سوال و جواب
Al-Risala, November 1998, pp. 46–49
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کی کتاب فکر اسلامی پڑھی بظاہر اس کتاب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک حریت پسند آدمی ہیں۔ کیا یہ لفظ آپ کے لئے بول نادرست ہوگا (ابرار احمد، سورت) حریت پسند کالفظ میرے لئے درست نہیں۔ اگر آپ میری تمام کتابیں پڑھیں تو آپ کی یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا پورا فکر قرآن وحدیث اور علماء حق کے مطالعہ سے ماخوذ ہے۔ میں مکمل طور پر تقلیدی اسلام‘‘ کا حامی ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ میں قدیم بات کو جدید اسلوب میں بیان کرتا ہوں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو مرحوم قاری محمد طیب صاحب ان الفاظ میں بیان کیا کرتے تھے۔ ....... مسائل قدیم ہوں، دلائل جدید ہوں۔ قربانی (ذبیحہ) جذبہ رحم کے منافی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جانوروں کے تڑپنے کے بعد جو گوشت ہمیں کھانے کو ملتا ہے اس کی تڑپ اگر ذہن میں رکھے تو کھانے کا جی نہیں چاہتا۔ کہ یہ گوشت کھانا اسلام میں جائز ہے۔ (شکیل احمد، دروره، چندر پور) یہ مسئلہ صرف قربانی کا نہیں ہے۔ بلکہ وہ خود قانون فطرت کا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، آپ خواہ کچھ بھی کریں۔ ہوا میں سانس لیں، پانی پئیں، سبزی کھائیں، دودھ پئیں۔ ہر حال میں آپ جانوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ قربانی میں ایک جانور کو ہلاک کیا جاتا ہے اور عام حالات میں بیکٹیریا کو۔ اور زندہ جسم ہونے کے اعتبار سے جانور اور بیکٹیریا میں کوئی فرق
زندہ رہنے کے لئے ہمیں خوراک کی ضرورت ہے۔ اور فطرت نے زندہ اشیاء ہی کو ہماری خوراک بنایا ہے۔ غیر زندہ اشیاء (مردہ حیوان یا پتھر وغیرہ) کو ہم اپنی خوراک نہیں بنا سکتے ایسی حالت میں اصل سوال قربانی کرنے یا نہ کرنے کا نہیں ہے۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آدمی زندہ رہے یا خود کشی کر کے اپنے آپ کو ختم کر لے۔ کسی کو یہ حق تو ہے کہ وہ کھانا پانی چھوڑ کر اپنے آپ کو ہلاک کرلے۔ مگر کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ قربانی نہ کرو۔ کیوں کہ قربانی تو ہر آدمی عملاً کر رہا ہے۔ ہر آدمی ہر لمحہ ہزاروں جانوں کو مار کر انہیں اپنی خوراک بناتا ہے اس کے بعد ہی وہ اس دنیا میں زندہ حالت میں باقی رہتا ہے۔ قربانی اس دنیا میں زندگی کا ایک عام قانون ہے، وہ مخصوص طور پر جانور کے ذبیحہ سے متعلق مسئلہ نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ چیزوں سے نہیں ہوتا، خدا سے ہوتا ہے۔ خدا سے ہونے کا یقین اور اسباب سے کچھ نہ ہونے کا یقین یہ کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے، اس کے بارے میں (شکیل احمد، چندر پور)
اس مسئلہ کا جواب حدیث (الترمذی، کتاب القیامہ) میں موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے ایک مسلمان نے کہا کہ اے خدا کے رسول میں اپنے اونٹ کو باندھوں اور پھر توکل کروں یا اس کو چھوڑ دوں اور پھر توکل کروں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے اونٹ کو باندھو پھر توکل کرو ( یا رسول الله اعقلها واتوكل او اطلقها واتوكل قال اعقلها وتوكل)
اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز برائے امتحان ہے یہی معاملہ تو کل کا ہے۔ اس دنیا کا نظام بظاہر اسباب و علل پر قائم ہے۔ یہاں کے حالات کا تقاضا ہے کہ آدمی پوری طرح اسباب
کی رعایت کرتے ہوئے اپنا عمل کرے۔ اس کے باوجود اس کو خدا ہی پر بھروسہ کرنا ہے۔ بھی اس کی کیفیت یہ ہونی چاہیے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے حکم سے ہو رہا ہے۔ ہے، جو ظاہری اعتبار سے ہر قسم کے اسباب فراہم کرے، مگر داخلی طور پر اس کا یقین یہ ہو کہ جو کچھ ہو گا خدا کے حکم سے ہوگا۔ خدا کے حکم کے بغیر یہاں نہ کسی کو کچھ ملنے والا ہے اور نہ کسی سے کچھ چھینا جانے والا۔
کہا جاتا ہے کہ زکاۃ اور صدقات میں برکت ہے اور سود میں برکت نہیں۔ مطلب کیا ہے۔ براہ کرم تشریح فرمائیں۔ (مشتاق احمد، دہلی)
یہاں برکت کا لفظ کسی پر اسرار معنی میں نہیں۔ بلکہ وہ معلوم اقتصادی معنی میں یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ زکاۃ یا صدقہ دوسروں کو دینے کا عمل ہے۔ اس کے برعکس سود دوسروں سے لینے کا عمل۔ کسی سماج میں جب ایسا ہو کہ لوگ اپنی کمائی کا ایک حصہ دوسروں کو دینے لگیں تو وہاں عمومی خوش حالی پیدا ہوگی۔ کمایا ہوا مال صرف کمانے والے کے پاس نہیں رہے گا بلکہ توسیع پا کر وہ دوسروں تک بھی پہنچتارہے گا۔ اس کے مقابلہ میں سودی نظام میں یہ ہوگا کہ کچھ لوگ قرضوں کے ذریعہ دوسروں کے مال کا ایک حصہ اپنے لئے حاصل کرتے سماج کی دولت پورے سماج میں گردش نہیں کرے گی بلکہ وہ کچھ افراد کے پاس سمٹ کر رہ جائے گی۔ یہی مطلب ہے بے برکتی کا۔ زکاۃ اور صدقہ کا طریقہ خوش حالی کو عمومی اور سود کا طریقہ خوش حالی کو کچھ لوگوں تک محدود کر دیتا ہے۔
آپ غیر مسلموں کے اجتماعات میں جاتے ہیں۔ دعوتی اعتبار سے یہ ایک اچھی بات مگر جہاں تک معلوم ہوا ہے، آپ وہاں اسلامی عقائد کو پیش نہیں کرتے۔ بلکہ اسلام کے اخلاقی تعلیمات اور معاملات کو پیش کرتے ہیں۔ دعوت کا یہ طریقہ درست نہیں۔ چاہئے کہ سنت نبوی کے مطابق اسلامی عقائد کو ان کے سامنے پیش کریں (زکی نور عظیم
آپ کی یہ اطلاع درست نہیں، دعوت کوئی ایک ریکارڈ بجانے کا نام نہیں ہے۔ مخاطب کی نفسیات اور موقع و محل کی رعایت سے کوئی بات پیش کرنے کا نام ہے۔ اور میں خدا کے فضل سے یہی کرتا ہوں۔ مثلاً غیر مسلموں کے ایسے کئی اجتماعات ہیں جن میں میں نے ویدانت کی فلاسفی (ادویت واد) کے مقابلہ میں اسلام کے تصور توحید کو پیش کیا۔ اجتماعات میں جہاں ایسے لوگ اکٹھے تھے جو اسلام کو تشدد پسند مذہب سمجھتے تھے، ان کے سامنے اسلام کو رحمت کلچر کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح بعض اور اجتماعات میں جہاں ایسے مخاطبین تھے جو اسلام کی تاریخ کے بارے میں شک و شبہ میں تھے، وہاں اسلامی تاریخ کی صحیح تصویر پیش بعض اور مواقع پر جہاں محسوس ہوا کہ لوگ اسلام کے نام سے متوحش ہوتے ہیں وہاں یہ توحش دور کرنے کی کوشش کی تا کہ وہ اسلام کا مطالعہ کرنے لگیں۔ بعض مواقع پر جہاں لوگ مسلمانوں کے بعض اعمال کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں بدگمان ہو رہے تھے۔ وہاں بتلایا کہ اسلام کو سمجھنے کا ماخذ قرآن و سنت ہے نہ کہ مسلمانوں کی روش۔ یہی طریقہ سنت نبوی سے ماخوذ ہے۔ ایک صحابی نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: کلم الناس علی قدر عقولہم۔