متفرق ات سفر
Al-Risala, February 1998, pp. 24–44
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ : (السفر قطعة من العذاب فتح الباری ۷۲۸/۳) یعنی سفر عذاب کا ایک جزء ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ سفر کوئی بری چیز ہے اور اہل ایمان کو سفر نہ کرنا چاہیے ۔ اس حدیث میں ”عذاب “ دراصل تعب اور مشقت کے معنی میں ہے یہ بات خود روایت کے اگلے الفاظ سے ثابت ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ سفر آدمی کو کھانے اور پینے اور سونے سے روک دیتا ہے (يمنع أحدكم طعامه وشرابه ونومه) النووی نے اس کی یہی تشریح کی ہے (صحیح مسلم بشر ح النووی) ۶۰/۱۳ ، تعب اور مشقت اسلام کے دوسرے اعمال میں بھی ہے مثلاً روزہ ، حج ، جہاد وغیرہ ۔ بتاتے ہیں کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار سفر فرمایا ۔ نبوت سے پہلے آپ نے تجارتی اسفار کیے ، نبوت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ مثلاً دعوتی سفر ، ہجرت کا سفر ، جہاد کا سفر ، حج اور عمرہ کا سفر ،
حقیقت یہ ہے کہ سفر بے حد اہم چیز ہے۔ اگر وہ صحیح ذہن کے ساتھ کیا جائے تو سفر عین عبادت بن جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت السائحون بتائی گئی ہے ۔ یعنی سفر کرنے والے
موجودہ دنیا میں ہر اچھے کام کے ساتھ مشقت جڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح سفر بھی ایک مشقت کا معاملہ ہے مگر کسی چیز کا پرمشقت ہونا کوئی برائی کی بات نہیں۔ یہ دراصل مشقت ہی ہے جو کسی عمل میں جان پیدا کرتی ہے۔ مشقت انسان کے دل دماغ کو جگاتی ہے۔ مشقت کے ذریعہ آدمی کے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ مشقت آدمی کو نئے نئے تجربات تک پہنچاتی ہے اور اس طرح اس کی تخلیقیت میں اضافہ کرتی ہے۔
مجھے اپنی زندگی میں کثرت سے اسفار پیش آئے ہیں ان اسفار کے ذریعہ میں نے بہت کچھ ان سفروں کے ذریعہ مجھے ”السائحون “ کی اہمیت سمجھ میں آئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کا پچاس فی صد حصہ اگر مطالعہ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے تو اس کا بقیہ پچاس فی صد سیاحت اور سفر کے
بی مطالعہ اگر معلومات کو بڑھاتا ہے تو سفر تجربات میں اضافہ کا ذریعہ ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ متفرق تاثرات و تجربات یہاں نقل کیے جاتے ہیں:
ایک صاحب نے کشمیر کے بارہ میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ الجمعیۃ کے زمانہ (۱۹۶۷) سے میں ایک ہی بات کہتا رہا ہوں ۔ وہ یہ کہ کشمیر کا مسئلہ ۱۹۴۷ میں طے ہو چکا۔ اس قسم کے معاملات تاریخی عوامل کے تحت طے ہوتے ہیں۔ اور تاریخی عوامل اس کو قطعی طور پر طے کر چکے ہیں۔ غوغائی سیاست یا گن کلچر کے ذریعہ اس فیصلہ کو بدلا نہیں جاسکتا۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ کشمیر کے لوگ تاریخ کے فیصلہ کو قبول کریں اور موجودہ سیاسی نظام کے تحت تعمیری میدانوں میں اپنا مستقبل بنائیں ۔
۱۹۸۹ میں جب مسلح کشمیری تحریک چلی ، اس کے بعد بھی بار بار میں یہ بات مختلف طریقہ سے کشمیریوں تک پہنچاتا رہا ہوں۔ میڈیا میں اس سلسلہ میں جو کچھ میں نے کہا وہ عام طور پر لوگوں کو اس کے علاوہ میری ذاتی ڈائری میں بعض نہایت عبرت انگیز اندراجات اس کی بابت موجود ہیں۔
ا مسلح جدوجہد شروع ہونے کے جلد ہی بعد ۱۳ دسمبر ۱۹۸۹ کو کشمیر کے ایک صاحب مجھ سے دہلی میں ملے ۔ یہ مسٹر منظور احمد عرف سیف اللہ محلہ خانیار،سری نگر) تھے ۔ اپنی تحریک کی کامیابی کے بارہ میں نہایت جوش کا مظاہرہ کیا۔ میری ڈائری میں مذکورہ تاریخ کے صفحہ میں ان کے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں : ”کشمیر پانچ سال میں آزاد ہو جائے گا“ کشمیری نوجوان کے ان الفاظ کے نیچے ڈائری میں میں نے اپنی رائے ان لفظوں میں لکھی تھی : ”میں نے کہا کہ یہ صرف نادانی کی بات ہے۔ اس طرح کشمیرکوآزاد کرناممکن نہیں ہے موجودہ حالت میں آزاد کشمیر کی تحریک صرف کشمیر کو برباد کرنے کی تحریک ہے “ ۲- دوسرا واقعہ، ۲۷ جنوری ۱۹۹۲ کا ہے۔ اس روز سری نگر کے ایک اسلام پسند غلام نبی ہاگروایڈوکیٹ مجھ سے دہلی میں ملے ۔ انھوں نے بھی کشمیری تحریک کے مستقبل کے بارہ میں نہایت پر جوش باتیں کیں۔ انھوں نے میری ڈائری میں مذکورہ تاریخ کے تحت اپنے قلم
سے حسب ذیل الفاظ لکھے: "ہندوستان سے علیحدگی کے بعد جو کشمیر بنے گا، ان شاء اللہ وہ کشمیر اسلامی کشمیر ہوگا "۔
ان کی اس تحریر کے نیچے ڈائری میں میری رائے ان الفاظ میں لکھی ہوئی ہے: "میرے نزدیک ہندوستان سے علیحدہ ہو کر (بالفرض) جو آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر بنے گا وہ ایک برباد کشمیر ہوگا۔ کشمیریوں کے لیے چوائس ہندوستانی کشمیر یا پاکستانی کشمیر میں نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی کشمیر یا برباد کشمیر میں ہے"۔
۱۹۸۹ میں جب کشمیر کے لوگوں نے اپنی مسلح تحریک شروع کی تو وہ سمجھتے تھے کہ وہ "انڈیا" کے خلاف اپنی تحریک شروع کر رہے ہیں۔ مگر حقیقتاً وہ تاریخ کے خلاف لڑنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، اور تاریخ کے خلاف لڑ کر کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ تحریک کے آغاز میں جو کشمیری امیدوں اور حوصلوں سے بھرے ہوئے نظر آتے تھے، آج وہ مایوسی اور پست ہمتی کا شکار ہو چکے ہیں۔ انھیں محسوس ہو رہا ہے کہ انھوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا، اور اس کے بدلے میں پایاکچھ بھی نہیں۔
اتنی بے معنی جنگ شروع ہی کیوں ہوئی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آج کل کی جنگ لڑنے والے شروع نہیں کرتے، بلکہ ہمیشہ لڑانے والے شروع کرتے ہیں۔ آج کل مسلمان جگہ جگہ جہاد کے نام پر جو خونیں ٹکراؤ کررہے ہیں اس میں رہ نمایانہ کردار کون ادا کر رہا ہے۔ یہ وہ دانشور ہیں جو دور اپنے دفتروں میں بیٹھ کر اشتعال انگیز مضامین لکھتے ہیں۔ وہ لیڈر ہیں جو دوسرے ملکوں میں بیٹھ کر تیز و تند بیانات دیتے رہتے ہیں، وغیرہ۔ یہ سب جدید کمیونی کیشن اور میڈیا کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ پہلے زمانہ میں لڑانے والے کو بھی لڑنے والوں کے ساتھ رہنا پڑتا تھا۔ اب نئے ذرائع کی بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ لڑانے والا دور سے صرف الفاظ لکھ کر اور بول کر جہاد کا کریڈٹ لیتا رہے ۔ جنگ اور ٹکراؤ کے نقصان سے وہ بھی محفوظ رہے اوراس کے بچے بھی۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ اکثر مسلم قائدین پر تنقید کرتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں کسی قائد پر کبھی ذاتی تنقید نہیں کرتا۔ میں صرف ان کی عملی پالیسی پر تنقید کرتا ہوں۔ موجودہ زمانہ کے قائدین نے تقریباً بلا استثناء ایسا کیا ہے کہ انھوں نے ملت کو ایسی راہوں
میں دوڑا دیا جس کا نتیجہ تباہی کے سواکچھ اورنکلنے والانہ تھا۔ یہی آج ساری دنیا میں ہورہا ہے۔ ہر جگہ نا اہل مسلم قائدین یہی کر رہے ہیں۔ وہ تباہی و بربادی کے نقیب بنے ہوئے ہیں، پھر کیوں نہ ان پر تنقید کی جائے ۔
میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ان شر الرّعاء الحطمة (صحیح مسلم، کتاب الامارة) حطم کے معنی ہیں چور چور کر دینا۔ حطمہ اسی کا اسم مبالغہ ہے۔ یعنی سب سے برا چرواہا (قائد) وہ ہے جو لوگوں کو چور چور کر دینے والا یا کچل دینے والا ہو۔
اس حدیث کا ایک مصداق وہ حاکم ہیں جو اپنے اقتدار کا غلط استعمال کر کے لوگوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ اس کا دوسرا مصداق وہ قائدین ہیں جو بھڑکانے والے نعرے اور جذباتی اقدامات کے ذریعہ مسلمانوں کو غیر ضروری طور پر طاقتور گروہوں سے لڑا رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں مسلمان یک طرفہ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے تمام قائدین پر فرض تھا کہ وہ چپ رہیں ، وہ قوم کو ٹکراؤ کے راستہ پر نہ لے جائیں۔ زمانہ کے مسلمان جو ہر جگہ مظالم کا شکار ہو رہے ہیں، اس کو عام طور پر ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ دشمنوں کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ انھیں نا اہل قائدین کے غلط اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ اس اعتبار سے یہ تمام قائدین ان شر الرّعاء الحطمة کا مصداق ثابت ہوئے ہیں ۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو سے گفتگو ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہمیں پچاس سال ملے مگر آزادی کے بعد ملک کی تعمیر کا جو کام ہونا تھا وہ نہ ہوسکا۔ آزاد ہندوستان ایک تباہ ہندوستان بنا ہوا ہے۔ آزادی کے بعد ہمیں ایک اور گاندھی کی ضرورت تھی جو ہمیں نہ مل سکا۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ۔ یہ دوسرا گاندھی بھی ہم کو ملا مگر وہ کچھ کر نہ سکا۔ ۱۹۴۷ کے بعد بھی مہاتما گاندھی ایک عرصہ تک زندہ رہے مگر وہ نئے ہندوستان میں بے اثر حتیٰ کہ خود انھوں نے کہا کہ اب میری کون سنے گا ۔ انگریز مخالف سیاست میں گاندھی کامیاب تھے مگر ہندوستان موافق سیاست میں گاندھی ناکام ہوگئے، منفی سیاست سب سے زیادہ آسان کام ہے، اور مثبت سیاست سب سے زیادہ مشکل کام ۔
ایک صاحب سے موجودہ زمانہ کی مسلم دنیا کے حالات پر گفتگو ہوئی ہے۔ آج کل ساری مسلم دنیا میں بے فائدہ ٹکراؤ اور بے معنی لڑائی عام ہے۔ ہر مسلمان اس کو جہاد کے نام پر لڑ رہا ہے۔ یہ سب تعلیم کی کمی کا نتیجہ ہے۔ تعلیم سے میری مراد صرف دینی تعلیم نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے لیے عصری تعلیم بھی انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ مسلمان اس حدیث کا مصداق بن سکیں : و من يكون بصيراً بزمانه ۔
ایک بار مسٹر رام جیٹھ ملانی کی رہائش گاہ (نئی دہلی) پر ایک میٹنگ تھی۔ اعلیٰ طبقہ کے کچھ ہندو شریک تھے ۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ ایک صاحب نے پیغمبر اسلام کے بارہ میں کہا کہ وہ امی تھے۔ رام جیٹھ ملانی نے فوراً جواب دیا : وہ امی تھے یا نہیں تھے، یہ الگ بات ہے۔ مگر میں تو یہ جانتا ہوں کہ انھوں نے ایک ایسی بات کہی جو اس وقت تک تاریخ میں کسی نے نہیں کہی تھی۔ انھوں نے کہا : عالم کے قلم کی روشنائی شہید کے خون سے زیادہ قیمتی ہے۔ ۱۲ اپریل کو آغا سید برہان الدین شاہ صاحب کے یہاں صبح کی چائے تھی۔ ان کے جدا مجد ۱۸۶۴ میں افغانستان سے ہندوستان آئے تھے۔ انھوں نے کوہ نور ہیرے کا قصہ بتایا۔ تاریخ اگرچہ اختلافی ہے ۔ تاہم عام طور پر مانا جاتا ہے کہ ایران کے نادر شاہ نے جب ۱۷۳۹ میں دہلی کو لوٹا تو وہ کوہ نور کو بھی اپنے ساتھ لے گیا ۔ اس کی موت کے بعد وہ اس کے فوجی سردار احمد شاہ درانی (افغانستان) کو ملا اور اس کے بعد شاہ شجاع کو۔ انھوں نے بتایا کہ شاہ شجاع کوہ نور کو ہمیشہ اپنی پگڑی کے اندر رکھتا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے یہاں شاہ شجاع اور دوسرے والیان ریاست کو مدعو کیا۔ سب لوگ آکر بیٹھ گئے تو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کہا : آج میں شاہ شجاع کا دستار بدل بھائی شاہ شجاع نے کہا کہ اسے کور چشم، میں جانتا ہوں کہ تو کیا چاہتا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی دستار سے ہیرا نکالا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کو دے دیا۔ ۱۸۴۹ میں جب پنجاب کو برٹش انڈیا میں ملا دیا گیا تو اس کے بعد رنجیت سنگھ کے لڑکے دلیپ سنگھ کوہ نور کو لے کر لندن گئے۔ وہاں انھوں نے اس کو ملکہ برطانیہ وکٹوریہ کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد سے وہ تاج برطانیہ کا حصہ ہے ۔
کیمیکل تجزیہ بتاتا ہے کہ ہیرا کوئلہ سے تیار ہوتا ہے۔ کروڑوں سال کے فطری عمل کے بعد سیاہ کوئلہ کا ایک ٹکڑا چمک دار ہیرا بن جاتا ہے۔
ہیرا خالص کاربن ہوتا ہے ۔ اس کا ترکیبی جزء وہی ہے جو کوئلہ کا ہے۔ مگر کوئلہ سیاہ ہوتاہے اورہیراانتہائی چمک دار ۔ نیز ہیرا تمام معلوم مادوں میں سب سے زیادہ سخت ہوتا قدیم زمانہ میں ہیرا صرف زینت کی چیز سمجھا جاتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں اپنی انتہائی سختی کی وجہ سے وہ مختلف صنعتی مقاصد میں استعمال ہوتا ہے۔
ہیرا اور کوئلہ کا یہ فرق علامتی طور پر حقیقی انسان اور غیر حقیقی انسان کے فرق کو بتاتا دونوں کی حیاتیاتی اصل اسی طرح ایک ہے جس طرح ہیرے اورکوئلے کی اصل ایک مگر حقیقی انسان خدا کی دنیا میں ہیرا انسان ہوتا ہے اور غیر حقیقی انسان صرف ایک کوئلہ دین کاکام ہویادنیاکاکام ،ہرایک کے لیے ہیرا انسان درکار ہوتے ہیں۔ انسان نہ دین کے کام کے ہیں اور نہ دنیا کے کام کے۔
ایک صاحب نے ایک مسلم دانشور کا مضمون دکھایا جو حیدر آباد کے ایک اخبار (۷ اپریل ۱۹۹۶) میں چھپا تھا۔ اس میں امریکہ کا تقابل ہندوستان سے کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ امریکہ کی اقلیت کو تعصب کا سامنا نہیں۔ جب کہ ہندوستان کی اقلیت کو تعصب کا سامنا پیش آ رہا ہے۔ نگار نے لکھا تھا :
" امریکہ میں جنرل کو ہین پاوٹیل کی ترقی کی داستان بتاتی ہے کہ امریکہ میں گزشتہ ۴۵برسوں میں سفید فام امریکیوں کا سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک بہت بڑی حد تک ختم ہوا لیکن اس ۴۵سال کی مدت میں ہندوستان نے تعصب ، فرقہ واریت اور تنگ نظری کی منزل کی سمت میں سفر کیا ہے "
میں نے کہا کہ یہ تقابل غلط ہے۔ امریکہ میں اگر اقلیت کے کچھ افراد نے ترقی کی ہے تو ہندوستان میں بھی اقلیت کے بہت سے افراد نے ترقی کی ہے۔ آزادی کے بعد یہاں بہت سے اقلیتی افراد صدر ، چیف جسٹس ، ایر مارشل ، گورنر ، چیف جسٹر اور دوسرے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ نہایت غلط رہنمائی ہے کہ ہندوستان کی مایوسانہ تصویر پیش کر کے مسلمانوں کو بے حوصلہ کیا جائے ۔
الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ میں برابر الرسالہ پڑھتا ہوں۔ مگر آپ کی ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ آپ ہمیشہ مسلمانوں کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں آخر صبر کب تک۔ میں نے کہا کہ میں بھی آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ قرآن و حدیث میں بار بار نماز پڑھنے کے لیے کہا جاتا ہے آخر یہ نماز کب تک۔ انھوں نے کہا کہ نماز تو ایک عبادت ہے اور اس کو آخردم تک ادا کرنا ہے۔ نے کہا کہ یہی میرا جواب صبر کے بارہ میں ہے۔ صبر بھی ایک عبادت ہے اور اس کو آخردم تک انجام اسی لیے قرآن میں صبر اور نماز کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ غدر کی غیر منصوبہ بند اور تیاری کے بغیر لڑائی ۱۸۵۷ء کے آغاز میں بیرک پور اور برہم پور (بنگال) سے شروع ہوئی۔ تاہم انگریزوں نے بہت جلد اس کو دبا دیا۔ اس کے بعد ۱۰ مئی ۱۸۵۷ء کو میرٹھ چھاؤنی کے ہندوستانی سپاہیوں نے بغاوت کر دی۔ وہ ہتھیار لے کر نکل پڑے۔ انگریز افسروں کو مارا۔ ان کے گھر جلا دیے، وغیرہ۔ تاہم انگریز جو زیادہ بہتر سازو سامان سے مسلح تھے، نیز وہ ٹیلی گراف کا نظام بھی قائم کر چکے تھے، انھوں نے دوسرے مقامات سے فوج بلا کر بغاوت کو کچل دیا، اور دہلی کی بہادر شاہ ثانی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا جن کے نام پر بغاوت کی گئی تھی۔ یہ بغاوت، برعکس طور پر، ہندوستان میں انگریزوں کے اقتدار کو زیادہ مستحکم کرنے کا ذریعہ بن گئی۔
اس کے بعد انگریزوں نے یہاں ۱۸۹۲ میں میرٹھ کالج قائم کیا۔ اس کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ لوگوں کا ذہن جنگ جوئی سے ہٹا کر تعلیم کی طرف موڑ دیا جائے ۔ تاہم انگریزوں کا مقصد جو بھی ہو، اس علاقہ کے لوگوں کے لیے یہ ایک قیمتی موقع تھا۔ مگر اس وقت یہاں کے لوگ، خاص طور پر مسلمان، انگریزوں کے خلاف نفرت کی نفسیات میں مبتلا تھے، چنانچہ وہ اس تعلیمی موقع کی طرف راغب نہ ہو سکے۔ مسلمان اگر نفرت کے احساسات سے آزاد ہوتے اور ۱۸۹۲ میں قائم ہونے والے اس تعلیمی ادارہ سے بھر پور فائدہ اٹھاتے تو یقینی طور پر آج اس علاقہ کی تاریخ دوسری ہوتی۔
زندگی کا ایک راز وہ ہے جو ایک قول میں اس طرح کہا گیا ہے کہ علم حاصل کرو خواہ وہ چین میں ہو ( ہو(اطلبواالعلم ولوکان بالصين) اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کے پاس بھی سارے
مواقع نہیں ہوتے ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے قیمتی مواقع دوسروں کے پاس، حتی کہ دشمنوں کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں عقل مندی یہ ہے کہ اپنے اور غیر یا دوست اور دشمن کی تقسیم سے اوپر اٹھ کر ہر اس موقع کو استعمال کیا جائے جو ممکن اور قابل حصول ہو۔ خود سنت رسولؐ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً ہجرت کے سفر میں آپؐ نے مکہ کے ایک مشرک (عبد اللہ بن اریقط) کو اپنا رہ نما بنایا۔ جنگ بدر کے مشرک قیدیوں کے ذریعہ مدینہ کے مسلم بچوں کو تعلیم دلوائی۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ حکمت کی بات مومن کا گم شدہ مال ہے، جہاں وہ اس کو پائے تو وہی اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے ((الكلمة الحكمة ضالة المومئن فاين وجدها فهو احق بها) الترمذي ،كتاب العلم جو لوگ اس حکمت حیات کو جانیں وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ اس حکمت سے بے خبر ہوں ان کے لیے خدا کی اس دنیا میں جو چیز مقدر ہے وہ صرف یہ کہ وہ انسانی قافلوں سے پچھڑجائیں۔ اوراس کے بعد اپنے پچھت بے پن کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے لیے لفظی احتجاج کا طوفان برپا کریں جس کو سننے کے لیے بھی وہاں ان کے سوا کوئی شخص موجود نہ ہو۔
میرٹھ کے بارہ میں آپ کوئی معلوماتی کتاب پڑھیں تو اس میں لکھا ہوگا کہ ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی بغاوت کا آغاز نمایاں طور پر میرٹھ سے ہوا :
The initial uprising of the 1857 Indian Mutiny occurred there. (VI/753)
یہ واقعہ جس کو ہندوستانیوں نے ریولٹ کا نام دیا اس کو انگریزوں نے میوٹنی کہا تھا۔ میوٹنی اور ریولٹ میں بہت فرق ہے۔ ریولٹ وہ ہے جس میں پوری قوم شامل ہوجائے۔ اس کے مقابلہ میں میوٹنی چھوٹے درجے کی باغیانہ شورش کو کہا جاتا ہے ، جیسے سمندری جہاز کا عملہ اپنے کیپٹن کا باغی ہوجائے ۔
۱۸۵۷ء کی شورش کو انگریزوں نے میوٹنی کہا تو کچھ ہندوستانی اس پر غصہ ہوئے ۔ نے کہا کہ ملک کی جنگ آزادی کو میوٹنی کہنا ایک سازش ہے تاکہ اس کی اہمیت کو گھٹایا جا سکے ۔
مگر یہی جنگ آزادی جب مہاتما گاندھی کی قیادت میں چلائی گئی تو انگریزاس کو میوٹنی نہ کہہ سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”سازش“ کی ایک حد ہے۔ جب معاملہ اس حد سے گزر جائے تو اس کے خلاف کوئی سازش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔
تقریبا چالیس سال پہلے میری ملاقات میرٹھ کے ایک مسلمان سے ہوئی تھی۔ وہ لمبے قد کے شاندار شخصیت کے آدمی تھے، مگر وہ دونوں آنکھوں سے اندھے ہو چکے تھے۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں وہ فوج کو انڈاسپلائی کرنے کا کام کرتے وہ دیہاتوں سے انڈے منگاتے تھے، روزانہ بہت سے انڈے ٹوٹے ہوئے نکلتے تھے، انھوں نے ان انڈوں کو پھینکنا پسند نہیں کیا۔ اس کے بجائے وہ خود انھیں کھانے لگے۔ صبح سے شام تک وہ تقریبا پچاس انڈے کھا جاتے تھے۔ ابتداء انھیں فائدہ محسوس ہوا۔ اس غیر فطری خوراک کا نتیجہ آخر کار یہ ہوا کہ وہ مکمل طور پر اندھے ہو گئے۔ انڈا عام حالت میں ایک صحت بخش غذا ہے۔ مگر اس کی زیادتی ہلاکت خیز ثابت ہوتی یہی معاملہ ہر چیز کا ہے۔ اسی لیے اسلام میں اعتدال اور توسط کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہر معاملہ میں صحیح طریقہ وہی ہے جو فطری طریقہ ہو، اور فطری طریقہ ہمیشہ اعتدال کا طریقہ
میرٹھ کے ایک صوفی شاعر وارث میرٹھی تھے ۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ نومبر، ۱۹۴۷ میں پاکستان چلے گئے ۔ ان کے صاحبزادے مظفر وارثی کا ایک انٹرویو قومی آواز (۲۸ اپریل ۱۹۹۶) میں چھپا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پروفیسر طاہر القادری نے جب نظام مصطفوی کا نعرہ لگایا تو میں اپنی کشتیاں جلا کر ان کے ساتھ شامل ہو گیا ۔ ان کے لیے میں نے اسٹیٹ بینک کی ملازمت بھی چھوڑ دی ۔ مگر ان کو قریب سے دیکھ کر میں بہت مایوس ہوا ۔ وہ کسی بھی معاملہ میں فیئر نہیں، سیاست میں بھی نہیں۔ پھر انھوں نے کہا کہ ”طاہر القادری سے اپنے ہزار اختلاف کے باوجود میں ضرور کہوں گا کہ اس جیسا مقرر پورے برصغیر میں نہیں“ یہی موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا اصل المیہ ہے۔ لاجواب مقرر دوسرے
لفظوں میں صرف لا جواب لفظ ہوتا ہے ، اور لفاظ قسم کے لوگ کبھی کوئی صحیح عملی رہ نمائی نہیں دے سکتے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے ہر جگہ یہی کیا ہے کہ انھوں نے ایسے افراد کو اپنا قائد بنایا جو لا جواب مقرر یا لا جواب شاعر یا لا جواب انشاء پرداز تھے۔ پچھلے سوسال میں ساری مسلم دنیا میں ایک بھی ایسی مثال نہیں کہ حکمت و تدبر والے کسی شخص نے مسلمانوں کے درمیان قیادت کا مقام حاصل کیا ہو۔ مقرر اور شاعر اور انشاء پرداز قسم کے لوگ تدبر یا گہری سوچ سے خالی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ یہی کر سکتے ہیں کہ جذباتی الفاظ بول کر قوم کو ایسے خیالی راستوں کی طرف دوڑا دیں جس کا کوئی انجام نکلنے والا نہ ہو، اور انھوں نے یہی کام انجام دیا۔ یکم مئی ۱۹۹۶ کو میرٹھ میں ایک واقعہ ہوا۔ روز نامہ عوام (دہلی) کے نمائندہ مسٹر کامران زبیری کی رپورٹ کے مطابق، اس کی تفصیل یہ ہے :
" تھانہ کوتوالی علاقہ میں آج دوپہر آپسی رنجش کے تحت ایک شخص نے اپنے ہی پڑوسی کو چاقوؤں سے گود کر جان سے مار ڈالا، جس سے علاقہ میں تناؤ کا ماحول بن گیا اور اس حادثه کو فرقہ وارانہ سمجھ کر بازار بند ہو گئے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق محلہ محل والا کے رہنے والے عقیل نے اپنے پڑوسی شیر افگن کو چاقوؤں سے گود دیا جس سے موقع پر ہی اس کی موت ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ چاقو لگنے کے بعدشیرافگن بھاگتاہواپڑیوں کے محلے میں پہنچا، وہاں اس نے دم غیر مسلم محلے میں مرنے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش میں یہ افواہ اڑا دی کہ ایک مسلمان کو ہندوؤں نے مار دیا، جس سے علاقہ میں زبردست کشیدگی پھیل گئی اور ذراسی دیر میں سبھی بازار بند ہو گئے۔ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ریپڈایکشن فورس کے جوان فورا ہی موقع پر نہ پہنچ جاتے اور عقیل کو گرفتار نہ کر لیتے تو یہاں فساد تک ہونے کا اندیشہ تھا کیوں کہ مارنے والا ہندو بتایا جا رہا تھا۔ اس حادثے کے بعد شاہین پروویز اور اظہار منظور نے علاقہ میں پہنچ کر لوگوں کی غلط فہمی کو دور کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ شیر افگن کی ایک بہن کی شادی ۷ مئی کو دہلی میں ہونی تھی اور گھر کے دوسرے سبھی افراد پہلے ہی دہلی روانہ ہو چکے تھے لیکن وہ یہاں سے ایک ٹیپ ریکارڈر ٹھیک کروانے کے لیے رک گیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ
ان لوگوں میں آپس میں رنجش کسی لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے معاملے کو لے کر تھی علاقہ میں زبردست کشیدگی کو دیکھتے ہوئے بھاری پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے اور پولیس وانتظامیہ کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ حالات قابو میں ہیں ۔
فسادات بیشتر حالات میں غلط فہمی کی بنا پر ہوتے ہیں۔ غلط فہمی اور افواہیں بڑھتے بڑھتے اس حد کو پہنچ جاتی ہیں جہاں معاملہ پولیس اور انتظامیہ کے قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ اور پھر وہ الم ناک صورت حال پیش آتی ہے جس کو فساد کہا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ کوئی واقعہ پیش آتے ہی فوراً مقامی ذمہ داران حرکت میں آجائیں تو واقعہ ایک حد پر رک جائے گا اور سرکاری انتظامیہ کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اس کو کنٹرول کر سکے ، جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں پیش آیا۔ کان پور کے جناب نیاز احمد صاحب (607437 .Tel) نے ۱۶ دسمبر، ۱۹۹۶ء کی ایک ملاقات میں کہا کہ میرا تجربہ یہ ہے کہ ہمارے لیے پولیس یاپی۔ سی کا کوئی مسئلہ نہیں جیسے ہم انسان ہیں ویسے ہی وہ بھی انسان ہیں ۔ اصل یہ ہے کہ ہمارے کچھ پرجوش نوجوان خود اپنی نادانی سے ان کو غیر ضروری طور پر اپنا دشمن بنا لیتے ہیں۔ مثلاً وہ دیواروں پر لکھ دیں گے کہ پی۔ سی مُرده باد ۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے نعروں کے بعد ان کے دل میں ہمارے لیے ہمدردی کا جذبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔
انھوں نے اپنا تجربہ بتایا کہ پچھلے عید کے موقع پر حسب معمول ان کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہمارے محلہ میں ایک جگہ تقریباً چھپی اے سی کے جوان ڈیوٹی پر تھے۔ میں نے یہ کہا کہ عید کے دن ایک ٹرے میں سویاں وغیرہ رکھ کر ان کے پاس گیا اور کہا کہ یہ ہماری طرف سے آپ لوگوں کے لیے عید کا تحفہ ہے۔ اس سے وہ لوگ اتنا زیادہ متاثر ہوئے کہ وہ منظر نظر آنے لگا جو قرآن کی اس آیت میں بیان ہوا ہے ـــــــــ پس تمہارے اور جس کے درمیان بظاہر عداوت ہے وہ ایسا ہو جائے گا جیسا کہ تمہارا کوئی قریبی دوست (حم السجدہ ۳۴)
اس کے بعد ان پولیس والوں کا یہ حال ہوا کہ جب وہ مجھ کو دیکھتے تو فوراً ادب کے ساتھ کھڑے ہو جاتے اور کہتے کہ چاچا جی، ہمارے لائق کوئی کام ہو تو بتائیے ہم آپ کی سیوا میں ہیں۔
میلہ نوچندی میگزین، میرٹھ، ۱۹۹۳ میں ایک نوجوان کی موت کا واقعہ پڑھا اس کا عنوان یہ تھا: آفریں طارق ارشد شہید، ناموس انسانیت۔ کئی صفحہ کے اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ :
" ۲۲ سال طارق ارشد نے میرٹھ کے فساد ۱۹۹۰ میں اپنی جان قربان کردی۔ طارق ارشد کا جرم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ فساد کے دوران اس نے اپنے پڑوسی غیرمسلموں کو اپنی جان پر کھیل کر ان کو موت سے بچایا تھا۔ اور جب ایک مسلم نوجوان جس کو غیرمسلم فسادیوں نے شہید کر دیا تھا اور اس کی لاش مسلم نوجوان اٹھاکر لے گئے تھے، طارق نے لاش حاصل کرنے کے لیے پولیس کو طاقت کے استعمال سے روک دیا، اور مسلمانوں سے لاش کو پولیس کے سپرد کرنے کو کہا۔ اس پر مشتعل ہوکر یہ کہتے ہوئے کہ اس نے تین کافروں کو بچایا ہے، طارق کے فرقہ کے لوگوں نے ہی اس کو چاقو مار کر شہید کر دیا۔ یہ ایک اہم واقعہ ہے۔ لیکن میگزین میں اس کو بالکل غیر واضح اور ادبی اسلوب میں بیان کیا گیا تھا جس کا اندازہ اوپر کے اقتباس سے ہو رہا ہے۔ ضرورت تھی کہ اتنے اہم واقعہ کو خالص واقعاتی اور تاریخی انداز میں بیان کیا جائے تاکہ اس کا بھرپور فائدہ حاصل ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان جب تک شاعروں اور ادیبوں کے سحر سے باہر نہیں آئیں گے، ان کی زبان جدید معیار کے مطابق ترقی نہیں کر سکتی۔
میگزین میں مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک تحریر نقل کی گئی تھی۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے موقع پر میری یہ قطعی رائے تھی جس پر کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبران کی اکثریت کو اتفاق تھا کہ اگر برطانیہ یہ مان لے کہ جنگ کے بعد ہندوستان کو آزادی دے دی جائے گی تو ہم لڑائی میں شریک ہو سکتے ہیں۔ گاندھی جی کو اس سے سخت اختلاف تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم ایسی آزادی لینا ہی نہیں چاہتے جو لڑائی کے سایہ میں ہم کو ملے۔ اس لیے وہ کسی طرح بھی لڑائی میں شرکت کے لیے تیار نہ تھے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کی تجاویز کا ڈرافٹ گاندھی جی ہی بنایا کرتے تھے۔ چنانچہ اس مرتبہ بھی اپنے اس ریزولیوشن کا ڈرافٹ بنوانے کے لیے میں اور پنڈت نہرو گاندھی جی کے پاس گئے۔ نے اپنے پورے اختلاف کے باوجود اس تجویز کا ڈرافٹ بنا دیا۔
اسی کا نام اختلاف کے با وجود احترام کرنا ہے۔ اور کوئی بڑا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جن میں ایک دوسرے کے بارہ میں یہ اعلیٰ اخلاقی صفت پائی جائے۔
میلہ نو چندی میگزین میں میرٹھ کی بہت سی شخصیتوں کا تعارف تھا۔ ان میں سے ایک عجیب قصہ یہ تھا کہ ہر دواری لال تیاگی یہاں کے ایک سیدھے سادے آدمی تھے ، تحریک آزادی میں انھوں نے موثر حصہ لیا تھا۔ آزادی کے بعد انھوں نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر لی تھی۔ ایک دن یہ کہہ کر کہ زیادتی عمر میں اب نہ زندہ رہنا ملک و قوم پر ایک بوجھ ہے ، کمر سے اینٹیں باندھ کر اپنے گھر کے کنویں میں گر گئے“۔ تاہم میگزین میں اس واقعہ کی کوئی تاریخ درج نہیں تھی۔
میرٹھ کے محمدیامین صاحب پرانے کانگریسی رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی میں ۱۹۴۹ میں جب اجودھیا کی بابری مسجد میں مورتیاں رکھ دی گئیں اور پھر عدالت کے حکم سے مسجد میں تالا لگا دیا گیا تو مولانا آزاد نے کچھ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”بابری مسجد کے مسئلہ کو عدالت کے ذریعہ طے کرایا جانا چاہیے، اس کو سڑکوں پر لانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا “ مولانا آزاد کا یہ مشورہ نہایت صحیح تھا۔ مگر اسی کے ساتھ مولانا آزاد کو جاننا چاہیے تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت نہایت جذباتی ہے۔ کوئی بھی غیر ذمہ دار لیڈر جذباتی تقریریں کر کے انھیں سڑکوں پر لاسکتا ہے۔ اس لیے ضرورت تھی کہ فکر و شعور میں اصلاح کی ایک مستقل مہم چلا کر مسلمانوں کو حقیقت پسند بنایا جائے تاکہ مفاد پرست افراد جھوٹے الفاظ بول کر انھیں گمراہ نہ کر سکیں۔ مگر مولانا آزاد یا ان کے ساتھیوں نے تعمیر شعور کی یہ مہم نہیں چلائی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مشورہ ہندوستانی مسلمانوں کی عملی پالیسی نہ بن سکا۔
مولانا آزاد کا مشورہ اصولی طور پر بالکل درست تھا۔ ۱۹۴۷ کے بعد اسی ملک میں بہت سی ناجائز قبضہ والی مسجدوں کو عدالت کے ذریعہ واگزار کرانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے پھر بابری مسجد کے معاملہ میں ناکامی کیوں ہوئی ، اس کا سبب دراصل اسی فطری طریقہ سے انحراف تھا۔ بابری مسجد کا مسئلہ بھی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ مگر اسی کے ساتھ کچھ سطحی لیڈر اس کو سڑکوں پر نکال لائے۔ ابتداً یہ مسئلہ ایک قصبہ کے کچھ ہندوؤں اور کچھ مسلمانوں کا مسئلہ تھا۔ مگر جب اس کو نعروں اور جلسوں کی دھوم مچا کر پورے ملک کا مسئلہ بنایا گیا تو وہ پورے ملک کی ہندو اکثریت اور
مسلم اقلیت کا مسئلہ بن گیا ۔ اس طرح اس مسئلہ کی نزاکت غیر متناسب طور پر بہت زیادہ بڑھ گئی ۔ نااہل مسلم لیڈروں کی یہی بدترین نادانی ہے جس نے وہ حالات پیدا کیے جب ۶ ۶؍دسمبر۱۹۹۲ء کو ایک ہجوم جمع ہوا، جو دھیا میں داخل ہو جائے اور وہ بابری مسجد کو توڑ ڈالے۔ اس علاقہ میں خورجہ کے پاس ایک گاؤں ہے ۔ اس کانام جاچاہ ہے یہاں ایک سید ظل حسنین رضوی تھے ۔ ان کا خاندان تقسیم کے بعد پاکستان چلا گیا ۔ پاکستان بننے سے چند دن پہلے ان کے چھوٹے بھائی جاچاہ سے دہلی گئے اور وہاں سے ایک گراموفون خرید لائے ۔ والدہ اس پر بہت خفا ہوئیں ، انھوں نے کہا کہ لوگ تو گھر بار چھوڑ کر پاکستان جا رہے ہیں اور تم گراموفون خرید لائے ہو۔ بھائی نے کہا کہ ہم لوگ جب پاکستان جائیں گے تو اس کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے ۔ والدہ نے بگڑ کر کہا کہ پاکستان تو پاک جگہ ہے۔ وہاں کیا گراموفون بجائے جائیں گے وہاں تو ہر طرف اللہ اللہ ہوا کرے گا ۔
ایک عام مسلمان کے ذہن میں اس وقت پاکستان کا یہی تصور تھا۔ کیوں کہ مسلم لیگ نے ہر طرف یہ شور برپا کر رکھا تھا : پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ پاکستان میں اللہ کے نغمے گم ہو گئے ۔ ہر طرف بس غیر اللہ کے ہنگامے جاری ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے ۔
لاہور کے پروفیسر محمد اسلم جنھوں نے اپنے پڑوسی سید ظل حسنین رضوی سے سن کر یہ قصہ لکھا وہ پاکستانی تحریک کے اس برعکس انجام کی توجیہہ اس طرح کرتے ہیں :
” ہوا یوں کہ قیام پاکستان کے موقع پر ایک اسپیشل ٹرین مرکزی حکومت کے مسلم افسروں کو لینے کے لیے دہلی بھیجی گئی ۔ جب وہ ٹرین وہاں پہنچی تو معلوم ہوا کہ مسلم افسر بذریعہ ہوائی جہاز کراچی روانہ ہو چکے ہیں۔ ٹرین کے منتظمین نے کراچی سے رابطہ قائم کیا تو وہاں سے جواب ملا کہ ٹرین اسے بخاری (م ۱۹۰۵) ڈائرکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کی یہ دلی خواہش ہے کہ وہ ٹرین خالی واپس لانے کے بجائے دہلی اور یوپی سے موسیقاروں، میراثیوں، طبلہ نوازوں، طوائفوں اور ربابیوں کو پاکستان لے آئے۔ چنانچہ بخاری صاحب کی خواہش پر اس ٹرین میں یہ فن کار پاکستان تشریف لے آئے ۔ اور پھر انھوں نے وہ ادھم مچایا کہ الامان والحفیظ ۔ سید ظل حسنین رضوی کی والدہ
پاکستان میں جو پاکیزہ آوازیں سنا چاہتی تھیں وہ طبلوں کی تھاپ اور گھنگھْروں کی جھنکار میں دب کر رہ گئیں (سفرنامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵، صفحہ ۵۱۵)
کیسی عجیب بات ہے کہ جس پاکستان کو مفکر اعظم علامہ اقبال نے سوچا اور اس کو ملت اسلامیہ ہند کے مسائل کا حل بتایا۔ اور جس کو قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی تمام مہارت استعمال کرکے بنوایا، وہ خود بانیٔ پاکستان کی زندگی ہی میں اتنا کمزور نکلا کہ چند غیر معروف فن کاروں نے اس کو بالکل تلپٹ کرکے رکھ دیا۔ یہ واقعہ زید اسے بخاری کی شخصیت کو داغدار نہیں کرتا بلکہ وہ خود مفکر اعظم کی فکر اور قائد اعظم کی قیادت کو مشتبہ قرار دے رہا ہے۔
عوام اور رہنما میں یہ فرق ہے کہ عوام آج کو دیکھتے ہیں اور رہنما کل کو دیکھتا ہے۔ صرف ان باتوں کو جانتے ہیں جن کے درمیان وہ بروقت گھیرے ہوئے ہیں۔ اور رہنما اپنی برتر صلاحیت کی بنا پر ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ وہ حالات سے اوپر اٹھ کر وسیع تر دنیا کو دیکھ سکے۔ عوام چیزوں کو صرف اپنی پیشانی کی نظروں سے دیکھ پاتے ہیں۔ ہے اس کی بصیرت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو عام لوگ دیکھ نہیں پاتے ان کو بھی وہ اپنی اندرونی نگاہ سے جان لیتا ہے۔
اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ رہنما کے عمل کو حال کے اعتبار سے نہیں بلکہ مستقبل کے اعتبار سے جانچا جاتا ہے۔ یہ دراصل بعد کو پیش آنے والے حالات ہیں جو بتاتے ہیں کہ رہنمائی درست تھی یا نہیں۔
سماجی یا قومی زندگی میں جب کوئی اقدام کیا جاتا ہے تو وہ اقدام اگرچہ حال میں کیا ہوا عمل ہوتا ہے مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ مستقبل میں نکلتا ہے۔ اس لیے کسی اقدام کی صحت کو جانچنے کا معیار مستقبل ہے نہ کہ حال۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں مگر آپ کو کسی کے اوپر تنقید نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ یہ بات آپ اپنی عقل سے کہہ رہے ہیں، مگر قرآن و حدیث میں اس کے لیے کوئی دلیل موجود اسلام کے دور اول میں تنقید عام تھی اور کوئی برا نہیں مانتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید کو برا ماننا قومی زوال کی علامت ہے، اور تنقید کو خوش دلی کے ساتھ سننا قومی عروج کی علامت۔
حدیث میں آیا ہے کہ : المومن مرآۃ المؤمن (سنن ابی داؤد ۲۸۱/۳) یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ ہے ۔ دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إنّ الدین النصیحۃ (۲۸۸) یعنی دین نصیحت ہے ۔
ایک آدمی کے اندر جب اسلام کی سچی اسپرٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کا خیر خواہ بن جاتا ہے ۔ اسی خیر خواہی کا نام نصیحت ہے۔ اس خیر خواہی کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے آئینہ کی مانند ہو جائے ، وہ دوسروں کو ان کی واقعی حیثیت سے آگاہ کرتا رہے۔
دوسروں کو فہمائش کرنااگردوسروں کوکمتردکھانے کے لیے ہو اور اس لیے ہو کہ دوسروں کے اوپر اپنی برتری ظاہر کی جائے تو یہ ایک گناہ کا فعل ہے اور اس پر خدا کی طرف سے سخت پکڑ کا اندیشہ ہے۔ اس کے بجائے اگرفہمائش کامقصد دوسرے کی خیر خواہی اور سچی اصلاح ہو تو یہ ایک عظیم ثواب کا کام ہے ۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو ڈاکٹر رفیق زکریا کی انگریزی کتاب ” بڑھتی ہوئی تفریق“ پڑھے ہوئے تھے۔ یہ کتاب ۱۹۹۵ میں پینگوین بکس انڈیا کی طرف سے چھپی ہے : The Widening Divide An insight into Hindu-Muslim relations انھوں نے کہا کہ مصنف نے اس کتاب میں آپ کی بابت یہ لکھا ہے کہ آر ایس ایس کے ساتھ آپ کا قریبی ربط (close association) ہے اور اس بنا پر آپ مسلمانوں کے درمیان ایک مشتبہ شخصیت بن گئے ہیں (صفحه ۲۷۵) انھوں نے کہا کہ میں آپ کا رسالہ پڑھتا ہوں مگر اس میں آپ نے اس تبصرہ کی بابت کچھ نہیں لکھا۔
میں نے کہا کہ یہ ایک نہایت سطحی تبصرہ ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کے معیار کو بتاتا ہے۔ آپ دیکھیے ۔ اس کتاب کو انھوں نے نام لیے بغیر مہاتما گاندھی (اور نہرو) کے نام ڈیڈیکیٹ کیا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انھوں نے ہندو مسلم یونٹی کے لیے بہت کام آپ جانتے ہیں کہ میں بھی اسی ہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کر رہا ہوں۔ مگر عین اسی کام
کے کرنے پر انھوں نے مجھ کو یہ انعام دیا کہ مجھ کو آر ایس ایس کے ساتھ بریکٹ کر دیا۔ یہ کیسا عجیب تضاد ہے کہ گاندھی اگر ہند و مسلم اتحاد کے لیے مسلمانوں سے ملیں تو وہ قابل تعریف ہیں ۔ اور میں اگر اسی اتحاد کی خاطر ہندوؤں کے مختلف طبقات سے ملوں تو مجھ کو ایک بدنام جماعت کے ساتھ وابستہ کر کے مجھے ایک مشتبہ شخصیت ظاہر کیا جائے۔ کہا کہ یہی آج تمام دانشوروں کا حال ہے۔ کیا ایسی پست دانشوری سے لوگوں کو کوئی صحیح اور مثبت رہ نمائی مل سکتی ہے ۔
ایک صاحب نے پوچھا کہ دعوت فرض عین ہے یا فرض کفایہ ۔ میں نے کہا کہ دعوت فرض عین ہے یا فرض کفایہ، یہ ایک قانونی اور منطقی سوال ہے۔ زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ دعوت سب سے بڑا ثواب کا کام ہے ۔ آدمی کی یہ فطرت ہے کہ جس چیز میں زیادہ نفع ہو ادھر وہ فوراً دوڑتا ہے ، اس کے بارہ میں قانونی بحثیں نہیں کرنا۔ پھر دعوت ہی کے معاملہ میں آپ کیوں اس قسم کے فنی اور قانونی سوالات اٹھارہے ہیں ۔
ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ حکومت و اقتدار اسلام میں مطلوب نہیں ہے بلکہ موعود ہے ۔ وہ عالم تھے ، اس لیے سمجھ گئے کہ میرا اشارہ قرآن کی آیت (النور ۵۵) کی طرف ہے۔ مگر جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے : وکان الانسان اکثر شیئ جدلا ، انھوں نے فوراً ہی اس کی تردید کے لیے ایک لفظ پالیا ۔ انھوں نے کہا : حکومت اگر مطلوب نہیں ہے تو متروک بھی تو نہیں ہے ۔
میں نے کہا کہ حکومت جب مطلوب شئے نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اسلامی تحریک کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اور جو چیز نشانہ تحریک نہ بن سکے وہ اس اعتبار سے متروک ہی قرار پائے گی ۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ دور میں بہت سے نئے فتنے اٹھے۔ مثلاً انکار حدیث کا فتنہ ، نئی نبوت کا فتنہ ، وغیرہ ۔ مگر میرے نزدیک دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ وہ ہے جس کو مکمل اسلام کہا جاتا ہے ۔ بقیہ تمام فتنے ننگے فتنے تھے ، اس لیے ان کو پہچاننا مگر وہ فتنہ جو مکمل اسلام قائم کرو کے نعرہ کے ساتھ اٹھا وہ ایک نقاب پوش فتنہ تھا۔
چنانچہ بہت سے علماء تک اس کے سحر میں مبتلا ہوگئے ۔
نام نہاد مکمل اسلام نے موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ دینی نقصان پہنچایا ہے ۔ میں سارا فوکس تقویٰ پر ہے۔ مگر اس نظریہ نے سارا فوکس سیاست کی طرف کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو اندر سے بالکل خالی تھے مگر بیرونی طور پر وہ سیاسی الفاظ کا جنگل بنے ہوئے تھے۔
مکمل اسلام کے اس نظریہ نے تمام مسلم ملکوں میں مسلمانوں کو حکمراں اور غیر حکمراں طبقہ میں بانٹ کر انھیں ایک دوسرے کے خلاف لڑا دیا۔ اس کے نتیجہ میں مسلم ملکوں کے بہترین مواقع برباد ہو کر رہ گئے۔
پھر اسلام کی یہ سیاسی تعبیر اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا عمل غیر مسلموں کو اسلام سے بھڑکانے کا سبب بن گیا۔ انھوں نے سمجھا کہ اسلام کوئی جنگ جو مذہب ہے جو ساری دنیا کے خلاف لڑائی کر کے انھیں محکوم بنانا چاہتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کی اشاعت کے نہایت قیمتی مواقع مگر سیاسی اسلام پسندوں کی تشدد دانہ کارروائیوں نے تمام مواقع کو تباہ کر کے
علمی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ لوگ وہی غلطی کر رہے ہیں جس کو تقابل کی غلطی کہا جاتا ہے۔ اس نظریہ کو ماننے والے اپنے مکمل اسلام کا تقابل جزئی اسلام سے کرتے ہیں۔ حالاں کہ اس معاملہ میں یہ تقابل نہیں ہے ، یہاں جو تقابل ہے وہ فروعی اسلام اور اساسی اسلام میں ہے۔ کے نام پر یہ لوگ دراصل فروعی اسلام کو لے رہے ہیں اور اساسی اسلام کو چھوڑ رہے ہیں۔ اور جب اساسی اسلام چھوٹ جائے تو صرف ایک ظاہری دھوم باقی رہے گی ، وہاں صحیح معنوں میں نہ اساسات باقی رہیں گے اور نہ فروع۔
ایران کی دار السلطنت تہران میں تنظیم اسلامی کا نفرنس (آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس) کاسہ روزہ اجلاس ۱۲ دسمبر ۱۹۹۷ کو مکمل ہوا۔ اس کانفرنس میں ۵۵ اسلامی ملکوں کے سرکاری نمائندے شریک ہوئے ۔ اس کانفرنس کے اعلامیہ (تہران ڈکلریشن) پر ایک صاحب سے گفتگو انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس ڈکلریشن میں اسلام کے نام پر ہونے
والے تشدد کی کھلی مذمت کی گئی ہے ۔
میں نے کہا کہ مگر مجھے اس پر کوئی خوشی نہیں۔ کیونکہ اصل مسئلہ تشدد کے خاتمہ کا ہے اور وہ اس اعلانیہ کے باوجود ختم ہونے والا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس اعلانیہ میں تشدد کی جو مذمت کی گئی ہے وہ مجہول انداز میں ہے، وہ متعین انداز میں نہیں۔ اور غیر متعین اور غیر مشخص مذمت کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں ۔
میں نے کہا کہ اسلام میں جنگ صرف منظم حکومت کے لیے جائز ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے غیر حکومتی سطح پر جہاد کے نام سے جو لڑائیاں جاری کر رکھی ہیں وہ صرف فساد ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر نے کہا کہ آپ مسلم لیڈروں پر تنقید کرتے ہیں مگر آپ ہندو لیڈروں پر تنقید نہیں کرتے ۔ اس کا راز کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا راز آپ کی بے خبری ہے۔ آپ نے شاید میری کچھ چیزیں پڑھی ہیں اور بہت سی دوسری چیزیں آپ نے نہیں پڑھیں اس لیے آپ کو یہ غلط فہمی ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھ کو کسی بھی شخص یا کسی بھی فرقہ سے کوئی عداوت نہیں۔ میں سب کے لیے یکساں طور پر خیر خواہی کا جذبہ ہے۔ میرا یہی خیر خواہی کا جذبہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ قوم یا انسانیت کے لیے جہاں کہیں کوئی قابل اصلاح بات دیکھوں ، دلائل کی روشنی میں اس کی
اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ عام ہند و لیڈر تو درکنار، میں نے اس ملک کی اس سب سے بڑی شخصیت پر تنقید کی ہے، جس کو فادر آف دی نیشن کا درجہ حاصل ہے۔ اور جس پر کھلی تنقید کرنے کی ہمت پچھلے پچاس سال سے نہ کسی ہندو کو ہوئی اور نہ کسی مسلمان کو ۔ یہ مہاتما گاندھی کی شخصیت ہے۔ میری اس بات کے ثبوت کے لیے آپ انگریزی روز نامہ پائیر کا شمارہ ۲۶ جنوری، ۱۹۹۴ دیکھ میری یہ تنقید اتنی خلاف توقع تھی کہ امریکہ کے مشہور اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنے شمارہ ۳۱جنوری ۱۹۹۷میں اس کا خلاصہ شائع کیا۔
اخبار پائیبر کے زیر انتظام نئی دہلی میں ایک خصوصی جلسہ ہوا۔ اس میں دہلی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک اس جلسہ میں گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ کیا گاندھی آج کے انڈیا میں کامیاب ہو سکتے تھے :
اس جلسے کے پانچ مقررین میں سے ایک میں تھا۔ بقیہ کے نام یہ ہیں: رام چندر گاندھی، راوندر کمار، سوبرت مکھرجی، کے آر ملکانی۔ اس ڈسکشن میں لوگوں نے جو کچھ کہا وہ پانیز کے مذکورہ شمارہ میں مکمل طور پر شائع ہو چکا ہے۔ آپ اس کو اس میں دیکھ سکتے ہیں۔ میں نے جو کچھ کہا وہ بھی اس میں مکمل طور پر چھپا ہوا موجود ہے ۔ میں نے اس موقع پر جو بات کہی تھی اسی کو اخبار نے اس رپورٹ کا عنوان بنایا ہے جو یہ ہے ــــ گاندھی نے ایک پرامن کو کی قیادت کی۔ ریولیوشن نہیں لائے :
میں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ تبدیلی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کو انگریزی میں کو کہا جاتا یعنی ایک حکمراں کو ہٹا کر دوسرے حکمراں کو اس کی جگہ بٹھا دینا، بغیر اس کے کہ عمومی زندگی میں کوئی انقلاب آیا ہو۔ دوسری تبدیلی وہ ہے جس کو ریولیوشن کہا جاتا ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس میں افراد کا کیریکٹر، سماجی اداروں کے حالات اور پورا سسٹم بدل کر کچھ سے کچھ ہو جائے ۔ اس تقسیم کے مطابق مہاتما گاندھی جو چیز لائے وہ ایک کو تھا نہ کہ ریولیوشن ۔
اپنی اس رائے کے حق میں تفصیلی دلائل دیتے ہوئے میں نے کئی باتیں کہیں۔ مثلاً میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے اپنی سوچ کے تحت برٹش راج کو تمام خرابیوں کی جڑ سمجھ لیا۔ ان کا خیال تھا کہ جب انگریزوں کا اقتدار ختم ہو گا اور حکومت ملکی لیڈروں کے ہاتھ میں آ جائے گی تو تمام معاملات اپنے آپ درست ہو جائیں گے۔ مگر یہ ایک معصومانہ سوچ ہے کسی ملک یا سماج کے حالات اس کے افراد کے اندر تعمیری شعور جگانے سے آتے ہیں نہ کہ محض حکومتی افراد کے بدلنے سے ۔ ایک ہندو پروفیسر میری باتیں سن کر کسی قدر غصہ ہو گئے۔ انھوں نے شدید لہجے میں کہا کہ آپ گاندھی پر تنقید کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں ۔ میرے دل میں گاندھی کی محبت ہے، مگر میرے دل میں اپنے ملک کی محبت اس سے بھی زیادہ ہے :
پھر میں نے کہا کہ یہ تنقید بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ آج بھی لوگ اسی ناکام سیاسی فارمولا کو بار بار دہرارہے ہیں۔ مثلاً جے پرکاش نارائن نے اسی ذہن کے تحت یہ سمجھ لیا کہ کانگریس راج ملک کی تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ کانگریس راج کو اگر ختم کر دیا جائے تو یہاں مکمل انقلاب (ٹوٹل ریوولیشن) اس نظریہ کے تحت انھوں نے زبردست سیاسی دھوم برپا کی، یہاں تک کہ ۱۹۷۷ء میں کانگریس پارٹی کا اقتدار ختم ہو کر جنتا پارٹی کا اقتدار قائم ہو گیا۔ مگر حقیقی حالات میں کچھ بھی اصلاح یا تبدیلی نہیں ہوئی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سارے معاملہ پر از سر نو غور کریں۔ تاکہ نیا ہندوستان بنانے کے لیے نتیجہ خیز عمل کیا جا سکے ۔
ISLAM AS IT IS By Maulana Wahiduddin Khan In Islam As It Is, Maulana Wahiduddin Khan presents the funda- mental teachings of Islam in a manner which will appeal directly to both general readers and students of Islam. Simple and straightforward in style, Islam As It Is gives the reader an accurate and comprehensive picture of Islam — the true relig- ion of submission to God. By Maulana Wahiduddin Khan The traditions – Sunnah – of the Prophet Muhammad, upon whom be peace, and the lives of his companions and those closely as- sociated with them, serve as a major source of religious enlighten- ment in theory and in practice. This book endeavours to present these ideas in the simplest and most direct way. In that it culls from authentic sources the sayings and deeds of the Prophet and those inspired by him, it brings to us a complete and, above all, human picture of true Islamic behaviour.