Al-Risala · December 1998

ایک سائنس داں

Al-Risala, December 1998, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۸۴۷) (۱۹۳۱ء-۱۸۴۷) مشہور امریکی سائنس داں ہے۔ بچپن میں اس کے استاد نے اس کو ایک نااہل طالب علم قرار دیا تھا۔ مگر اپنی محنت کی بدولت ترقی کرتے کرتے وہ ایک عظیم سائنس داں بن گیا۔ تھامس الوا ایڈیسن جب آٹھ سال کا بچہ تھا اور اسکول میں پڑھ رہا تھا۔ اس وقت کا واقعہ ہے۔ ایک روز اس کی خاتون ٹیچر نے اڑنے کے موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ آدمی ”پر“ نہ ہونے کی وجہ سے نہیں اڑ سکتا جب کہ چڑیا ”پر“ ہونے کی وجہ سے اڑتی ہے۔ سارے بچے مطمئن ہو گئے مگر الوا کے ذہن میں ایک مختلف مثال آگئی۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر کہا کہ میڈم مگر پتنگ تواڑتا ہے حالانکہ اس کے ”پر“ ٹیچر بچہ کے اس سوال کا جواب نہ دے سکی۔ مگر اس نے اپنی لاعلمی کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کو اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیا۔ اور بات کو یہاں تک بڑھایا کہ الوا کو اسکول اس نے کہا کہ یہ ایک بے وقوف لڑکا ہے اور بہت زیادہ بولتا ہے۔ تھامس الواایڈیسن نے بہت سی سائنسی چیزیں دریافت کیں۔ مثلاً وائرلیس، ٹیلی فون، بجلی ، فوٹوگرافی، بجلی کی روشنی وغیرہ۔ تقریباً ایک سو چھوٹی بڑی ایجادات اس کی طرف منسوب ہیں۔ تھامس الواایڈیسن جب بچہ تھا تو وہ بہت زیادہ سوالات کرتا تھا۔ اسکول کی خاتون ٹیچر اس کے سوالات کا جواب نہ دے سکی تو اس نے اس معاملہ کو اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیا اس بنا پر وہ الوا کی صلاحیت کو دریافت کرنے میں ناکام رہی۔ مگر الوا کی ماں اس نفسیاتی پیچیدگی سے خالی تھی۔ لئے اس نے بہت جلد اس حقیقت کو جان لیا کہ الوا کا زیادہ سوال کرنا دراصل اس کی تخلیقی ذہانت کا اس نے مادرانہ شفقت کے ساتھ الوا کو علم و تحقیق کے راستہ پر ڈال دیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک عظیم سائنس داں بن گیا۔

Printed page