The End of History and the last man.
Al-Risala, December 1998, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
نماز ظہر کے بعد کانفرنس کا دوسرا سیشن شروع ہوا۔ اس میں پہلا مقالہ باسط بلال کو شول کا تھا۔ اس کے بعد ساڑھے تین بجے میں نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر خالد کو میرے مقالے سے کامل اتفاق میں نے کہا تھا کہ مغربی تہذیب کو دجال کہنا شنائی طرزِ فکر کی بنا پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں تیسری صورت یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے سارے مواقع دعوت کھولے ہیں۔ یہ مقالہ ان شاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔
باسط بلال کو شول کے مقالہ کا عنوان تھا ۔ اسلام اور مغربی تہذیب۔
ماؤنٹ ہالی کی مسجد میں ایک صاحب سے اسلام کی سیاسی تفسیر کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ انھوں نے بڑے جوش کے ساتھ یہ آیت پیش کی : ولا يشرك فى حكمه احدا (الکہف: (٢٦) ان کے نزدیک اس آیت میں حکم کا مطلب سیاسی حکم تھا۔ اس طرح یہ آیت ان کے نزدیک اس مفہوم کے لیے صریح تھی کہ سیاسی حاکمیت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے ۔ میں نے کہا کہ یہ ایک خود ساختہ مفہوم اور کسی بھی مفسر نے آیت کا یہ مطلب نہیں لیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں حکم سے مراد فوق الفطری حکم ہے نہ کہ سیاسی حکم۔ مراد کوئی قائم کیا جانے والا حکم نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ حکم ہے جو بالفعل کائنات میں قائم ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کا نظام صرف ایک اللہ کے تحت ہے۔ کوئی بھی اس معاملہ میں اس کا شریک نہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کچھ اور شرکار ہیں جو زمین و آسمان کے نظام کو سنبھالنے یا اس کو چلانے میں اللہ کے شریک ہیں تو یہ ایک جھوٹ ہے۔ حق میں ان کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں۔ اسی لیے آیت میں " وہ شریک نہیں کرتا " کا لفظ ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ " شریک نہ کیا جائے "
افتخار مدنی (۱۹۷۸) ۱۹۷۷ میں ایران میں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ایران کا انقلاب ۵۰ فی صد خمینی کا کارنامہ ہے اور ۵۰ فی صد امریکہ کا۔ آیت اللہ خمینی کے کیسٹ پیرس سے ایران آتے تھے اور جگہ جگہ سنے جاتے تھے۔ ان کیسٹوں میں شاہ اور ان کے خلاف جذبات بھڑکائے جاتے
آزادی ختم کر دی ہے۔ شاہ ایران نے انکار کیا۔ گفتگو کے بعد شاہ نے کہا کہ کل آپ دیکھیں گے کہ اخبار، ٹی وی ہر جگہ لوگ آزادی کے ساتھ اظہار خیال کر رہے ہوں گے۔ چنانچہ اگلے دن عوامی آزادی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے بعد اچانک ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ خمینی کے کیسٹوں نے جو اشتعال برپا کیا تھا وہ اچانک باہر آ گیا۔ یہاں تک کہ شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا اور شاہ حالات سے بے خبر تھا) افتخار صاحب نے بتایا کہ شاہ کے جانے کے بعد کسی ایرانی نے ان سے کہا کہ کیا شاہ چلا گیا (شاہ رفت) انھوں نے کہا کہ ہاں۔ ایرانی نے کہا کہ نہیں، وہ بھاگ گیا (فرار کرد) تقریر کے بعد بہت سے سوالات کیے گئے۔ ایک سوال یہ تھا :
Many people, including Muslims, think Islam was spread by force. What is your opinion. میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ پچھلی تاریخ میں دوسری قوموں کے ساتھ لڑائیاں ہوئی ہیں۔ مسلمانوں کی حکومتیں بھی قائم ہوئی ہیں۔ مگر ان لڑائیوں یا ان حکومتوں کا اسلام کی تبلیغ و اشاعت سے کوئی براہ راست تعلق نہ تھا۔ اسلام ہر جگہ، بشمول عرب، اپنی نظریاتی طاقت کے ذریعہ پھیلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصر میں اگرچہ دور اول کے مسلمانوں اور وہاں کے قدیم حکمرانوں سے جنگ ہوئی ۔ مورخین نے اعتراف کیا ہے کہ مصر میں مذہب اسلام کا پھیلنا تلوار کے زور پر نہیں ہوا بلکہ قرآن کے ذریعہ پر امن طور پر ہوا۔ مثلاً مصری تاریخ کے ماہر سر آرتھر کیتھ نے لکھا ہے : The Egyptians were conquered not by the sword but by the Qur'an. ایک صاحب بظاہر اچھی حالت میں دکھائی دیتے تھے۔ ان کے پاس اچھا جاب بھی ہے۔ روز اپنے ذاتی حالات بتائے تو معلوم ہوا کہ وہ نہایت بری حالت میں ہیں ۔ ان کو ایسا لگنے لگا تھا کہ ان کا مستقبل اب تباہ ہو چکا ہے۔ میں نے کہا کہ زندگی کے امکانات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہر کھونے کے بعد پانے کا ایک نیا امکان آدمی کے لیے موجود رہتا ہے۔ کسی نے نہایت درست کہا ہے کہ آج کا دن میری بقیہ زندگی کے لیے پہلا دن ہے :