Al-Risala · December 1998

Every human being is potentially Muslim.

Al-Risala, December 1998, pp. 43–46

By Maulana Wahiduddin Khan

کانفرنس جس اسکول میں ہوئی وہ غیر معمولی طور پر بڑا تھا۔ وہ اپنی وسعت کے اعتبار سے ایک یونی ورسٹی معلوم ہوتا تھا۔ غیر معمولی طور پر بڑے پارک، عمدہ سڑکیں، مرصع عمارتیں، ہر قسم کے تعلیمی انتظامات وہاں نہایت اعلیٰ درجہ میں موجود تھے۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ یہ لوگ دجال ہیں۔ اگر یہ دجال ہیں تو ہم کو ایسے دجال اور چاہئیں جو انسان کو تعلیم یافتہ بنائیں ۔ کیوں کہ اسلام ایک اعلیٰ درجہ کا سائنٹفک مذہب ہے۔ چنانچہ غیر تعلیم یافتہ انسان اور اسلام کے درمیان ایک قسم کا انٹلکچول گیپ موجود رہتا ہے۔ تعلیم اس گیپ کو ختم یہ دجال ہمارا پچاس فی صد کام کر رہے ہیں۔ اب ہمیں یہ کرنا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے بقیہ پچاس فی صد والا کام کرنے میں لگ جائیں۔

مسٹر کو کب صدیقی نے ایک دھواں دھار تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ میں نے امریکہ کا تفصیلی سفر کیا۔ یہاں کی مسجدیں دیکھیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ مسلمان خوش ہیں۔ مگر کیا یہ مسجدیں کافی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ میں مذہبی آزادی ہے۔ کفار کی دی ہوئی اس مذہبی آزادی کی حقیقت کیا ہے۔ وہ محض نمائشی آزادی ہے۔ شھداء اللہ فی الارض ہیں۔ اس ملک کے ہیپل (عوام) مسلمانوں کے خلاف نہیں ہیں، مگر

پاور اسٹرکچر میں جو لوگ ہیں وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ یہ سب سیاسی شیطان ہیں۔ دشمنانِ اسلام (enemies of Islam) ہیں۔ امریکی گورنمنٹ کو صہیونی کنٹرول کرتے ہیں۔ ہاتھ ہمارے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

یہ سب باتیں مجنونانہ حد تک بے معنی ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ امریکہ میں بسنے والے اکثر مسلمان اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ انھیں اس کا احساس نہیں کہ اگر فی الواقع امریکہ ویسا ہی برا ہے جیسا کہ وہ بتاتے ہیں تو آخر وہ اپنے کو اور اپنی نسلوں کو کس خانہ میں ڈالیں گے جو اسی امریکی مشین کا پرزہ بنے ہوئے ہیں۔

کانفرنس کے موقع پر کناڈا کے مسلم میگزین کریسنٹ (4749293-416 .Tel) کی طرف سے ایک فلائر تقسیم کیا گیا۔ یہ دراصل ۱- ۱۵ ستمبر ۱۹۹۶ کا ایڈیٹوریل تھا۔ جس کا عنوان تھا : American politicians get hysterical. اس میں شکایت کی گئی تھی کہ کمیونزم کے سقوط کے بعد اسلام کو یہ کہہ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ مغرب کا دشمن نمبر ایک ہے۔ اسلامک ایکٹوزم کو وحشیانہ روپ میں دکھایا جا رہا ہے۔ سے کوئی ایسا دن گزرتا ہے جب کہ مسلمانوں کی بلا سبب توہین نہ کی جاتی ہو : Islamic activism is demonized. Hardly a day passes by without some gratuitous insult being hurled at the Muslims. میں نے ایک صاحب سے کہا کہ دیکھئے، اس جملہ میں اسلام اور مسلمان کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان جو کچھ کریں وہ اپنے آپ اسلامی بن جاتا چنانچہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سرگرمیوں کو اسلامک ایکٹوزم بتایا گیا ہے۔ حالانکہ یہ تمام سرگرمیاں بلا شبہ قومی ایکٹوزم ہیں نہ کہ حقیقۃ اسلامک ایکٹوزم۔

یہ ایک جرم ہے جس کو موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور مسلسل انجام دے رہے ہیں۔ غلط روش نے موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ کا ہر فعل اسلام کی طرف منسوب ہو کر اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ ۱۵ ستمبر کی شام کو مغرب کی نماز کی مسجد (بروکلین) میں پڑھی۔ یہاں محمد سلیم رانا صاحب سے

کی مسجد میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو پاکستان کا مخالف بتایا جاتا ہے۔ اس کی حقیقت میں نے کہا کہ یہ سراسر بے بنیاد بات ہے ، اور یہ میرے اوپر بہتان ہے۔ صرف اس معاملہ میں ہے کہ پاکستان کی تعمیر کے لیے عملی طریقہ کیا ہو۔ میں ان لوگوں کا مخالف ہوں جو پاکستان بنتے ہی یہ پر شور مطالبہ لے کر کھڑے ہوگئے کہ پاکستان میں اسلامی قانون نافذ کرو۔ میں کہتا ہوں کہ یہ احمقانہ حد تک بے معنی تحریک تھی۔ کیونکہ مطالبا تی ہنگاموں سے کبھی کسی ملک میں اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ میرا کہنا یہ تھا کہ سیاسی اقتدار کے معاملہ کو الیکشن پر اس کے حوالے کرکے ان لوگوں کو اصلاح معاشرہ کے کام پر لگنا چاہیے تھا۔ یہ لوگ اگر ریاست کے بجائے انسان کے اسلامائزیشن پر اپنی کوششوں کو مرتکز کرتے تو اب تک بہت کچھ کام ہو چکا ہوتا۔ مگر گھوڑا کے آگے گاڑی باندھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری کوششیں برباد ہوکر

نماز کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ٹھہر گئے۔ میں نے ۵۰ منٹ تک خطاب کیا۔ موضوع اعتماد علی اللہ اور صبر و اعراض تھا۔

امریکہ میں مقیم ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ اگر آپ اسلام میں امن کی بات کریں تو لوگ تعجب کے ساتھ سوال کریں گے کہ کیا آپ صوفی ہیں :

When you speak of peace in Islam, some people surprisingly ask, "are you a Sufi?"

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے پایا ہے کہ مسلمانوں میں صوفی لوگ ہی ہیں جو حقیقی معنوں میں امن کی بات کرتے ہیں۔ جو دوسروں کے درمیان پر امن طور پر رہ کر روحانی ترقی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اس کے برعکس جو دوسرے مسلمان ہیں وہ یا تو عملاً جہاد کے نام پر ٹکراؤ کی تحریک چلا رہے ہیں۔ یا لفظی طور پر اسلام کا ایسا تصور پیش کرتے ہیں جو لا محالہ ایک اور دوسرے کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں صوفی اسلام زیادہ مقبول ہوا ہے۔

۱۴ ستمبر ۱۹۹۶ء کو واپسی تھی۔ صبح سات بجے جناب خواجہ کلیم الدین صاحب کے ساتھ بروکین سے کینڈری ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ ایئر پورٹ کے مختلف مراحل طے ہو کر آخر کار گیٹ نمبر ۳ کلیم الدین صاحب آخری مرحلہ تک میرے ساتھ رہے۔ دہلی ایئر پورٹ پر ایسا ہونا ممکن یہاں پہنچانے والے کو بیرونی گیٹ پر روک دیتے ہیں۔ اس کے آگے صرف ٹکٹ کے حاملین ہی جا سکتے ہیں۔

نیویارک سے لندن کے لیے برٹش ایرویز کی فلائٹ نمبر ۷۰۸ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ساڑھے چھ گھنٹہ کی یہ پرواز اٹلانٹک سمندر کے اوپر تھی اور نہایت اسموتھ تھی۔ مگر لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پر جہاز اترا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ دھم سے گر گیا ہو۔ میں ڈرا کہ کہیں پہیہ پھٹ تو نہیں مگر خدا کے فضل سے کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

لندن سے دہلی کے لیے برٹش ایرویز کی فلائٹ ۱۴۵کے ذریعہ ہوئی۔ اس فلائٹ میں ہندوستانی زیادہ تھے۔ اس لیے حسب دستور شور کا اضافہ ہو گیا۔ ہندوستانی مزاج نہ چپ رہنے کا ہے اور نہ آہستہ بولنے کا۔ ایک ہندوستانی پابند رویہ صرف اس وقت اختیار کرتا ہے جب کہ وہ اس کے لیے مجبور کر دیا گیا۔ اصول کے تحت آزادانہ طور پر ہندوستانی کے لیے پابند زندگی گزارنا ممکن نہیں۔

یہ جہاز دہلی ہوتا ہوا ڈھاکہ جا رہا ہے۔ چنانچہ اس میں اعلانات انگریزی کے بعد ہندی اور بنگلہ زبان میں ہوئے ۔ بنگلہ زبان میں اعلان مرد نے کیا اور اس کا آغاز السلام علیکم سے کیا اور آخر میں خدا حافظ کہا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش بننے کا کوئی حقیقی اسلامی فائدہ تو نہیں ہوا۔ نہ کچھ کٹھول تشخصات ضرور قائم ہو گئے ہیں۔

۱۷ ستمبر ۱۹۹۶ء کو دوپہر کے وقت جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ نیویارک سے لندن کی پرواز بہت ہموار تھی۔ مگر لینڈنگ غیر ہموار رہی۔ اس کے برعکس لندن سے دہلی کی پرواز غیر ہموار تھی مگر لینڈنگ بالکل ہموار تھی۔ یہی وسیع تر معنوں میں زندگی کا معاملہ ہے۔ کبھی آدمی کا ایک پہلو درست ہوتا ہے اور کبھی دوسرا پہلو۔ موجودہ دنیا میں ہر پہلو سے معیاری زندگی حاصل کرنا ممکن نہیں۔

Printed page