Al-Risala · March 1999

غیر ذمہ دار صحافت

Al-Risala, March 1999, pp. 12–15

By Maulana Wahiduddin Khan

بعض اردو اخبارات میں مراسلات کے کالم میں اکثر میرے خلاف ایسے خطوط اور مضامین چھپتے رہے ہیں جو سراسر الغو اور بے بنیاد ہوتے ہیں۔ میں ان کے بارے میں عام طور پر خاموشی کا رویہ اختیار کرتا ہوں اور مراسلہ نگاروں کے حق میں دعائے خیر کرتا ہوں۔ پہلے ایک بار اخبار قومی آواز میں میرے خلاف ایک بے بنیاد بات چھپی اس کی تردید میں میں نے ایک مراسلہ بھیجا جو قومی آواز (۵ مارچ ۱۹۹۵) میں چھپا۔ اس کو دیکھ کر تبلیغی جماعت کے معروف بزرگ مولانا اظہار الحسن صاحب مرحوم نے مجھے ایک خط لکھا۔ اس میں مجھے خاموشی کے اصول پر برقرار رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے انھوں نے یہ شعر درج کیا تھا:

اشار تاً بھی نہ قصے بیاں کئے ہوتے سے تھے ہونٹ تو آنسو بھی پی لئے ہوتے اس کے بعد میں نے اعراض کے قرآنی اصول پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ مگر حال میں میرے خلاف جو جھوٹا اور شر انگیز پروپیگنڈا کیا گیا ہے اس کی بنا پر میرے بعض دوستوں کا اصرار ہوا کہ میں اس کی کچھ وضاحت کروں۔

قومی آواز مورخہ ۹ جنوری ۱۹۹۹ میں ایک مراسلہ شائع ہوا ہے اس میں میرے خلاف جو باتیں کہی گئی ہیں وہ سب بلاشبہ بے بنیاد اور شر انگیز ہیں۔

اس خط میں جو بے اصل باتیں کہی گئی ہیں ان کا ماخذ ہندی اخبار پانچ جنیہ کا ایک شمارہ ہے۔ پانچ جنبہ اپنی متعصبانہ پالیسی کے لئے مشہور ہے۔ اس کے صفحات میں اکثر مسلمانوں اور مسلم شخصیتوں کے خلاف کچھ نہ کچھ چھپتا رہتا ہے۔ یہ مراسلہ نگار اور مضمون نگار حضرات جب پانچ جنبہ کی ان رپورٹوں کو دیکھتے ہیں تو وہ فوراً ان کو یہ کہہ کر انھیں رد کر دیتے ہیں کہ یہ سب غلط پروپیگنڈا مگر انھیں لوگوں کو جب اسی اخبار میں میرے خلاف ایک جھوٹا شوشہ ملا تو اس کو عین

درست سمجھ کر وہ اس کو ہندوستان کے اندر اور ہندوستان کے باہر تیزی سے اس طرح پھیلانے لگے جیسے کہ وہ کوئی آسمانی صداقت ہو۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ حضرات اپنی اس متضاد روش کا کیا جواز پیش کریں گے۔

اخباری رپورٹوں کے بارے میں عام طور پر یہ بات معلوم و معروف ہے کہ ان میں کبھی قصد اور کبھی بلا قصد باتیں کچھ سے کچھ ہو جاتی ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی اخبار میں کوئی رپورٹنگ بالکل صحیح اور درست ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ افراد کبھی اخبار کی بنیاد پر کوئی رائے قائم مگر ان اخباری مراسلہ نگاروں کی غیر ذمہ داری کا یہ حال ہے کہ وہ ایسی رپورٹوں کے بارے میں نہ اپنے کا من سنس کو استعمال کرتے اور نہ معاملہ کی وہ ضروری تحقیق کرتے جس کا قرآن میں صراحۃ حکم دیا گیا ہے۔ (الحجرات : ۶)

مثال کے طور پر قومی آواز کے مذکورہ مراسلہ میں میری بابت بتایا گیا ہے کہ میں نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ قرآن میں سنسکرت کے الفاظ بڑی تعداد میں ہیں۔ یہ ایک جاہلانہ بات ہے کوئی بھی عالم ایسی بات کہہ کر اپنی تضحیک کا سامان نہیں کر سکتا۔ میں نے جو کچھ کہا وہ صرف یہ تھا کہ اسلام کسی زبان سے تعصب نہیں سکھاتا۔ قرآن اگر چہ عربی زبان میں ہے مگر علماء نے لکھا ہے کہ اس میں کئی غیر عربی الفاظ بھی استعمال کئے گئے ہیں۔ میں نے ایسا ہر گز نہیں کہا کہ قرآن میں سنسکرت کے الفاظ موجود ہیں۔ یہ بلا شبہ ایک جاہلانہ بات ہے جو کبھی میں نہیں کہہ سکتا۔ تحریریں گواہ ہیں کہ میں ہمیشہ علم کی زبان میں کلام کرتا ہوں، جہالت کی زبان میں بولنا مجھے نہیں آتا۔ مذکورہ مراسلہ نگار نے اپنے مراسلہ میں مجھ کو ”بڑا عالم" لکھا ہے۔ ان کا یہ اعتراف ہی کافی تھا کہ وہ مذکورہ قسم کی باتوں کو لغو پروپیگنڈا کہہ کر اسے رد کر دیں۔ اس لئے کہ کوئی بھی شخص جو قرآن و حدیث کا عالم ہو اس کا علم خود ایسے کسی فعل کے لئے ایک روک بن جائے گا۔ محسوس کرے گا کہ ایک ایسی بات کہنا جو مسلمہ طور پر غیر علمی یا غیر اسلامی ہو، خود اپنی ہی زبان

سے اپنی تردید کرنا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی حیثیت عرفی کو برباد کرنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ کے طور پر مراسلہ نگار نے لکھا ہے کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”رسول اللہ چار زبانوں کے عالم تھے جن میں سے ایک سنسکرت زبان ہے“ یہ بات بلاشبہ غیر علمی اور غیر تاریخی ہے۔ اخبار کی خود ساختہ رپورٹ ہے۔ کوئی بھی عالم اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ اس قسم کی بلا ثبوت بات خدا کے فضل سے میں نے ایسا کبھی نہیں کہا۔ میں نے جو بات کہی تھی وہ یہ تھی کہ رسول اللہ کے کاتب زید ابن ثابت انصاری (نہ کہ خود رسول اللہ) چار زبانیں جانتے تھے۔ ان چار زبانوں میں میں نے ہرگز سنسکرت کو شامل نہیں کیا تھا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ چار زبانیں عربی، فارسی، عبرانی اور سریانی تھیں نہ کہ سنسکرت۔

یہ چند مثالیں یہ اندازہ کرنے کے لئے کافی ہیں کہ حال میں میرے خلاف جو بہتان طرازیاں کی گئی ہیں وہ سراسر بے اصل ہیں۔ اس قسم کی بہتان طرازی کا جواب یہ نہیں ہے کہ ان کا براہ راست جواب دیا جائے ۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر وہ شعور جگایا جائے جس کے بعد وہ خود ایسی باتوں کا تجزیہ کر کے فوراً اسے رد کر دیں۔

مثال کے طور پر ایک شخص اگر کہے کہ مولانامولانا امین اصلاحی نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کو (نعوذ باللہ) مورتی پوجا کرنا چاہئے تو سننے والے کے اندر یہ شعور ہونا چاہئے کہ وہ اس کو سن کر خود اپنے کا من سنس سے اس کو لغو قرار دے دے۔ وہ کہہ دے کہ مولانا امین اصلاحی نے حقیقت توحید اور حقیقت شرک کے نام سے خدا پرستی کی حمایت اور بت پرستی کی مخالفت میں زبردست کتابیں لکھی ہیں، اس لئے وہ ایسا کبھی نہیں کہہ سکتے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص کہے کہ ”مولانا سید سلیمان ندوی نے یہ لکھا ہے کہ جس طرح کلیلہ ودمنہ پہلے سنسکرت میں لکھی گئی تھی مگر اب اس کا سنسکرت نسخہ معدوم ہے۔ سے کیا ہوا ابن مقفع کا عربی ترجمہ کلیلہ ودمنہ کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن بھی

پہلے سنسکرت میں اترا تھا اور پھر اس کا عربی ترجمہ موجودہ قرآن کی صورت میں کیا گیا۔ شخص اگر اس قسم کی لغوبات کہے تو سننے والے کے اندر اتنی عقل ہونی چاہئے کہ وہ اس کو سنتے ہی اس کو رد کر دے۔ وہ کہے کہ مولانا سید سلیمان ندوی جیسا عالم ایسا کبھی نہیں لکھ سکتا کیوں کہ یہ سراسر ایک جاہلانہ بات ہے اور کوئی عالم اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ ایسی جاہلانہ بات کہہ کر اہل علم کی نظر میں اپنے آپ کو مضحکہ خیز بنا لے۔

آخر میں میں اس سلسلہ میں دو باتیں کہوں گا۔ ایک یہ کہ میرے بارے میں کوئی رائے خود میرے ماہنامہ الرسالہ یا میری کتابوں کے ذریعہ قائم کرنا چاہئے۔ دوسرے اخباروں کی بنیاد پر رائے قائم کرنا ہر گز درست نہیں۔ ان اخباروں میں ہر ایک کے بارے میں بے اصل باتیں چھپتی رہتی ہیں۔ شخص کے خیالات کا صحیح ماخذ اس کی اپنی تحریریں ہیں نہ کہ دوسروں کی شائع کردہ اخباری رپورٹیں ۔ دوسری بات یہ کہ میں تقریباً چالیس سال سے اسلام کی خدمت کر رہا ہوں۔ اس دوران مضامین اور کتابوں کی صورت میں میرے لاکھوں صفحات چھپ چکے ہیں۔ ان تحریروں میں ہمیشہ اسلام کی صداقت، خدا کی برتری، قرآن کی عظمت اور پیغمبر اسلام کے کارنامے بیان کئے جاتے ہیں۔ میری بیشتر کتابوں کا موضوع توحید کا اثبات اور شرک و الحاد کی تردید ہوتا ہے۔ حتی کہ معروف طو ر پر یہی میرا خاص موضوع ہے۔ میری کتابیں اس کی گواہی دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر مذہب اور جدید چیلنج، اللہ اکبر، عظمت اسلام، دین حق وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ میری چالیس سالہ اسلامی خدمات نے میری حیثیت عرفی یہی بنا دی ہے کہ میں اسلام کی صداقت کو ثابت کرنا اور غیر اسلام کو دلائل کے ذریعہ رد کرنا اپنا مشن بنائے ہوئے ہوں ۔ میری تمام تحریروں اور تقریروں کا مرکزی موضوع یہی ہے۔ ایسی حالت میں اگر کسی بد نام اخبار میں میرے بارے میں کوئی ایسی بات چھپے جو میری حیثیت عرفی کے خلاف ہو تو عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا ہے کہ اس کو پڑھنے والے فوراً ہی یہ کہہ کر اس کو رد کر دیں کہ : سبحنک هذا بهتان عظيم (النور ١٦)

Printed page