بھوپال کا سفر
Al-Risala, March 1999, pp. 16–44
By Maulana Wahiduddin Khan
مہاتما گاندھی ۱۲۵ واں جنم درش سماروہ سمیتی مدھیہ پردیش کے تحت بھوپال میں آل انڈیا سیمینار ہوا۔ اس کے پروگرام یکم اکتوبر ۱۹۹۸ سے شروع ہو کر ایک ہفتہ تک جاری رہے۔ کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میں شرکت کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کے لئے مجھے حسب ذیل دو عنوان دیئے گئے تھے۔
ملٹی کلچر اور یونی کلچر امن کی طاقت اور جنگ کی طاقت اس سفر میں مذکورہ دونوں موضوع پر خطاب کے علاوہ بھوپال کے بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مقامی مسلمانوں کے کئی اجتماع میں اظہار خیال کا موقع ملا اور دوسرے مختلف تجربات پیش آئے۔ اس کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
۳۰ ستمبر ۱۹۹۸ کو مجھے دہلی سے روانہ ہو کر بھوپال پہنچنا تھا۔ آج رات کو ایک عجیب میں نے دیکھا کہ میں کسی مسلم ملک میں ہوں۔ وہاں حکومت سازی کے لئے الیکشن کرائے گئے ہیں۔ اس الیکشن میں ایک مسلم جماعت کامیاب ہوئی ہے۔ اس کے بعد اس مسلم جماعت کے لیڈر ایک جگہ اکٹھا ہوئے۔ یہ غالباً کسی مسجد کا صحن تھا۔ یہاں ان لوگوں نے اس مسئلہ پر بات چیت شروع کی کہ حکومت کس طرح بنائی جائے گی، اس کی پالیسی کیا ہوگی، وزارتی عہدوں کی تقسیم کس طرح کی جائے گی۔ اس بات چیت کے دوران لوگوں میں اختلاف ہوا۔ کے بعد وہ لوگ آپس میں لڑنے لگے۔ یہاں تک کہ باقاعدہ ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔ یہ لیڈر جو تقریباً ۲۰ کی تعداد میں تھے، انھوں نے ایک دوسرے کو مار کر فرش پر گرا دیا۔ میں نے دروازے سے جھانک کر دیکھا تو ان کے جسم نیم مردہ حالت میں فرش پر پڑے ہوئے تھے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے سیاسی لیڈر جس طرح آپس میں لڑ رہے ہیں یہ خواب
غالباً اسی کی ایک تعبیر ہے۔
۳۰ ستمبر ۱۹۹۸ کی شام کو فلائٹ نمبر ۳۴۳ کے ذریعہ دہلی سے بھوپال کے لئے روانگی گھر سے ائیرپورٹ تک کا سفر معمول کے مطابق ہوا۔ سڑک پر کاروں کی کثرت تھی۔ مغرب کے ترقی یافتہ شہروں میں بھی کاروں کی کثرت ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ وہاں معیاری سڑک بھی موجود ہوتی ہے جس پر یہ کاریں دوڑ سکیں۔ ہر طرف صفائی ہوتی ہے۔ فضا بڑی حد تک کثافت سے پاک ہوتی ہے۔ سڑکوں پر ہر آدمی اپنی لین میں گاڑی چلاتਾ ہے۔ ہمارے یہاں کار تو آگئی مگر صحیح معنوں میں ہمارے یہاں اس کے مطابق سڑک کا نظام matching road infrastructure موجود نہیں۔
یہی دہلی کا قدیم ائیرپورٹ ہے جس کو پہلے پالَم ائیرپورٹ کہا جاتا تھا۔ چند سال پہلے آگ لگنے سے یہ ائیرپورٹ جل گیا۔ اس کے بعد یہاں از سر نو نیا ائیرپورٹ بنایا گیا ہے۔ نیا ائیرپورٹ پہلے ائیرپورٹ کے مقابلہ میں بہت زیادہ بڑا ہے۔ وہ قدیم طرز کا تھا یہ بالکل جدید طرز کا ہے۔ میں امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ ہر تباہی کے بعد یہاں نیا شاندار ترامکان ابھر آتا ہے۔ ۳۰ ستمبر کے اخبار میں دوسری خبروں کے ساتھ ایک خبر یہ تھی کہ روس کی حکومت نے کھلے طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی مخالفت کے باوجود انڈیا کے لئے اس کی فوجی سپلائی (military supplies) جاری رہیں گی۔ یہ خبر اس طرح تھی جیسے کہ روس کی حکومت انڈیا کی بہت ہمدرد ہے اور وہ کسی کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر اس کی فوجی امداد کر رہی ہے۔ مکمل طور پر ایک تجارتی معاملہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ روس کو اپنی تباہ شدہ اقتصادیات کو سنبھالنے کے لئے ڈالر کی شدید ترین ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں ہندوستان اس کا زبردست معاون ہے کیوں کہ ہندوستان روس سے اس کے غیر معیاری ہتھیاروں کو خریدنے کے لئے ہر سال روس کو دو بلین ڈالر دے رہا ہے۔ ہندوستان میں کام کرنے والے روس کے فوجی ماہرین کی بڑی بڑی
تنخواہیں اس کے علاوہ ہیں۔
انڈین ائرلائنز کے کرایہ میں یکم اکتوبر ۱۹۹۸ء سے ۱۱ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ سے بھوپال آتے ہوئے سابقہ کرایہ پر یہاں آیا مگر ۳ اکتوبر کو جب میں بھوپال سے دہلی کے لئے واپس ہوا تو میرے میزبانوں کو مزید رقم ادا کر کے اس کو دوبارہ کنفرم کرانا پڑا۔ اس قسم کا اضافہ انڈین ائرلائنز میں برابر ہوتا رہتا ہے۔ پہلی بار جب میں انڈین ائرلائنز کے ذریعہ بھوپال آیا تو اس وقت اس کا کرایہ تقریبا دو ہزار روپیہ تھا۔ اب یہ کرایہ تقریبا سات ہزار روپیہ تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت جب بھی انڈین ائرلائنز کے کرایہ میں اضافہ کرتی ہے تو اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ ائرلائنز کو گھاٹا ہو رہا ہے۔ یہ بیان غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ انڈین ائرلائنز اور ائر انڈیا دونوں گھاٹے کا شکار ہو رہی ہیں مگر اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ ہندوستان کی یہ ہوائی کمپنیاں خالص تجارتی اصول پر چلائی جارہی ہیں پھر بھی یہ خسارہ کیوں ہے۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ انڈین ائرلائنز اور ائر انڈیا میں ہر سطح پر لوٹ جاری ہے۔ اس لوٹ نے ان سرکاری اداروں کو خسارہ میں مبتلا کر رکھا ہے۔
۳۰ ستمبر کے اخبار میں ایک خبر یہ تھی کہ حکومت ہند نے ایک جائزے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ تیرہ سو قوانین کو ختم کر دیا جائے۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں ویلفیئر اسٹیٹ قائم کرنے کے نام پر بے شمار قوانین بنائے گئے۔ ان کی تعداد تیرہ سو نہیں بلکہ تیرہ ہزار سے بھی زیادہ یہ قوانین ملک کی ترقی میں صرف رکاوٹ ثابت ہوئے۔ ان قوانین نے سرکاری کارکنوں کے اختیار میں غیر معمولی اضافہ کر دیا جس کا لازمی نتیجہ کرپشن میں اضافہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تیرہ سو قوانین کا خاتمہ قانون کے مصنوعی جھاڑ جھونکار کے صرف ایک چھوٹے سے جز کا اگر ملک کو ترقی کی طرف لے جانا ہے تو ان سارے ہی قوانین کو ختم کرنا ہوگا جو ویلفیئر سوسائٹی کے نام پر بنائے گئے ہیں۔ زندگی کا ایک ہی صحیح قانون ہے اور وہ نیچر ہے۔ نیچر کے صحیح نظام میں صرف بیجا مداخلت ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام مصنوعی
قوانین کو ختم کر دیا جائے تاکہ انسانیت کا قافلہ فطرت کی شاہراہ پر چلنے لگے۔ ۳۰ ستمبر کی شام کو جب جہاز مجھ کو لے کر بھوپাল کی طرف اڑا تو اچانک یہ سوچ کر میرے جسم میں تھر تھری پیدا ہو گئی کہ اسی طرح ایک روز موت کا فرشتہ آئے گا اور مجھ کو ایک دنیا سے اٹھا کر ایک اور سواری میں رکھے گا اور دنیا سے آخرت کی طرف روانہ ہو جائے گا۔ موجودہ سفر ایک گھنٹہ پانچ منٹ کا ہے۔ دوسرا سفر شاید ایک منٹ پانچ سیکنڈ کا ہو۔ یہ ایک منٹ اور پانچ سیکنڈ اتنے زیادہ قیامت خیز ہوں گے کہ شاید کائنات کی پوری تاریخ اس میں سمٹ جائے۔ مختصر لمحہ شاید میری زندگی کا طویل ترین لمحہ ہو گا۔ مگر مجھے یا کسی کو نہ اس کے آغاز کا علم ہے اور نہ اس کے انجام کا علم۔ دہلی سے بھوپাল تک کی پرواز ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی تھی۔ یہ جہاز بھوپাল ہوتے ہوئے اندر در جاتا ہے۔ جہاز کے اندر لوگ بے فکری کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے نظر کچھ لوگ ہنس ہنس کر اپنے الفاظ بکھیر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کی اس بے فکری کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی پسندیدہ منزل کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر انھیں معلوم ہو کہ ہر ایک کے لئے اچانک ایک اور منزل آنے والی ہے اور وہ موت کی منزل ہے اور یہ منزل ان پر کسی بھی لمحہ آسکتی ہے۔ اگر لوگوں کو اس حقیقت کا زندہ شعور حاصل ہو تو ان کے تہے بند ہو جائیں اور وہ بولنے سے زیادہ چپ رہنا پسند کریں۔
جہاز تقریباً ایک گھنٹہ لیٹ ہو کر بھوپال پہنچا۔ ائر پورٹ پر کافرنس کی طرف سے مسٹر کنک تیواری اور ان کے ساتھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ حلقہ ارساله کے رفقا بھی آئے ہوئے ان لوگوں سے ملنے کے بعد ائر پورٹ سے شہر کے لئے روانگی ہوئی راستہ میں ہر طرف دسہرہ کی دھوم نظر آئی لاؤڈا سپیکر پر گانے کا شور اور بجلی کی روشنیوں کی جگمگاہٹ کے درمیان ہماری گاڑی آگے بڑھتی رہی۔ لوگ اس قسم کی چیزوں کو جشن کا نام دیتے ہیں اور پھر لطف اندوز ہوتے ہیں مگر میرے لئے اس قسم کی چیزیں ایک مصیبت سے کم نہیں۔
پہلے ہم لوگ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی (فون نمبر 74981) کے مکان پر پہنچے۔ الرسالہ کے کئی لوگ موجود تھے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی (ریڈر شعبہ عربی بھوپال یونیورسٹی) کے ساتھ ایک مہینہ پہلے سخت حادثہ پیش آیا تھا ایک ٹرک ان کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ جس کے نتیجہ میں انھیں سخت چوٹیں آئیں تاہم اب وہ بڑی حد تک صحت مند ہو چکے ہیں انشا اللہ دو ہفتہ میں مکمل طور پر صحت یاب ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے حادثہ کی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مصیبت میں بھی رحمت کا پہلو رکھ دیا ہے۔ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات آدمی کے لئے ایک روحانی خوراک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آدمی پر اگر مصیبت نہ پڑے تو وہ ذہنی اور روحانی اعتبار سے ترقی نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی اس بات کی تائید میں میں نے یہ شعر انھیں سنایا: اذا اشتدت بك البلوى ففكر في الم نشرح فعر سير بين يسرين اذا فكرته ففرح یہاں سے روانہ ہو کر ہم لوگ لیک ویو اشوک ہوٹل میں پہنچے یہاں مجھے کمرہ (نمبر ۳۰۸) میں ٹھہرنا تھا۔ میرے ہمراہ یہاں جناب عبدالحمید ندوی بھی تھے۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۹۸ کی شام کو سورج غروب ہوا تو میں دہلی میں تھا۔ اگلے دن یکم اکتوبر ۱۹۹۸ء کی صبح کو نیا سورج نکلا تو میں بھوپال میں تھا۔ اس کو سوچ کر مجھے ایک تاریخی واقعہ یاد آیا۔ عبدالعزیز اموی اپنی ابتدائی زندگی میں ایک عام آدمی کی مانند تھے۔ وہ شاندار کپڑے پہنتے اور بہت زیادہ خوشبو لگاتے تھے وہ جدھر سے گزرتے ان کی شان و شوکت کی بنا پر لوگ انھیں دیکھنے لگتے۔ یہاں تک کہ ان کی چال کو مشیۃ العمریہ کہا جانے لگا۔ اس کے بعد ایک واقعہ ہوا جس نے ان کی زندگی کو بالکل بدل دیا۔ ایک روز وہ اپنی ایک خادمہ پر غصہ ہو گئے اور اس کو مارنا چاہا، خادمہ کی زبان سے نکلا : اذ كر ليلة صبيحتها يوم القيامة (اس رات کو یاد کرو جس کی صبح قیامت ہوگی) یہ الفاظ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز کانپ اٹھے اور اس کے بعد ان کی زندگی میں وہ انقلاب آگیا جس کو ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ اسی قسم کے انقلابی تجربوں کو شاعر نے اپنی زبان میں اس طرح
بیان کیا ہے:
صد سالہ دور چرخ تھا ساغر کا ایک جام نکلے جو میکدے سے تو دنیا بدل گئی بھوپال سے کرائیکل نام سے ایک انگریزی اخبار نکلتا ہے اس کے صفحہ اول پر ایک خبر تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ۱۴ فروری ۱۹۹۸ء کو کوئمبتور میں مسٹر لال کرشن اڈوانی کے جلسہ میں جو بم دھماکہ ہوا تھا اس کے سلسلہ میں پولس نے اسپشل انکوائری کی اور اب ۲۶ مسلمانوں پر کیس قائم کیا گیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد کوئمبتور کے مسلم نوجوانوں کی ایک خفیہ تنظیم الامہ کا انکشاف ہوا جس کے بانی کا نام ایس اے پاشا بتایا گیا ہے۔ پر جوش نوجوانوں کی یہ تنظیم بابری مسجد کے حادثہ کے بعد بنائی گئی تھی۔ ان لوگوں نے بڑی تعداد میں بم تیار کئے تھے اور ان کا منصوبہ یہ تھا کہ جگہ جگہ بم دھماکہ کرکے بابری مسجد کا انتقام لیں مگر عملاً اس کا نتیجہ الٹا ہوا۔ پولس نے سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کر لیا۔ ان کی بری طرح مار پیٹ ہوئی۔ کئی لوگ مر گئے۔ وہ سارے بم پکڑ لئے گئے جو گھروں میں چھپائے گئے تھے۔ سینکڑوں مسلمانوں کی زندگیاں تباہ ہو کر رہ گئیں۔ نتیجہ میں مسلمانوں کو جو اقتصادی نقصان پہنچا وہ اس کے علاوہ ہے۔ اس واقعہ میں سبق کی بات یہ ہے کہ ۱۴ فروری کے بم دھماکہ کے بعد وہاں کی پولس نے زبردست مظالم کئے مگر کوئمبتور یا تامل ناڈ کے مسلمانوں کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ انھوں نے پولس کے مظالم کے خلاف کوئی اخباری دھوم نہیں مچائی۔ اسی طرح تقریباً اسی زمانہ میں مہاراشٹر کے سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ شائع ہوئی جس میں بمبئی کے فساد و دسمبر ۹۲ ء جنوری ۱۹۹۳ء کا ذمہ دار یک طرفہ طور پر ہند ولیڈروں اور پولس کو قرار دیا تھا۔ اس رپورٹ کو مہاراشٹر کی بھاجپا، شو سینا حکومت نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ وہ اینٹی ہندو اور پرو مسلم ہے۔ یہ ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا۔ کے مسلمانوں نے اس کو کامل خاموشی کے ساتھ گوارہ کر لیا۔
یہ ہندوستانی مسلمانوں میں ایک سیاسی تبدیلی کی علامت ہے۔ مولانا شبلی نعمانی کے آخری زمانہ میں مسلمانوں میں ایک تبدیلی کا مشاہدہ ہوا تھا۔ اس پر مولانا شبلی نے ۱۹۱۲ میں ایک طویل مقالہ لکھا تھا جس کا عنون تھا مسلمانوں کی پولیٹیکل کروٹ۔ اب ۸۵ سال بعد ہندوستان کے مسلمانوں میں اس سے بھی زیادہ بڑی پولیٹیکل تبدیلی آئی ہے۔ یہ تبدیلی حیرت انگیز طور پر عین وہی ہے جس کے لئے الرسالہ کے ذریعہ پچھلے ۲۵ سال سے کوشش کی جارہی تھی۔ پر منفی رد عمل کے بجائے حقیقت پسندانہ روش اختیار کرنا۔
بھوپال میں میرا قیام جس ہوٹل میں تھا وہ ایک وسیع جھیل کے کنارے واقع ہے۔ ہوٹل کا پشت کا دروازہ کھول کر میں اپنے کمرہ کی بالکنی میں آیا تو سامنے دور تک نہایت پر کشش میں جب بھی اس قسم کے مناظر کو دیکھتا ہوں تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ منظر میرے لئے ایک آئینہ بن جاتا ہے جس میں میں جنت کی جھلک دیکھ سکوں۔ موجودہ دنیا میں تکلیف کے مناظر بھی ہیں اور مسرت کے مناظر بھی۔ تکلیف کے مناظر اس لئے ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر جہنم کو یاد کرے، اور مسرت کے مناظر اس لئے ہیں تاکہ آدمی جب انہیں دیکھے تو ان میں جنت کی جھلکیاں دکھائی دیں اور پھر اس تجربہ کے بعد جہنم سے ڈرے اور جنت کا حریص بنے۔ بھوپال کے انگریزی روزنامہ "نیشنل میل" کا شمارہ یکم اکتوبر ۹۸ دیکھا اس میں ایک مضمون اسرائیل کے بارے میں تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان اور اسرائیل دونوں نے ۲۰ ویں صدی کے وسط سے اپنی زندگی کا آغاز کیا مگر آج دونوں میں غیر معمولی فرق پایا جاتا ہے۔ نے زیرو لیول سے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا مگر انتہائی چھوٹا ملک ہونے کے باوجود آج وہ ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہندوستان بہت بڑا ملک ہے اور اس کے پاس ہر قسم کے وسائل ہیں مگر ترقی کے اعتبار سے ممالک کی فہرست میں اس کا شمار ۱۳۸ نمبر پر ہوتا ہے۔ جائزہ نگار نے اس فرق کا کوئی سبب نہیں بتایا تھا۔ میرے نزدیک اس کا سبب صرف ایک ہے اور وہ
یہ کہ اسرائیل کے باشندوں میں اعلیٰ درجہ کی نیشنل اسپہرٹ پائی جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہندوستان میں صرف لوٹ کی اسپہرٹ ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
بھائی الطاف بھوپال کی ایک خاص شخصیت ہیں۔ ان سے ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ میری عمر ہجری کلینڈر کے لحاظ سے اب ۷۸ سال ہو رہی ہے۔ اس مدت میں میں نے بہت کچھ پڑھا اور دیکھا۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ انسان کا آخری ٹسٹ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آپ کے اور اس کے درمیان انا کا ٹکراؤ پیدا ہو۔ اس ٹسٹ سے پہلے کسی انسان کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔ کسی آدمی کا خوش اخلاق یا مخلص ہونا صرف اس وقت ثابت ہوتا ہے جب کہ وہ اس نازک ٹسٹ پر پورا اترے۔
ڈاکٹر حمید اللہ ندوی بھوپال یونیورسٹی میں شعبہ عربی میں ریڈر ہیں۔ ان سے ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام کی بہت سی سنتیں ایسی ہیں جن کو شاید ہمارے علماء بھی نہیں جانتے، حتیٰ کے شاید وہ لوگ بھی نہیں جنھوں نے سیرت رسول پر بڑی بڑی کتابیں لکھی ان میں سے ایک سنت حقیقت پسندی ہے۔
حقیقت پسندی کیا ہے۔ حقیقت پسندی یہ ہے کہ آدمی اپنے خیالات سے باہر کے حالات کو جانے اور اس کی رعایت کرے۔ اس دنیا میں کسی بھی شخص کے لئے حتیٰ کہ پیغمبر کے لئے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ خارجی پہلوؤں کے علی الرغم اپنے نظریہ کو واقعہ بنا سکے۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام نے حجتہ الوداع کے موقع پر یہ اعلان فرمایا کہ ایک انسان اور دوسرے انسان میں کوئی فرق نہیں مگر اس کے ڈھائی مہینہ بعد جب یہ نوال پیدا ہوا کہ خلیفہ کس کو بنایا جائے تو حضرت ابو بکر صدیق نے یہ حدیث پیش فرمائی کہ الائمۃ من قریش۔ یعنی خلیفہ صرف قریش میں سے یہ دونوں باتیں واضح طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اصولی طور پر وہی بات درست ہے جس کا اعلان حجتہ الوداع میں کیا گیا تھا۔ مگر اجتماعی زندگی میں ہمیشہ عملی حقیقتوں سے سمجھوتہ
کرتا پڑتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو تا کہ نظری معیار دماغ سے نکل کر عالم خارجی میں واقعہ بن جائے۔ مسٹر ایم ہاشم (tel76375) اور مسٹر ایس مسعود حسن (0755-581056 tel)
دونوں صاحبان فارسٹ کے محکمہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ قابل بقا سماج (sustainable society) کیسے قائم ہوتا ہے، اور موجودہ زمانہ میں ایسے سماج کے قیام میں سب سے بڑا خطرہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں مفید باتیں ہوئیں۔ مثلاً انسانی زندگی کے سلسلہ میں درختوں کا کردار اور جانوروں کا سلوک (animal behavior) وغیرہ۔ مسعود حسن صاحب کا سابقہ بار بار جنگلی جانوروں سے پڑا ہے۔ انھوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا کہ ایک بار جنگل میں ایک شیرنی نے ایک عورت کا شکار کیا اور اس کو گھسیٹ کر جھاڑی میں لے گئی۔ وہاں اس کے بچے اس کو کھانے لگے۔ جناب حسن صاحب وہاں کے کچھ آدیواسیوں کے ساتھ اس کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ وہ اس جھاڑی کے پاس پہنچ گئے جہاں شیرنی کے بچے شکار کو کھا رہے تھے اور شیرنی وہاں بیٹھی ہوئی ان کی پہرہ داری کر رہی تھی۔ جناب حسن صاحب اور ان کے ساتھی اس وقت صرف پانچ میٹر کے فاصلہ پر تھے۔ شیرنی نے ان لوگوں کو خونخوار نظروں جناب حسن صاحب کے دوسرے ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں فوراً فائر کرنا چاہئے لیکن جناب حسن صاحب نے سوچا کہ یہ عقل مندی کے خلاف ہو گا۔ کیونکہ اگر ہماری گولی اس کو لگ جائے تب بھی وہ فوراً نہیں مر جائے گی۔ وہ زخمی ہو کر ہمارے اوپر حملہ کرے گی اور اس حملہ میں وہ ہم میں سے کم سے کم دو آدمیوں کو ختم کر دے گی۔
جناب حسن صاحب حیوانات کے سلوک کے بارے میں کافی معلومات رکھتے ہیں۔ سیکنڈ کے اندر ان کے ذہن نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت شیرنی اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے یہاں بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ یہاں سے صرف اس وقت ہٹے گی جب کہ اس کو اپنے بچوں کے بارے میں کوئی خطرہ محسوس نہ ہو ورنہ وہ اپنی جگہ بیٹھی رہے گی۔ یہ سوچ کر جناب حسن صاحب نے اپنے
ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں فوراً اپنے آپ کو یہاں سے پیچھے لے جانا چاہئے۔ چنانچہ وہ اپنے ساتھیوں کے همراه تیزی سے وہاں سے ہٹ کر دور چلے گئے ۔ اس کے بعد شیرنی اپنی جگہ بیٹھی رہی ۔ نے ان لوگوں پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔
میں نے کہا کہ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے ۔ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے اپنے انٹرسٹ میں مصروف ہے۔ یہاں کسی انسان کے شر سے بچنے کی واحد کامیاب تدبیر یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس سے دور رکھا جائے ۔ کوئی انسان خواہ بظاہر شریر ہو یا غیر شریر، اس سے خطرہ صرف اس وقت ہے جب کہ آپ اس سے الجھ کر اس کو یہ احساس دلائیں کہ آپ اس کے انٹرسٹ کے لئے خطرہ جب تک ایسا نہ ہو کوئی انسان یک طرفہ طور پر آپ کے اوپر حملہ کرنے والا نہیں۔ یکم اکتوبر کو ۱۰ بجے ٹی ٹی نگر کی مسجد میں ایک اجتماع ہوا۔ یہاں اسکول اور کالج کے طلبہ شریک ہوئے ، اسی کے ساتھ بڑی عمر کے لوگ بھی موجود تھے۔ میں نے علم کی اہمیت کے موضوع پر خطاب کیا۔ تقریر کے بعد لوگوں نے سوالات کئے جس کا جواب دیا گیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کس طرح کیا جائے۔ میں نے کہا کہ اس کا کوئی لگابندھا طریقہ نہیں۔ دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ معتدل فضا میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان انٹرایکشن ہو۔ مثالوں کے ذریعہ بتایا کہ جب دونوں فرقوں میں نفرت کی فضا نہ ہو اور دونوں کے درمیان آزادانہ اختلاط ہو تو دعوت کا عمل اپنے آپ جاری ہو
ایک سوال یہ تھا کہ ابھی تو مسلمانوں کی اصلاح ہی نہیں ہوئی پھر غیر مسلموں میں اسلام کی دعوت پہنچانے کا کیا سوال ۔ میں نے کہا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ ابھی تو مسجد ہی نہیں پھر مدرسہ بنانے کا کیا سوال ہے۔ اگر مدرسہ نہیں ہوگا تو مسجدوں کے لئے امام اور قاری کہاں سے حقیقت یہ ہے کہ ہمیں بیک وقت کئی کام کرنے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی
اصلاح کی کوشش بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ ہر مسلم ادارہ اور ہر مسلم جماعت اسی کام میں لیکن غیر مسلموں میں دعوت کا کام سرے سے نہیں ہو رہا ہے۔ اس لئے میں دعوت پر زور دیتا ہوں۔
مسٹر راہل پر دھان نے یہ سوال کیا کہ ہندوؤں میں بھگوان کا آکار مانا جاتا ہے چنانچہ بھگوان کو ہم مورتی کے روپ میں دیکھ لیتے ہیں مگر اسلام میں خدا کا کوئی آکار نہیں ہے اس لئے اسلام میں خدا کو دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ بھگوان کی مورتی کہتے ہیں اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ بھگوان کا آکار ہے۔ کیا وہ مورتی خود بھگوان نے آسمان سے اتاری ہے یا کسی نے بھگوان کو اس کے اصلی روپ میں دیکھا ہے، اور پھر اس نے اس کی نقل مورتی کی صورت میں تیار کی۔ کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں۔ جس چیز کو آپ بھگوان کی مورتی کہتے ہیں وہ خود آپ کے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی شکلیں ہیں پھر ایسی خود ساختہ مورتی کو دیکھنا خدا کو دیکھنا کیسے ہو دنیا میں ہم بہت سی چیزوں کو اس کی مجسم صورت میں نہیں دیکھتے بلکہ تصوراتی طور پر دیکھتے ہیں مثلاً لا آف موشن وغیرہ۔ پھر جس طرح کائنات کی دوسری بہت سی حقیقتوں کو ہم دیکھے بغیر مانتے ہیں اسی طرح ہم خدا کو بھی دیکھے بغیر مان سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ ایک پرچہ میں آپ کی تصویر چھپی ہے جس میں آپ آرتی اتارتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔ کیا یہ واقعہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو بہت آسان ہے، میں آپ کی بھی ایک ایسی تصویر بنا سکتا ہوں جس میں آپ بھی آرتی اتارتے ہوئے دکھائی دیں، کوئی بھی فوٹو گرا فرکسی بھی شخص کو اس قسم کے کسی عمل کے ساتھ دکھا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ آج سے ساٹھ سال پہلے نو جوانی کی عمر میں میں فیض آباد گیا۔ وہاں میرے ایک تعلیمی ساتھی تھے جن کا نام عطاء الرحمن تھا۔ وہ مجھ کو ایک فوٹو
گرافر کے یہاں لے گئے جہاں اس نے ہم دونوں کے فوٹو لئے، بعد کو انھوں نے مجھے ایک ایسی تصویر دی جس میں میں ایک ہوائی جہاز کے اندر بیٹھا ہوا تھا، میں نے کہا کہ میں تو آج تک ہوائی جہاز میں بیٹھا ہی نہیں، پھر اس قسم کی تصویر کیسے بن گئی، انھوں نے بتایا کہ یہ تصویر فوٹوگرافر نے تیار کی ہے، اس نے یہ کیا کہ آپ کی ایک تصویر لے کر اس کو ہوائی جہاز کی تصویر کے ساتھ چپکا دیا، پھر وہ دوبارہ اس کی تصویر لے لی۔
اس قسم کی تصویر کشی اس زمانہ میں اتنی عام ہو چکی ہے کہ اب ہر آدمی اس معاملہ کو اچھی طرح جانتا ہے۔
یکم اکتوبر ۹۸ کو دوپہر کا کھانا جناب ایس ایم حسن صاحب کے مکان پر تھا، اس سلسلہ میں یہاں ایک درجن سے زیادہ آدمی اکٹھا ہو گئے۔ ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی، جناب ایس ایم حسن صاحب کو اپنی سروس کے تحت بار بار جنگل میں جانا ہوتا ہے وہاں آدی واسی لوگ رہتے ہیں، ایک بار انھوں نے کچھ آدمی واسیوں سے پوچھا کہ سرکار اگر آپ کو مدد دینا چاہے تو آپ اس سے کس قسم کی مدد چاہیں گے۔ ایک بوڑھے آدمی واسی نے دیر تک سوچا اور کہا کہ پھر انھوں نے دوبارہ سوال کیا کہ اور کیا چیز آپ چاہیں گے۔ آدمی واسی نے دوبارہ سوچ کر کہا کہ مٹی کا تیل۔
میں نے سوچا کہ آدمی واسی کے فہم کی آخری حد یہی تھی، اگر وہ زیادہ باشعور ہوتا تو شاید وہ کہتا کہ سرکار ہمارے بچوں کے لئے تعلیم کا انتظام کرے۔
یکم اکتوبر کو ظہر کی نماز ٹینٹی نگر کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد یہاں ایک اجتماع ہوا جس میں زیادہ تر رسالہ کے قارئین تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج پوراملک الرسالہ کی پالیسی کو اختیار کئے ہوئے ہے۔ کوئی اعلان کے ساتھ اور کوئی بلا اعلان۔
۱۹۴۷ کے بعد تمام بے ریش و بارلیش قائدین صرف ایک ہی بات جانتے تھے کہ انڈیا
مسلمانوں کے لئے ایک پرابلم کنٹری ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی پوری سیاست، صحافت و قیادت احتجاج کے رخ پر چل پڑی۔ فرقہ پرست طاقتوں سے لڑنا اور شکایات و مطالبات کا طوفان کھڑا کرنا اسی کا نام مسلم سیاست تھا ۱۹۴۳ سے الجمعیۃ ویکلی کے ذریعہ اور ۱۹۷۶ سے الرسالہ منْتھلی کے ذریعہ میں نے یہ پیغام دینا شروع کیا کہ مسائل زندگی کا حصہ ہیں۔ انڈیا ہی نہیں بلکہ پورا ورلڈ پرابلم ورلڈ ہے۔ ہم کو پرابلم کے در میان جینا سیکھنا چاہئے۔ اس کے سوا زندگی کا کوئی اور
لمبی مدت تک یہ آواز لوگوں کے لئے اجنبی بنی رہی مگر دھیرے دھیرے حالات بدلے اور آج انڈیا کے تمام مسلمان اس الرسالہ پالیسی پر قائم ہیں۔ اس معاملہ کو مختلف مثالوں سے واضح کیا۔ جناب محمد عمران صاحب اور جناب بلال الدین صاحب اور مولوی شمس الدین صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ دنیا میں زندگی گزارنے کے تین درجے ہیں ضرورت، راحت اور عیش۔ necessity, comfort, luxury پہلا درجہ یہ ہے کہ آدمی ناگزیر ضرورتوں کے دائرے میں زندگی گزارے، دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ راحت کے سامان بھی استعمال کرے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ وہ عیش و تکلف کی مثلاً تخت پر سونا آدمی کی ضرورت ہے۔ فوم کا گدا استعمال کرنا راحت ہے اور ائز کنڈیشنڈ کمرہ میں رہنا عیش ہے۔ میں نے کہا کہ میں حرام و حلال کی زبان عام طور پر استعمال نہیں میں سادہ زبان میں صرف یہ کہوں گا کہ انسان کو چاہئے کہ وہ ضرورت پر قناعت کرے۔ ایسا کرنا مشکل ہو تو رعایت کے درجہ میں راحت والی چیزوں کو بھی استعمال کرنے کی گنجائش مگر عیش و عشرت والی زندگی میں تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ محمد عمران صاحب بھوپال کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں ان کو سائنس کے موضوع سے دلچسپی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے چند میں نے کہا کہ سائنسی انداز میں سوچنا بہت اچھی بات ہے مگر سائنسی سوچ کو مفید
بنانے کے لئے ایک حقیقت کا لحاظ کرنا بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ سائنس صرف جزئی علم دیتی ہے اس لئے سائنس کے ذریعہ اسلام کا کلی علم حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
میں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ تمام سائنسی علوم کو قرآن سے یہ ایک طفلانہ بات ہے قرآن معرفت حق کی کتاب ہے نہ کہ سائنس کی کتاب۔ صرف یہ کہنے پر اکتفا کرنا چاہئے کہ قرآن چودہ سو سال پہلے اترا جب کہ جدید سائنسی معلومات دریافت نہیں ہوئی تھیں اس کے باوجود قرآن کی کوئی بات سائنسی طور پر غلط ثابت نہیں ہوئی۔ قرآن نے اپنا پیغام دیتے ہوئے مختلف علوم کے حوالے دیئے ہیں مگر قرآن کا کوئی بیان جدید سائنس کی کسی دریافت سے نہیں ٹکراتا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن علیم و خبیر ہستی کی گویا اصل بات یہ نہیں ہے کہ قرآن میں سائنس کے تمام مضامین موجود ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قرآن میں اور جدید سائنس میں کوئی ٹکراؤ نہیں اور ہمارے مقصد کے لئے یہی بات کافی ہے۔
یکم اکتوبر کی شام کو ملار موسی سنکرتی بھون کے حال میں گاندھی سمیتی کے تحت پروگرام ہوا جس میں مختلف لوگ شریک تھے۔ اس کا موضوع تھا ملٹی کلچر اینڈ گاندھی۔ اس موضوع پر تقریباً آدھا گھنٹہ تقریر کی۔ میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ملٹی کلچر اور یونی کلچر کا معاملہ ہمارے انتخاب کا معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یونی کلچر صرف ایک خیالی نظریہ ہے، اس دنیا میں وہ قابل عمل ہی نہیں۔ کلچر اپنی عین نوعیت ہی کے لحاظ سے ملٹی کلچر ہے اور ہمارے لئے کامیابی کا راز یہ ہے کہ ہم اس کو کسی بحث کے بغیر قبول کرلیں۔
مسٹر کلڈ ہیپ نیر نے اپنی تقریر میں مہاتما گاندھی کے دو قصے بیان کئے جو یہاں قابل انھوں نے کہا کہ اگست 1947ء کے ہنگامہ کے بعد پاکستان سے آنے والا ایک ہندو مہاتما گاندھی سے ملا اس نے کہا کہ میرے بارہ سال کے لڑکے کو مسلمانوں نے مار ڈالا اب مجھ کو آپ
کیا مشورہ دیتے ہیں۔ مہاتما گاندھی نے کہا کہ دیکھو یہ بہت سے مسلمان یتیم بچے ہیں تم ان میں سے بارہ سال کی عمر کے کسی بچہ کو لے لو اور مسلمان کی طرح اس کی پرورش کرو۔ اس آدمی نے
دوسرا واقعہ انھوں نے یہ بتایا کہ دہلی کے برلا مندر میں ہر روز صبح کو مہاتما گاندھی کی پرارتھنا ہوتی تھی جس میں ہر مذہب کی مقدس کتاب کا کچھ حصہ پڑھا جاتا تھا۔ ایک دن مہاتما گاندھی نے مجمع سے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کسی کو اس پروگرام پر اعتراض تو نہیں۔ ہندو نے کہا کہ مجھے اعتراض ہے میں پاکستان سے بھاگ کر آیا ہوں اور میں نے دیکھا کہ وہاں قرآن کے ماننے والوں نے کتنا ظلم کیا ہے۔ گاندھی جی نے کوئی جواب نہیں دیا صرف اس دن کی پرارتھنا بند کردی۔ اگلے دن دوبارہ انھوں نے یہی سوال کیا اب بھی وہ ہندو وہاں موجود تھا اس نے کہا کہ اب مجھ کو کوئی اعتراض نہیں۔ چنانچہ اس کے بعد قرآن سمیت تمام کتابیں پڑھی گئیں ــــــ یہ تھا خاموشی کی طاقت کا کرشمہ۔
یکم اکتوبر کی شام کو ایک ہندو مقرر نے بتایا کہ سوامی وویکانند سے ایک شخص نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی وویکانند بن جاؤں۔ جواب میں سوامی وویکانند نے کہا کہ آپ ایک منٹ میں سوامی وویکانند بن سکتے ہیں مگر سوامی وویکانند ہونے کے لئے ایک صدی چاہئے : محمد ذاکر حسین کے صاحبزادہ محمد زبیر کی عمر ابھی صرف آٹھ سال ہے اور انھوں نے آدھا قرآن حفظ کر لیا ہے۔ میں نے صاحبزادہ سے کہا کہ آپ قرآن کا کچھ حصہ پڑھ کر سنائیں انھوں نے سبحان الذی اسریٰ بعدہ سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کے پڑھنے کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی پختہ قاری پڑھ رہا ہو۔ ان کو سن کر میں نے کہا کہ یہ بھی قرآن کا ایک زندہ معجزہ ہے کہ 8 سال کا ایک بچہ 15 پارہ حفظ کرلے اور اس کو ایک پختہ قاری کی طرح پڑھ کر سنائے معلوم ہوا کہ انھوں نے صرف ڈیڑھ سال میں یہ حفظ کیا ہے۔
مذکورہ بچہ کے استاد حافظ عبد الرقیب صاحب ہیں وہ اپنے بزنس کے سلسلہ میں ہر روز بھوپال سے بیر کھیڑی جاتے ہیں۔ ۳۲ کلومیٹر کا یہ فاصلہ بس کے ذریعہ طے ہوتا ہے۔ مالک غیر مسلم ہیں مگر جب انھوں نے جانا کہ یہ بچہ اپنے استاد کے ساتھ حفظ قرآن کے لئے روزانہ سفر کرتا ہے تو انھوں نے بچہ کا کرایہ لینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ یہ بچہ ہر روز ۶۳ کلومیٹر کا یہ سفر بس کے ذریعہ طے کرتا ہے مگر بس کے مالکان اس کا کرایہ نہیں لیتے۔ یہ قصہ سن کر میں نے کہا کہ یہ بھی قرآن کی ایک کرامت ہے۔
یکم اکتوبر کی شام کا کھانا محمد ذاکر صاحب کے مکان پر طے تھا مگر راستہ کی بھیڑ کی وجہ سے وہ کھانا لے کر ہوٹل میں آگئے۔ چنانچہ تقریباً ۲۰ آدمیوں کے ساتھ ہوٹل میں کھانا کھلایا گیا۔ نے محمد ذاکر صاحب سے کہا کہ یہ تو آپ نے میرے اوپر بہت بڑا ظلم کیا۔ انھوں نے کہا کہ دسہرہ کی وجہ سے آج راستہ میں بہت بھیڑ تھی اور ہوٹل سے میرے گھر تک جانے میں آپ کو زحمت میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ وہاں سے یہاں آسکتے تھے تو میں بھی یہاں سے وہاں تک پہنچ سکتا تھا۔ مولانا محمد اختر قاسمی نے کہا کہ عمل کارد عمل تو ایک فطری چیز ہے پھر آپ کیوں کہتے ہیں کہ جب دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی کی جائے تو مسلمانوں کو مشتعل نہیں ہونا میں نے کہا کہ رد عمل بلاشبہ ایک فطری چیز ہے مگر یہ فطرت برائے اظہار نہیں ہے بلکہ برائے امتحان ہے۔ یعنی انسان کے اندر یہ مزاج اس لئے نہیں رکھا گیا ہے کہ لوگ ہر خلاف مزاج بات پر لڑ جائیں اور انتقامی کارروائیاں کریں بلکہ وہ اس لئے ہے کہ لوگ اس اعلیٰ انسانی صفت کی تربیت حاصل کریں، جس کو ضبط و تحمل کہا جاتا ہے غصہ دلانے پر غصہ ہو جانا ایک حیوانی صفت ہے اور غصہ دلانے کے باوجود غصہ نہ ہونا ایک انسانی صفت۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ دنیا میں اس اعلیٰ انسانی صفت کا ثبوت دے تا کہ ان کا شمار اللہ کے یہاں صالحین میں کیا جائے۔ مولانا شمس الدین ندوی نے کہا کہ ایک حدیث یہ بتاتی ہے کہ " من استغضب ولم يغضب فهو حمار " (جس آدمی کو غصہ دلایا جائے مگر وہ غصہ نہ ہو تو وہ گدھا ہے) انھوں نے کہا
کہ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ غصہ دلانے پر غصہ ہونا کوئی بری بات نہیں بلکہ وہ اچھی بات ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات بذات خود صحیح ہے، کیوں کہ غصہ عام طور پر الفاظ پر آتا آپ کسی کو کوئی سخت لفظ بول دیں تو وہ غضبناک ہو جائیگا، اس قسم کا غصہ صرف انسان کو آسکتا ہے کیوں کہ یہ صرف انسان ہی ہے جو الفاظ کی زبان جانتا ہے۔ گدھے کے سامنے آپ سب وشتم کے تمام الفاظ دہرادیں تب بھی اسے غصہ نہیں آئے گا۔ کیوں کہ اس نے آپ کے الفاظ کا کوئی مطلب سمجھا ہی نہیں۔
میں نے کہا کہ غصہ ہونا بلا شبہ کسی کے حیوان ناطق ہونے کا ثبوت ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسروں کو اپنے غصہ کا شکار بنانا بھی کوئی انسانی فعل ہے۔ اس قول کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب تم کو غصہ دلایا جائے تو تم کو غصہ ضرور آئے گا۔ کیوں کہ تم انسان ہو مگر انسان ہونے ہی کا دوسرا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہمارے اندر تحمل کی صفت ہو۔ تم غصہ کے با وجود اس آیت کا مصداق بنو کہ "واذا ما غضبوا هم يغفرون"
غصہ آنا ایک چیز ہے اور غصہ کو ظاہر کرنا دوسری چیز۔ غصہ آنا بلا شبہ ایک فطری صفت ہے مگر غصہ کو ظاہر کرنا بلا شبہ ایک غیر انسانی فعل ہے۔ غصہ آنا اگر اس بات کی پہچان ہے کہ آپ ایک انسان ہیں، تو غصہ کو ظاہر کرنا اور فریق ثانی کو اپنے غصہ کا نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کے امتحان میں ناکام ہو گئے۔
یہ سن کر ایک صاحب نے کہا کہ غصہ کوروکنا تو بہت مشکل کام ہے۔ میں نے کہا کہ یہی مشکل تو جنت کی قیمت ہے۔ اور کسی اعلیٰ چیز کی قیمت ہمیشہ مشکل ہی ہوتی ہے۔ اگر غصہ کے وقت آدمی یہ سوچے کہ یہ تو میرے لئے جنت کی قیمت ادا کرنے کا وقت ہے تو حضرت عمر فاروق کے الفاظ میں غصہ کو پینا اس کے لئے سب سے زیادہ میٹھا گھونٹ بن جائے۔
۲ اکتوبر کی صبح کو جناب الطاف حسین صدیقی کے مکان پر صبح کے ناشتہ کا پروگرام تھا،
یہاں اور کئی لوگ موجود تھے، مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ بھائی الطاف صاحب معاشیات سے خصوصی دل چسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کی اقتصادیات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ضرورت فارن انوسٹمنٹ ہے۔ ہماری ضرورت فارن لون نہیں۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد بہت بڑی مقدار میں بیرونی قرضے لئے گئے مگر ان قرضوں کا کوئی مثبت اقتصادی فائدہ اس ملک کو نہ ملا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض سے پہلے یہ مسئلہ ہے کہ قرض کی رقم کو صحیح طور پر استعمال کرنے کے لئے کیا ہمارے پاس صلاحیت موجود ہے۔ چونکہ یہ صلاحیت موجود نہیں تھی اس لئے ان قرضوں کا حال وہی ہوا کہ کسی کو دودھ دیا جائے مگر اس کو لینے کے لئے اس کے پاس صرف چھلنی موجود ہو، ایسا آدمی دودھ کے عطیہ کے باوجود دودھ سے محروم رہے گا۔ فارن انوسٹمنٹ میں یہ خطرہ نہیں تھا وہ لوگ اپنے مالیاتی انوسٹمنٹ کے ساتھ اپنی صلاحیت بھی لے آتے اور پھر ان کا اقتصادی فائدہ بھی ضرور ملک کو ملتا۔ آزادی کے چالیس سال بعد لبرلائزیشن کے تحت فارن انوسٹمنٹ کا دروازہ کھولا گیا مگر عملا وہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ ہمارے ملک کی دو بنیادی خرابیاں تھیں جو نہرو کی پالیسیوں کی دین ہیں یہ ہے قانون قاعدوں کی بھر مار اور کرپشن۔ اس دستار کاوٹ کی بنا پر بیرونی کمپنیاں اس طرح ہندوستان میں نہ آسکیں جس طرح وہ دوسرے ملکوں میں جاکر اپنا کام کر رہی ہیں۔
بیرونی ملکوں میں ہندوستان کے جو لاکھوں لوگ ہیں جن کو نان ریزیڈینٹ انڈین کہا جاتا ہے وہ اس معاملہ میں بہت بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں جناب محمد مبین انجینئر نے بتایا کہ ان ہندوستانیوں کے پاس تین سو پچاس بلین ڈالر کا ریزرو ہے۔ اگر یہ رقم انڈیا میں آجائے تو ہمارا سارا اقتصادی مسئلہ حل ہو جائے۔
میں نے اپنے بیرونی سفروں کے درمیان بہت سے ایسے ہندوستانیوں سے ملاقات کی ان سے میں نے پوچھا کہ آپ ہندوستان میں اپنا سرمایہ کیوں نہیں لگاتے۔ تقریباً ہر ایک نے
کہا کہ ہم ایسا کرنا چاہتے ہیں مگر ہندوستان کا کرپشن اور بڑھتی ہوئی بیوروکریسی کی بنا پر ہماری ہمت
موجودہ گورمنٹ نے بیرونی ملک میں آباد ہندوستانیوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان میں اپنا پیسہ لگائیں۔ اس سلسلہ میں اسٹیٹ بنک آف انڈیا نے خصوصی رعایتوں کا اعلان کیا۔ بعد غیر مقیم ہندوستانیوں نے چار بلین ڈالر سے زیادہ اسٹیٹ بنک آف انڈیا کو دئے۔ اس سلسلہ میں جناب محمد مبین شاغل (۳۸ سال) نے یہ پر مسرت بات بتائی کہ اس رقم کا 65% حصہ خلیجی ملکوں میں مقیم ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے آیا ہے۔ اس کی تفصیلی رپورٹ ٹائمس آف انڈیا میں چھپی ہے۔ یہ بلاشبہ اس الزام کی ایک تردید ہے کہ مسلمان اس ملک کے وفادار نہیں کیوں کہ انسان کے لئے سب سے مشکل چیز ”زر“ کو دینا ہے جیسا کہ فارسی کے ایک مقولہ میں کہا گیا ہے کہ ”زرمی طلبی سخن دریں است“ اس نازک اقتصادی موقع پر جب مسلمانوں نے دوسرے فرقوں سے بڑھ کر ملک کے لئے اپنی مالی امداد پیش کردی تو یہ گویا اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ وہ اس ملک کے سچے دیش بھکت ہیں بلکہ شاید دوسروں سے زیادہ۔
مولانا اقبال احمد سہیل (وفات ) نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ جان جائے پر نہ جائے حرمت شان وطن میں اس میں معمولی لفظی فرق کرتے ہوئے یہ کہوں گا کہ مال جائے پر نہ جائے حرمت شان وطن ۲ اکتوبر کو 11 بجے ہم لوگ اس مقام پر پہنچے جہاں ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے ایک پلاٹ لیا ہے اور وہاں وہ اپنا مکان بنانا چاہتے ہیں۔ مجھ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ میں اس تعمیر ہونے والے مکان کا سنگ بنیاد رکھوں جو انشا اللہ نہ صرف ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے لئے ایک رہائش گاہ
ہوگا بلکہ وہ اسی کے ساتھ الرسالہ مشن کا ایک خداداد مرکز بھی بنے گا۔ انشاء اللہ العزیز۔ بنیاد جناب ذاکر الرحمن عرف مہتاب میاں کی موجودگی میں رکھا گیا۔
یہ پلاٹ بھائی الطاف صاحب (پروجیکٹ کنسلٹینٹ) کی رہائش گاہ کے قریب ہے اور انھیں کے مشورہ اور کوششوں کے ذریعہ حاصل ہوا ہے۔ بھائی الطاف صاحب نے کہا کہ ایک سال پہلے وہ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے ساتھ یہاں آئے۔ بھائی الطاف صاحب (پیدائش ۱۹۳۴) تقریباً ۳ سال سے ریٹناڈی جنریشن کی وجہ سے دونوں آنکھوں کی روشنی سے محروم ہو گئے ہیں۔ چنانچہ وہ کچھ بھی دیکھ نہیں سکتے۔ جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پلاٹ کو دیکھنے کے لئے آئے تو انھوں نے ایک بڑی عجیب بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ مجھے بصارت حاصل نہیں مگر میری بصیرت یہ کہتی ہے کہ یہ مقام انشااللہ انتہائی پر رونق اور خیر و برکت والا ہے۔ یہ سن کر مجھے ایک شاعر کا شعر یاد آیا۔ وہ دونوں آنکھوں سے نابینا تھے۔ انھوں نے ایک نعتیہ نظم لکھی اس نعتیہ نظم کا ایک شعر یہ تھا:
بصارت کھو گئی تو کیا بصیرت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ ۲ اکتوبر کی دوپہر کو بھوپال کا ایک رفاہی ادارہ دیکھا۔ اس کا نام شھم وکلا نگ سیوا سمیتی یہ ادارہ ۱۹۸۰ میں جناب سردار خانصاحب کی صدارت میں قائم ہوا جس کے سرپرست جناب الطاف صدیقی صاحب ہیں۔ میں نے ان بچوں کو دیکھا جن کی تعداد ۶۳ ہے ان میں ہندو اور مسلمان دونوں بچے شامل ہیں۔ میں نے کئی بچوں سے بات کی دو بچوں سے ہونے والی بات کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
سنتوش چورسیہ (عمر ۱۴ سال) ان سے میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پڑھتے ہیں۔ میں نے پھر پوچھا کہ آپ کیا سوچتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ پڑھ لکھ کر میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوں گا۔ ایک اور بچہ جس نے اپنا نام شنکر شرما (عمر ۱۲ سال) بتایا۔
وہ بھی اپنے دونوں پیروں سے معذور تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ پڑھنے کے بعد کیا کریں گے اس نے جواب دیا میں پڑھ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ یہ بات وہ بچے کہہ رہے تھے جو اپنے دونوں پیروں سے پوری طرح معذور تھے اور جسمانی طور پر کھڑے نہیں ہو سکتے تھے۔ نے سوچا کہ علم میں کیسی عجیب طاقت ہے۔ علم آدمی کو اس حد تک باشعور بناتا ہے کہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر اتنا طاقتور ہو جائے کہ اس کی جسمانی کمزوری ترقی کی راہ میں حائل نہ ہو سکے۔
اس ادارہ میں اس وقت ۶۳ معذور بچے ہیں ان میں مسلم بھی ہیں اور غیر مسلم بھی۔ کو دیکھ کر میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ ان کے مقابلہ میں مجھے اپنا وجود حقیر نظر میں نے سوچا کہ میرا معاملہ تو ایک مشتبہ معاملہ ہے مگر یہ بچے یقینی طور پر خدا کی ایک مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔ وہ دنیا میں خدا کی طرف سے لوگوں کے لئے نشان راہ (sign post) وہ زندہ زبان میں لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ اے لوگو، اگر خدا نے تم کو ہاتھ اور پاؤں آنکھ اور دماغ سے معذور نہیں بنایا تو اس پر ناز نہ کرو بلکہ خدا کا شکر ادا کرو کیونکہ خدا اگر چاہتا تو وہ تم کو بھی ویسا ہی بنا دیتا جیسا کہ تم ہم کو دیکھ رہے ہو۔ اس ادارہ کا ڈاک کا پتہ یہ ہے۔ Subham Viklang Awam Samaj Sewa Samiti Near Kausar Masjid, Cheklad Road. Jehangirabad, Bhopal - 462008 ۲ اکتوبر ۹۸ کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز بھوپال کی صوفیہ مسجد میں پڑھی یہ مسجد مجھے بہت پسند ہے۔ میں نے کئی بار یہاں نماز پڑھی ہے۔ مسجد اس طرح بنائی گئی ہے جیسے کہ وہ پارک کے اندر ہو۔ قدرتی مناظر کے درمیان عبادت گاہ کا تصور میرے جیسے آدمی کے لئے بہت
پرکشش ثابت ہوتا ہے۔
آج دوپہر کے کھانے کا انتظام اسی مسجد میں کیا گیا تھا۔ تقریباً ۱۰۰ آدمی کھانے پر موجود ان میں مدھیہ پردیش کی مشہور شخصیت مسٹر کنک تیواری بھی تھے۔ مسٹر کنک تیواری اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اسی کے ساتھ وہ گاندھی وادی بھی ہیں۔ انھوں نے گاندھی جی کے کئی قصے انھوں نے بتایا کہ گاندھی جی مدھیہ پردیش میں دس بار اور بھوپাল میں دو بار آئے تھے۔ ان کا پہلا سفر غالباً ۱۹۲۰ میں مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ ہوا تھا جب کہ وہ چھندواڑا گئے تھے۔ بھوپাল کے اس سفر میں بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں سے ملنے اور ان سے گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں میری اول دن سے ایک ہی رائے ہے۔ عام طور پر مسلمانوں کے رہنما خواہ بے ریش ہوں یا بارلیش سب ایک ہی بات کہتے ہیں وہ یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہاں کے اکثریتی فرقہ کا تعصب ہے۔ میں اس کو بالکل بے معنی سمجھتا میرے نزدیک مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کی بے شعوری ہے۔ یہ مسئلہ انڈیا میں بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ پاکستان میں۔
صوفیہ مسجد میں کچھ مسلمانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ نہ کہا کہ آزادی کے بعد ہندستان اور پاکستان دونوں یکساں طور پر مسائل کا شکار بنے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد دونوں ملکوں میں جو رہنما اٹھے انھوں نے صحیح نقطہ آغاز سے اپنا کام شروع نہیں کیا۔ پاکستان میں وہاں کے مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھا کہ یہاں کرنے کا پہلا کام اسلامائزیشن آف اسٹیٹ ہے۔ حالانکہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہاں مسلمانوں کے مختلف طبقات میں وہ شعور پیدا کیا جائے جو انھیں مل کر رہنا سکھائے اور باہمی ٹکراؤ کا خاتمہ کرے ۔ اس غلط آغاز کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامائزیشن کے نام پر کوششوں کا طوفان کھڑا کر دیا گیا مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جو پاکستان ایک قوم کے نام پر بنا تھا وہ کئی قوموں اور فرقوں میں بٹ کر آپس میں تباہ کن لڑائی میں مشغول ہو گیا۔
ہندستان کے مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھا کہ یہاں کی مفروضہ مسلم دشمن طاقتوں کے خلاف مفروضہ لڑائی لڑتے رہیں۔ اس نام نہاد لڑائی کا بے نتیجہ ہو جانا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ معاملہ کے صحیح تشخیص پر قائم نہ تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم نقطۂ نظر سے ہندستان کا اصل مسئلہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو نارمل بنانا تھا۔ اسی نار ملائزیشن پر مسلمانوں کی تمام ترقیوں کا انحصار تھا، دینی بھی اور دنیوی بھی۔
صوفیہ مسجد میں کچھ مسلمانوں نے فخر کے ساتھ یہ کہا کہ بھوپال میں اور (اسی طرح سارے ہند ستان میں ) مسجدوں میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے اور نمازیوں کی تعداد بھی ہر جگہ بہت بڑھ رہی ہے۔
میں نے کہا کہ میں چیزوں کو ان کے ظاہر کے اعتبار سے نہیں دیکھتا ہوں بلکہ ان کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھتا ہوں۔ اس لئے اس مذہب میں میرے لئے کوئی زیادہ خوشی کی بات اصل سوال یہ ہے کہ نمازیاد مسجد کو جانچنے کا اسلامی معیار کیا ہے۔ قرآن وحدیث کے مطابق، وہ تقویٰ ہے۔ مسجدوں میں نمازیوں کا اضافہ اگر مسلمانوں میں اسلامی کیریکٹر پیدا کر رہا ہو تو بلا شبہ یہ خوشی کی بات ہے۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ میرا تجربہ ہے اور آپ بھی یقیناً جانتے ہوں گے کہ نماز کی کثرت کے باوجود مسلمانوں سے وعدہ خلافی ختم نہیں ہوئی۔ لین دین میں وہ مضبوط نہیں بنے۔ مسلمانوں میں یہ مزاج نہیں آیا کہ کسی کے بارے میں کوئی الٹی بات سنے تو تحقیق کے بغیر اس کو نہ مانے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ خشامُنکر سے بچنے والے نہیں بنے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے میں یہاں صرف ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔ آیا ہے کہ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ جو سنے اس کو دہرانے لگے (کفی بالمرء كذباً ان يحدث بكل ما سمع )
میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ موجودہ مسلم سماج میں بہت کم افراد ہوں گے جو اس معیار پر پورے اتریں۔ میں ذاتی طور پر اس معاملہ کا ثبوت ہوں۔ میرے معاملہ میں بہت سی باتیں کچھ لوگوں نے بے بنیاد طور پر کہیں ۔ مثلاً یہ کہ میں بی جے پی کا ایجنٹ ہوں، مجھ کو مسلم دشمن طاقتوں سے پیسہ ملتا ہے ، میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمان بابری مسجد ہندوؤں کو دے دیں، میرے ماہنامہ رسالہ کابل ہند وا داد کرتے ہیں، مجھ کو اسلام کے دشمنوں نے ڈپیوٹ کیا ہے کہ میں مسلمانوں کو اندر سے کمزور کروں وغیرہ وغیرہ۔
میرے خلاف اس قسم کی باتیں اردو اخباروں اور رسالوں میں چھپتی ہیں۔ ہندوستان کے مسلمان ان باتوں کو دہراتے ہیں۔ مگر آج تک کسی بھی شخص نے مجھ سے ٹیلی فون یا خط یا ملاقات کے ذریعہ یہ نہیں پوچھا کہ آپ کے بارے میں فلاں بات ہم نے سنی ہے۔ ہوں کہ پہلے آپ سے تحقیق کر لوں اس کے بعد اس پر لکھوں یا بولوں۔
اس طرح کے کثیر تجربات کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسجدوں میں نمازیوں کی کثرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے شاید کوئی اسلامی ظاہرہ (Islamic phenomenon) نہیں بلکہ وہ ایک قسم کی فراریت ہے۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں غیر مسلموں کے براہ راست مقابلہ سے ہر میدان میں اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں پاتے یہ مسجدیں مسلمانوں کو ایک طرف حفاظت خانہ (safe haven) فراہم کرتی ہیں اور دوسری طرف یہاں کے علیحدہ ماحول میں ان کو یہ موقع ملتا ہے کہ اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف اس قسم کی بد دعائیں کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکال سکیں "اللهم اهلكهم ، اللهم دمر ديارهم ، اللهم خذهم اخذ عزيز مقتدر “ ایک صاحب نے کہا کہ اس قسم کی بد دعائیں تو ماثور ہیں اور روایات سے ثابت ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں اس لئے کہ بعض بد دعائیں جو روایات میں آئی ہیں وہ صرف وقتی تھیں اور وہ بھی صرف اس وقت کی گئیں جب کہ
فریق ثانی پر اتمام حجت آخری حد تک کیا جا چکا تھا۔ اس کے باوجود اس نے ظالمانہ جارجیت کا طریقہ اختیار کیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان ’’اہلِ کفر‘‘ کے خلاف ہر روز بد دعائیں کرتے ہیں ان میں یہ دونوں شرطیں نہیں پائی جاتیں۔ اس لئے یہ بد دعائیں یقینی طور پر سنت کے مطابق نہیں ہیں، بلکہ وہ ان احادیث کے مصداق ہیں جن میں کہا گیا کہ تم دعائیں مانگو گے اور تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی ( ولا يستجاب لكم)
بھوپال میں موتی مسجد (سے متصل) کے پاس مکتبہ الرسالہ قائم کیا گیا ہے۔ جمال صاحب نے اپنے مکان کا ایک حصہ جو سڑک کی طرف کھلتا ہے اس کے لئے خاص کیا ہے اور بطور عطیہ مکتبہ الرسالہ کو دیا ہے۔ ۲ اکتوبر کو میں نے اس مکتبہ کا افتتاح کیا۔ ۲ اکتوبر کی شام کو اچاریہ نریند رڈیو لائبریری کے ہال میں ایک پروگرام ہوا جس میں ہندو اور مسلمان دونوں فرقوں کے لوگ شریک ہوئے۔ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے اس کا موضوع تھا ’’اسلام اور آنکوراد‘‘ میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اسلام میں آہنک واد کے لئے کوئی جگہ نہیں بحیثیت فرد ایک مسلمان کو صبر اور اعراض کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاں تک جنگ کا تعلق ہے تو اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے، اقدامی جنگ یا نجومی لڑائی اسلام میں سرے سے جائز ہی دوسری بات یہ کہ جنگ اسٹیٹ کا معاملہ ہے نہ کہ غیر حکومتی افراد یا گروہ کا معاملہ۔ زمانہ میں مختلف ملکوں میں مسلمانوں کے غیر حکومتی گروہوں نے وہاں کی حکومت کے خلاف جو لڑائیاں چھیڑ رکھی ہیں وہ بلاشبہ اسلام میں ناجائز ہیں۔ ایک مسلمان ذاتی فیصلہ کے تحت روزہ نماز کر سکتا ہے مگر غیر حکومتی افراد خود اپنے ارادہ یا فیصلہ کے تحت کسی حکومت کے خلاف متشددانہ جنگ نہیں چھیڑ سکتے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ یقینی طور پر سخت گنہ گار ہیں۔ جناب کیلاش نارائن سارنگ کے ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ قرآن میں قتال کی جو آیتیں ہیں وہ پیغمبر کے ہم عصر حملہ آوروں سے لڑنے کے لئے ہیں۔
المشرکین کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا میں جہاں کوئی مشرک ہو اس سے لڑو، بلکہ اس سے مراد مکہ کہ وہ ہم زمانہ مشرکین ہیں جنھوں نے یک طرفہ طور پر پیغمبر کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی اور کسی طرح اس جنگ کو ختم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے۔ ان جارحین کے خلاف دفاعی طور پر جنگ کرنے کا حکم دیا گیا۔ میں نے کہا کہ کرشن جی گیتامیں ارجن سے کہتے ہیں کہ تم یدھ (جنگ) کرو مگر یہ کوئی مطلق یا عمومی بات نہیں تھی۔ یعنی اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہندو ہر زمانہ میں ہر قوم سے لڑتے رہیں۔ یہ صرف ایک وقتی حکم تھا اسی طرح قرآن میں قتال کا حکم وقتی حکم ہے نہ کہ کوئی مطلق یا عمومی حکم۔
۲ اکتوبر ۹۸ کو ہوٹل نور الصباح میں شام کی چائے کا پروگرام تھا۔ میں کئی لوگوں کے ساتھ وہاں پہنچا۔ یہ ایک نیا ہوٹل ہے جو بھوپال کا پہلا فائیو اسٹار ہوٹل ہے۔ وہ نواب بھوپال کے ایک محل کو از سر نو مزین کر کے بنایا گیا ہے۔ یہاں ہم نے مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ جس کمرہ میں نماز ادا کی گئی وہ اس ہوٹل کا اعلیٰ ترین سوئٹ تھا جس کا روزانہ کا کرایہ ساڑھے گیارہ ہزار روپیہ ہے۔ اس ہوٹل کے مالک مسلمان ہیں۔
ہوٹل کے مینیجر مسٹر انوراگ پاٹھک (۲۶ سال) نے نہایت ذوق و شوق کے ساتھ ہوٹل کے مختلف حصے دکھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے باپ ایک مسلمان صوفی سے بہت متاثر باپ کے اثر سے میں بھی اسلام سے بہت قریب ہوں۔
جناب عبد الوحید خاں صاحب (بھوپال یونیورسٹی) سے میں نے پوچھا کہ آپ اپنی زندگی کا کوئی انوکھو بتائیے۔ انھوں نے ایک ایسی بات کہی جو ہر انسان کے لئے اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری عادت ہے کہ جب میں کسی کے خلاف کوئی بری بات سنتا ہوں تو اس کو ماننے سے پہلے اس کی تحقیق کرتا ہوں۔ جب تک تحقیق سے بات ثابت نہ ہو جائے میں اس کو نہیں مانتا اور نہ اس کا چرچا کرتا ہوں۔ بطور مثال انھوں نے کہا کہ الرسالہ مشن کے بارے میں
میں نے بہت سی نامناسب باتیں سنیں مگر میں نے ایسا نہیں کیا کہ میں ان کو فُوراً امان لوں بلکہ میں نے اس کی باقاعدہ تحقیق شروع کر دی آخر کار تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ سب بے بنیاد الزامات تھے۔ ۲ اکتوبر کی شام کو ملار موزی سنسکرتی بھون میں آخری اجتماع تھا۔ مدھیہ پردیش کے گورنر ڈاکٹر بھائی مہاویر اور دوسرے کئی لوگ موجود تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ امن کی طاقت تشدد کی طاقت سے زیادہ ہے۔ اس معاملہ کو مختلف مثالوں سے واضح کیا۔ ۲ اکتوبر کو رات کے کھانے کا انتظام عبد الوحید خاں صاحب کی طرف سے تھا۔ لے کر ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے مکان پر آگئے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ یہیں کھانا کھایا اس کے بعد دیر تک لوگوں سے بات چیت ہوتی رہی۔
ایک خاتون جو الرسالہ کی قاری ہیں انھوں نے کہا کہ مجھے طرح طرح کے اندیشے آتے ہیں جن کی وجہ سے میں پریشان رہتی ہوں۔ میں نے انھیں ایک کاغذ پر یہ جملہ لکھ کر دیا۔ اندیشوں کے سلسلہ میں سب سے زیادہ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ بیشتر اندیشے کبھی واقعہ نہیں بنتے۔ ۳ اکتوبر ۱۹۹۸ کی صبح کو بھوپال سے واپسی ہوئی۔ ساتھیوں کے ہمراہ ہوٹل سے چل کر بھوپال ائْر پورٹ پہنچا۔ یہاں بھی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔
جناب محمد ذاکر صاحب اور جناب محمد مبین صاحب نے مشترک طور پر یہ بات بتائی کہ آج کل ایک نیا کاروبار ہر جگہ زوروں پر ہو رہا ہے۔ پرائیوٹ طور پر مالی ادارے بنائے جاتے ہیں جن کو نان بینکنگ فنانشیل انسٹیٹیوٹ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ بڑے بڑے خوشنما وعدوں پر لوگوں سے رقمیں حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ ہمیں ایک لاکھ روپیہ دیں ہم آپ کو ۳۶ ہزار روپے سالانہ بطور نفع دیتے رہیں گے وغیرہ۔ اس طرح ان لوگوں کے پاس تھوڑی مدت میں اربوں روپے جمع ہو جاتے ہیں۔
چند سال یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اس کے بعد کمپنی اچانک مارکیٹ سے اس طرح غائب
ہو جاتی ہے جیسے کوئی ہوائی جہاز حادثہ کا شکار ہو کر ائر پورٹ کنٹرول کی اسکرین سے اچانک غائب ہو جائے ۔ اس کے بعد ر میں جمع کرنے والے لوگ بے یار ومددگار ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ موجودہ ملکی قوانین کے تحت ایسے لوگوں کی کوئی پکڑ نہیں کیوں کہ ان کا نظام ریزرو بینک آف انڈیا سے آزاد رہتا ہے ، اس لئے ریزرو بینک ان کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتا۔ اب دوسرا اجارہ کار یہ ہے کہ شکار ہونے والے افراد عدالت میں جائیں مگر اس معاملہ میں موجودہ قانونی صورت حال یہ ہے کہ اس طرح کا مالی فراڈ کرمنل کیس نہیں بنتا۔ سول کیس بنتا ہے۔ چنانچہ عدالتیں یہ نہیں کر پاتیں کہ وہ ایسی کمپنیوں کور قم کی ادائیگی پر مجبور کریں وہ صرف چند سال کی سزا دے سکتی ہیں اور اربوں روپے کمانے والے ان افراد کے لئے اس قسم کی جیل یاترا ایک تفریحی آئوٹنگ سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
جناب عبد الوحید خاں صاحب ایڈوکیٹ اور کچھ دوسرے صاحبان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کامیاب منصوبہ بندی نام ہے داخلی خواہشوں اور خارجی عوامل کے درمیان مطابقت دریافت کرنے کا ۔ میرا تجربہ ہے کہ بیشتر لوگ صرف اپنی خواہشوں کو جانتے ہیں چنانچہ جو خواہش بھی ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں حالانکہ جس دنیا میں انھیں اپنی خواہش کو پورا کرنا ہے اس میں دوسرے بہت سے افراد ہیں اور دوسرے بہت سے عوامل کام کر رہے ہیں ایسی حالت میں یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص یک طرفہ طور پر اپنی خواہش کو پورا کر سکے۔ یہ گفتگو ۳ اکتو بر کی صبح کو بھوپال ائر پورٹ پر ہوئی ، جہاں یہ لوگ اور دوسرے بہت سے افراد مجھے الوداع کہنے کے لئے آئے تھے۔ ائر پورٹ پر بعض احباب نے کہا کہ ہم کچھ گھریلو مسائل میں دوچار ہیں ہمیں کوئی دعا بتائیے میں نے ان کو یہ دعا لکھ کر دی۔ اللهم اصلح لي شاني كله دقہ وجلہ یا خیر الرازقین یا ارحم الراحمین اس قیام کے دوران بار بار بھوپال شہر کے مختلف حصوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ نظم اور صفائی وغیرہ کے اعتبار سے بھوپال کی حالت بھی وہی ہے جو ہندوستان کے دوسرے شہروں کی ہے۔
بے ترتیب گاڑیوں کا ہجوم، فضا میں کثافت، سڑک کے دونوں طرف غیر صاف فٹ پاتھ، جگہ جگہ لاؤڈ اسپیکروں کا شور، غیر قانونی تعمیرات، وغیرہ۔ ۱۹۴۷ کے بعد ملک میں جو حکومتیں بنیں، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرتی رہی کہ وہ ملک کی ترقی کے لئے بڑے بڑے کام کر رہی ہے۔ مگر یہ ترقیان آج بھی صرف کاغذ پر دکھائی دیتی ہیں، شہروں اور بستیوں میں وہ کہیں نظر نہیں آتیں۔ جہاز میں میرے قریب کی سیٹ پر ایک ہندو تاجر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنا نام چھوٹا لال (۸۲ سال) بتایا۔ وہ گاندھی جی کے وطن پور بندرمیں پیدا ہوئے۔ اب بزنس کے تحت کلکتہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے گاندھی جی کو دیکھا تھا اور ان کی باتیں سنی تھیں۔ انھوں نے سخت لہجہ میں ہندوستان کی سیاست پر تنقید کی۔ کہا کہ گاندھی جی کہتے تھے کہ دیش کو آزاد کر کے ہم اپنے یہاں رام راجیہ بنائیں گے۔ مگر آج رام راجیہ یہ تو راون راجیہ ہے ۔ یہ دیش اچھے لوگوں کے رہنے کے لئے نہیں ۔ یہ چوروں اور لٹیروں کے لئے ہے۔ لوگ صرف گاندھی کا نام لیتے ہیں گاندھی کو مانتا کوئی بھی نہیں۔ مسٹر چھوٹا لال نے دنیا کے اکثر ملکوں کو دیکھا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ جن ملکوں میں گئے ان میں سے کون سا ملک آپ کو زیادہ پسند آیا۔ انھوں نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا، سلازار (۱۹۷۰) (Antoniode Oliveira Salazar) کا ملک پرتگال۔ پرتگال میں ۳۶ سال تک وزیر اعظم رہا۔ اس کو ایک عامر حکمراں کہا جاتا ہے۔ مگر وہ ایک نہات با اصول آدمی تھا۔ وہ نہایت سادہ زندگی گزارتا تھا۔ وہ پبلیسٹی سے دور رہتا تھا۔ اسٹیج کی تقریر سے اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ۱۹۳۲ میں جب اس کو پرتگال کا سیاسی اقتدار ملا اس وقت یہ ملک زبردست انتشار کا شکار تھا مگر سلازار کی سیاسی قیادت کے تحت اس کو نئی زندگی مل گئی۔ بھوپال سے دہلی کے لئے انڈین ایرلائنس کی فلائٹ ۴۳۴ کے ذریعہ واپسی ہوئی۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ ہو کر ساڑھے بارہ بجے دلی پہنچا۔ ہندوستان میں ہوائی جہاز کی سطح پر بھی اوقات کی پابندی موجود نہیں۔ پھر ریلوں اور بسوں کے سفر میں اگر اوقات کی پابندی نہ ہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔