Al-Risala · January 1999

حکمتِ نبوی

Al-Risala, January 1999, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام ﷺ کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ آپ صاحبِ حکمت تھے اور لوگوں کو حکیمانہ روش اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ کے بہت سے اقوالِ حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے فرمایا: لا حسد الا في اثنتين رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق، وآخر آتاه الله حكمة فهو يقضى بها ويعلمها (فتح الباری، بشرح صحیح البخاری (۱۲۸/۱۳ یعنی حسد نہیں سوادو قسم کے آدمیوں پر۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا تو وہ اس کو حق کے راستہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اور دوسرا آدمی وہ جس کو اللہ نے حکمت دی تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور کہا کہ اے اللہ اس کو حکمت عطا فرما (ضمنى النبی ﷺ الى صدره وقال اللهم علمه الحكمة) فتح الباری ١٢٦/٧ اسی طرح اور بہت سی روایتیں ہیں جن سے حکمت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نعم المجلس مجلس ينشر فيه الحكمة (الدارمی مقدمہ) یعنی کیا ہی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت کی بات کی جائے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ ليس هدية افضل من كلمة حكمة (الدارمی، مقدمه) یعنی حکمت کی بات سے زیادہ افضل کوئی تحفہ نہیں۔

حکمت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی بابت یہ تعلیم دی گئی کہ دوسری قوموں میں

اگر کوئی حکمت کی چیز ملے تو اس کو لینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: الكلمة الحكمة ضالة المومن حيث وجدها فهو احق بها ( الترمذی ، کتاب العلم) یعنی حکمت کی بات مومن کا گم شدہ سرمایہ ہے وہ جہاں اس کو پائے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔

بعض روایت کے مطابق، حکمت اور فقہ کی اہمیت عبادت سے بھی زیادہ ہے۔ چنانچہ الترمذی اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقیہ واحد اشد علی الشيطان من الف عابد (مشکوة المصابیح ار ۵۷) یعنی ایک فقیہ، شیطان کے اوپر ہزار آر عابدوں سے بھی زیادہ بھاری ہے۔

پیغمبر اسلام ﷺ کی پوری زندگی حکمت کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے آپ نے ہر موقع پر اور ہر مرحلہ میں حکمت کا طریقہ یہاں اس سلسلہ میں آپ کی زندگی سے چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ نزاع کے موقع پر پیغمبر اسلام ﷺ کی عمر جب ۳۵ سال تھی اس وقت مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ کعبہ کی عمارت بعض اسباب سے منہدم ہو گئی۔ اس کے بعد قریش کے لوگوں نے اس کی نئی اس دوران یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ حجر اسود کو کون اٹھائے اور اس کو دوبارہ اس کی جگہ پر کعبہ کی دیوار میں نصب کرے۔ یہ چونکہ فضیلت کا ایک معاملہ تھا، ہر ایک یہ چاہنے لگا کہ وہی اس کو اٹھا کر نصب کرے اور اس شرف کا مالک بنے۔

اس سوال پر قریش کے لوگوں میں کئی دن تک جھگڑا جاری رہا اور کوئی اتفاقی فارمولا طے نہ ہو سکا آخر کار قریش کے ایک بزرگ کی تجویز کے مطابق وہ اس پر راضی ہوئے کہ

کل صبح کو جو آدمی سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہو، وہی اس مسئلہ کا فیصلہ کرے اور تمام لوگ اس کے فیصلہ کو مان لیں۔ اگلی صبح کو جب لوگ دوبارہ کعبہ میں آئے تو انھوں نے دیکھا کہ کعبہ میں داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص رسول اللہ ﷺ ہیں۔ ہر ایک نے بیک زبان کہا: هذا الامین رضینا هذا محمد (سیرت ابن ہشام ار ۲۱۴) یعنی یہ تو محمد الامین ہیں، ہم ان کے فیصلہ پر راضی ہیں۔

رسول اللہ نے لوگوں سے کہا کہ ایک چادر لے آؤ۔ وہ لوگ چادر لائے تو آپ نے اس کو زمین پر پھیلایا اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کے اوپر رکھ دیا۔ پھر آپ نے لوگوں سے کہا کہ تم سب لوگ چادر کے کناروں کو پکڑو اور اس کو اٹھا کر کعبہ کی دیوار کے پاس لے چلو۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ نے حجر اسود کو چادر سے اٹھایا اور اس کو کعبہ کی دیوار میں نصب کر دیا۔

پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ عمل ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نزاعی معاملہ کو کس طرح خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ حکیمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ایک کو اس میں شریک کر لیا جائے۔ اس طرح کا معاملہ لوگوں کے لئے اکثر و قار کا سوال بن جاتا ہے۔ اگر حسن تدبیر سے لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کا وقار محفوظ ہے تو مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوگی۔

Printed page