حسد کا نقصان
Al-Risala, April 1999, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو الحسن علی سیف الدین آمدی ۵۵۱ھ میں پیدا ہوئے اور ۶۳۱ھ میں وفات پائی۔ اصول وغیرہ بغداد میں پڑھا۔ معقولات کی تحصیل شام میں کی اور اس میں کمال پیدا کیا۔ مصر گئے اور یہاں مدرسہ قرافہ میں نائب مدرس مقرر ہوئے۔ ان کے فضل و کمال کی شہرت روز بروز بڑھتی گئی لیکن یہی شہرت ان کے لئے مسئلہ بن گئی۔ ابن خلکان کا بیان ہے کہ ان کی بڑھی ہوئی مقبولیت نے فقہاء وقت کو ان کا دشمن بنا دیا یہاں تک کہ فقہاء نے ایک محضر تیار کیا جس میں ان پر بے دینی، الحاد، زندقہ، فلسفہ پرستی کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس محضر پر تمام فقہاء نے دستخط کئے۔ اور پھر اس کو خود علامہ آمدی کے پاس بھیجا کہ آپ بھی اس پر صاد کیجئے۔ علامہ موصوف نے اس پر یہ شعر لکھ دیا:
حسدوا الفتیٰ اذ لم ينالوا سعيه فالقوم اعداء لہ و خصوم انھوں نے جوان پر حسد کیا جب کہ وہ اس کے مرتبہ کو نہ پہنچ سکے۔ چنانچہ لوگ اس کے دشمن اور مخالف ہو گئے ہیں۔ (علم الکلام از علامہ شبلی نعمانی مطبوعہ اعظم گڑھ ۱۹۹۳، صفحہ ۸۰) اس قسم کی عداوت اور مخالفت ہر بڑے شخص کو اپنے ہم زمانہ لوگوں کی طرف سے پیش اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے شخص کا اعتراف کرنا انھیں اپنے قد کو چھوٹا کرنے کے ہم معنی دکھائی دیتا ہے۔ لوگ اس کی مخالفت کرنے کے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کا اعتراف کیا جائے۔ یہ نفسیات اتنی زیادہ بڑھتی ہے کہ لوگوں کو معاصر شخص میں کوئی خوبی دکھائی البتہ جب وہ شخص اس دنیا میں نہیں رہتا تو معاصرت اور رقابت کی نفسیات بھی ختم ہو جاتی ہے پھر دھیرے دھیرے لوگ اس کا اعتراف کر لیتے ہیں۔
اعلیٰ انسان وہ ہے جو ہر قسم کی نفسیاتی پیچیدگی سے پاک ہو۔ ایسا انسان اس قابل ہوتا ہے کہ وہ مجرد سطح پر حقیقت کو دریافت کر سکے۔ جب کہ دوسری قسم کے انسان کسی حقیقت کو صرف
اس وقت دیکھ پاتے ہیں جب کہ وہ اس قدر واضح ہو چکی ہو کہ کسی شخص کے لئے اس کا انکار ممکن ہی نہ رہے۔
اس دنیا کا نظام امتحان کے اصول پر بنایا گیا ہے یہاں کی ہر چیز اسی امتحانی مصلحت کے اس دنیا میں کوئی آدمی آپ سے چھوٹا ہوتا ہے اور کوئی آدمی آپ سے بڑا۔ قسم کے آدمی آپ کے لئے یکساں طور پر امتحان کا پرچہ ہیں۔ وہ اس لئے ہیں تاکہ وہ آپ کی اگر آپ ان کے مقابلہ میں صحیح رویہ اختیار کریں تو آپ کو انعام دیا جائے اور اگر آپ غلط رویہ اختیار کریں تو آپ سزا کے مستحق قرار پائیں۔
آپ کا امتحان یہ ہے کہ جب آپ کا سابقہ ایسے آدمی سے پڑے جو آپ سے چھوٹا اور کم ہو تو آپ اس کی عزت کریں۔ آپ اس کو وہی انسانی مرتبہ دیں جو آپ اپنے لئے چاہتے ہیں چھوٹے آدمی کو عزت دینا اپنے آپ کو خدا کی نظر میں بڑا بنانا ہے۔
اسی طرح جو آدمی آپ سے بڑا یا زیادہ ہو اس کے مقابلہ میں آپ کا امتحان یہ ہے کہ آپ اس سے حسد نہ کریں آپ اس کے فضل و کمال پر جلن میں مبتلا نہ ہوں۔ بلکہ اس کو جو کچھ ملا ہے اسے خدا کا عطیہ سمجھیں۔ اس کی حیثیت کا دل سے اعتراف کریں اور اگر ضرورت ہو تو اس کا ساتھ دے کر خود بھی نیکی میں شریک ہو جائیں۔
کمتر آدمی کو بے عزت کرنا اور برتر آدمی سے حسد کرنا بظاہر دوسرے کے خلاف ہوتا مگر اس کا نقصان خود اپنے آپ کو پہنچتا ہے۔ ایسا ہر رویہ خود اپنے خلاف ہے نہ کہ کسی دوسرے آدمی کے خلاف۔
مادی پہلو سے کسی کو اپنے سے چھوٹا پا کر اس کو حقیر سمجھنا کوئی سادہ بات نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پرچہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی کو اپنے سے بڑا پا کر اس سے حسد کرے تو یہ بھی کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا کھلا ہوا مطلب یہ ہے کہ اس آدمی کو خدا نے جو امتحانی پرچہ دے کر آزمایا تھا اس میں وہ بری طرح ناکام ہو گیا۔