Al-Risala · December 1998

I think 'your lordship is under consultation.

Al-Risala, December 1998, pp. 23–24

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب کا یہ انداز بے حد موثر انداز ہے۔ اس انداز کا جواب دینے کے لیے سب سے زیادہ ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی جھنجلاہٹ میں مبتلا نہ ہو اور ہر حال میں اپنے ذہنی توازن کو برقرار مذکورہ وکیل اتنا موثر جواب دینے پر صرف اس لیے قادر ہوا کہ وہ جج کے توہین آمیز رویہ پر غصہ نہیں ہوا۔ اگر وہ غصہ ہو جاتا تو کبھی بھی وہ جج کو اتنا موثر جواب نہیں دے سکتا تھا۔ نیویارک میں ہم لوگ صبح کو جس راستہ پر ٹہلنے کے لیے جاتے تھے ، وہاں سلسلہ وار یہودیوں

کی فروٹ وغیرہ کی دکانیں تھیں۔ ہم دیکھتے تھے کہ صبح سویرے ہی یہ تمام دکانیں کھل جاتی ہیں۔ ۳۱ اگست کی صبح کو ہم یہاں سے گزرے تو تمام دکانیں بند پڑی ہوئی تھیں ۔ معلوم ہوا کہ آج سنیچر کا دن ہے اس لیے دکانیں بند ہیں۔ یہ لوگ ۲۴ گھنٹہ تک یوم سبت مناتے ہیں جیسا کہ بائبل میں ہے اور جمعہ کی شام سے لے کر سنیچر کی شام تک کوئی کاروبار نہیں کرتے۔

میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اسلام میں بھی جمعہ کو یہی حیثیت دی گئی ہے۔ مگر آپ سورہ جمعہ کو پڑھئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جمعہ کی نماز کی اذان ہو تو اس وقت اپنا کاروبار چھوڑ کر مسجد آجاؤ۔ اور جب جمعہ کی نماز پوری ہو جائے تو دوبارہ اپنے کاروبار کی طرف واپس چلے جاؤ۔ دونوں کا تقابل کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اسلامی شریعت کا قانون مکمل طور پر فطری ہے اور یہودی شریعت کا قانون سراسر غیر فطری۔

امریکہ کے صدر کلنٹن (Bill Clinton) نے ۲۹ اگست کو اپنی تقریر میں امریکی قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم دنیا کے پولیس مین نہیں بن سکتے ؛

Printed page