These are facts, these are opinions.
Al-Risala, December 1998, pp. 29–33
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے کہا کہ اس طرح ہمارے بچوں کے دلوں میں شکوک ڈالتے ہیں۔ وہ گھر میں آتے ہیں تو جو مذہبی معاملات ان کی سمجھ میں نہیں آتے ان کی بابت وہ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک رائے
میں نے کہا کہ یہ ذہن حقیقی اسلام کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ کیونکہ وہاں تو ہر چیز حقیقت مگر آپ اس کو خطرہ اس لیے محسوس کرتے ہیں کہ آپ نے حقیقی اسلام کے ساتھ خود اپنی طرف سے اس میں بہت سے اضافے کر رکھے ہیں۔ یہ اضافے غیر فطری اور غیر ثابت شدہ ہیں۔ ان اضافوں کو ہٹا دیں تو اس کے بعد جو اسلام بچے گا وہ ان بچوں کو حقیقت ہی دکھائی دے گا۔ ایک مجلس میں میں نے امریکہ میں مذہبی آزادی اور مواقع دعوت کے بارے میں کچھ کہا۔ پاکستان سے آئے ہوئے ایک بزرگ نے فرمایا کہ آپ انڈیا میں رہتے ہیں، آپ امریکہ کے بارہ میں نہیں جانتے۔ ہم یہاں رہتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ ہی لوگ جب ماڈرن کمیونی کیشن کی بات کرتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ یہ گلوبل ولیج کا زمانہ ہے۔ آپ ہی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انڈیا میں رہنے والا آدمی امریکہ کے بارہ میں نہیں جان سکتا۔ میں نے کہا کہ مجھ میں اور آپ لوگوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ آپ بھی یہاں عملاً اپنی ہی سوسائٹی میں رہتے ہیں۔ خالص امریکیوں سے آپ کا انٹراکشن بہت کم ہوتا ہے۔ امریکی معاشرہ کے بارہ میں آپ کی معلومات زیادہ تر میڈیا کی اطلاعات پر مبنی ہیں یہی میرا بھی حال ہے۔ میں پانچ بار امریکہ آیا ہوں۔ اس کے علاوہ انڈیا میں ہر روز امریکہ کے بارے میں پڑھتا رہتا ہوں۔ اس لیے عملاً میرے اور آپ کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں۔ محمد البھناس ایک مصری ہیں۔ وہ امریکہ کی ایک مسجد میں خطبہ اور امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے لائق آدمی کی قدر دانی کرنا نہیں جانتے۔ جہاں کوئی آدمی ابھرا وہ فوراً اس کو نیچا دکھانے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ ہزار برس میں مسلمانوں نے صرف یہ سیکھا ہے کہ خود اپنی قیادت کو کس طرح تباہ کریں : How to destroy their own leadership
میں نے کہا کہ ہر امت کا ایک آزمائشی پہلو ہوتا ہے، اور بدقسمتی سے ہر امت اسی آزمائش میں فیل ہوتی رہی ہے۔ نسل ابراہیم (بنی اسرائیل) کو اللہ نے منتخب کیا کہ ان کو تربیت دے کر ان کے ذریعہ عمومی شہادت کا کام لیا جائے۔ مگر بلایا یہ ہوا کہ ان کے اندر منتخب قوم (Chosen people) کا نظریہ پیدا ہوا اور داعی اور شاہد بننے کے، بجائے وہ متکبربن کر
یہودی زعم کو توڑنے کے لیے حضرت مسیح کو غیر معمولی معجزات دیے گئے۔ مگر ان کے پیروؤں نے یہ کیا کہ خود حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔ اور اس طرح توحید میں شرک کا عقیدہ شامل کر دیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں آپ کے اصحاب کے ذریعہ یہ کام لیا گیا کہ قائم شدہ نظام جبر کو توڑا گیا تاکہ مذہبی آزادی کا ماحول پیدا ہو اور توحید کی دعوت کھلے ماحول میں جاری ہو سکے۔ اہل اسلام کے فوجی آپریشن کے ذریعہ یہ مقصد تو حاصل ہوا۔ مگر دوسرا نقصان یہ ہوا کہ مسلمانوں میں حاکمانہ نفسیات پیدا ہو گئی۔ اسی حاکمانہ نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان کسی کی اطاعت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، الا یہ کہ انھیں اس کے لیے مجبور کر دیا جائے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ مغربی قوموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ اتحاد ہے۔ ہندوؤں میں بھی اتحاد ہے۔ مگر مسلمانوں میں کہیں بھی اتحاد نہیں۔ آخر اس کا سبب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ سچائی ایک ہے۔ اب ہر مسلمان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ ”ایک“ مجھے حاصل ہے۔ اس لیے وہ دوسرے سے لڑتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ سچائی تو ایک ہی ہو سکتی تھی اور وہ مجھ کو حاصل ہو گئی۔ دوسرا جس چیز پر ہے وہ لازماً غلط ہے۔ سچائی ایک سے زیادہ ہو ہی نہیں سکتی۔
اس کے برعکس مغربی قوموں نے سیکولر نظریہ اختیار کر کے سرے سے اس بحث ہی کو ختم ان کا کہنا ہے کہ مذہبی سچائی کا تصور ایک وہم ہے، اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ طرح وہ اس نفسیاتی پیچیدگی ہی سے خالی ہو گئے ہیں جو دو فریقوں میں ٹکراؤ پیدا کرتی ہے۔ ہندوؤں کا معاملہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ مان لیا کہ سچائی خواہ ایک ہو، مگر اس کے مظاہر
الگ الگ ہیں۔ اس نفسیات نے ان کے اندر یہ ذہن بنایا کہ اگر میں سچا ہوں تو دوسرا بھی سچائی کا حامل ہو سکتا ہے۔ یہ عقیدہ اپنے آپ اس شدت کو ختم کر دیتا ہے جو ٹکراؤ تک لے جاتی ہے۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان میں بھی گہرا اتحاد قائم ہو سکتا ہے جیسا کہ دور اول میں قائم ہوا تھا۔ مگر اس اتحاد کی بنیاد ایک اور چیز میں ہے اور وہ تقویٰ ہے۔ مسلمانوں کو متحد رکھنے کی واحد طاقت تقویٰ ہے۔ اگر ان کے اندر فی الواقع خدا کا خوف موجود ہو تو یہ ان کے اتحاد کی ضمانت بن جائے گی۔ باعتبار عقیدہ اگرچہ وہ مانیں گے کہ سچائی ایک ہے۔ مگر جب اپنی ذات کا سوال ہو گا تو ان کو یہ اندیشہ لاحق ہو جائے گا کہ پتہ نہیں مجھ کو وہ واحد سچائی ملی یا نہیں۔ ان کو یہ ڈر لگا ہوا ہو گا کہ آخرت میں کہیں خدا یہ نہ کہہ دے کہ تم نے جس چیز کو سچائی سمجھ لیا وہ تمہارا وہم تھا نہ کہ حقیقی سچائی۔ یہ اندیشہ ناک نفسیات مسلمان کو تفرق سے بچاتی ہے۔ مگر جب یہ متقیانہ مزاج مسلمانوں میں باقی نہ رہے تو اس کے بعد وہی کچھ پیش آتا ہے جو موجودہ مسلمانوں میں دکھائی دے رہا ہے۔
نماز کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ الصَّلَاةُ عَمَادُ الدِّينِ مَنْ اَقَامَهَا اَقَامَ الدِّينِ وَمَنْ هَدَمَهَا هَدَمَ الدِّينِ (نماز دین کا ستون ہے۔ جس نے نماز کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا، اور جس نے نماز کو ڈھایا اس نے دین کو ڈھادیا)
میں نے کہا کہ اس قول میں قائم کرنے اور ڈھانے کا تعلق کسی خارجی نظام سے نہیں ہے۔ اس کا تمام تر تعلق خود نمازی کی اپنی زندگی سے ہے۔ یعنی جو مسلمان فرد نماز کو اس کی صحیح اسپرٹ کے ساتھ ادا کرے گا اس کی زندگی میں نماز کی روح اتر جائے گی۔ اس کی پوری زندگی دینی رنگ میں رنگ جائے گی۔ اس کے برعکس جو شخص نماز کو اس کی صحیح اسپرٹ کے ساتھ ادا کرنے میں ناکام رہے گا، اس کی زندگی بھی اسلامی زندگی نہیں بن سکے گی۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے الرسالہ میں ڈائی کاٹمک تھنکنگ کو غلط بتایا ہے۔ یہ آپ کی اپنی بات ہے یا اس کا تعلق شریعت سے ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا تعلق مکمل طور پر
شریعت سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بار بار اس کا نمونہ ملتا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ "لیس العامل الذی يعرف الخبيث من الشر وَلَكِنَّهُ الذي يعرف خير الشرين"۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملات میں صرف دو پہلو (خیر یا شر) نہیں ہوتا۔ بلکہ اسی کے ساتھ ایک تیسرا پہلو خیر الشرین کا ہوتا ہے۔ صرف یہ جانتا ہو کہ معاملات میں ہمیشہ یا تو خیر کا پہلو ہے یا شر کا پہلو، وہ ہمیشہ خیر کو حاصل کرنے کے نام پر شر سے ٹکراتا رہے گا، اور ساری قربانیوں کے باوجود عملاً کچھ بھی حاصل نہ کر سکے گا۔ کیوں کہ جس خیر کو حاصل کرنے کے نام پر قربانیاں دے رہا تھا وہ سرے سے قابل حصول ہی نہ تھا۔
اس قول میں بتایا گیا ہے کہ اُس دنیا میں بیشتر حالات میں چوائس خیر اور شر کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ آدمی کے لیے ایک ایسی تیسری چیز کا چوائس ہوتا ہے جو بڑے شر کے مقابلہ میں چھوٹے شر کی حیثیت رکھتی ہو۔
امریکہ کے زمانہ قیام میں ایک سے زیادہ بتانے والوں نے مجھے بتایا کہ یہاں اب یہ حال ہو چکا ہے کہ بیٹا ایک گرل فرینڈ لے کر گھر میں آتا ہے یا بیٹی ایک بوائے فرینڈ کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوتی ہے تو ماں باپ اس کو روک نہیں سکتے۔ حتیٰ کہ اب ایسی مثالیں سامنے آ رہی ہیں کہ باپ اپنی بیٹی سے کہتا ہے کہ تم کو ڈیٹنگ (dating) کرنا ہے تو کسی مسلمان لڑکے سے کرو، ہندو یا عیسائی لڑکے کے ساتھ مت کرو۔
ایک صاحب کے یہاں کھانا تھا۔ غالباً غالباً روٹی یا اور کوئی چیز نقصان کر گئی۔ میرا پیٹ کچھ خراب ہو گیا ۔ میں نے دوسرے وقت کا کھانا چھوڑ دیا۔ میرے میزبان نے کھانے کے لیے کہا تو میں نے کہا کہ ۔ اس کے علاج کا میرے پاس ایک سادہ نسخہ ہے، اور وہ ہے ۔ فاقہ سے افاقہ امریکہ کے سفر میں کئی دن تک ایک صاحب کا ساتھ رہا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ اور مسلمانوں کے معاملہ میں مخلص بھی تھے۔ مگر ان کے اندر منفی طرزِ فکر اتنا زیادہ سما گیا تھا کہ وہ عجیب و غریب طور پر ہر واقعہ کو اپنے منفی سانچہ میں ڈھال لیتے تھے۔ جب میں کہتا کہ امریکہ میں مذہبی آزادی ہے تو فوراً وہ کچھ انکشافات بتا کر کہتے کہ یہ ظاہری آزادی حقیقت میں غلامی
سے بد تر ہے۔ اگر میں کہتا کہ امریکہ میں دعوت کے مواقع ہیں تو وہ فوراً بناتے کہ یہ تو ایک گہری سازش ہے جو یہودی دماغ کی پیدا وار ہے۔ چند دن کے تجربہ کے بعد میں نے انھیں ایک کاغذ لکھ کر دیا جس میں حسب ذیل الفاظ درج تھے :
You have a unique expertise of turning the positive into negative. In contrast, I always try to seek out the positive aspect among the most obviously negative circumstances. ۱۲ ستمبر کی شام کو محمد حسین صاحب کے ساتھ ماؤنٹ ہالی سے ٹرنٹن کے لیے روانگی ہوئی۔ ٹرنٹن کی مسجد میں ہم لوگ پہنچے تو مغرب کی اذان ہورہی تھی۔ یہاں مغرب کی نماز کے بعد خطاب کا پروگرام تھا۔ یہ خطاب انگریزی میں ہوا۔ کیونکہ حاضرین زیادہ تر انگریزی داں تھے۔ میں نے اتحاد کے موضوع پر تقریر کی۔ میں نے کہا کہ اس مسجد میں اس وقت مختلف ملکوں کے لوگ موجود ہیں۔ انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش ، عرب ، مصر، وغیرہ۔ مگر تمام لوگوں نے مل کر ایک امام کے پیچھے نماز ادا کی۔ اس طرح نماز ہم کو اتحاد کا سبق دیتی ہے۔ نماز کا سبق یہ ہے کہ تم لوگ اپنے میں سے ایک کو امام بنا کر سب لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہو جاؤ۔ چنانچہ ایک کو چھوڑ کر تمام کے تمام لوگ بیک سیٹ پر چلے جاتے ہیں تب جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا ممکن ہوتا ہے۔ سبق ہمیں مسجد کے باہر بھی دہرانا ہے۔ باہر کی زندگی میں بھی ہمیں یہی کرنا ہے کہ ایک کو لیڈر مان کر تمام لوگ اس کی ماتحتی قبول کر لیں۔ یہی اتحاد کا اصل راز ہے۔
ڈاکٹر سید اسد علی (نفسیاتی ڈاکٹر) سے مسجد میں ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ یہاں تمام شادیاں لو میرج کی بنیاد پر ہوتی ہیں ، اس کے باوجود کیوں ایسا ہوتا ہے کہ پچاس فی صد سے زیادہ کیسوں میں طلاق ہو جاتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ بڑی وجہ بوریت ہے۔ یہاں کے لوگوں کا نظریہ لذت ہے۔ چنانچہ ایک عرصہ کے بعد دونوں ایک دوسرے سے بور ہو جاتے ہیں اور پھر جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں ، یہ جھگڑے تفریق تک پہنچ جاتے ہیں۔ دو آدمی بات کر رہے تھے۔ ایک صاحب کی آواز میرے کان میں آئی کہ انڈیا میں آپ خالص دودھ حاصل نہیں کر سکتے :