Al-Risala · December 1998

Today is the first day of the rest of my life.

Al-Risala, December 1998, pp. 39–43

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ آپ کھوئے ہوئے دنوں پر افسوس کرنے کے بجائے بقیہ دنوں کو بھرپور

طور پر استعمال کریں ۔

کانفرنس میں مختلف لوگ اپنا اپنا لٹریچر تقسیم کر رہے تھے۔ شاہد ابراہیم ڈی کے نام سے چھپا ہوا ایک پمفلٹ ملا۔ یہ جمعہ کی تقریر تھی جو انھوں نے انڈیانا پولس (Indianapolis) کی الفجر مسجد میں انھوں نے قرآن کی روشنی میں داعی کے کیریکٹر کو بیان کیا تھا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا تھا کہ دعوت کے راستہ میں جو رکاوٹیں ہیں وہ سی آئی اے، امریکی حکومت یا مسیحی مشنریوں کی طرف سے نہیں ہیں، بلکہ وہ خود مسلمانوں کی طرف سے ہیں جو کہ اسلام کو اس کی اصل معنویت اور صحیح مثال کے ذریعہ پیش نہیں کر رہے ہیں ؛

The obstacle to the efforts of Da'wah are not from the CIA, U.S. Gov- ernment, or evangelists but from we Muslims, in not showing Islam in its true meaning and example. امریکہ کی ریاست ور جینیا کے شہر پورٹس ماؤتھ (Portsmouth) میں ۱۵ ستمبر ۱۹۹۶ کو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ دو مسلم خواتین کسی سامان کی خریداری کے لیے مقامی جنرل اسٹور کی طرف جارہی تھیں۔ انھوں نے اپنے چہرہ پر مشرقی انداز کا پردہ ڈال رکھا تھا۔ فوراً پولیس آئی اور اس نے دونوں خواتین کو گرفتار کر لیا۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی بدتمیزی نہیں کی گئی۔ البتہ انھیں پردہ اوڑھ کر چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مسلم خاتون نے اپنی صفائی میں کہا کہ ہم دونوں مسلمان ہیں اور یہ ہمارے اسلامی لباس کا ایک حصہ ہے۔ پولیس نے اس دلیل کو نہیں مانا۔ اس نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ نقاب (mask) ہے اور امریکی قانون کے مطابق ، کوئی مرد یا عورت کسی پبلک پلیس پر اپنے چہرہ کو نقاب میں چھپا کر نہیں چل سکتا۔

چونکہ مجرمین بعض اوقات اپنے کو شناخت سے بچانے کے لیے چہرہ پر نقاب (ماسک) ڈال لیتے ہیں۔ اس لیے امریکہ میں مذکورہ قانون بنایا گیا ہے۔

عرفان انیس عمر صاحب ٹمپل یونیورسٹی میں ریسرچ کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں دہلی میں فلاسفی کا سبجکٹ لیے ہوئے تھا۔ اس وقت مذہب سے مجھے دل چسپی نہ تھی۔ الرسالہ کے مطالعہ کے بعد مجھے اسلام کو پڑھنے سے دل چپی ہو گئی۔

۱۹۸۶ میں ملا تھا۔ اس کے بعد میں اسلام کا مطالعہ کرنے لگا۔ یہاں تک کہ میں ٹیمپل یونیورسٹی کے مذہبی شعبہ میں پہنچ گیا۔

امریکہ میں مقیم ایک مسلم دانشور سے ملاقات ہوئی۔ امریکہ کی ایک یونی ورسٹی سے انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اردو زبان بھی جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے الرسالہ (اگست ۱۹۹۶) پڑھا جو حریتِ فکر کے موضوع پر ہے۔ آپ نے ۵۰ صفحہ حریتِ فکر پر لکھا ہے، مگر اصل موضوع کو تو آپ نے چھو ہی نہیں کیا۔ مجھے ان کے اس تبصرہ پر تعجب ہوا۔ پوچھا کہ وہ کیسے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ لامحدود آزادی کو مانتا ہے۔ آپ کو یہ بتانا تھا کہ آزادی کی حدود مگر اس اہم سوال پر آپ نے کلام ہی نہیں کیا۔

اس سے اس فارسی مقولہ کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ یک من علم را دہ من عقل می باید (ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے) مذکورہ دانشور کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے الرسالہ کے شمارہ کو غلط معیار سے ناپا۔ مذکورہ شمارہ کا موضوع اختلاف رائے ہے نہ کہ آزادیٔ فکر۔ وہ اسلامی معاشرہ میں حریتِ فکر کے مسئلے سے بحث کرتا ہے۔ مغربی فلسفہ کے مطابق، انسانی آزادی کا مسئلہ اس کا بالفاظِ دیگر، الرسالہ کا مذکورہ شمارہ اس موضوع پر ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابلہ میں اختلاف رائے کی کتنی آزادی ہے ۔ انسان کو خدا اور رسول کے مقابلہ میں کتنی آزادی حاصل ہے، یہ مذکورہ شمارہ کا موضوع بحث ہی نہیں۔

ڈاکٹر سلیمان ناینگ(۵۲سال) افریقہ میں پیدا ہوئے ۔ آج کل وہ امریکہ (واشنگٹن) میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اریٹریا کی آزادی کے باوجود وہاں کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ پہلے ان کی جنگ ایتھوپیوں سے تھی اب آپس میں ہے ۔ ایک طرف اسلام پسند طبقہ ہے اور دوسری طرف سیکولر مسلمان اور عیسائی عیسائی اب بھی اریٹریا میں تقریباً ۳۰ فی صد ہیں۔ اس طرح دونوں ملا کر اکثریت میں ہو جاتے ہیں اور یہی لوگ اس وقت اریٹریا میں حکومت کر رہے ہیں۔ گویا جو لڑائی افغانستان میں ہے وہی ہر جگہ مختلف صورتوں میں جاری ہے۔

اس صورت حال کی تمام تر ذمہ داری اسلام پسند طبقہ پر ہے۔ (Dr. Sulayman Nayang) واشنگٹن سے آئے تھے۔ وہ گامبیا میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل

کے بعد اب وہ واشنگٹن کی ہوورڈ یونیورسٹی میں اسلامیات کے استاد ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی سفید فام لوگوں کی یونیورسٹی سمجھی جاتی ہے اور ہوورڈ یونیورسٹی سیاہ فام لوگوں کی یونیورسٹی۔

کانفرنس میں ایک صاحب نے پرجوش تقریر کی۔ جس میں امریکی نظام کے خلاف نہ صرف شکایت کا اظہار تھا بلکہ وہ امریکی نظام کے خلاف تشدد کی دعوت دے رہا تھا۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہ باتیں تو مجھے پاگل پن کی حد تک بے معنی نظر آتی ہیں۔ پھر اس قسم کے لوگ کیوں امریکہ میں رہتے ہیں اور بچوں کو یہاں لاکر بساتے ہیں۔

انھوں نے مذکورہ مقرر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں نہایت نرم مزاج (compassionate) ہیں۔ اپنے ذاتی کردار میں وہ لوگوں کے ساتھ نہایت نرمی کا معاملہ یہ بات انھوں نے مقرر کی تعریف میں کہی تھی۔ مگر میرے نزدیک یہ ڈبل اسٹینڈرڈ کی اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ مقرر اپنے ذاتی معاملہ میں تو موافقت اور ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اور اسٹیج پر اگر دوسروں کو ٹکراؤ کے راستہ پر جانے کا سبق دے یہ اس حدیث کی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔

اپنا مثال پیش کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دجال کون ہے، اور کون نہیں ہے، یہ ایک استنباطی مسئلہ ہے۔ اور استنباطی معاملہ میں کوئی بھی حتمی طور پر کچھ کہنے کی پوزیشن میں اس طرح کے معاملہ میں امام شافعی کا قول نہایت درست ہے کہ : رای صواب يحتمل الخطا ‌ورأيُ غیری خطا يحتمل الصواب :

My opinion is correct, with the possibility of error, inasmuch as the other opinion is wrong with the possibility of being correct. ڈاکٹر خالد یحییٰ بلینکن شپ نے ۱۹۷۳ء میں اسلام قبول کیا۔ کانفرنس میں ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ آپ نے کس طرح اسلام قبول کیا۔ اس کے جواب میں انھوں نے جو سطریں لکھ کر دیں وہ یہاں نقل کی جاتی ہیں :

ڈاکٹر خالد نے کہا کہ اسلام کے دعوتی امکانات بے پناہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہر انسان امکانی طور پر مسلمان ہے :

Printed page