Al-Risala · January 1999

فطرت سے انحراف

Al-Risala, January 1999, pp. 11–12

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن (النساء ۱۱۹) میں بتایا گیا ہے کہ آدم کو سجدہ نہ کرنے پر جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو نکالا تو اس نے کہا کہ میں آدم کی ذریت کو گمراہ کروں گا۔ اس سلسلہ میں اس نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ۔ اور میں ان کو حکم دوں گا تو وہ خدا کی بناوٹ کو بدل دیں گے ( ولا مرنهم فليغيرن خلق الله) انسان کو گمراہ کرنے کے لئے شیطان کا جو طریقہ ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ انسان کی سوچ کو فطرت کے راستہ سے ہٹادے۔ لوگ فطرت کے اصولوں کو چھوڑ کر خود ساختہ اصولوں پر زندگی کی تشکیل کرنے لگیں۔ اسی کو یہاں تغییر خلق کہا گیا ہے۔

اس تغییر خلق کی بہت سی صورتیں تاریخ میں ملتی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں اس کی ایک مثال مغرب کا وہ نظریہ ہے جو عورت اور مرد کے تعلق کے بارے میں قائم کیا گیا فطرت کے مقررہ اصول کے مطابق ، عورت اور مرد کے درمیان صحیح ازدواجی تعلق یہ ہے کہ اس کو نکاح کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ مگر جدید مغربی تہذیب نے اس کو نکاح کے بجائے محبت (love) کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ یعنی عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی تعلق کے لئے صرف محبت کافی ہے، نکاح کی کوئی ضرورت نہیں۔

فطرت کے نقشہ میں یہ تبدیلی اتنی سنگین تھی کہ اس نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو فساد اور بگاڑ سے بھر دیا۔ عورت اور مرد کا رشتہ تقدس پر قائم نہ رہا بلکہ صرف مسرت (pleasure) پر قائم ہو گیا۔ انسانی تعلقات میں ساری اہمیت اس کے مادی پہلو کو حاصل ہو گئی۔ عورت اور مرد حیوانوں کی مانند زندگی گزارنے لگے۔ حرام و حلال کی حد

بندی کا خاتمہ ہو گیا۔ لطیف احساسات کی جگہ صرف لذت اندوزی، زندگی کا مرکز و محور بن

یہ تبدیلی اتنی دور رس تھی کہ اس کے نتیجہ میں اقدار کا نظام (value system) پوری طرح بدل گیا۔ انسانی اخلاق کسی اعلیٰ اصول کا پابند نہ رہا بلکہ صرف مادی تقاضوں کا پابند

مغربی تہذیب کی تمام غلطیوں میں شاید سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اس نے عورت اور مرد دونوں کو فطرت کے راستہ سے ہٹا دیا۔ فطرت کے مطابق، عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی تعلق کی واحد درست بنیاد نکاح ہے۔ لیکن مغربی تہذیب نے اس تعلق کو نکاح کے بجائے محبت (بالفاظ دیگر شہوت) کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ اس تبدیلی کا بھیانک نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی معاشرت کا یہ شعبہ فساد کا شکار ہو کر رہ گیا۔ محبت ایک جذباتی کیفیت ہے، جب کہ نکاح ایک ذمہ داری کا عنوان ہے۔ عورت کے درمیان خدا نے طرفین کے لئے ایک فطری کشش رکھی ہے۔ اس بنا پر جب ایک نوجوان مرد اور ایک نوجوان عورت آزادانہ طور پر باہم ملیں تو دونوں اپنے دل میں ایک دوسرے کے لئے کشش محسوس کرتے ہیں۔ اسی کشش کو مغربی تہذیب میں محبت کا نام دیا گیا ہے۔ حالانکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف شہوت ہوتی ہے۔ مغربی تہذیب میں شہوت کو محبت کا خوبصورت نام دے کر جنسی بے راہ روی کو جائز قرار دے دیا گیا۔ نکاح کا طریقہ طرفین پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ اس فطری جذبہ کو فطرت کی حد وہ محبت کو ذمہ داری کے تابع بنائیں نہ کہ ذمہ داری کو محبت کے تابع کر دیں۔ جس کا نتیجہ بد ترین سماجی فساد ہے۔

Printed page