In India you cannot get pure milk.
Al-Risala, December 1998, pp. 34–37
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے سوچا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ انڈیا کی تصویر باہر کے ملکوں میں یہ ہے کہ وہاں ملاوٹ والا دودھ ملتا ہے۔ خالص دودھ وہاں پانا سخت مشکل ہے۔
۱۴ستمبر۱۹۹۶کی شام کو کانفرنس سے فارغ ہو کر دوبارہ میں ماؤنٹ ہالی کی مسجد (اسلامک سوسائٹی) میں واپس آیا اور عشاء کی نماز کے بعد اوپر اپنے کمرہ میں جاکر لیٹ گیا۔ کچھ دیر کے بعد دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ اٹھ کر کھولا تو ایک نوجوان کھڑے ہوئے نظر آئے۔ یہ ایک ترک انھوں نے مجھے ایک عربی کتاب دی۔ یہ ۱۹۲ صفحہ کی کتاب تھی۔ اس کا نام تھا: الخلافة و الخليفة - یہ کتاب اصلاً ترکی میں لکھی گئی تھی۔ موجودہ کتاب اسی کا عربی
اس کے صفحہ اول پر لکھا ہوا تھا: منشورات دولة الخلافة ۔ اس کتاب میں "امیرالمومنین و خلیفۃ المسلمین" کا تعارف تھا۔ ان کا نام جمال الدین بن رشید خوجا اوغلو قا بلان ہے۔ وہ ترکی کے ایک گاؤں دانگیس (Dangis) میں ۱۹۲۷ میں پیدا ہوئے۔ ۱۵ مئی ۱۹۹۵ کو جرمنی میں ان کا انتقال ہوا۔ اب ان کے صاحبزادے محمد متین بن جمال الدین خوجا اوغلو قا بلان ان کی جگہ پر امیرالمومنین و خلیفۃ المسلمین ہیں۔ ترکی یا اور کسی مسلم ملک میں وہ اپنی تحریک نہیں چلا سکتے تھے اس لیے وہ جرمنی میں مقیم ہیں :
Nousser Street 418, 50733 Koln, Germany Tel. (0221) 976553-0 اس طرح دولت الخلافہ اور امیرالمومنین و خلیفۃ المسلمین کی تحریک چلانا جنون کی حد تک بے معنی پھر یہ مجنونانہ تصور کیسے پیدا ہوا۔ اس کا سبب ثنائی طرزِ فکر (dichotomous thinking) ہے جس میں آج امت کے بے شمار لوگ گرفتار ہیں۔ چنانچہ کتاب کے صفحہ ۸ پر النظامان کے عنوان کے تحت لکھا ہوا ہے کہ دنیا میں صرف دو نظام ہیں ۔ ایک حق ہے اور دوسرا باطل۔ یعنی شرعی نظام حق ہے اور اس کے سوا دوسرے تمام نظام باطل ہیں (واحد منها حق الآخر باطل لـعـض الـتـد... اهـ... الـثـقـلـيـن... ابـقـى مـسـابـق الـانـظـمـة
اس دوقسمی طرزِ فکر کی بنا پر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ شرعی نظام کہیں قائم نہیں ہے۔ اس لیے ساری دنیا سے لڑونا کہ دوبارہ شرعی نظام قائم ہو۔ ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ عمل کی ایک تیسری صورت بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ طے ہوئے مواقع کو استعمال کرکے مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنائیں، اُن کے اخلاق کو درست کریں۔ غیر مسلم قوموں میں توحید اور آخرت کا پیغام پہنچائیں۔ جناب کلیم الدین صاحب الرسالہ کی مطبوعات اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ انھوں نے انگریزی کتابوں کا ایک سیٹ فلا ڈلفیا کے اس ادارہ باوامحی الدین فیلو شپ (8796300 - 215 .Tel) کو دیا۔ ان لوگوں نے بھی اپنی مطبوعات کا ایک سیٹ ہم کو دیا۔ ان کے نام یہ ہیں : 1. Who is God? pp. 10 2. A book of God's Love, pp. 116. 3. Islam and World Peace: Explanations of a Sufi, pp. 164. 4. Treasures of Wisdom, pp. 18. 5. The Golden Words of a Sufi Sheik, pp. 488. صوفی اسلام اہلِ مغرب کو بہت اپیل کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلسفیانہ تصورات سے بہت قریب ہے۔ بیشتر فلاسفہ حقائق کو ایک وحدت کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ کسی نہ کسی طور پر وحدت الوجود کا قائل ہے۔ اس طرح دونوں میں ایک یکسانیت پیدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ”گولڈن ورڈز“ میں باوامحی الدین کے نقطہ نظر کو انگریزی میں اس طرح بیان کیا گیا تھا : God is within man and man is within God. ۱۴ ستمبر کی صبح کو فجر کی نماز میں امام صاحب نے سورۃ الم نشرح پڑھائی۔ اس تقریب سے میں نے ان مع العسر یسراً کی تشریح کی پرابلم کے ساتھ مواقع۔
حاضرین میں ڈاکٹر سلیمان افریقی بھی تھے جو ہو ورڈ یونیورسٹی (واشنگٹن) میں پروفیسر انھوں نے مکمل اتفاق کیا۔
چائے پر کچھ دیر تک مزید نشست ہوئی ۔ تقریباً ۱۰ آدمی تھے۔ مضمون پر گفتگو ہوتی رہی۔ 9 بجے صبح ہم لوگ یہاں سے روانہ ہوئے۔ ساتھ میں کلیم الدین صاحب، عرفان انیس صاحب ، بلال صاحب تھے۔ ماونٹ ہالی سے روانہ ہو کر ہم فلا ڈلفیا پہنچے۔ ۱۵ ستمبر کو ۱۰ بجے صبح کا وقت تھا جب ہم لوگ باوامحی الدین سنٹر (فلا ڈلفیا) پہنچے۔
ہم لوگ داخل ہو رہے تھے تو دو سفید فام مسلمان (محمد لطیف، محمد صالح) باہر آ رہے تھے۔ کے بہت سے سفید فام امریکی ہیں جو بابا کی تبلیغ سے مسلمان ہو گئے۔ آج اتوار تھا اس لیے بہت سے عورت مرد یہاں موجود تھے۔ یہ سب نو مسلم تھے۔ یہ ایک خوب صورت منظر ہے۔ اندر ایک خوب صورت آڈیٹوریم تھا۔ بابا محی الدین یہاں ہرے رنگ کی ایک کرسی پر بیٹھ کر صوفیانہ گیت گاتے تھے۔ اس کا ریکارڈ تیار کر لیا گیا تھا۔ وہ یہاں بجایا جا رہا تھا۔ یہ گیت نامعلوم زبان میں ہوتا ساتھ ساتھ ایک خاتون اس کا انگریزی ترجمہ کرتی جا رہی تھی۔
یہاں ایک صاحب نے بتایا کہ بابا محی الدین لنکا کے کسی جنگل سے آئے۔ گیت بہت پر تقعہ بھی تھا اور پر درد بھی۔ میرا قیاس تھا کہ ان کے یہ گیت جس میں نغمہ بھی تھا، درد بھی اور روحانیت بھی، اس کی خوش کن آواز یہاں کے سفید فام امریکن کو متاثر کرتی تھی۔ کیو نکہ یہ لوگ بہت اثر پذیر طبیعت کے حامل ہوتے ہیں۔ ابتدا اس سے متاثر ہوئے اور پھر اسلام کا مزید مطالعہ کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔
بابا اورکز کے اوپر کے حصہ میں ایک خوب صورت مسجد ہے۔ یہ مستقل تعمیر نہیں ہے بلکہ مختلف مکانوں کو خرید کر ان کے مجموعہ سے ایک مرکز بنا لیا گیا ہے۔ مسجد کے موذن عبداللہ نام کے افغانی میں نے کہا ” افغانستان ایک خوب صورت ملک ہے “ عبداللہ صاحب نے ایک آہ بھر کر کہا۔ ہاں وہ تھا (It was)
بابا محی الدین سنٹر پورا کا پورا نہایت منظم اور نہایت صاف ستھرا تھا۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان سے سفید فام لوگ متاثر ہوں۔
بابا محی الدین سنٹر کے باہر ایک بورڈ پر خوب صورت حروف میں لکھا ہوا ہے ۔ صبر کے سمندر میں موجیں نہیں :
"The Ocean of Patience has no waves."
پہلے خاموش پر امن تبلیغ کی۔ جب حلقہ بن گیا، اس کے بعد مسجد بنائی خوب صورت مسجد۔ کے باہر ایک کتبہ لکھا ہے کہ مسجد کی تکمیل اور افتتاح ۲۷ مئی ۱۹۸۴ء کو ہوا۔ امریکہ کے زمانہ قیام میں ایک بار میں نے ایک سفید فام امریکن سے کشمیر کے بارے میں
میں نے پوچھا کہ کیا آپ کشمیر کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ ابھی تک بری ہالت میں ہے۔ ان کو ہماری مدد کی ضرورت ہے :