Al-Risala · December 1998

سفر امریکہ ۵

Al-Risala, December 1998, pp. 20–23

By Maulana Wahiduddin Khan

فریب جلوہ کی یہ کشش آج سیکڑوں گنا زیادہ بڑھ چکی ہے۔ پھر آج کسی شخص کے لیے یہ کتنا مشکل ہوگا کہ وہ بزم عالم سے اپنے دل کو اوپر اٹھا سکے۔

ادھیڑ عمر کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بہت پریشان نظر آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں ایک بینک میں میں افسر تھا، اچھی تنخواہ تھی۔ پھر میں نے امریکن لڑکی سے شادی کی۔ اس کے بعد میرے اخراجات بہت بڑھ گئے۔ بینک میں میں نے ایک فراڈ کیا۔ میرا فراڈ پکڑا گیا ۔ میری ملازمت ختم برسوں تک میں ہاؤس اریسٹ رہا۔ میری صحت اور اقتصادی زندگی دونوں تباہ ہو گئی۔ اب بتائیے کہ میں کیا کروں۔

میں نے دو مشورے دیے۔ میں نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنی حد (Limit) کو آپ نے جو فراڈ کیا وہ آپ کی طاقت سے باہر تھا۔ آپ اپنی حد پر قائم نہیں رہے۔ بات یہ کہ آپ ماضی کو مکمل طور پر بھلا دیجیے۔ اس بات کو اچھی طرح جان لیجیے کہ آپ جہاں آج ہیں وہیں سے دوبارہ آپ اپنا سفر شروع کر سکتے ہیں ، پیچھے سے سفر کرنا آپ کے لیے ممکن نہیں۔ اس دنیا میں ہر آدمی غلطی کرتا ہے۔ تاہم آدمی کو دو بات ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ ایک یہ کہ یہاں غلطی کرنا آسان ہے۔ مگر غلطی کو نبھانا انتہائی مشکل کام ہے۔ دوسرے یہ کہ نقصان خواہ کتناہی بڑا ہو وہ آدمی کے سارے امکانات کو ختم نہیں کرتا ۔ ہر نقصان کے بعد یہ امکان باقی رہتا ہے کہ آدمی از سر نو اپنی قوتوں کو اکٹھا کرے ، وہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرکے دوبارہ نئی کامیابی

۲۸ اگست کی شام کو پروگرام کے مطابق ہم لوگ سنٹرل جرسی (South Brons Wick) کے لیے روانہ ہوئے ۔ یہاں ڈاکٹر مہدی نقوی کے مکان پر ایک اجتماع رکھا گیا تھا : Tel. (908) 297-8037, 297-4100 یہ پچاس میل کا سفر تھا جو ایک گھنٹہ میں طے ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر راستہ میں ایک جگہ کار ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ٹریفک جام ہوگئی اور ہم لوگ ڈیڑھ گھنٹہ میں پہنچ سکے۔ میرے سر میں چکر کی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ لوگ ایر ہیک ہوتے ہیں، میں کار ہیک ہوں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں تو آدمی کار انجوائے کرتا ہے۔ مغرب کے وقت ہم لوگ

ڈاکٹر مہدی نقی کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ یہ بہت کھلی اور پرفضا جگہ تھی۔

مغرب کی نماز کے بعد کھانا کھایا گیا۔ اس کے بعد ہال نما وسیع بیسمنٹ میں اجتماع ہوا، تعلیم یافتہ مسلمان عورتیں اور مرد بڑی تعداد میں اکٹھے تھے۔ میں نے اپنی مفصل تقریر میں بتایا کہ قرآن وحدیث میں کہا گیا ہے کہ اسلام ہمیشہ غالب رہے گا، وہ کبھی مغلوب ہونے والا نہیں۔ اس سے غلط طور پر کچھ لوگوں نے سیاسی غلبہ مراد لے لیا ہے۔ اور بزعم خود اسلام کا سیاسی غلبہ قائم کرنے کے لیے جگہ جگہ بے فائدہ لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد اسلام کا نظریاتی غلبہ ہے، اور فکری اور نظریاتی غلبہ بلاشبہ ہر دوسرے غلبہ سے زیادہ عظیم ہے۔ پھر تفصیل سے بتایا کہ اسلام کا یہ غلبہ ہمیشہ قائم رہا ہے اور آج سائنسی دور میں بھی وہ آئیڈیالوجیکل سپر پاور کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ پھر میں نے بتایا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ تشدد اور جنگ کی تباہ کن سرگرمیوں کو چھوڑ کر اسلام کی فکری برتری کے پہلو کو نمایاں کریں۔ اس سے ان کی اپنی روحانی ترقی بھی ہوگی اور دنیا کے لوگ تیزی سے اسلام کی طرف مائل ہوں گے۔ رات کو ڈیڑھ بجے میں اپنی رہائش گاہ پر

۱۹۸۸ میں پان امریکن ورلڈ ایئرویز (پان ایم) کا ایک جہاز اسکاٹ لینڈ کے شہر (Lockerbie) کے اوپر اڑ رہا تھا کہ اس کے اندر بم پھٹا اور وہ تباہ ہو گیا۔ ۲۷۰ آدمی مرگئے، جو زیادہ تر امریکی تھے۔ ایک بڑی امریکی کمپنی تھی مگر اس کے بعد وہ بند ہو گئی۔ جب کہ ٹھیک اسی طرح ایر انڈیا کا ایک جہاز دورانِ پرواز بم کا شکار ہوا اور وہ سمندر میں گر پڑا۔ مگر ایر انڈیا اس کے بعد بھی بند نہیں ہوئی، اس فرق کا سبب مجھے موجودہ سفر کے دوران معلوم ہوا۔

اصل یہ ہے کہ امریکہ میں فرد کے حقوق بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ پان ایم کے حادثہ کے بعد مرنے والے مسافروں کے ورثا نے یہاں کی عدالتوں میں مقدمات کیے اور تلافی کے لیے بہت بڑی بڑی رقموں کا مطالبہ کیا۔ عدالت نے ہر ایک کے حق میں فیصلے دیے۔ اس کے بعد کمپنی کو تمام لوگوں کو بڑی بڑی رقمیں دینی پڑیں ۔ حتیٰ کہ اس کے اثاثے فروخت ہو گئے۔ اس طرح پان ایم دیوالیہ ہو کر بند ہو گئی۔

پان ایم کے حادثہ کا سبب دو لیبی باشندے تھے جن کو معمر قذافی نے اس کام کے لیے

مامور کیا تھا۔ چنانچہ امریکہ نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ دونوں لیبی اس کے حوالے کئے جائیں لیکن معمر قذافی نے ان کو حوالے نہیں کیا۔ کیوں کہ ان کو اندیشہ تھا کہ ان دونوں آدمیوں پر جب مقدمہ چلایا جائے گا تو وہ سارے راز کھول دیں گے۔ اب معمر قذافی کو چاہیے تھا کہ وہ غلطی کا اعتراف کرکے امریکہ سے اپنے معاملات درست کرتے ، اس کے بجائے انہوں نے ” سبق سکھانے“ کے اصول کے تحت امریکہ کے خلاف مزید تخریبی کارروائیاں شروع کر دیں۔

اسی سلسلہ کا ایک قصہ وہ ہے جو میں نے نیویارک ٹائمز کے شمارہ ۳۱ اگست ۱۹۹۶ میں اے پی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ کے بلیک لیڈر فراخان (Louis Farra Khan) کو ’’ہیومن رائٹس ایوارڈ“ کے تحت ڈھائی لاکھ ڈالر (250,000 $) 250,000)دیے جارہے ہیں۔ کے علاوہ قذافی نے ان کو مزید ایک بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حد درجہ غیر دانش مندانہ فعل ہے۔ یہ صرف امریکیوں کی نظر میں مسلمانوں کی تصویر بگاڑنے کے ہم معنی ہے۔ اس طرح مسائل اور زیادہ بڑھیں گے ، وہ کسی بھی درجہ میں کم ہونے والے نہیں۔ پچھلے سالوں میں مسلمانوں کے درمیان جو تشدد پسند گروپ ابھرے ہیں اور جگہ جگہ اسلام کے نام پر بم اور گن کی تحریکیں چلا رہے ہیں ، اس نے اسلام کو کوئی فائدہ تو نہیں پہنچایا۔ سے اسلام کو بے پناہ نقصان ہوا ہے۔ اس نے صلیبی جنگ کی بھولی ہوئی یادوں کو از سرِ نو معتدبی انسان کے ذہن میں جگا دیا ہے۔ لوگ سوچنے لگے ہیں کہ کیا تشدد اور خوں ریزی کا نیا دور شروع ایک تعلیم یافتہ امریکی نے کہا کہ یہ اسلامی لوگ آخر کیا کرنا چاہتے ہیں: What do the Islams have in mind now? اس امریکی نے اسلام کے لفظ کو جمع کی صورت میں استعمال کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو مسلمانوں کے ہم معنی سمجھ رہا ہے۔ یہ کتنا بڑا نقصان ہے جو موجودہ مسلمانوں کے ذریعہ اسلام کو پہنچا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جگہ جگہ جو انتہا پسندانہ تحریکیں چلا رہے ہیں وہ حقیقۃً ان کی قومی تحریکیں ہیں۔ مگر ان مسلمانوں نے ان کو اسلام اور اسلامی جہاد کے نام پر چلا رکھا ہے ۔ یہ بلا شبہ ایک سرکشی کا فعل ہے اور وہ سراسر اسلامی مفاد کے خلاف ہے مسلمانوں کے اوپر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ یا تو وہ ان تشدد دانہ سرگرمیوں کو مکمل طور پر بند کر دیں یاکم از کم

وہ ایسا کریں کہ اسلام کے بجائے قوم اور ملک کے نام پر ان کو انجام دیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں اور اس غیر اسلام کو بدستور اسلام کے نام پر جاری رکھیں تو مجھے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ وہ سخت طور پر خدا کی پکڑ میں آ جائیں گے۔

جارج واشنگٹن (99-1732) امریکہ کا پہلا صدر تھا۔ وہ پیروں سے معذور تھا اور وہیل چیئر پر رہتا تھا۔ مگر اس نے امریکہ کی تاریخ میں بہت بڑا کام کیا ہے۔ 1929 میں یہاں زبردست اقتصادی بحران آیا۔ اس وقت جارج واشنگٹن نے نہایت مثبت اقدامات کیے اور لوگوں کے حوصلے کو بلند کیا۔ وہ کہتا تھا کہ :

Printed page