Al-Risala · March 1999

شیطانی وسوسہ

Al-Risala, March 1999, pp. 45–46

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک آدمی کو کچھ مادی کامیابی حاصل ہوئی۔ کامیابی کو پا کر اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرا۔ مگر عین اسی وقت اس کے دل میں ایک اور خیال آگیا۔ اس نے سوچا کہ میرے پڑوسی کو جو ترقی حاصل ہوئی ہے وہ میری ترقی سے بہت زیادہ ہے۔ پہلے وہ خود اپنے ماضی کا اپنے حال سے مقابلہ کر رہا تھا۔ اب وہ اپنے حال کا اپنے پڑوسی کے حال سے مقابلہ کرنے لگا۔ اس فرق نے اس کے احساسات کو بدل دیا۔ جس سینہ میں پہلے شکر کا جذبہ ابھر رہا تھا۔ اب اسی سینہ میں حسد اور شکایت کا جذبہ پیدا ہو گیا۔

یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں شیطانی وسوسہ کہا گیا ہے ۔ (الذی یوسوس فی صدور الناس ) شیطان انسان کا دشمن ہے۔ وہ انسان کے دل پر حملہ کرتا ہے۔ وہ انسان کی سوچ کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اس طرح شیطان ہر وقت اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ انسان کو صراط مستقیم سے منحرف کر دے۔

انسان کو اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس کے اندر فطری طور پر تمام شریفانہ جذبات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ کسی شخص کے ساتھ اچھا سلوک کریں تو فوراً اس کے اندر احسان مندی کا جذبہ پیدا ہو گا۔ مگر عین اسی وقت شیطان اس کے دل میں یہ خیال ڈالے گا کہ اگر تم نے احسان مانا تو تم اپنے کو چھوٹا کر لو گے۔ اکثر انسان اس وسوسہ کا شکار ہو جاتے ہیں اور احسان مندی کے بجائے احسان فراموشی کی روش اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص کو آپ کے بارے میں غلط فہمی ہو گئی۔ آپ نے دلیل کے ساتھ اس کی غلطی کی وضاحت کی ۔ بعد فطری طور پر آدمی کے اندر اعتراف کا جذبہ ابھرے گا۔ مگر عین اسی وقت شیطان اس سے کہے گا کہ اگر تم نے اعتراف کیا تو تم خود ہی اپنا درجہ گھٹا لو گے ۔ اس خیال کے آتے ہی آدمی اپنے فطری احساسات کو دبا دے گا اور اپنی غلطی کو ماننے سے انکار کر دے گا۔

اسی طرح شیطانی وسوسہ کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ کسی مسئلہ کو دو قا ر کا مسئلہ بنا دے۔ آدمیوں کے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو ابتدائی طور پر وہ ایک سادہ نزاع ہوتی ہے باہمی گفت و شنید کے ذریعہ اس کو حل کیا جا سکتا ہے۔ مگر جب وہ بڑھ کر سا کھ اور وقار کا مسئلہ بن جائے تو اس کے ساتھ ایک نا قابلِ حل پیچیدگی کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

نزاع پیدا ہونے کی صورت میں ابتدائی طور پر آدمی صرف نفع اور نقصان کو دیکھتا ہے۔ ایسی حالت میں نزاع کو ختم کرنا مشکل نہیں ہو تا مگر نزاع کا معاملہ جب بڑھ کر دو وقار کا معاملہ بن جائے تو آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگر میں نے فریق ثانی کی بات مان لی تو میری بے عزتی ہو اسی کا نام شیطانی وسوسہ ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ کوئی معاملہ جب اپنی سادہ حالت سے آگے بڑھ کر عزت دو قا ر کا معاملہ بننے لگے تو وہ چو کنا ہو جائے۔ وہ جان لے کہ اب اس معاملہ میں شیطان وسوسہ اندازی کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ وہ شیطان کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے اور لڑ کر ایسے خیال کو اپنے دماغ سے نکال دے۔

ہر آدمی اس شیطانی وسوسہ کی زد میں ہے۔ نجات یافتہ وہ ہے جو فطرت کی آواز پر چلے اور شیطانی وسوسہ کو ماننے سے انکار کر دے۔

ہند و پاک ڈائیر ی اسلام: ایک تعارف منزل کی طرف

Printed page