے پاس آکر مسلمانوں کی فرضی کہانیاں بتاتے ہیں تاکہ آپ انھیں تعاون کے نام پر بڑی بڑی رقتیں دیں۔ پھر میں نے کہا کہ آج کا ہندوستانی مسلمان مکمل طور پر ایک بدلا ہوا مسلمان ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کے نااہل لیڈروں نے انھیں بنا رکھا تھا کہ انڈیا ان کے لیے ایک پرابلم کھڑی ہے۔ مسلمانوں نے اسی فرضی وہم میں آزادی کے بعد چالیس سال کھو دیے ۔ مگر اب خود حالات نے (نہ کہ رہنماؤں نے) انھیں بتایا کہ انڈیا میں ان کے لیے بھی اسی طرح مواقع ہیں جس طرح دوسروں کے لیے ہیں۔ چنانچہ آج کل انڈیا کے مسلمانوں میں زبردست اقتصادی سرگرمیاں جاری ہو گئی ہیں۔ آج آپ کسی شہر یا بستی میں جاکر اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ ایک عالم رمضان کے زمانہ میں امریکہ آئے ۔ افطار میں کھانا پینا ہو گیا تو اس کے بعد انھوں نے کہا : افطر عندکم الصائمون اکل طعامکم الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ علیکم الملائكة الأجبريل آپ کے یہاں روزہ داروں نے افطار کیا۔ نیک لوگوں نے آپ کا کھانا کھایا۔ فرشتوں نے آپ کے
اوپر درود و سلام بھیجا سوا جبریل کے لوگوں نے پوچھا کہ جبریل کیوں نہیں۔ عالم نے جواب دیا کہ چائے آنے تک وہ رکے ہوئے ہیں۔
اس قسم کے لطیفے لوگوں کو بہت پسند آتے ہیں۔ مگر وہ میرے ذوق کے سراسر خلاف ہیں۔ جس طرح ہر چیز کی ایک حد ہے اسی طرح لطیفہ کی بھی حد ہے۔ وہ یہ کہ لطیفہ کو عام انسانوں تک محدود رہنا ہے نہ کہ وہ فرشں جیسی مقدس ہستی تک جا پہنچے۔
ایک صاحب پاکستان سے اگر امریکہ میں آباد ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے ایک امریکی نو مسلمہ سے شادی کی۔ گھر میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ کسی بات پر میری اور ان کی تکرار ہو جاتی اور ہم دونوں میں جھگڑا ہو جاتا۔ اس طرح گھر کے اندر سکون نہیں رہتا تھا۔ آخر کار مجھے آپ کا رسالہ ملا۔ اس کو پڑھنے کے بعد میرے گھر کی حالت بالکل درست ہو گئی۔
انھوں نے بتایا کہ میں نے الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا جس کا عنوان تھا ”تین منٹ“ اس میں ایک واقعہ لکھ کر بتایا گیا تھا کہ امن اور بے امنی کے درمیان صرف تین منٹ کا فاصلہ ہے۔ جب کوئی شخص تلخ بات کہے اور آپ کے اندر اشتعال پیدا ہو جائے تو تین منٹ کے لیے وہاں سے ہٹ جائیے۔ اس کے بعد اپنے آپ دونوں کا دماغ ٹھنڈا ہو جائے گا اور سکون کی حالت واپس آجائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ ایسے مواقع پر میں ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہوں اور اب میری گھریلو زندگی نہایت سکون کی زندگی ہے۔ اگر مجھے الرسالہ ملتا تو شاید میرے یہاں طلاق کی نوبت آجاتی۔
امریکہ میں آپ جس مسلمان سے بھی ملیں، اس کی سب سے بڑی فکر اس کا بچہ ہوگا۔ سے ملاقات ہوئی۔ وہ مجھے اپنی ایرکنڈیشنڈ کار میں بٹھا کر اپنے گھر لے گئے۔ پھر وہاں اپنے ایر کنڈیشڈ کمرہ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ فکر ان بچوں کی ہے۔ بتائیے کہ ان کی آخرت کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
میں نے کہا کہ آخرت کی کامیابی آخرت کے لیے مطلوب عمل کرنے سے ملتی ہے۔ ہو سکتا کہ آدمی کی ساری تو توجہ دنیا پر لگی ہوئی ہو۔ اور اسی کے ساتھ اسے آخرت بھی تحفہ کے طور پر مل جائے ۔ میں نے کہا کہ آپ نے حدیث میں پڑھا ہوگا کہ ان شدة الحق من قبیح جہنم
(گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے ہے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جہنم کے ابتدائی تجربات رکھے ہیں تاکہ آدمی ان سے گزر کر جہنم سے بچنے کی فکر کر سکے۔ مگر آپ لوگوں کی ساری کوشش یہ ہے کہ اپنے بچہ کو اس طرح رکھیں کہ اس کو کسی قسم کی تکلیف کا تجربہ نہ
یہ طریقہ خدا کی اسکیم کے خلاف ہے۔ خدائی اسکیم میں جنت کا راستہ جہنم کے تجربات سے ہو کر اور آپ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے بچوں کو جنت کی ٹھنڈی ہواؤں سے گزارتے ہوئے جنت کے دروازہ میں داخل کر دیں۔
مولانا ذکی الدین شرفی ۱۹۸۹ میں آٹھویں سالانہ کانفرنس کے تحت تہران گئے۔ بتایا کہ شہر کی ایک مسجد میں وہ داخل ہوئے تو وہاں دیوار پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : یا خدا، تا ظہور مہدی منتظر نہضت خمینی را حفاظت بفرما (اے خدا، مہدی کی آمد تک خمینی انقلاب کی حفاظت فرما) مگر یہ دعا قانون فطرت کے خلاف ہے۔ اس دنیا کا قانون ہے کہ کوئی بھی انقلاب یہاں اپنی ابتدائی صورت میں صرف پہلی جنریشن تک رہتا ہے۔ اس کے بعد لازماً اس کا تنزل شروع ہو جاتا ہے۔ ایران کے انقلاب پسند صرف اپنے لیڈر کو جانتے تھے۔ اگر وہ قانون فطرت کو جانتے تو وہ مسجد میں اس قسم کے الفاظ نہ لکھتے۔ اس قسم کی دعا ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص بہار کا موسم پائے تو یہ دعا کرنے لگے کہ اے خدا، اب کبھی مجھے خزاں کو دیکھنا نہ پڑے۔ ۹ ستمبر کو دوپہر کے کھانے پر کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کا ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) ہے۔ وہ چیزوں کو سفید و سیاہ میں دیکھ پاتے ہیں۔ حالانکہ یہ نظام فطرت کے خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کسی پہاڑی علاقہ میں جائیں تو وہاں بے شمار چشمے بہتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ آپ وہاں کھڑے ہو کر دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ بار بار پانی کے راستہ میں پتھر کے ٹکڑے آتے ہیں۔
اب پانی کے لیے بظاہر دو چوائس ہے۔ یا تو وہیں ٹھہر جائے۔ یا پتھر کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کرے۔ عام آدمی کہے گا کہ ایسی حالت میں ٹھہرنا تو پسپائی قبول کرنا ہے۔ اس لیے پانی کو چاہیے کہ وہ درمیانی پتھر کو توڑ کر اپنے لیے سیدھا راستہ بنائے۔ مگر پانی ایسا نہیں کرتا۔
وہ خدا کی دی ہوئی فطرت کے مطابق، دائیں اور بائیں سے راستہ نکال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ انسان کو بھی، یہی فطری کورس اختیار کرنا ہے۔ اس کو ایسا نہیں کرنا ہے کہ جب دورانِ سفر کوئی رکاوٹ آجائے تو وہ سمجھے کہ میرے لیے یا تو ٹکراؤ کی صورت ہے یا پسپائی کی صورت۔ اس کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ غور کرے تو عین وہیں اس کے لیے تیسری صورت موجود ہوگی جس کو اختیار کرکے وہ آگے بڑھ سکتا ہے۔
کسی ملک کا کوئی آدمی اگر خصوصی لیاقت والا (exceptionally qualified) ہو اور وہ امریکہ آنا چاہے تو اس کو اس کے ملک کا امریکی سفارت خانہ فوراً ویزا دے دے گا۔ ایسے شخص کے لیے یہاں آکر کام کرنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں۔ یہ امریکی نظام کی ایک طاقت ہے۔ اس کی وجہ سے امریکہ کو دنیا بھر کے بہترین دماغ حاصل ہوگئے ہیں۔ اس معاملہ میں یہ لوگ اتنے فراخ دل ہیں کہ بظاہر ایک دشمن ملک کا آدمی بھی اگر خصوصی لیاقت رکھتا ہے تو وہ بلا امتیاز یہاں اپنے لیے جگہ پاسکتا چنانچہ روس کے بہترین سائنس داں آج امریکہ میں آکر کام کر رہے ہیں۔ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ یہودی پہلے زمانہ میں مسلسل حکومتوں کی تعذیب کا شکار ہوئے۔ وہ کسی بھی ملک میں ترقی نہ کر سکے۔ مگر موجودہ زمانہ میں وہ ہر ملک میں، خاص طور پر امریکہ میں غیر معمولی ترقی کر رہے ہیں۔ اس کا سبب کوئی نئی سازش نہیں ہے، بلکہ زمانہ کا فرق ہے۔ پچھلے زمانہ میں بادشاہی نظام ہوتا تھا۔ عام لوگوں کو آزادی حاصل نہ تھی۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی حکمراں کے دائرہ کو محدود کر دیا گیا ہے۔ آج ہر فرد اور ہر قوم کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہودیوں نے اس جدید امکان کو بھر پور طور پر استعمال کیا۔ اس طرح پچھلے زمانوں میں کامیاب نہ ہونے والے جدید دور میں کامیاب ہوگئے۔
میں نے کہا کہ یہودیوں کی جو صفات آج ہیں، وہی صفات ان میں پہلے بھی تھیں۔ زمانہ کا سیاسی نظام انھیں موقع نہیں دیتا تھا۔ جب کہ جدید زمانہ کے سیاسی نظام نے انھیں موقع دے دیا۔
امریکہ میں انفرادی آزادی کو خیر مطلق کی حیثیت حاصل ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی زبردستی نہیں کر سکتے۔ اگر وہ ایسا کریں تو وہ قانون کی نظر میں مجرم بن
مثلاً لڑکا اگر اپنے ساتھ ایک گرل فرینڈ لے کر گھر میں آئے۔ یا لڑکی ایک بوائے فرینڈ کے ساتھ گھر میں داخل ہو تو ماں باپ اس کو روک ٹوک کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ والدین مجبور ہو کر اپنی بیٹی سے یہ کہنے لگے ہیں کہ تم کو بوائے فرینڈ بنانا ہے تو کسی مسلمان لڑکے کو بناؤ۔
اصل یہ ہے کہ یہاں جو مسلمان آئے وہ ہمہ تن دولت کمانے پر ٹوٹ پڑے۔ ان کے پاس نہ بچوں کی تربیت کے لیے کوئی موقع رہا اور نہ دین سے وابستگی قائم رکھنے کا۔ نے بتایا کہ یہاں کے مسلمانوں میں بہ مشکل دو فی صد ایسے مسلمان ہوں گے جو مسجدوں اور اسلامی سنٹروں سے جڑے ہوں۔ گویا ۹۸ فی صد تعداد رات دن صرف دنیا میں مشغول رہتی ہے۔ ابتدائی دینی ذمہ داری بھی پوری نہیں کرتے، داعیانہ زندگی اختیار کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ ایسے غرق دنیا لوگوں کا انجام وہی ہونا ہے جو امریکہ کی مسلم نسلوں کا ہو رہا ہے۔ کچھ لوگ اپنے بچوں کو لے کر یہاں سے بھاگ کر دوسرے ملکوں میں جا رہے ہیں۔ مگر جو دنیا پرستانہ ذوق انھوں نے اپنے گھر میں پیدا کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو وہ دوبارہ بھاگ کر امریکہ چلا آتا ہے۔
جناب محمد زکی الدین شرفی کو، یہاں عام طور پر " امام ذکی‘‘ کہا جاتا ہے ۔ وہ نہایت مخلص اور نہایت ذہین آدمی ہیں۔ انھوں نے امریکہ کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے ۔ مگر ان کی سوچ میں منفی اندازِ اتنا رچ بس گیا ہے کہ وہ انتہائی مُثبت واقعے میں بھی حیرت انگیز طور پر منفی پہلو دریافت کر لیتے ہیں۔ ۱۳ ستمبر کو ایک گفتگو کے بعد میں نے ان کی بابت اپنی ڈائری میں حسب ذیل الفاظ لکھے :
Maulana Zaki has a unique expertise to convert a positive into a negative. In contrast, I always try to find some positive points even from obviously most negative situation. ۱۴ ستمبر کو مولانا زکی الدین شرفی سے پاکستان اور مسلم ممالک کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے سلسلے میں انھوں نے کہا کہ اس تعلق سے لوگوں کو آپ سے کافی شکایت میں نے کہا کہ وہ ساری شکایت غلط فہمی پر مبنی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ میں نے ان کے اوپر تنقید
مگر تنقید تو خود مولانا مودودی کے تیار کردہ دستور جماعت کا ایک اہم حصہ ہے۔ خلافت و ملوکیت میں انھوں نے لکھا ہے کہ اسلامی ریاست کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تنقید اور اظہار اختلاف کا کھلا ماحول موجود ہوتا ہے۔ پھر اس پر شکایت کیوں ۔ پھر میں نے کہا کہ تنقید کوئی برائی نہیں ۔ وہ ذہنی ارتقاء اور تخلیقی فکر (Creative thinking) کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ واحد شرط جو اس سلسلہ میں پیش کی جا سکتی ہے وہ یہ کہ تنقید کا تعلق صرف دماغ سے ہونا چاہیے ۔ دل کو اس سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ، اور خدا کے فضل سے یہ بات میرے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے ۔
میں ان لوگوں میں نہیں ہوں جو دوسروں پر تنقید کریں اور اپنے آپ کو تنقید سے بالاتر میں مستقل طور پر اپنے آپ کو تنقید کے لیے پیش کرتا رہتا ہوں۔ مثلاً میرا معمول ہے کہ جب میں کوئی نیا مضمون لکھتا ہوں تو اپنی لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم کو دیتا ہوں کہ اس پر تنقید کرو۔ طرح پچھلے تقریباً آٹھ سال تک مولانا انیس لقمان ندوی مستقل طور پر میرے ساتھ تھے ۔ وہ دہلی آئے تو میں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق کہا کرتے تھے کہ رحم اللہ امرأ اهدی الی عیوبی۔ مولانا انیس لقمان ندوی سے میں نے کہا کہ آپ میرے لیے اس قول کا مصداق بنیے۔ چنانچہ چنانچہ وہ برابر میرے اوپر تنقید کرتے تھے اور میں نہایت شوق سے اس کو سنتا تھا۔
آج کل وہ ایک عرب ملک چلے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک عرب شیخ سے انھوں نے اپنے بارے میں کہا کہ : انا ناقد اکبر نافتد فی الھند (میں ہندوستان کے سب سے بڑے ناقد کا ناقد ہوں)
جو لوگ تنقید سے منع کرتے ہیں وہ اپنی سادگی کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے چوائس تنقید اور بے تنقید میں ہے ۔ حالانکہ یہ چوائس تو ہے ہی نہیں۔ حقیقی چوائس جن دو کے درمیان ہے وہ تنقید اور ذہنی جمود ہے۔ یعنی آپ تنقید کو بند کریں تو جو چیز حاصل ہوگی وہ بے تنقید صورت حال نہیں ہوگی بلکہ ذہنی جمود ہو گا ۔
پھر میں نے کہا کہ میرے پاس اس بات کے واضح اور متعدد ثبوت موجود ہیں کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی پر سخت تنقید کے باوجود ان کے بارے میں میرے دل کے اندر بگاڑ نہیں آیا۔
ان کے اوپر میں نے صرف علمی تنقید کی۔ میں نے کبھی ان کی نیت پر حملہ نہیں کیا۔ تنقیص نہیں کی۔ کبھی عیب جوئی اور الزام تراشی کی زبان استعمال نہیں کی۔ کبھی بھی اخلاص پر شبہ کرنے والی باتیں نہیں کیں۔ ہمیشہ تجزیاتی تنقید کا اسلوب اختیار کیا۔
میری تحریروں سے جماعت اسلامی سے وابستگی رکھنے والے افراد بھی متاثر ہوئے۔ کئی لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میری طرح وہ بھی جماعت اسلامی سے استعفاء دے دیں۔ مگر میں نے ہر ایسے شخص کو ہمیشہ استعفا دینے سے منع کیا۔ حتی کہ خود میری بیوی ابھی تک جماعت اسلامی کی رکن ہیں اور فہرست ارکان میں ان کا نام چھپا ہوا موجود ہے۔ میری علادگی کے بعد انھوں نے چاہا کہ وہ بھی جماعت کی رکنیت سے الگ ہو جائیں۔ مگر میں نے یہ کہہ کر انھیں روک دیا: جماعت اسلامی کے ارکان کی فہرست میں اپنا نام باقی رہنے دو۔ کیا معلوم کس بہانے اللہ تعالیٰ کے یہاں بخشش ہو جائے۔ تنقید کے باوجود مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی قدر دانی میرے دل میں باقی رہی۔ اس کے ثبوت میں وہ دیباچہ دیکھا جا سکتا ہے جو میں نے اپنی کتاب ”علم جدید کا چیلنج“ کے دیباچہ کے طور پر لکھا تھا۔
۱۹۷۱ء میں میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے ملنے ہی کے لیے لاہور گیا۔ ذیل دار پارک میں ان سے ملاقات ہوئی تو مصافحہ کرتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ آنسو واضح طور پر قلبی تعلق کی نشانی تھے۔
ہندوستان سے میں یہ سوچ کر لاہور گیا تھا کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے مطالعہ کا جو کمرہ ہے اس میں کچھ دیر کے لیے بیٹھوں گا۔ چنانچہ اسی کمرہ میں میں نے ان سے ملاقات کی۔ بالکل عقیدت مندانہ انداز میں دیر تک اس کمرہ میں بیٹھا رہا۔
۱۰؍ستمبر کو محمد عادل خان انجینئر (۵۹ سال) کے یہاں شام کا کھانا تھا۔ وہ ایسٹ ایمپٹن (East Ampton) میں رہتے ہیں۔ ان کے مکان پر عورتوں اور مردوں کا ایک مختصر اجتماع ہوا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ایک نشست ہوئی جس میں سادہ انداز میں کچھ تذکیری باتیں
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل عالم اسلام میں ایک کلمہ
بہت مقبول ہے۔ وہ ہے : الاسلام دین و دولة (اسلام دین بھی ہے اور ریاست بھی) یہ دوئی (dichotomy) غیر فطری اور غیر اسلامی ہے۔ اس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ دو چیزیں ایک دوسرے سے الگ الگ چیزیں ہیں ـــ دین اور ریاست۔ اسلام صرف دین نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ وہ ریاست بھی ہے۔ حالانکہ یہاں بیج اور درخت والا رشتہ ہے۔ جس طرح بیج بڑا ہو کر درخت بنتا ہے ۔ اسی طرح ایمان پہلے قلب انسانی میں متمکن ہوتا ہے۔ اس کے بعد بتدریج ظاہر ہو کر مکمل دین بن جاتا ہے۔
ایک پاکستانی بزرگ نے کہا کہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی سب سے زیادہ بری حکمران ہے۔ الیکشن میں یہودیوں نے قاضی حسین (جماعت اسلامی) اور نواز شریف (مسلم لیگ) میں الائنس ہونے ورنہ آج پاکستان میں اسلام پسندوں کی حکومت ہوتی۔
میں نے کہا کہ موجودہ مسلم ذہن پر ہر جگہ یہودی سازش کا نظریہ چھایا ہوا ہے۔ تاریخ یہودی سازش کا شکار نظر آتی ہے ـــ یہودیوں نے سازش کر کے علی اور معاویہ کو لڑوایا اور خلافت راشدہ کا خاتمہ کیا۔ یہودیوں نے تاتاریوں کو استعمال کر کے عباسی خلافت یہ یہودیوں کی سازش ہے۔
ستمبر کی شام کو ماونٹ ہالی کی مسجد میں محمد نبیل المصری (۵۱ سال) سے ملاقات ہوئی۔ (908-5060640 .Tel) ان کا سبجیکٹ کیمسٹری ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اپنے علاقہ کی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہیں اور نماز پڑھاتے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کی مسجد کے امریکی پڑوسیوں کی طرف سے کیا کچھ مسائل ہیں۔ انھوں نے مسکرا کر کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں۔ مسائل تو خود مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوتے ہیں (المشاكل بين المسلمين والمسلمين) میں نے پوچھا کہ امریکا کے بارے میں آپ کے تجربات کیا ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت اچھے لوگ ہیں۔ ہم تو دعا کرتے ہیں کہ خدایا، امریکہ کے ذریعہ اسلام کو طاقت دے (اللّٰھم اعزالا سلام بامريكا)
مختلف ملکوں میں اسلامی حکومت کے قیام کے نام پر جو ٹکڑاڑ کی تحریکیں چل رہی ہیں، ان کے بارے میں گفتگو ہوئی تو انھوں نے کہا کہ صحیح بات یہ ہے کہ اپنے دلوں میں اسلامی حکومت قائم کیجئے، اس کے بعد باہر بھی آپ کی اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی
اقيموا دولة الاسلام في قلوبكم تَقُمْ لكم دولة الاسلام)
ا ا ستمبر کو ٹیمپل یونیورسٹی (پنسلوانیا) دیکھنے دوپہر بعد ڈاکٹر عرفان انیس صاحب کے ساتھ روانہ ٹیمپل یونیورسٹی میں ریلیجن کے شعبہ میں طلبہ اور اساتذہ سے ملاقات ہوئی۔ شعبہ کے موجودہ ہیڈ پروفیسر اکمل ایوب ہیں۔ وہ پیدائشی نابینا ہیں۔ اسی حالت میں انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کا تعلق لبنان سے ہے۔
ان کے آفس میں پڑھنے والی مشین دیکھی۔ میں نے کہا کہ اس کو چلا کر دکھائیے۔ انگریزی کی ایک کتاب کھول کر ایک مشین میں رکھی اور بٹن دبایا تو مشین با آواز بلند کتاب کا مضمون پڑھ کر مسلسل سنانے لگی۔ اس مشین کا نام پرسنل ریڈر ہے ۔ آخرت میں مادی اشیاء بولیں گی، یہ اس کا کیسا عجیب مظاہرہ ہے۔
ڈاکٹر خالد بلینکن شپ ایک امریکی نومسلم ہیں۔ وہ ٹیمپل یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ کافی سنجیدہ تھے۔ ڈاکٹر خالد بلینکن شپ سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ پروفیسر اکمل ایوب کا خیال ہے کہ سب مذاہب برابر ہیں۔ ان میں سے ہر مذہب میں سچائی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب آپ کہتے ہیں کہ صرف اسلام ہی دی ریلیجن (The Religion) ہے تو اس وقت آپ کے پاس اعتقادی کرائٹیریئن کے سوا اور کیا ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کے لیے ہمارے پاس وہی تاریخی کرائٹیریئن ہے جو ساری علمی دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ اسلام کے سوا کسی اور مذہب کو تاریخی استناد (Historical credibility) حاصل نہیں۔ انھوں نے بدھا کا نام لیا۔ میں نے کہا کہ بدھا کے بارہ میں بھی معلوم نہیں کہ اس کی زبان کیا تھی۔ انھوں نے کہا کہ بدھا کی زبان پالی تھی ۔ میں نے کہا کہ خود اسکالرس کے نزدیک ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ بدھا نے پالی زبان میں کلام کیا۔ معاملہ دوسرے لوگوں کا ہے۔ کسی کے بارہ میں تاریخی طور پر یہ ثابت نہیں کہ انھوں نے اپنی زبان سے جو الفاظ کہے تھے وہ آج اپنی اصل حالت میں محفوظ ہیں۔ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں ہر بات تاریخی ہے اور علمی طور پر ثابت شدہ ہے ۔
ا ا ستمبر کی شام کو مجھے ایک گھر میں لے جایا گیا۔ بظاہر نہایت شاندار گھر تھا۔ آس پاس کا ماحول نہایت سرسبز و شاداب اور کافی کھلا ہوا۔ گھر کی خاتون آئیں ۔ انھوں نے روتے ہوئے کہا :
مولانا صاحب، ہمارے لیے ہر نماز میں دعا کیجیے، اللہ ہمارے گھر میں سکون پیدا کر دے۔ واقعہ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہاں کی بظاہر شاندار زندگی کے پیچھے کس قدر غیر شاندار زندگی ہے ۔ ٹیمپل یونی ورسٹی سے واپس ہو کر ہم لوگ جناب عثمان رومی کے مکان پر پہنچے جو یہاں کے ایک پُر فضا مقام پر واقع ہے (609-4242064 .Tel)۔ یہاں تعلیم یافتہ مردوں اور خواتین کا ایک مغرب کی نماز یہاں مکان کے بیسمنٹ میں پڑھی گئی۔ اس کے بعد مولانا ذکی الدین صاحب نے ایک تمہیدی تقریر کی۔ پھر میں نے خطاب کیا۔
میرے خطاب کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ لوگ جو امریکہ آئے وہ تقریبًا سب کے سب مادی غرض سے آئے اور مادی غرض سے آنا اسلام میں کوئی پسندیدہ بات نہیں۔ تاہم یہ آپ کے لیے کوئی برائی کی بات نہیں۔ قرآن میں ہے کہ مومن کی سیئات کو بھی حسنات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے (الفرقان (۷۰) پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کا بظاہر غیر محمود سفر محمود سفر نہ بن جائے۔ میں نے کہا کہ امریکہ میں اگر بسنے کے معاملہ میں اب آپ یہ کریں کہ وہ نیت کر لیں جو صحابہ کرام کی نیت تھی۔ وہ بھی عرب سے نکل کر باہر کے ملکوں میں چلے گئے۔ وہاں انھوں نے تجارتیں بھی کیں۔ مگر ان کی نیت یہ تھی کہ تمام انسانوں تک اسلام کی دعوت پہنچائیں۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کے سفروں کو اتنی برکت دی کہ اسلام متمدیم آباد دنیا کے بیشتر علاقوں میں پھیل گیا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ واقعہ اس قسم کا ارادہ کر لیں تو صحابہ کی تاریخ دوبارہ اپنے آپ کو دہرائے گی جس طرح پہلے زمانہ میں اسلام ساری دنیا میں پھیلا تھا اسی طرح اسلام جدید نسلوں میں بھی پھیل جائے گا۔ پھر میں نے کہا کہ تاریخ کے اعادہ کا یہ پر اس بافعل شروع ہو چکا ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کے انٹرایکشن کی بنا پر لوگ اسلام سے قریب آرہے ہیں۔ صرف امریکہ میں چار ملین سے زیادہ لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔
۱۲ ستمبر کی صبح کو حسب معمول سوال و جواب کی صورت میں ایک گفت گو ریکارڈ کی گئی۔ مولانا ذکی الدین شرفی کا نفرنس میں آنے والوں کے خیالات، اسلام اور مسلمانوں سے تعلق سے ریکارڈ کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں میری بھی کئی تفصیلی گفتگو انھوں نے ریکارڈ کی ہے ۔ اس کے بعد ساڑھے دس بجے ان کے مشورہ پر امریکہ کے دیہات دیکھنے کے لیے ہم
دونوں روانہ ہوئے۔ پہلے ہم لوگ بڑے بڑے زرعی فارموں سے گزرے جو سڑک کے دونوں طرف دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ تمام فارم نہایت منظم تھے اور ان کا کوڑا کچرا کنار، ان کا کوئی تنکا بھی سڑک پر یا فٹ پاتھ پر نظر نہ آیا۔ دیہات کے علاقے قابل دید تھے۔ دور دور بنے ہوئے خوب صورت مکانات، ہر مکان کے چاروں طرف صاف ستھرا سر سبز ماحول، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ دیہات نہیں ہیں بلکہ مسلسل پھیلے ہوئے سرسبز پارک ہیں جن کے درمیان کہیں کہیں رہائشی مکانات کھڑے ہوئے ہیں۔ ان دیہاتوں میں، کمیونی کیشن اور ٹرانسپورٹ اور سڑکوں وغیرہ کی سہولت بھی اعلیٰ درجہ میں موجود تھی۔
ایک جگہ کھلے میدان میں ایک ہی رنگ کی بہت سی بسیں کھڑی ہوئی تھیں۔ معلوم ہوا کہ یہ اسکول کی بسیں ہیں۔ یہاں گورنمنٹ کی طرف سے ۱۲ ویں درجہ تک کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا انتظام گورنمنٹ کی طرف سے بچوں کو لانے اور لے جانے کا مفت انتظام ہے۔ طالب علم کا گھر کہیں بھی ہو، صرف ایک طالب علم کو لینے کے لیے بس وہاں تک جائے گی۔ اس کا اصول یہ ہے کہ گھر اور اسکول کے درمیان اگر ایک میل کا فاصلہ ہے تو طالب علم کو خود چل کر اسکول پہنچنا ہے، اور اگر ایک میل سے زیادہ ہے تو گورنمنٹ بس اس کو لانے اور لے جانے کی ذمہ دار ہے۔ مولانا ذکی صاحب نے ایک جگہ گاڑی کھڑی کی۔ یہاں ایک سفید خوب صورت عمارت تھی۔ اس کے چاروں طرف نہایت صاف ستھرا ماحول تھا۔ ہندوستانی معیار کے اعتبار سے بظاہر وہ گورنر کا ریسٹ ہاؤس معلوم ہوتا تھا۔ مگر مولانا ذکی صاحب نے بتایا کہ یہ اس گاؤں کا پوسٹ آفس ہے۔ وہاں جاکر انھوں نے کچھ ڈاک کا کام کیا اور اس کے بعد واپس آگئے۔
راستہ میں ایک بہت وسیع عمارت تھی۔ اس کے باہر ایک پتھر پر لکھا ہوا تھا : Deborah Heart and Lung Centre معلوم ہوا کہ یہ دنیا میں دل اور پھیپھڑے کے علاج کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ کوئی مریض یہاں آجائے تو اس کو فورا داخل کرکے اس کا معیاری علاج کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ فیس دینے کے قابل ہے تو فیس دیتا ہے ورنہ اس کا پورا علاج مفت کیا جاتا ہے۔ مولانا ذکی صاحب نے بتایا کہ ایک پاکستانی مسلمان یہاں آکر بیمار پڑگئے۔ ان کا پورا علاج یہاں مفت کیا گیا۔
اس کی فیس لاکھوں ڈالر بن رہی تھی۔ یہ ہسپتال زیادہ تر عوامی عطیات سے چلایا جاتا ہے۔ 12 ستمبر کی شام کو حسب پروگرام مسٹر بھرت جانی آئے (908-2831863 .Tel) ان کے ساتھ چل کر ڈیٹن (Dayton) ا۔ یہاں مسٹر کلیش شاہ (908-3294006 .Tel) کے مکان پرایک میٹنگ اس میں تقریباً پچاس کی تعداد میں تعلیم یافتہ ہندو اکٹھا ہوئے۔ ان کے سامنے خطاب کرتے ہوئے میں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ۔ اختلاف انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انسانی سماج سے اختلاف کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ پھر مل جل کر رہنے کا ماحول کیسے بنایا جائے ۔ اس کا ایک ہی راز ہے، وہ ہے اختلاف کو برداشت کرنا۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا۔ اختلاف کو قلبی نفرت نہ بننے دینا۔ تقریر کے بعد مختلف سوالات ہوئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اسلام کی کچھ دعائیں بتائیے۔ میں نے چند دعائیں عربی میں سنائیں اور پھر ان کا ترجمہ کیا۔ ایک دعا یہ تھی : اللہم اجعل فی قلبی نوراً و فی بصری نوراً۔
کلیش صاحب کے مکان کے ایک بڑے کمرہ میں یہ میٹنگ ہوئی۔ لوگوں نے کئی باتیں بتائیں۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے بتایا کہ آج ہی میں نے ریڈیو پر ایک قصہ سنا جو کل پیش آیا ہے۔ ایک ایشیائی باپ اپنی بیمار لڑکی کو لے کر بالٹی مور جا رہا تھا۔ وہاں کے ایک ہسپتال میں اس کا راستہ میں اس کی کار کے انجن میں کچھ پرابلم پیدا ہو گیا۔ اس نے ایک میکینک کو کار میں ایک نیا پرزہ ڈالنے کی ضرورت تھی جو فوری طور پر دستیاب نہ تھا۔ مشورہ دیا کہ آپ رنٹ پر کار لے کر چلے جائیں اور گاڑی یہیں چھوڑ دیں۔ مگر فوری طور پر کرایہ کی کار نہ مل سکی۔
اب سوال تھا کہ کیا کیا جائے۔ کیونکہ لڑکی بیمار تھی اور فوراً روانہ نہ ہونے کی صورت میں وہ وقت پر ہسپتال نہیں پہنچ سکتا تھا جو وہاں سے چار سو میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ میکینک نے کہا کہ کوئی حرج نہیں۔ میں آپ کو اور آپ کی لڑکی کو لے کر چلتا ہوں۔ چنانچہ میکینک اپنی گاڑی پر بٹھا کر ان کو لے گیا۔ اس آمد و رفت میں میکینک کے 14 گھنٹے خرچ ہوئے۔ یہ سب کچھ اس نے رضا کارانہ طور پر کیا۔ اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیا۔
۱۳ ستمبر کو فجر کی نماز ماؤنٹ ہائی کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد چائے پر کچھ لوگوں سے ملاقات محمد کامل مدنی (۴۷ سال) بمبئی میں پیدا ہوئے۔ ہندوستان میں ان کی تعلیم ہوئی۔ بعد وہ پاکستان چلے گئے۔ وہاں سے پھر امریکہ آئے اور اب یہاں ایک اچھا جاب کر رہے ہیں۔ کے دوران انھوں نے کہا کہ انڈیا سے میں اس لیے چلا آیا کہ وہاں میں نے دیکھا کہ تعصب ہے اور مسلمان کے لیے ترقی کے مواقع نہیں ہیں۔
میں نے کہا کہ آپ صرف آدھی بات کہہ رہے ہیں۔ پوری بات یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے فرقہ چپست لیڈروں کی رہنمائی میں ہندو مسلم تفریق کا ہنگامہ برپا کیا۔ دونوں فرقوں کے درمیان نفرت کو بھڑکایا۔ اس کے بعد وہی ہونا تھا جو وہاں ہوا۔ میں مسلمانوں کا کوئی قائد اعظم پیدا ہو جائے ۔ وہ یہاں مسلمانوں اور امریکیوں کے درمیان تفریقی تحریک چلائے اور یہاں کے مسلمان اسی طرح ان قائد اعظم صاحب کا ساتھ دیں جس طرح انھوں نے غیر منقسم ہندوستان میں ساتھ دیا۔ تو آپ لوگوں کا انجام امریکہ میں اس سے بھی زیادہ برا ہو گا جو ۴۷ کے بعد ہندوستان میں ہوا۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں۔ پرس کا پیکٹ کھولا گیا تو اس میں سے ایک خوب صورت چھپا ہوا کا غذ نکلا۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ اس کا غذ کو دکھا کر ہمارے اسٹور سے آپ فلاں فلاں چیز ایک ڈالر کم میں خرید سکتے ہیں۔ نے کہا کہ یہی وہ چیز ہے جس کو آپ لوگ کنز یوم رزم کہتے ہیں۔ ایک انجینئر صاحب جو دستر خوان پر تھے، انھوں نے کہا کہ "کنزیومرزم " کا لفظ آپ نے کس طرح جانا۔ ایک صاحب نے جواب دیاـــــ آپ امریکہ میں رہتے ہیں، وہ امریکہ کے بارے میں پڑھتے ہیں۔
نیویارک میں جیوے پاکستان (718-793-1915 Tel) کے نام سے ایک ٹی وی ادارہ ہے۔ اس نے ۲۷ اگست ۱۹۹۶ کی شام کو ایک تفصیلی انٹرویو اپنے اسٹوڈیو میں ریکارڈ کیا۔ پہلے ۱۰منٹ تک میں نے اسلامی مرکز کی تاریخ اور اس کی سرگرمیوں کے بارہ میں بتایا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ۴۷ کے بعد ہندوستانی مسلمانوں میں ایک عمومی بے حوصلگی آگئی تھی۔ عام ذہن یہ بن گیا تھا کہ اس ملک میں ہمارے لیے مواقع نہیں۔ یہاں صرف تعصب اور تشدد ہمارا مقدر بن چکا ہے۔ اس سلسلہ میں ہندوستان کے مسلم رہنما صرف شکایت اور احتجاج کے الفاظ
لکھنے اور بولنے میں مشغول تھے ۔ ہم نے قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بنانا شروع کیا کہ ان کے لیے ہر قسم کے مواقع موجود ہیں۔ آج خدا کے فضل سے ہندوستانی مسلمانوں میں نیا حوصلہ جاگ اٹھا اب وہ وہاں عزم وہمت کے ساتھ زندگی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
اس کے بعد۲۰ منٹ تک ایمان، عبادت، اسلامی اخلاق، صبر واعراض اور دعوت کے موضوع پر کلام کیا۔ انٹرویو کے آخر میں ایک صاحب نے سوال کیا کہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لئے آپ کا پیغام کیا میں نے کہا کہ میرا پیغام یہ ہے کہ وہ وہاں قرآن کے الفاظ میں نفع بخش بن کر رہیں۔ وہ یہاں بوجھ (liability) نہ بنیں بلکہ وہ یہاں کے لیے سرمایہ (asset) بن جائیں ۔ وہ صرف لینے والے بن کر نہ رہیں بلکہ دینے والے بن کر رہنے کی کوشش کریں۔
ایک پاکستانی مسلمان نے افسوس کے انداز میں کہا کہ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ ہم سب پاکستانی ہیں ، اور ہمیں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرنا چاہیے۔ مگر پاکستان کی نئی نسل اس سبق کو بھولتی جارہی اس کو نہ پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور نہ اسلام پر فخر !
میں نے کہا کہ آپ صرف نئی نسل کو کیوں کہہ رہے ہیں۔ آپ جیسے لاکھوں لوگ پاکستان کو چھوڑ کر امریکہ میں آکر آباد ہو گئے ہیں۔ کیا وہ خود بھی اس کا مصداق نہیں ہیں۔ اگر آپ لوگوں کو سچ مچ پاکستان اور اسلام پر فخر ہوتا تو آپ ہرگز پاکستان اور اسلامی جمہوریہ کو چھوڑ کر یہاں نہ آتے۔ پھر میں نے کہا کہ فخر کی بات بذات خود ہی غلط ہے۔ اسلام ہمارا فخر نہیں ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے۔
امریکہ میں مقیم پاکستانی ہر سال یہاں پاکستانی میلہ مناتے ہیں۔ ۸؍اگست اگست ۱۹۹۴ کو نیویارک میں جو میلہ منایا گیا اس موقع پر ایک سوینیر چھاپا گیا تھا، اس کو میں نے دیکھا۔ اس میں ایک مضمون تھا قیام پاکستان : اسلامیان ہند کے طویل سفر کی منزل ۔ اس مضمون کا خاتمہ ان سطروں پر ہوا تھا :
" قائد اعظم محمد علی جناح (پاکستان کی مانگ پر) کوہ ہمالیہ کی مانند ڈٹے رہے، اور اپنا مطالبہ پورا کرایا ۔ اس موقع پر مسز وجے لکشمی پنڈت نے کہا کہ اگر مسلم لیگ میں ایک سو گاندھی، ایک سو ابو الکلام آزاد اور ایک سو پنڈت جواہر لال نہرو ہوتے اور کانگریس میں صرف محمد علی جناح ہوتے
تو ملک کبھی تقسیم نہ ہوتا۔ ۳ جون ۱۹۴۷ء کو قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ اور یوں دنیا کے نقشہ پر ایک اسلامی مملکت ابھری۔ اور وہ سلطنت جس کا چراغ ۱۸۵۷ء میں گل ہوا تھا پھر اس کا دیا فروزاں ہوا اور مسلمان ایک اسلامی سلطنت کے وارث بنے۔ آج پاکستان مسلمانوں کے لیے ایک قلعہ وہ دنیائے اسلام کا اہم ترین ملک ہے"۔
میں نے ایک پاکستانی مسلمان سے کہا کہ جب سو سال پہلے بھی زیادہ لمبی مدت کے بعد اسلام کا قلعہ اور اہم ترین اسلامی ملک وجود میں آگیا تو وہاں کے تمام بہترین افراد ملینوں کی تعداد میں پاکستان سے نکل کر یورپ اور امریکہ کیوں چلے آئے ۔ پھر تو آپ لوگوں کو خوشی اور اطمینان کے ساتھ وہاں رہنا چاہیے تھا۔ مگر اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ میں نے کہا پھر تو خود اپنے عمل سے آپ اس کی تردید کر رہے ہیں۔ آپ خود بتا رہے ہیں کہ یہ الفاظ محض ایک شاعری ہے، حقیقت واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
امریکی اخباروں میں ہندوستان کی خبریں بہت کم ہوتی ہیں۔ میرے طویل مدت قیام میں صرف ایک بار تفصیلی خبر تھی ۔ یہ امرناتھ یاترا کے بارہ میں تھی جس میں شدید طوفان کے نتیجہ میں تقریبا ڈھائی سو آدمی مرگئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ دی نیو یارک ٹائمز (۲۷ اگست ۱۹۹۹) میں صفحہ اول پر سری نگر کی ڈیٹ لائن کے ساتھ جان ایف برنس (John F. Burns) کی رپورٹ چھپی تھی۔ مذکورہ رپورٹر ہم ۳ سالہ پھل فروش جگدیش کیلا سے اسپتال میں ملا جو خود بھی اس حادثہ کا شکار ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ، کیلانے حادثہ کی ہولناک تفصیلات بتائیں۔ اس کو نرک کی یاترا قرار دیا :