ایک سنت
Al-Risala, February 1998, pp. 11–19
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اہل اسلام کے لئے ایک معیاری نمونہ ہے۔ کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے، خواہ وہ مسواک جیسا انفرادی معاملہ ہو یا جہاد جیسا اجتماعی خواہ وہ آج کا مسئلہ ہو یا ہزاروں برس بعد کا کوئی مسئلہ۔
سنت کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک سنت وہ ہے جو اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے مطلوب مثلاً آپ نے فرمایا کہ صَلُّواکَمَا رَأَ یْتُمُونِی أصلي (مشکوۃ المصابیح ، ۲۱۵) اس حدیث کا تعلق اصلًا نماز کی ظاہری صورت (form) سے ہے۔ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور خود بھی اسی طرح نماز ادا کی۔ اسی طرح اس کے بعد صحابہ کو دیکھ کر تابعین نے اور تابعین کو دیکھ کر تبع تابعین نے نماز پڑھی۔ یہ سلسلہ نسل در نسل امت میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ آج ہم جو نماز پڑھتے ہیں، وہ بھی بالواسطہ طور پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی نقل ہوتی ہے۔
اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے اونٹ پر بیٹھ کر حج کے مراسم ادا کئے تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ اے لوگو، مجھ کو حج کرتے ہوئے دیکھو اور اسی کے مطابق تم حج کے مناسک ادا کرو ( کرو(خذواعنّی مناسککم) )
یہ سنت کی پہلی قسم ہے۔ اس میں یہ مطلوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی فعل کو جس شکل میں کیا ہے، عین اسی شکل میں اس کو ادا کیا جائے ۔ اس کو سنت ظاہری کہا جا سکتا ہے۔ دوسری سنت سنت معنوی ہے۔ یعنی وہ سنت جو اپنی روح (اسپرٹ) کے اعتبار سے مطلوب ہوتی ہے۔ اس دوسری سنت میں ظاہری شکل اضافی ہے ، اور اس کی معنوی روح حقیقی اور اصل مطلوب کی حیثیت رکھتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن ۲۳ سال کے عرصہ میں اترا ۔ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ اترتا تو اسی وقت آپ کسی کاتب کو بلا کر اس کو لکھواتے۔ آپ کی خدمت میں ہر وقت کوئی نہ کوئی کاتب موجود اس طرح کاتبان وحی کی تعداد ۴۰ سے زیادہ شمار کی گئی ہے۔ آپ کو اس کا اتنا زیادہ اہتمام
تھا کہ ہجرت کے نازک سفر میں بھی قلم اور کاغذ آپ کے ہمراہ تھا اور ایک کاتب وحی (ابوبکر صدیق) آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پورا قرآن اس زمانہ کے اوراق اور کاغذات پر لکھا جا چکا تھا۔ بہت سے صحابہ (مثلاً زید بن ثابت انصاری) پورے قرآن کے حافظ تھے۔ میں آپ نے ایک بار پورے قرآن کو سلسلہ وار پڑھا اور صحابہ کی ایک جماعت نے اس کو براہ راست آپ سے سنا۔ اس کو حدیث کی کتابوں میں العرضۃ الاخیرہ کہا گیا ہے۔
اس طرح کے مختلف اہتمام کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو ایک جلد کی صورت میں جمع نہیں فرمایا۔ آپ کی وفات کے وقت قرآن یا تو لوگوں کے سینہ میں تھا، یا متفرق ٹکڑوں اور اوراق پر لکھا ہوا تھا۔ وہ ایک واحد کتاب کی صورت میں مرتب نہیں ہوا تھا جیسا کہ آج وہ ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقینی طور پر اس سے باخبر تھے کہ اس صورت حال کو بعد کے لوگ کتاب اللہ کے بارے میں شوشے بنائیں گے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں مستشرقین نے اس واقعہ کو لے کر طرح طرح کے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر مستشرقین کی مرتب کردہ دائرۃ المعارف الاسلامیہ (انسائیکلو پیڈیا آف اسلام) کی پانچویں جلد میں اس مسئلہ کو اٹھایا گیا ہے اور اس کی مختلف توجیہیں کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک توجیہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کا خیال تھا کہ قیامت کا وقت قریب آگیا ہے اور جلد ہی یہ دنیا ختم ہو جائے گی، اس لئے قرآن کو ایک جلد میں مرتب کرنے کا جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوا :
ان الرسول كان يتوقع قرب قيام الساعة ونهاية العالم في زمن قريب ۔ لا داعي الى جمع القرآن (الوعي الاسلامی، کویت ، رمضان ۱۴۱۰ھ )
ان امکانی خطرات کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل کہ آپ نے قرآن کو ایک صحیفہ کی صورت میں مجلد نہیں کرایا ، یہ کوئی بھول یا غلطی کی بات نہیں ہے، یہ خود آپ کی ایک سنت ہے۔ ایسا آپ نے قصد و ارادہ کے تحت کیا۔ کیوں کہ اس سے ایک اہم دینی فائدہ وابستہ تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دین کو کامل کرنا تھا، اس لئے ناممکن تھا کہ آپ کسی دینی کام کو غیر کامل حالت میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ایسا کرتے کہ اپنی زندگی ہی میں قرآن کو ایک صحیفہ کی صورت میں مرتب کرکے اس کی بہت سی جلدیں بنواتے اور اس کو تمام ملکوں کی مسجدوں میں رکھوا دیتے تو آپ کے بعد قرآن کا تقریباً وہی انجام ہوتا جو آج امت کے اندر نظر آ رہا ہے۔ لوگ بنے بنائے قرآن کو لے کر بس اس کی تلاوت کرنے میں لگ جاتے۔ قرآن کے سلسلہ میں انھیں اس کے سوا کوئی اور کام نظر نہ آتا جس میں وہ اپنے آپ کو مشغول کریں۔ قرآن کی تدوین کو نا تمام چھوڑ کر آپ نے اپنے بعد امت کو ایک بہت بڑی مشغولیت عطا کر دی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں ۱۲ ھ میں یمامہ (سعودی عرب) میں ایک جنگ ہوئی ۔ اس میں ۷۰، ایسے مسلمان شہید ہوگئے جو پورے قرآن کے حافظ تھے۔ سے حضرت عمر فاروق کو اندیشہ ہوا کہ قرآن کے حفاظ اگر اسی طرح ختم ہوتے رہے تو قرآن کا علم چلا جائے گا۔ انھوں نے حضرت ابو بکر سے کہہ کر قرآن کی تدوین کرائی۔
تاہم یہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ اولاً خلیفہ اول کو اس میں تردد ہوا کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ اس کو ہم کیسے کریں۔ کافی بحث کے بعد وہ راضی ہوئے۔ اب ایک مستقل سرگرمی جاری ہوگئی۔ مثلاً حضرت عمر اور حضرت زید روزانہ مسجد کے دروازہ پر بیٹھ جاتے اور لوگوں سے کہتے کہ جس کے پاس قرآن کا کوئی حصہ لکھا ہوا موجود ہو، وہ یہاں لا کر مسجد میں جمع کرے۔
حضرت زید بن ثابت انصاری اپنی مختلف صلاحیتوں کی وجہ سے اس کے لئے موزوں سمجھے گئے کہ وہ اس عظیم کام کے ذمہ دار اعلیٰ مقرر کئے جائیں۔ انھوں نے تمام جمع شدہ مکتوب اجزاء کو پڑھا۔ ان کو حافظہ کی مدد سے جانچا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار کسی کتاب کے لئے (double checking) (دہرا جانچ) کا نظام قائم کیا گیا۔ یعنی کتابت کو حافظہ سے جانچا گیا اور حافظہ کو کتابت سے۔ زید بن ثابت (م ۴۵ ھ) کے لئے یہ اتنا سخت کام تھا کہ انھوں نے کہا :
فواللہ لو كلفوني نقل جبل من الجبال خدا کی قسم، اگر وہ مجھ پر یہ ذمہ داری ڈالتے کہ پہاڑوں ماكان اثقل علی مما امرنی به من میں سے کسی پہاڑ کو میں اپنی جگہ سے ہٹا دوں تو وہ میرے جمع القرآن (المصاحف لابن ابی داؤد) لئے اس حکم سے زیادہ سخت نہ ہوتا جو ابو بکر و عمر
نے قرآن کو جمع کرنے کے لئے مجھے دیا۔
ایک سرگرم اور پر از و اوقات جد و جہد کے بعد جب قرآن ایک کتاب کی صورت میں مدون ہو گیا تو اب یہ سوال تھا کہ کثیر تعداد میں جو لکھے ہوئے اجزاء جمع ہوئے ہیں ، ان کو کیا کیا جائے۔ اب دوبارہ بحث شروع ہوئی ۔ یہاں تک کہ متفقہ فیصلہ کے تحت ان سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔ یہ لمبا طرح طرح کے واقعات سے بھرا ہوا کام جس کی تفصیل کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسلمانوں کو ایک نئی زبر دست مشغولیت دے دی۔ مشغولیت کے دوران ان کے اوپر دین کے بہت سے نئے پہلو واضح ہوئے ۔ حتی کہ انھوں نے قرآن کو از سر نو دریافت (rediscover) کیا۔ انھوں نے قرآن کے ساتھ از سر نو اپنے زندہ تعلق کو استوار قرآن ان کے لئے محض ایک تقلیدی کتاب نہ رہا ، بلکہ ایک ایسی کتاب بن گیا جس کو انھوں نے گویا اپنی تلاش اور محنت کے دور ان دوبارہ نئے شعور کے ساتھ دریافت کیا تھا۔ یہ سنت جس کو ہم نے سمجھنے کی خاطر معنوی سنت کا نام دیا ہے ، وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ جس طرح آپ کی دوسری سنتیں ہمیشہ کے لئے مطلوب ہیں ، اسی طرح یہ معنوی سنت بھی ہمیشہ کے لئے مطلوب ہے۔ مزید یہ کہ وہ بے حد اہم سنت ہے ، کیوں کہ اسی کے ذریعہ سے امت کا احیاء ہوتا ہے ۔ وہ امت کے افراد کو مسلسل طور پر زندہ اور سر گرم عمل رکھنے کا سب سے زیادہ طاقت ور ذریعہ ہے۔
اس سلسلہ میں ایک مثال لیجئے ۔ قرآن میں بتا یا گیا ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے اس لئے اتاری ہے کہ اس کے ذریعہ سے تمام دنیا والوں کو آگاہ کیا جائے (الفرقان ۱) ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، قرآن عربی زبان میں ہے ، جب کہ دنیا کی قوموں میں ہزاروں مختلف زبانیں رائج ہیں۔ ایسی حالت میں تمام قومیں کس طرح قرآن سے آگاہی لے سکتی ہیں۔
اگر اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہوتا کہ ہر قوم براہ راست اسی منزل قرآن سے ہدایت حاصل کرے تو وہ قرآن کو کسی بین اقوامی زبان (Lingua franca) میں اتار تا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ مومنین قرآن اس کتاب کو تمام قوموں کی زبانوں میں ترجمہ کریں اور اس طرح اس کو تمام لوگوں تک ان کی قابل فہم صورت میں پہنچائیں ۔
یہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معنوی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ اس لحاظ سے دیکھئے تو موجودہ زمانہ میں ضرورت تھی کہ اس سنت نبوی پر عمل کیا جاتا۔ مثلاً اس کی ایک صورت یہ تھی کہ موجودہ زمانہ میں پریس کی ایجاد اور مواصلات کے جدید ذرائع کے ظہور نے اس کا امکان پیدا کر دیا تھا کہ قرآن کو بآسانی تمام قوموں کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ اب اگر ہمارے رہنماؤں نے اس سنت کو نہ زندہ کیا ہوتا۔ اور وہ قوم کو ابھارتے کہ قرآن کا ہر زبان میں مستند ترجمہ کرو۔ اس کو چھپواؤ اور اس کو ساری دنیا میں پہنچاؤ تو یہ اتنا بڑا کام ہوتا کہ امت پوری کی پوری اس کام میں مشغول ہو جاتی۔ اس رخ پر عمل شروع کرنے کے بعد اس کے بے شمار پہلو نکلتے۔ ہر آدمی اس میں اپنے لئے کرنے کا
اس طرح گویا مسلمان قرآن کو موجودہ زمانہ کے لحاظ سے از سر نو دریافت (rediscover) قرآن دوبارہ ان کے لئے ایک زندہ کتاب بن جاتا جو ان کی پوری زندگی میں دینی بھونچال پیدا مگر بروقت اس قسم کی رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے پوری ملت سیاست کی چٹان پر بے فائدہ طور پر اپنا سر پٹک رہی ہے اور نتیجہ دین سے بھی محروم ہے اور دنیا سے بھی۔ موجودہ زمانہ میں اس غلطی پر مزید اضافہ یہ کیا گیا ہے کہ غیر دعوتی کام کو دعوت کا نام دے دیا گیا ہے۔ کوئی مسلمانوں کی اصلاح کی کوشش کو دعوت کہہ رہا ہے۔ کوئی مسجد اور مدرسہ بنانے کو دعوت کا کام سمجھ رہا ہے۔ کوئی مفروضہ دشمنانِ اسلام کے خلاف جنگ چھیڑتا ہے اور اس کو دعوت کا نام دے دیتا ہے۔ کوئی دوسرے مذہب کے لوگوں سے مناظرہ بازی کرتا ہے اور اس کو دعوت کا عمل قرار دے رہا ہے۔ سیاست کا ہنگامہ کھڑا کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ یہی دعوت کا اصل کام ہے۔ اس قسم کی ہر کوشش ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہے۔ دعوت الی اللہ ایک متعین عمل کا نام ہے، اور وہ ہے ، خدا کے دین کو اس کی بے آمیز صورت میں غیرمسلموں یہ وہی کام ہے جس کو قرآن میں انذار و تبشیر کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ ایسا کام ہے جو ناصح اور امین بن کر انجام دیا جاتا ہے۔ یعنی خدا کی نسبت سے امانت دار اور بندوں کی نسبت سے ناصح اور خیر خواہ۔
اس غلطی نے موجودہ زمانہ میں دعوت کے اصل مقصد ہی کا خاتمہ کر دیا ہے ۔ دعوت کی مہم کا اصل مقصد یہ ہے خدا کے بندے خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ ہوں، وہ خدا کی مرضی سے واقف ہو کر اس کے مطابق زندگی گزاریں۔ اور پھر خدا کی رحمت و نصرت کے مستحق بنیں۔ اور جو لوگ اس کو ماننے سے انکار کریں، ان پر خدا کی حجت تمام ہو، اور آخرت میں وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں آپ کے تخلیقی منصوبہ کی خبر نہیں تھی۔ اس لئے ہم اس کی ذمہ داری سے بری ہیں۔
موجودہ زمانہ میں دعوت کے نام پر مسلمانوں نے جو سرگرمیاں جاری کر رکھی ہیں اور جن کو مجموعی اعتبار سے صحوة اسلامیہ (اسلامی بیداری) کہا جاتا ہے، اس میں یہ سارا مقصد فوت ہو گیا ہے۔ اصل دعوتی مہم میں مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق قائم ہوتا ہے، مگر موجودہ نام نہاد صحوۃ اسلامیہ میں دونوں یک دوسرے کے لئے قومی حریف یا قومی رقیب بن گئے ہیں۔
اسی قسم کا برعکس نتیجہ خود مسلمانوں کی نسبت سے ظاہر ہوا ہے۔ چنانچہ موجودہ قسم کی سرگرمیوں نے اس چیز کا خاتمہ کر دیا ہے جو اصلاً اسلام کا مطلوب و مقصود ہے۔ الی اللہ کا عمل جب مطلوب صورت میں جاری ہو تو وہ مسلمانوں کے اندر مثبت کیفیات کو مگر موجودہ سرگرمیوں نے برعکس طور پر مسلمانوں کے اندر منفی کیفیات کو فروغ
صحیح دعوتی عمل آدمی کے اندر دوسروں کے حق میں شفقت کے جذبات پیدا کرتا ہے مگر موجودہ قسم کے عمل نے مسلمانوں کے اندر نفرت کے جذبات پید اکردیے ہیں۔ صحیح دعوتی عمل آدمی کو ایک طرفہ صبر کرنا سکھاتا ہے مگر موجودہ قسم کے عمل نے مسلمانوں کو بے صبر حتی کہ تشدد پسند بنا دیا ہے۔ صحیح دعوتی عمل آدمی کو دوسروں کی ہدایت کا حریص بناتا ہے۔ مگر موجودہ عمل نے مسلمانوں میں صرف یہ جذبہ ابھاررکھا ہے کہ وہ لوگوں کو زیر کر کے ان کے اوپر غالب آجا ئیں۔ صحیح دعوتی عمل یہ سکھاتا ہے کہ دوسروں کی زیادتیوں کو معاف مگر موجودہ عمل نے مسلمانوں کا یہ حال کر رکھا ہے کہ ہر ایک دوسری قوموں کی سازشوں
کے انکشاف کا ماہر بنا ہوا ہے۔ صحیح دعوتی عمل آدمی کے اندر اس نفسیات کو بیدار کرتا ہے کہ اس دنیا میں اس کی ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں۔ مگر موجودہ عمل نے ہر ممسلمان کو اپنے حقوق کی جد و جہد کا شہ سوار بنا رکھا ہے۔ صحیح دعوتی عمل لوگوں کے اندر روحانیت کی لطیف کیفیات کو جگاتا ہے۔ مگر موجودہ عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ اس نے ہر مسلمان کے اندر سیاست کا طوفانی جوش ابھار دیا ہے۔
اس غلطی کا یہ شدید تر نتیجہ نکلا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر مثبت سرگرمیاں جنم نہ لے سکیں۔ اس کے برعکس ان کے درمیان ہر طرف منفی باتوں اور منفی سرگرمیوں کا دور دورہ ہے۔ مسلمانوں کو اہل عالم کے لئے دوبارہ نفع بخش بننا تھا ۔ مگر احتجاج اور شکایت کی مہم نے عملاً ان کو ایک قسم کا پروٹسٹنٹ گروہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اہل عالم کے لئے اثاثہ بننے کے بجائے وہ اہل عالم کے لئے بوجھ بن کر رہ گئے ہیں۔
کسی تحریک کے صحت و سقم کو جانچنے کے لئے سب سے زیادہ آسان اور قریبی معیار یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ جو لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں ان میں یہ تحریک کس قسم کا ذہن اور مزاج بناتی ہے۔ افراد تحریک کا مزاج تحریک کے صحت و سقم کو جانچنے کا یقینی معیار ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمانہ کی تقریبا تمام اسلامی تحریکوں نے اپنے افراد کے اندر جو مزاج بنایا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی کہیں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کوئی نزاع پیدا ہو تو فوراً وہ اس کو اپنے لئے عزت و وقار کا سوال بنا لیتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک قومی مزاج ہے نہ کہ دعوتی مزاج۔ دعوتی مزاج کیا ہے ، اس کا اندازہ کرنے کے لئے دور نبوت کی ایک مثال لیجئے۔ یہ مثال وہ ہے جو مدنی دور میں صلح حدیبیہ کے بحرانی وقت میں سامنے آئی۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ ، قریش نے حدیبیہ کے سفر میں رکاوٹ ڈال کر رسول اور اصحاب رسول کو اس سے روک دیا تھا کہ وہ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کریں۔ ظاہری حالات کے اعتبار سے مصلحت کا تقاضا تھا کہ اس نازک موقع پر کوئی ایسا اقدام کیا جائے جو اسلام اور اہل اسلام کی عزت و وقار کو مجروح کرنے والا ہو۔ مگر اس وقت اس قسم کے اندیشوں کو یکسر نظر انداز کر کے قریش سے یکطرفہ صلح کا معاملہ کیا گیا ۔ اور تمام سلمان عمرہ کئے بغیر حدیبیہ کے مقام سے واپس لوٹ آئے۔
اس وقت ایک نہایت نازک مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کا تھا۔ آپ نے سفر سے پہلے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کر رہے ہیں۔ اسی خواب کا اعلان کر کے آپ مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ اب عمرہ کئے بغیر حدیبیہ سے واپس لوٹ جانا بے حد نازک معاملہ تھا۔ کیونکہ یہ اندیشہ تھا کہ ایسا کرنے کے بعد لوگ نعوذ باللہ آپ کی پیغمبری پر شک کرنے لگیں گے اور آئندہ آپ کی باتوں پر زیادہ یقین نہیں کریں گے۔
حدیبیہ میں قیام کے دوران قریش کے لوگوں نے کئی بار سرکشی کی۔ مثلاً ایک بار عین نماز کی حالت میں آ کر صحابہ پر پتھر مارنے لگے۔ ایک بار ایک صحابی کو تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ اب سوال تھا کہ اگر ان کی ان حرکات پر خاموشی اختیار کر لی جائے تو وہ دلیر ہو جائیں گے اور آئندہ مسلمانوں کے خلاف اور زیادہ زیادتیاں کریں گے۔
ایک اندیشہ یہ بھی تھا کہ اگر نہ رسول اور اصحاب رسول عمرہ کئے بغیر اپنے وطن کو واپس چلے جائیں تو قریش کے حوصلے بہت بڑھ جائیں گے۔ آج وہ عمرہ کو روک رہے ہیں۔ کل وہ حج پر پابندی لگائیں گے۔ آج وہ مکہ میں داخل ہونے نہیں دے رہے ہیں۔ کل وہ مدینہ میں بھی ہمارا رہنا مشکل کر دیں گے۔ اس لئے ضروری تھا کہ پہلے ہی موقع پر سخت کارروائی کر کے ان کا حوصلہ توڑ دیا جائے۔
رسول اور اصحاب رسول کے لئے عمرہ کا یہ سفر ایک علامتی حیثیت رکھتا تھا۔ بظاہر اسی کے اوپر یہ فیصلہ ہونا تھا کہ آئندہ عرب میں مذہی اعتبار سے کیا صورت حال رہے گی مسلمان اپنے مذہبی عقیدہ کے مطابق ، اس ملک میں رہنے دئے جائیں گے یا نہیں رہنے دئے جائیں گے گویا یہ محض ایک عمرہ کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ علامتی طور پر وہ مذہبی آزادی کا وسیع تر مسئلہ تھا۔ مگر پیغمبر کی نظر میں یہ سب کی سب جزئی مصلحتیں تھیں ۔ زیادہ بڑی اور کلی مصلحت یہ تھی کہ حالات کے اندر چھپے ہوئے دعوتی مواقع کو استعمال کیا جا سکے ۔ چنانچہ آپ نے جزئی مصلحتوں کو نظر انداز کر دیا اور کلی مصلحت کو اہمیت دیتے ہوئے قریش سے امن کا معاہدہ کر لیا۔ صحیح اجتہاد اور صحیح عملی منصوبہ بنانے کے لئے سب سے زیادہ ضروری شرط یہ ہے کہ
مسلمانوں میں مثبت ذہن ہو۔ وہ عزت اور بے عزتی کے احساس سے اوپر اٹھ کر معاملات کو دیکھتے ہوں ۔ ان میں یہ صلاحیت ہو کہ کسی کی مخالفانہ روش ان کے ذہنی توازن کو درہم برہم وہ معاملات کو قومی تعصب کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ بے آمیز نگاہ سے خالص اصولی اعتبار سے ہر بات کا جائزہ لیں۔ ان کا نقطہ نظر عمل کے تحت نہ بنے بلکہ اسلام کی اعلی تعلیمات کی روشنی میں طے پائے۔
مسلمانوں کے عوام اور خواص دونوں اس معیار سے بہت زیادہ دور ہو گئے ہیں۔ اس لئے آج پہلا کام یہ ہے کہ انھیں دوبارہ اس معیارِ حق پر لایا جائے۔ جب تک ان میں یہ معیار پیدا نہ ہو، وہ نہ فکری اعتبار سے کوئی بڑا کام کر سکتے ہیں اور نہ عملی اعتبار سے۔