Al-Risala · April 1999

ترقی کا راز

Al-Risala, April 1999, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر محمد حنیف (پیدائش ۱۹۵۱) دہلی میں رہتے ہیں۔ (4690593 .Tel) وہ کشم اینڈ سنٹرل ایکسائز ڈپارٹمنٹ میں سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ وہ اپنے آفس میں اپنی اسلامی پہچان کو چھپاتے نہیں ہیں بلکہ ہر موقع پر قرآن اور اسلام کا تعارف بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کو ۱۹۹۹ کا صدارتی ایوارڈ (Presidential Award) دیا گیا جو ایک اعلیٰ سرکاری اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ۱۵ سالہ ریکارڈ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ امتیازی ایوارڈ کس کو دیا جائے۔ ہر سال محکمہ کے تین سینئر افسر متعلق شخص کی کارکردگی کا جائزہ لے کر اس کی رپورٹ لکھتے ہیں۔ اس طرح ۱۵ سال کے اندر ۲۵ افسران رپورٹنگ کے اس کام میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک افسر کی رپورٹ بھی اگر غیر موافق ہو تو وہ شخص اس قومی ایوارڈ کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا۔ کمیٹی کی طرف سے نامزدگی کے بعد یہ فائل مزید تقریبا نصف درجن سرکاری دفاتر میں کلیئرینس کے لئے بھیجی جاتی ہے اور آخر کار وہ صدر جمہوریہ ہند کے پاس پہنچتی ہے۔

ہندوستان کے ایک مسلمان کو اس غیر معمولی ایوارڈ کا استحقاق کیسے ملا۔ اس کا جواب صرف اور وہ ہے امتیازی کارکردگی اور خوش اخلاقی۔ اس معاملہ میں محمد حنیف صاحب کا ریکارڈ غیر معمولی طور پر ممتاز ہے۔ جہاں تک ان کے حسن اخلاق کا تعلق ہے اس کا اندازہ ایک واقعہ سے

۱۹۹۶ میں سوپر سن کی بھرتی کے دوران ان کے آفس میں ایک اونچی ذات کا ہندو لڑکا انٹرویو کے لئے آیا۔ حنیف صاحب نے اس سے کہا کہ سوپر سن کو نالی کی صفائی اور جھاڑو لگانے جیسا کام کرنا پڑتا ہے اور آپ کا تعلق ایک اونچی ذات سے ہے تو آپ یہ سارے کام کیسے کریں اس نے جواب دیا کہ پیٹ کی خاطر میں سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہوں۔

صاحب نے اس لڑکے کو وہ سردس دلادی۔ لیکن محمد حنیف صاحب کو اس بات کا کافی احساس تھا لہذا انہوں نے اس کو نالی صاف کرنے اور جھاڑو لگانے کے بجائے دفتر میں ڈسٹنگ کے کام پر لگا کچھ عرصہ کے بعد محمد حنیف صاحب کا اس دفتر سے تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ ایک ہندو افسر اس کے بعد ایک دن اچانک وہ لڑکا محمد حنیف صاحب کے گھر آیا، اس نے بتایا کہ ہم کو دوبارہ نالی کی صفائی اور جھاڑو لگانے کا کام آپ کے جانے کے بعد دے دیا گیا ہے، جس سے آپ نے مجھے مستثنیٰ کر دیا تھا۔ محمد حنیف صاحب کو اس کا ملال ہوا اور انہوں نے مذکورہ ہندو افسر سے ٹیلیفون پر اس لڑکے کے بارے میں بات کی اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ اس لڑکے کی صفائی اور جھاڑو کے بجائے ڈسٹنگ کے کام پر ہی لگا رہنے دیں۔ محمد حنیف صاحب کے کہنے پر نئے افسر نے اس کو ڈسٹنگ کے کام پر بحال کر دیا۔

محمد حنیف صاحب اپنے دفتر میں ہر ایک کے ساتھ اسی طرح حسن سلوک کا معاملہ کرتے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ چھوٹے ملازمین سے لے کر بڑے افسروں تک ہر آدمی ان کی عزت

اسی طرح محمد حنیف صاحب اپنی سرکاری خدمات کو پوری دیانت داری کے ساتھ انجام برسوں کے تحت ان کو بار بار مزید مالی فائدے حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ حنیف صاحب اس قسم کی آمدنی سے مکمل طور پر دور رہتے ہیں۔ وہ اپنی جائز تنخواہ کے دائرہ میں زندگی گزارتے ہیں اور ناجائز آمدنی کو کبھی ہاتھ نہیں لگاتے۔

محمد حنیف صاحب کی اس قسم کی صفات ہی ان کا اصل سرمایہ ہیں۔ یہی وہ صفات ہیں جس نے ان کو مذکورہ قومی امتیاز کا مستحق بنایا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں ایک مسلمان کے لئے ہر قسم کے اعلیٰ مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ کارکردگی کا طریقہ اپنا لے۔ اس کے بعد اس کو اپنے ماحول سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہ

Printed page