پانچ اصول
Al-Risala, March 1999, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
اصول فقہ کی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ بیشتر قاعدے پانچ بنیادی اصولوں پر مبنی ان پانچ اصولوں سے سیکڑوں ضابطے نکلتے ہیں جو بیشتر امور کو اپنے دائرہ میں لے لیتے ہیں۔ سنہری اصول (القواعد الخمس الذهبية) یہ ہیں الامور بمقاصد ها معاملات کا انحصار نیت اور قصد پر ہے ۲ اليقين لا يزال بالشك يقين کبھی شک سے زائل نہیں ہوتا ۳. الضرر يزال نقصان کو دور کیا جائے گا ٤ . المشقة تجلب التيسير مشقت آسانی لے آتی ہے ۵. العادة محكمة عرف اور رواج قابلِ لحاظ ہیں آدمی جب بھی کوئی کام کرے یا کوئی قدم اٹھائے تو سب سے پہلے اس کی نیت دیکھی اگر اس کی نیت درست ہے تو اس کا اقدام بھی درست ہے اور اگر نیت درست نہیں تو اس کا اقدام بھی درست نہیں۔
ایک شخص کے عام حالات اگر اس یقین کی طرف لے جارہے ہوں کہ وہ صحیح آدمی ہے تو محض ایک بے بنیاد شک کی بنا پر اس کو غلط نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اگر ایک شخص تکلیف میں مبتلا ہے یا کوئی نقصان کی صورت پیدا ہوگئی ہے تو بہر حال میں اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ خواہ وہ کسی کا بھی بعض فیصلے بظاہر کسی شخص یا گروہ کو مشقت میں ڈالنے والے ہوتے ہیں، لیکن اگر فیصلہ صحیح ہے تو باعتبارِ انجام اس سے آسانی ظاہر ہوگی۔
جو چیزیں لوگوں کے درمیان پسندیدہ رواج کی حیثیت حاصل کر لیں، ان کی حیثیت بھی قانون کی ہے۔ امکانی حد تک ان پر عمل کیا جائے گا۔