مسجد کی اہمیت
Al-Risala, March 1999, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ : المساجد بیوت المتقین (مسجدیں متقیوں کا گھر ہیں) یعنی مسجد اہل تقویٰ کی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ مسجد وہ مقام ہے جس کے تحت متقیانہ زندگی کی سرگرمیاں عمل میں آتی ہیں۔
مسجد میں آس پاس کے مسلمان روزانہ پانچ بار اکٹھا ہوتے ہیں۔ اس طرح ہر دن ان کی آپس میں ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ یہ ملاقات یا ملنا جلنا انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ کے لئے کلب قائم کئے جاتے ہیں۔ مگر دونوں میں یہ فرق ہے کہ کلب میں لوگ دنیوی تفریح کی نسبت سے اکٹھا ہوتے ہیں۔ اس کے بر عکس مسجد میں لوگ دین کی نسبت سے اکٹھا ہوتے ہیں۔ کلب اور اس طرح کے دوسرے مقامات اگر دنیوی مقاصد کے لئے اجتماع کی جگہ ہیں تو مسجد اخروی مقصد کے لئے اکٹھا ہونے کا مقام ہے۔
مسجد کے عمل کا آغاز اذان سے ہو تا ہے جو ایک خدا کی بڑائی کا اعلان ہے۔ آنے والے سب سے پہلے وضو کرتے ہیں۔ یہ گویا اخلاقی پاکیزگی کا سبق ہے۔ پھر وہ مقررہ عبادت کی صورت میں خدا کو یاد کرتے ہیں ، وہ خدا کے کلام کو پڑھ کر اس کے تقاضوں کو اپنے ذہن میں تازہ کرتے ہیں۔ وہ رکوع اور سجدہ کی صورت میں یہ عزم کرتے ہیں کہ وہ سرکشی کو چھوڑیں گے اور متواضع زندگی گزاریں گے۔ جماعت کی صورت میں نماز ادا کر کے وہ اتحاد و اتفاق کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح مسجد میں روزانہ پانچ وقت کا عبادتی اجتماع ہو تا ہے۔ یہ گویا پابند اوقات زندگی گزارنے کی ایک تربیت ہے۔ یہ مسلمانوں کو ڈسپلن والی زندگی گزارنے کا پیغام ہے۔ مسجد سے اس طرح کے بہت سے فائدے وابستہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسجد کا نظام اگر درست طور پر قائم رہے تو وہ اہل اسلام کے لئے ہر قسم کے فائدوں کا ذریعہ بن جائے۔ وہ ان کی دنیا اور آخرت دونوں کو درست کر دے۔