Al-Risala · April 1999

نقصان نہیں

Al-Risala, April 1999, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کا ایک مستقل اصول یہ ہے کہ ۔ لا ضرر ولا ضرار فی الإسلام (ابن ماجہ، کتاب الاحکام) یعنی اسلام میں نہ نقصان اٹھانا ہے اور نہ نقصان پہنچانا ہے۔ اس اصول کا تعلق انفرادی زندگی سے بھی ہے اور اجتماعی زندگی سے بھی۔

مومن اللہ سے ڈرنے والا انسان ہوتا ہے۔ وہ کسی حال میں اس کو گوارا نہیں کر سکتا کہ اس کی ذات سے کسی کو تکلیف پہنچے۔ مومن وہ ہے جو دوسرے کے درد کی چوٹ اپنے سینہ میں محسوس کرے۔ پھر ایسا انسان کیسے اس کا متحمل کر سکتا ہے کہ وہ کسی کو تکلیف پہنچائے۔ یا کسی کو اپنی طاقت کا نشانہ بنائے۔ مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کو کسی کے اوپر قدرت حاصل ہو جائے تب بھی وہ اس کو تکلیف پہنچا کر اپنی انانیت کی تسکین حاصل نہ کرے ۔

مگر اسی کے ساتھ سو من اس کو بھی جانتا ہے کہ موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ آدمی کو خدا کی طرف سے پوری آزادی ملی ہوئی ہے۔ اسی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ سرکش بن جاتے ہیں بہت سے لوگ دوسروں کو تکلیف پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں اس دنیا میں جائز زندگی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی ایسے انسانوں کی طرف سے ہوشیار رہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرنے کے دوسروں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کو سینگ مار کر اپنی انا کے لئے تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ اس قسم کے نقصان سے بچنے کے لئے مومن کو ہوشیار رہنا پڑتا ہے۔ لوگوں سے معاملہ کرنے میں، لوگوں سے لین دین کرنے میں، لوگوں کے درمیان رہنے میں وہ ہمیشہ چوکنار رہتا ہے تاکہ وہ دوسروں کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے۔

اس مقصد کیلئے مومن کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے گرد قوت کا محسوس ہالہ بنائے رہے۔ اس کی طرف سے ہیبت زدہ رہیں اور اس کے خلاف انھیں کسی شرارت کی ہمت نہ پڑے۔

Printed page