an excess of everything is bad
Al-Risala, January 1999, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
غلو کا تعلق ہر معاملہ سے ہے۔ مثلاً عقیدہ میں پختہ ہونا بہت اچھی بات ہے مگر عقیدہ کے کھلے اظہار میں اگر جان کا خطرہ ہو تو ایسی حالت میں اپنی جان بچانے کے لئے اخفا کا حکم نماز اور روزہ ، ذکر اور تلاوت قرآن، سب مطلوب اعمال ہیں مگر ان کی غیر معتدل کثرت مطلوب نہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بلاشبہ ضروری اعمال میں سے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص اس کو تشدد کی حد تک لے جائے تو وہ درست نہ ہوگا۔ یہی معاملہ اخلاقی اصولوں کا بھی ہے۔ مثلاً خود اعتمادی ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے۔
لیکن خود اعتمادی اگر کسی کو غیر حکیمانہ اقدام تک لے جائے تو وہ ناپسندیدہ نہ ہوگا۔ اور خود داری بلاشبہ ناپسندیدہ اعمال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن اگر عزتِ نفس کسی کو اس حد تک لے جائے کہ وہ اس کے لئے اپنی غلطی کے اعتراف میں رکاوٹ بن جائے تو وہ بھلائی نہیں رہے گی بلکہ ایک برائی بن جائے گی۔
اسی طرح یہ ایک اچھی صفت ہے کہ آدمی کسی کی مدد نہ لے، وہ کسی کا احسان لینا گوارہ نہ کرے، وہ اپنی کفالت آپ کرنا چاہے۔ لیکن کسی کا یہ مزاج اگر اس کے اندر فخر اور بڑائی کا جذبہ پیدا کرنے کا سبب بن جائے تو یہ اس کے حق میں ایک بری عادت ہوگی نہ کہ کوئی اچھی عادت۔ آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میں مبالغہ آمیز تصور قائم کر لیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلا اسی غلو کی پیداوار ہیں۔ دین میں غلو یہ ہے کہ دین میں کسی چیز کا جو درجہ ہے، اس کو اس کے واقعی درجہ پر نہ بلکہ اس کو بڑھا کر زیادہ بڑا درجہ دینے کی کوشش کی جائے۔ اللہ اپنے ایک بندے کو باپ کے بغیر پیدا کرے تو کہہ دیا جائے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ اللہ کسی کو کوئی بڑا مرتبہ دیدے تو سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی مافوق شخصیت ہے اور بشری غلطیوں سے پاک ہے۔ چمک دمک سے بچنے کی تاکید کی جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر ترک دنیا تک پہنچا دیا جائے زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں کچھ احکام دیئے جائیں تو اس میں مبالغہ کر کے اسی کی بنیاد پر ایک پورا دینی فلسفہ بنا دیا جائے۔
اس قسم کی تمام صورتیں جن میں کسی دینی تعلیم کو اس کے واقعی مقام سے بڑھا کر مبالغہ آمیز درجہ دیا جائے تو وہ غلو کی فہرست میں شامل ہوگا۔