Al-Risala · December 1998

مسیح کا کردار

Al-Risala, December 1998, pp. 12–14

By Maulana Wahiduddin Khan

مسیح ابن مریم علیہ السلام کا زمانہ دو ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ وہ فلسطین میں پیدا ہوئے اور یہیں دعوت حق کا آغاز کیا۔ اس وقت فلسطین کے علاقہ میں زیادہ تر یہودی آباد ان یہودیوں نے حضرت مسیح کی بد ترین مخالفت کی۔ اس کا مختصر تذکرہ قرآن میں ہے اور اس کی تفصیل انجیل (عہد نامہ جدید) میں دیکھی جا سکتی ہے۔

یہودیوں نے حضرت مسیح کا انکار کیا۔ انھوں نے ان کی تحقیر کی۔ ان کو طرح طرح سے بد نام کیا۔ انھوں نے لوگوں کو حضرت مسیح سے متنفر کرنے کی کوشش کی تا کہ کوئی ان کا ساتھ نہ دے۔ اس وقت فلسطین کے علاقہ میں رومیوں کی حکومت تھی۔ یہودی جب اپنے ذرائع سے حضرت مسیح کا کچھ بگاڑ نہ سکے تو وہ حضرت مسیح کے خلاف جھوٹا کیس بنا کر ان کو رومی عدالت میں لے گئے اور وہاں سے ان کے خلاف فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے خدا کے حکم سے کوئی بھی شخص خدا کی اجازت کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ مطابق فلسطین میں حضرت مسیح کے خلاف جو کچھ ہوا وہ خدا کے اذن کے تحت ہوا۔ نے کیوں اس کا اذن دیا۔ اور ایک پاک اور معصوم انسان کے ساتھ اس قسم کے ظلم کو خدا نے کیوں گوارا کیا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس زمانے میں یہودی خدا کے دین کے حامل تھے۔ وہ گویا کہ بگڑے ہوئے مسلمان تھے۔ وہ قساوت کا شکار تھے اور دینی اسپرٹ کو آخری حد تک کھو چکے انھوں نے ظاہری اور نمائشی دینداری کا شاندار لبادہ اپنے اوپر اوڑھ رکھا تھا۔

مطلوب تھا کہ ان کو بے نقاب (expose) کیا جائے ۔ ان کی ظاہری دینداری کے پیچھے چھپی ہوئی بے دینی کو کھول کر نمایاں کر دیا جائے۔

اس وقت کے یہودی آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہر قسم کی بے انصافیاں کر رہے تھے۔ مگر یہ واقعات ان کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لئے کار آمد نہ تھے، کیوں کہ وہ دو طرفہ تھے۔ ان واقعات میں دونوں فریق بے انصافی کا شکار ہوتے تھے۔ واقعہ میں دونوں ہی فریق نے بے انصافی کر رکھی ہو وہ کسی کی اصل حقیقت کے اظہار کے لئے کافی نہیں ہو سکتا تھا۔

اس واقعہ کے لئے ایک ایسا انسان درکار تھا جو خود مکمل طور پر بے قصور ہو، اس کے باوجود لوگ اپنے سرکشی اور بے انصافی کے مزاج کے بنا پر اس کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لئے ڈھیٹ ہوجائیں۔ اس وقت کے فلسطین میں اس قسم کا انسان صرف ایک تھا۔ وہی شخصیت تھی جس کو مسیح ابن مریم کہا جاتا ہے۔

حضرت مسیح آخری حد تک ایک پاک اور بے قصور انسان تھے۔ انھوں نے کبھی کسی کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچائی۔ البتہ انھوں نے یہ کیا تھا کہ انھوں نے یہودیوں کے خود ساختہ دین پر تنقیدیں کیں۔ انھوں نے ان کے خود ساختہ اکابر کو اصاغر بتایا۔ یہودیوں کے مز عومات کا غیر دینی ہونا ثابت کیا۔ تاہم یہ امر حق کا لفظی اعلان تھا نہ کہ کوئی قابل دست اندازی جرم۔ یہودی ان کی باتوں کا جواب دلیل کی زبان سے دے سکتے مگر ان کے بڑوں نے حضرت مسیح کی ان باتوں کو لیکر یہودی عوام کو بھڑکایا۔ کہ قوم کی اکثریت کو ان سے بد ظن کر دیا۔

حضرت مسیح کو بد نام کرنا بھی ان کے وجود کو اور ان کے مشن کو ختم کرنے کے لئے

کافی نہ ہو سکا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک اور مجرمانہ منصوبہ بنایا۔ اس وقت فلسطین میں رومیوں کی حکومت تھی۔ یہودیوں نے یہ کیا کہ حضرت مسیح پر بے بنیاد الزام لگا کر ان کو رومی عدالت کے سامنے کھڑا کر دیا۔ انھوں نے چاہا کہ رومیوں کے ہاتھوں حضرت مسیح کو مگر خدا نے ان کو اس انجام سے بچا لیا۔

حضرت مسیح کی یہ کہانی کوئی انفرادی کہانی نہیں۔ یہ خدا کی ایک سنت کی مثال ہے۔ جب بھی کسی قوم میں مذکورہ قسم کا بگاڑ آجائے تو خدا اس کے بگاڑ کو بے نقاب کرنے کے لئے کسی پاکباز انسان کو کھڑا کرتا ہے جو مسیح کا کردار ادا کر کے لوگوں کی حقیقت کو بے نقاب

بگڑے ہوئے معاشرے میں ایک بے قصور انسان ہی اس بات کا تاریخی ثبوت بن سکتا ہے کہ اس نے کسی کا کوئی نقصان نہیں کیا۔ اس کے باوجود لوگ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوگئے۔ اس پر جھوٹے الزام لگائے گئے۔ اس کو بدنام کر کے عوام سے اس کو کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ حتیٰ کہ اس کو جھوٹے مقدمات میں الجھایا گیا۔ یہ سب کچھ مسلسل طور پر اور علانیہ طور پر ہوتا رہا مگر وقت کے دینی ٹھیکیدار خاموش رہے۔ خانقاہوں میں اس کی وجہ سے کوئی زلزلہ نہیں آیا۔ مفتیوں نے اس کے خلاف فتوے صادر جو علماء دین کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے انھوں نے ان غیر انسانی اور غیر دینی معاملات کو جانا، مگر وہ مسلسل حدیث کی زبان میں گونگے بنے رہے۔

کسی بگڑی ہوئی قوم کو اس طرح بے نقاب کرنا صرف ایک معصوم اور بے قصور انسان کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کے ذریعہ اپنا یہی منصوبہ پورا کیا۔

Printed page