We cannot become the World's policeman.
Al-Risala, December 1998, pp. 24–28
By Maulana Wahiduddin Khan
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات امریکی قوم کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ آپ کسی امریکی سے ملیں اور اس سے بات کریں تو آپ فوراً محسوس کریں گے کہ اس کو عالمی سیاست سے بہت کم واقفیت اس کی دل چسپیوں کا مرکز اس کا اپنا ملک امریکہ ہے نہ کہ ساری دنیا۔ یہاں کے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
۳۰ اگست کو جمعہ کی نماز کے بعد نیویارک کی مسجد میں ایک مسلمان بزرگ سے ملاقات وہ بہت عرصہ سے امریکہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ ہر جگہ مسلم ملکوں کے اندر دخل اندازی کر رہا ہے۔ ہمیں امریکہ کو ڈاؤن کرنا ہوگا، ورنہ وہ ہمیں جینے نہیں دے گا۔ نے کہا کہ یہ سارا مفروضہ ہی غلط ہے۔ امریکہ تو انتہائی حد تک ایک خود پسند ملک ہے۔ کسی مسلم یا غیر مسلم ملک میں اس کی "دخل اندازی" بالادستی حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اپنا انٹرسٹ محفوظ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ اور اپنے انٹرسٹ کو محفوظ کرنا ایک فطری چیز ہے جو ہر جاری
اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک امریکی نے کہا:
We must act where we see that our interests are at stake. امریکہ میں پیدا ہونے والے ایک مسلم نوجوان نے سوال کیا کہ نماز کے طریقوں میں اتنا فرق کیوں ہے۔ کوئی ایک ڈھنگ سے پڑھتا ہے اور کوئی دوسرے ڈھنگ سے۔ میں نے کہا کہ جو کچھ فرق ہے وہ جزئی آداب میں ہے نہ کہ بنیادی ارکان میں۔ اور جزئی آداب میں ہمیشہ فرق ہوتا ہے۔
میں نے کہا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں نماز پڑھارہے تھے۔ اٹھنے کے بعد عام لوگوں نے خاموشی کے ساتھ ربنا لك الحمد کہا۔ ایک صاحب بلند آواز سے کہہ اٹھے : ربنا لك الحمد حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه۔ نماز ختم ہوئی تو رسول اللہ نے پوچھا کہ کس نے اس طرح بلند آواز سے کہا تھا۔ وہ صاحب ڈرے کہ شاید مجھ سے غلطی ہوگئی۔ رسول اللہ نے کہا کہ وہ اتنا اچھا کلمہ تھا کہ اس کو لینے کے لیے بہت سے فرشتے دوڑ پڑے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز کا جو مقرر طریقہ (prescribed method) ہے اس کا مقصد صرف ایک بنیادی ڈھانچہ (basic structure) دینا ہے۔ اس بنیادی ڈھانچہ میں جزئی اور ضمنی فرق بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کوئی مکینکل قسم کا عمل نہیں۔ وہ ایک کیفیاتی اور کیفیاتی عمل کبھی بھی بالکل لگے بندھے انداز کا نہیں ہو سکتا۔ نماز کے بیک وقت دو پہلو ہیں۔ ایک اس کا ظاہری ڈھانچہ، اور دوسرے اس کی داخلی اسپرٹ جس کو قرآن میں خشوع کہا گیا ہے۔ اس خشوع کا تعلق کیفیت سے ہے، اور کیفیت کبھی بھی مکمل طور پر روٹین کی پابند نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ اور صحابہ کی نمازوں کے بارے میں جو روایات حدیثوں کی کتابوں میں آئی ہیں ان میں بہت سے ضمنی فرق پائے جاتے ہیں۔ یہ فرق کیفیات کے تنوع کی بنا پر ہیں جو بالکل فطری ہے۔ امریکہ میں مقیم ہندوستانی بہت سے اخبارات شائع کرتے ہیں۔ انھیں میں سے
ایک انڈیا مانیٹر (India Monitor) ہے جو نیویارک سے چھپتا ہے۔ اس کو یہاں کے مقیم ہندو نکال رہے ہیں۔ اس کا شمارہ ۱۸اگست ۱۹۹۶دیکھا۔ تقریباً پورا اخبار برصغیر ہند کی خبروں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی ایک رپورٹ ہندوستان کی پرائیویٹ ایئر کمپنیوں کے بارے میں تھی جس کے ساتھ گجرات ایرویز کی تصویر شامل تھی :
امریکہ میں مختلف ملکوں کے اور مختلف مذہبوں کے لوگ بستے ہیں۔ ہر قوم اور ملت کے لوگ اپنا اپنا اخبار نکالتے ہیں۔ مثلاً ہندو، مسلمان، سکھ، فلسطینی، مصری، وغیرہ۔ مگر ان میں سے ہر اخبار کی حیثیت کمیونٹی پیپر کی ہے۔ یعنی جو گروہ اخبار نکالتا ہے اسی کے افراد اس کو پڑھتے ہیں۔ یہودیوں کی خصوصیات ہے کہ وہ جو اخبار یا میگزین نکالتے ہیں اس کو یہودیوں کے علاوہ سبھی لوگ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے لوگ اپنے اخبار میں صرف اپنی باتیں چھاپتے ہیں۔ یہودیوں کے اخبار میں سب کی باتیں موجود ہوتی ہیں۔
انڈیا مانیٹر کے رپورٹروں میں کئی مسلم نام بھی دکھائی دیے۔ مثلاً شہید لطیف، جاوید نقوی، راجہ اصغر، شیخ مشتاق، رمضان حسین ! انڈیا کی آزادی کے پچاس سال پوراہونے (commemoration) کے طور پر ایک پورا صفحہ تھا۔ اس میں گاندھی، نہرو، پٹیل، ٹیگور، سروجنی نائیڈو، امبیڈکر، رادھا کرشنن، مولانا آزاد کی تصویریں تھیں۔ ہر تصویر کے ساتھ اس کا ایک قول نقل کیا گیا تھا اور پھر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا :
کئی آوازیں، ایک قوم (Many voices, one nation)
سروجنی نائیڈو کی تصویر کے ساتھ ان کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ : کوئی بھی آپ کو وہ چیز نہیں دے سکتا جس کو لینے کی خود آپ کے اندر استعداد نہ ہو :
No one can give to you what you do not have the capacity to take. یکم ستمبر کو لیبر ڈے کی چھٹی تھی۔ اس دن بڑی تعداد میں امریکی تفریح کے لیے مختلف مقامات پر چلے جاتے ہیں۔
۲ ستمبر ۱۹۹۶ کی شام کو ہم لوگ فلا ڈلفیا سے دوبارہ نیویارک واپس آگئے۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہالینڈ سے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ہالینڈ میں صد فی صد تعلیم ہے، جب کہ امریکہ میں ابھی تک ۹۰ فی صد تعلیم پائی جاتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں بڑے بڑے لوگ بھی سادہ انداز میں رہتے ہیں۔ ہالینڈ کے پرائم منسٹر کو ایک بار ماحولیات کے موضوع پر ٹی وی پر بولنا تھا۔ ان کو یہ کہنا تھا کہ لوگ گیس کے خرچ کو گھٹائیں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی ہو سکے۔ اس کی ایک تدبیر انھوں نے یہ بتائی کہ لوگ کار کا استعمال کم کریں اور بائیسکل کا استعمال شروع کریں۔ اس مشورہ پر پہلا عمل خود پرائم منسٹر نے کیا۔ چنانچہ وہ بائیسکل پر سوار ہو کر ٹی وی اسٹیشن گئے۔
مولانا ذکی الدین شرفی نہایت مخلص اور نہایت با کردار آدمی ہیں۔ اسی کے ساتھ ان کی دوسری ممتاز صفت یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اغیار کی سازشوں کے بارہ میں ان کی معلومات کا خزانہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ عجیب و غریب سازشیں دریافت کیے ہوئے مثلاً انھوں نے کہا کہ سوویت یونین کی شکست یہودیوں کی سازش سے ہوئی، یہ یہودی ہی تھے جنھوں نے میکائیل گورباچیوف کو پلانٹ کیا تھا۔
ان کا خیال تھا کہ میں اس قسم کی سازشوں سے بالکل بے خبر ہوں۔ میں نے کہا کہ میرے ایک قریبی عزیز شاید آپ سے بھی زیادہ اس فن کے ایکسپرٹ ہیں۔ ان کے دماغ کو سازشوں کی انسائیکلو پیڈیا کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے میرے اور آپ کے درمیان جو فرق ہے وہ واقفیت کا نہیں ہے۔ ہے کہ سازش کے مقابلہ میں کیا کیا جائے ۔ آپ لوگ سازش کے انکشافات کو کام سمجھتے ہیں۔ کے برعکس میں قرآن کی اس آیت کو پکڑے ہوئے ہوں : وان تصبروا وتتقوا لا يضركم میرے نزدیک اس کی اہمیت نہیں ہے کہ لوگ سازش کر رہے ہیں۔ کی چیز یہ ہے کہ مسلمانوں میں صبر و تقویٰ ہے یا نہیں جو اس کا اصل توڑ ہے۔ ایک پاکستانی بزرگ سے پاکستان کی سیاست پر بات ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی مجرموں کے احتساب (عملاً بھٹو کے احتساب) کی جو تحریک چلائی گئی وہ سراسر غلط تھی۔ کی تائید کر رہے تھے۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ "انڈیا کے علماء اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ بھٹو کتنا بڑا عذاب تھا، اور اس کی بیٹی اس سے بھی زیادہ بڑا عذاب ہے۔
میں نے کہا کہ آپ نے میری بات کاٹ دی۔ میں بھٹو کو صالح انسان نہیں مانتا۔ میں صرف بھٹو کو ختم کرنے کی سیاست کو غیر صالح قرار دیتا ہوں۔ اور اس کا اقرار خود آپ نے اپنی زبان سے میرا کہنا یہ ہے کہ کسی عوامی لیڈر کو قتل کرنا ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد شہید بن کر وہ لوگوں کے درمیان ہیرو بن جاتا ہے۔ آپ لوگوں کی یہی پالیسی تھی جس نے خود آپ کے الفاظ میں چھوٹے عذاب کو ختم کر کے زیادہ بڑا عذاب اپنے اوپر مسلط کر لیا۔ یہی وہ حکمت ہے جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ابی بن کعب کو قتل کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ زندہ ابی بن کعب چھوٹا مسئلہ ہے اور مقتول ابی بن کعب زیادہ بڑا مسئلہ۔
عرصہ ہوا امریکہ سے اسرائیل اور یہود کے بارے میں کتابیں چھپی ہیں۔ ان کا ٹائٹل ہے، ہم، یہود اور اسرائیل کی کیا قیمت ادا کر رہے ہیں:
1. What price Israel 2. What price Jews ان کتابوں میں دکھایا گیا ہے کہ یہودی کس طرح امریکہ کو لوٹ رہے ہیں۔ مسلمانوں کو یہ کتابیں بہت پسند ہیں۔ بعض افراد نے جوش کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے۔ مگر میرے نزدیک ان کتابوں کا صحیح تاثر یہ نہیں کہ یہودیوں کو "لوٹنے والا "ثابت ہوتے ہوئے دیکھ کر آپ خوش ہوں۔ اصل یہ ہے کہ ان کتابوں سے یہ سبق لیا جائے کہ موجودہ زمانہ میں آنے والی تبدیلیوں کے نتیجہ میں کس طرح یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ ایک گروپ انتہائی چھوٹی اقلیت رہتے ہوئے کس طرح پورے ملک کو اپنے حوصلوں کی تسکین کا میدان بنا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ۱۹۴۸ میں فلسطینیوں نے ٹکراؤ کے بجائے اگر اسی پالیسی کو اختیار کیا ہوتا تو آج فلسطین میں ان کی وہی حیثیت ہوتی جو آج یہودیوں کی امریکہ میں ہے۔
ایک صاحب نے امریکہ کے تعلیمی نظام کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے اسکولوں میں بچوں کو جب کسی مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کو بتایا جاتا ہے تو بورڈ پر لکھ کر کہا جاتا ہے کہ ــــــــ یہ حقیقت ہے، اور یہ رائے ہے :