Al-Risala · December 1998

سوال و جواب

Al-Risala, December 1998, pp. 47–49

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے آپ کی کتابیں پڑھی ہیں۔ آپ کا ماہنامہ رسالہ بھی دیکھتا ہوں۔ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ مسلم اکابر کو ہدف تنقید کیوں بناتے ہیں۔ آپ اس کے بغیر بھی اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔ آپ جب مسلم اکابر کا نام لے کر ان کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو اس سے قاری کے دل پر چوٹ لگتی ہے۔ اس قسم کی تنقید کا فائدہ سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ کی یہ شکایت دراصل ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آپ اس قسم کی تحریروں کی بابت یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں کچھ شخصیتوں کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ حالانکہ اصل بات یہ اصل یہ ہے کہ میرا مقصد ۲۰ ویں صدی کے ایک انوکھے ظاہرہ (Phenomenon) کی توجیہہ ہوتا ہے۔ اس ظاہر ہ کے ساتھ چونکہ بہت سی شخصیتوں کے نام وابستہ ہیں۔ لئے ان کے نام کا حوالہ بھی ضمنا ان تحریروں میں آ جاتا ہے۔ وہ انوکھا ظاہرہ یہ ہے کہ ۲۰ ویں صدی میں اسلام کے نام پر بہت بڑی بڑی کوششیں اور قربانیاں سامنے آئیں۔ مگر ان کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ میں تاریخ اسلام کے اس انوکھے ظاہر ہ کی توجیہہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں ضمنی طور پر کچھ شخصیتوں کے نام بھی آجاتے ہیں۔ اس کا مقصد کسی شخصیت کو الزام دینا نہیں ہو تا بلکہ ایک تاریخی ظاہر ہ کی توجیہہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔ آپ جیسے لوگ اگر اس فرق کو سامنے رکھ کر مطالعہ کریں تو آپ کو میری ان تحریروں سے کوئی شکایت نہ ہو گی ۔ ہندوستان میں ہندو مسلم مسئلہ بہت پرانا ہے۔ وہ ۱۹۴۷ء سے پہلے بھی تھا اور ۱۹۴۷ء کے بعد بھی باقی ہے۔ آپ کے نزدیک اس مسئلہ کی جڑ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے۔ آپ اس مسئلہ کا ذمہ دار کس کو سمجھتے ہیں۔ (نصیر احمد، سہرسا)

میرے نزدیک یہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ یعنی اس معاملہ کی پچاس فیصد ذمہ داری ہندوؤں پر ہے اور پچاس فیصد ذمہ داری مسلمانوں پر۔ ہندوؤں کی غلطی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو ”غیر“ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ ہندوستانی مسلمانوں کی ۹۹ فیصد تعداد خود ہندوؤں سے ہی نکل کر آئی ہے۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ سارے مذاہب ایک ہیں اور تمام مذاہب سچے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر کچھ ہندوؤں نے ہندو مذہب کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کر لیا تو ہندو عقیدہ کے مطابق، وہ ایک سچے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے سچے مذہب میں داخل ہو گیا۔ ایسی حالت میں کم از کم ہندوؤں کو ہر گز اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور نہ ایسے مسلمانوں کو غیر سمجھنا چاہئے۔ مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ قدیم ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کو ”اسلامی حکمران“ قرار دیتے ہیں اور ان کا دفاع اسی طرح کرتے ہیں جس طرح انھیں اسلام کا دفاع کرنا چاہئے۔ چونکہ ہندوان حکمرانوں کو حملہ آور سمجھتے ہیں اس لئے جب مسلمان ان کی حمایت کرتے ہیں تو ہندوؤں کو ایسے مسلمانوں سے بھی شکایت ہو جاتی ہے۔ نزدیک دونوں ہی طرف یہ صرف سوچ کی ایک غلطی کا معاملہ ہے، وہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی قائد نہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ خیال میں اگر کوئی قائد ہے تو وہ کون ہے۔ اگر کوئی قائد نہیں ہے تو اس کا سبب کیا ہے۔ مسلم ملت قیادت سے خالی کیوں ہو رہی ہے۔ (نسیم احمد عظمی، مئو)

یہ سوال بہت زیادہ دہرایا جاتا ہے۔ مگر میرے نزدیک وہ درست نہیں ہے۔

ہوں کہ مسلمانوں کا مسئلہ فقدانِ قیادت نہیں ہے، بلکہ ان کا اصل مسئلہ فقدانِ قبولیتِ قیادت ایک ہندی مثل ہے کہ مانو تو دیو، نہیں تو پتھر۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی اہل ہو، وہ خود سے اپنی قوم کا قائد نہیں بن جاتا۔ بلکہ وہ قوم کے قبول کرنے سے قائد بنتا ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور مسٹر محمد علی جناح دونوں ہم عصر تھے۔ بلا اختلاف یہ کہا جاسکتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے اندر قیادت کی اعلیٰ صلاحیت موجود تھی۔ امکانی طور پر مسٹر محمد علی جناح سے زیادہ بڑے قائد تھے۔ مگر اس زمانے کے مسلمانوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کو بحیثیت قائد کے قبول نہیں کیا۔ اس کے مقابلہ میں مسٹر محمد علی جناح کو مسلمانوں کے درمیان غیر معمولی مقبولیت ملی۔ چنانچہ اس زمانے کے مسلمانوں کے درمیان مسٹر محمد علی جناح قائد اعظم بن گئے اور مولانا ابوالکلام آزاد صرف شوبوائے بن کر رہ گئے۔ سے مسلمانوں کا یہی مزاج آج بھی باقی ہے۔ وہ اہل افراد کو اپنا رہنما بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل افراد پیدا ہو کر مر جاتے ہیں اور وہ قیادت کے میدان میں اپنے فرائض ادا نہیں کر پاتے۔

مطبوعات مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی ڈاکٹر عصمت جاوید ایک ہی پیالہ (ڈرامہ) رام گنیش گڈکری مراٹھی سے ترجمہ خلیل مظفر ناگپور میں اردو ڈاکٹر شرف الدین ساحل ڈاکٹر کرنل محمد غفران کیپسیٹو اور اس کی بیسک زبان تصور کمیت کار پی آردو دھرم مراٹھی سے ترجمہ دستگیر شہاب امکان مراٹھی عصری ادب کا انتخاب (اردو)

Printed page