ڈبل معیار
Al-Risala, December 1998, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۸۳ میں بتایا گیا ہے کہ ۔ خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں۔ اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں، ایک بڑے دن کے لئے جس دن تمام لوگ خداوند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے (المطفیف ۱-۶)
ان آیتوں میں اس اخلاقی برائی کا ذکر ہے جس کو ڈبل معیار کہا جاسکتا ہے۔ آپ کو ایک معیار سے جانچنا اور دوسرے کو اس سے مختلف معیار سے جانچنا۔ جس آدمی کے اندر یہ دوہر ا معیار پایا جائے اس کے لئے اس آیت میں نہایت برے انجام کی خبر دی گئی
ایسے مزاج کے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کے اندر ایک برائی کو دیکھتے ہیں تو اس کو شرعی یا اخلاقی معیار سے ناپ کر کہتے ہیں کہ دیکھو، یہ شخص کیسا برا ہے کہ ایسا اور ایسا فعل کر رہا ہے۔ مگر جب نشاندہی کی جائے کہ تم خود عین اسی فعل میں مبتلا ہو تو وہ جانچ کے معیار کو بدل دے۔ اب وہ کہے کہ یہ تو دنیا کا رواج ہے، ایسا تو سبھی لوگ کرتے ہیں۔ دوسرے شخص یا دوسری قوم کی برائی کی نشاندہی کر کے اس کو برا بتانا، اور خود اپنے اندر یا اپنی قوم کے اندر اسی قسم کی برائی پائی جائے تو کوئی نہ کوئی وجہ بتا کر اس کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرنا، یہ دہر ا معیار ہے۔ اور جو لوگ دہر ا معیار کی برائی میں مبتلا ہوں وہ خدا کی نظر میں بدترین مجرم ہیں۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں سخت سزا کے مستحق قرار پائیں