Al-Risala · March 1999

سوال و جواب

Al-Risala, March 1999, pp. 47–50

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کا مضمون ”تصویر کا فتنہ“ (الرسالہ جنوری ۱۹۹۹) پڑھا گیا۔ بظاہر یہ مضمون ان باتوں کے پس منظر میں لکھا گیا ہے جو آپ کے خلاف ایک ہندی اخبار میں شائع شدہ رپورٹ کی بنیاد پر کہی جا رہی تھیں۔ مگر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کا یہ مضمون اس معاملہ میں آپ کی صفائی کے لئے کافی نہیں۔ یہ مضمون ایک بالواسطہ تردید ہے۔ جب کہ اتنے سنگین معاملہ میں آپ کو براہ راست تردید کرنا چاہئے۔ یعنی غیر مبہم انداز میں اس طرح کہنا چاہئے کہ میں نے فلاں فعل نہیں (شمس پیر زاده بمبئی)

میرا یہ وضاحتی مضمون قرآنی اور اسلامی اصول کے عین مطابق ہے۔ جو لوگ اس معاملہ میں براہ راست تردید کا مطالبہ کریں ان کے متعلق یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ یا تو اسلامی تعلیمات سے بے خبر ہیں یا ان کا مقصد صرف مجھ کو مطعون کرنا ہے نہ کہ حقیقی صورت حال کو جاننا۔ حضرت عائشہ کا واقعہ اس معاملہ میں اسلامی اصول کو جاننے کے لئے فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ۶ھ میں حضرت عائشہ کے ساتھ ایک ناخوشگوار معاملہ پیش آیا۔ رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں تھیں۔ ایک اتفاقی حادثہ کے تحت وہ قافلہ سے پچھڑ گئیں۔ کو وہ ایک مسلم نوجوان صفوان بن معطل کے ساتھ مدینہ پہنچیں۔ جب وہ مدینہ میں داخل ہوئیں تو اس طرح انھیں ایک نوجوان کے ساتھ آتے ہوئے دیکھ کر عبد اللہ بن ابی نے کہا : واللہ مانجت منه ولا نجا منها ( تفسير النسفى الجزء الثالث صفحه ۱۳۴) یعنی نہ وہ اس سے بچی ہیں اور نہ وہ ان سے بچا ہے۔ عبد اللہ بن ابی کی یہ بات تیزی سے سارے مدینہ میں پھیل حضرت عائشہ پر نعوذ باللہ وہ بیہودہ الزام لگایا گیا جس کو اسلام کی تاریخ میں واقعہ افک کہا جاتا کمزور ایمان والے لوگ اس سے اتنا متاثر ہوئے کہ پورے مدینہ میں اس کا چرچا پھیل گیا۔

مگر حضرت عائشہؓ نے اس معاملہ میں کوئی براہ راست ”تردیدِ بیان“ نہیں دیا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ میں پیغمبر یعقوب کی سنت کے مطابق اس معاملہ میں صبرِ جمیل کا طریقہ اختیار کروں گی (۱۶۲) روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ قصہ بہت بڑھا تو رسول اللہ ﷺ از راہ شفقت حضرت عائشہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اے عائشہ تم کو وہ بات پہنچ چکی ہے جو کہ لوگ کہہ رہے ہیں پس تم اللہ سے ڈرو۔ اگر تم اس برائی میں پڑی ہو جیسا کہ لوگ کہہ رہے ہیں تو اللہ سے توبہ کر اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت عائشہ بے اختیار رونے پھر انھوں نے کہا: واللہ لا اتوب الی الله مماذكرت ابدا والله انی لاعلم لئن اقررت بما يقول الناس والله يعلم انی بریئة لاقولن مالم يكن ولئن انا انكرت مايقولون لا تصدقوننی (البداية والنهاية لابن كثير ، الجزء الرابع ، صفحه ١۶٢) خدا کی قسم جس چیز کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کے بارے میں تو میں کبھی اللہ سے توبہ نہ خدا کی قسم میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ اگر میں لوگوں کی کہی ہوئی بات کا اقرار کروں گی، اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں، تو میں ایسی بات کہوں گی جو واقع نہیں ہوئی ۔ اگر میں ان کی بات کا انکار کرتی ہوں تو آپ لوگ اس کی تصدیق نہیں کریں گے (ترجمہ) ابن سلسلہ میں دوسری اہم تر بات یہ ہے کہ عائشہ صدیقہ کے خلاف یہ بیہودہ الزام ایک مہینہ سے زیادہ مدت تک مدینہ میں گو نجتا رہا۔ لوگ اس انتظار میں تھے کہ خدا کی طرف سے کوئی واضح حکم آئے جو اس معاملہ میں تمام شکوك کو مکمل طور پر ختم کر دے۔ لمبے انتظار کے بعد آخر کار سورہ النور اتری مگر قابل لحاظ بات یہ ہے کہ خود سورہ النور میں بھی براہ راست تردید کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جس کا مطالبہ الزام لگانے والوں کی طرف سے کیا جا رہا تھا۔ اس کے برعکس قرآن میں بالواسطہ تردید کا انداز اختیار کرتے ہوئے صرف یہ الفاظ نازل ہوئے : ان الذين جاؤا بالا فك عصبة منكم ( النور ١١) یعنی جو لوگ یہ افک لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک

قرآن کے اس اسلوب سے ایک اہم شرعی مسئلہ معلوم ہوتا ہے جس کی وضاحت بعض مفسرین نے اپنی کتاب میں کی ہے۔ مثال کے طور پر مولانامامین احسن اصلاحی اپنی تفسیر میں اس معاملہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: افک ، جھوٹی، من گھڑت، خود تراشیدہ اور خلاف حقیقت بات کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے اشارہ اس فتنے کی طرف ہے جو غزوہ بنی مطلق کے موقع پر منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو متہم کرنے کے لئے برپا کیا۔ بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جن کا ذکر بھی زبان پر لانا گوارا نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کی طرف لفظ افک سے اشارہ کرکے اس کو نظر انداز کر دیا (تدبر قرآن، جلد چہارم صفحہ ۵۱۴) معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ کے معاملہ میں قرآن میں براہ راست تردید کا انداز اختیار نہیں کیا گیا۔ مثلاً قرآن میں اس سلسلہ میں اس طرح کے صریح الفاظ نہیں آئے کہ : ماقارفٹ عائشہ بلکہ صرف بالواسطہ انداز میں اس کو افک قرار دے کر نظر انداز کر دیا گیا۔ اسی طرح خود حضرت عائشہؓ کے ذوق ایمانی نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے اپنی زبان سے براہ راست تردید کریں۔ اپنی زبان سے اس قسم کے الفاظ بولیں کہ: واللہ ما قارفٹ اس معاملہ میں مومنین و صالحین کا ہمیشہ یہی طریقہ رہا ہے۔ علامہ ابن عبد البر نے اپنی کتاب (جامع بیان العلم و فضله، جزء ثانی صفحه ۹۵) میں لکھا ہے کہ طاؤس اور وہب ابن منبہ تابعی (وفات ۱۱۴ھ) دونوں ملے۔ طاؤس نے وہب اے ابو عبد اللہ میں نے آپ کے بارے میں ایک سنگین بات سنی ہے۔ انھوں نے پوچھا طاؤس نے کہا۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ اللہ ہی تو تھا جس نے قوم لوط کو ایک دوسرے پر سوار وہب نے یہ سن کر کہا۔ اللہ کی پناہ۔ پھر وہ چپ ہو گئے۔ میں نے پوچھا کیا دونقوں میں کوئی بحث راوی نے کہا نہیں ( روینا ان طاؤسا ووهب ابن منبہ التقیا فقال طاؤس لؤهب یا ابا عبدالله بلغني عنك امر عظيم فقال ماهو. قال تقول ان الله حمل قوم لوط بعضهم على بعض . قال اعوذ بالله . ثم سكتنا . قال فقلت هل اختصما ، قال لا ) اس

واضح اور ثابت شدہ شرعی اصول کے باوجود جو لوگ ایک بیہودہ الزام کے بارے میں براہ راست تردید کا مطالبہ کریں وہ خود اپنے بارے میں اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ اسلام کی تعلیمات سے اور اس کی روح سے بالکل بے خبر ہیں۔ وہ اس معاملہ میں اسلام کے ثابت شدہ اصول کو نہیں جانتے۔ وہ یہ کہ بیہودہ قسم کے الزام کے بارے میں جب زیر الزام شخص یہ کہہ دے کہ استغفر اللہ، یہ ایک لغو اور بے بنیاد بات ہے تو اسی پر معاملہ کو ختم ہو جانا چاہئے۔ شخص کی زبان سے ایسا جملہ سننے کے بعد سائلین یا معترضین پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ چپ ہو جائیں نہ کہ نئے نئے شوستے نکال کر اس کے بعد بھی وہ اپنے الزام کو دہراتے رہیں۔ ہے کہ مذکورہ وضاحت کے بعد ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کریں۔ اب تک وہ مجرم نہ ہوں تو مذکورہ وضاحت کے باوجود ان کا عدم اعتراف یقینی طور پر انہیں مجرم بنا دے گا۔ اس طرح کے معاملہ میں کھلے اعتراف سے کم کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قبول مذکورہ قرآنی اصول کے مطابق، زیر الزام شخص کی طرف سے صرف بالواسطہ تردید ہی اس کے بعد ساری ذمہ داری ان لوگوں کی طرف چلی جاتی ہے جنھوں نے بے بنیاد طور پر کسی شخص کے اوپر بیہودہ الزام لگایا تھا۔ یہ لوگ چونکہ براہ راست زبان میں الزام تراشی کے مجرم بنے تھے اس لئے اس کے بعد انھیں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اب براہ راست زبان میں اپنی مجرمانہ غلطی کا اعتراف کریں۔ اگر وہ اس کے بعد بھی کھلا اعتراف نہ کریں تو وہ دہرا مجرم قرار پائیں گے۔ پہلے اگر انھوں نے سادہ طور پر صرف گناہ کا فعل کیا تھا تو اب وہ بے اعترافی کے نتیجہ میں اپنے گناہ پر سرکشی کا اضافہ کریں گے۔ گناہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل معافی ہو سکتا ہے مگر سرکشی یقینی طور پر قابل معافی نہیں۔

Printed page