حیوانی زندگی
Al-Risala, April 1999, pp. 21–26
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیا ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جن لوگوں نے انکار کیا وہ برت رہے ہیں اور کھا رہے ہیں جیسے کہ چوپائے کھائیں ، اور آگ ان لوگوں کا ٹھکانا ہے۔
انسان اور جانور حیاتیات کے اعتبار سے بالکل یکساں ہے۔ دونوں کے درمیان حیاتیاتی پہلو سے کوئی حقیقی فرق نہیں۔ پھر وہ کیا چیز ہے جو حیوان کو حیوان بناتی ہے اور انسان کو انسان کا درجہ عطا کرتی ہے۔ یہ صرف ایک فرق ہے، اور وہ یہ کہ انسان کو جو اعلیٰ ذہنی صلاحیت ملی ہوئی ہے وہ حیوان کو حاصل نہیں۔
حیوان صرف اپنی مادی ضروریات کے دائرے میں سوچتا ہے۔ کھانا، پانی، تحفظ اور بقا لئے نسل جیسی سادہ ضرورتیں ہی اس کی توجہ کا مرکز بنی ہوتی ہیں۔ اس قسم کی ضرورتوں سے اوپر اٹھ کر سوچنا اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔
مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ اعلیٰ ذہنی صلاحیت رکھتا ہے۔ (انسٹنکٹ) سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے، وہ مادیات سے اوپر اٹھ کر جینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آدمی اپنی ذہنی صلاحیتوں کو صحیح رخ پر استعمال کرے اور اپنے آپ کو ایک بلند تر مقصد حیات میں لگائے، وہی حقیقی معنوں میں انسان ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی مادی ضرورتوں کے دائرے میں محدود ہو کر رہ جائے، وہ صرف ایک حیوان کی مانند ہے۔ اس میں اور حیوان میں کوئی حقیقی
وہی انسان حقیقی انسان ہے جو اپنی سوچ اور اپنے کردار کے اعتبار سے اعلیٰ انسانی سطح پر یہی وہ انسان ہے جس نے اپنے بارے میں خالق کے منصوبہ کو پورا کیا۔
کنورژن کا مسئلہ اسلام اور کنورژن اسلام کنورژن کی حمایت کرتا ہے۔ مگر اسلام کے نزدیک کنورژن رسمی مفہوم میں محض تبدیلی مذہب (proselytism) کے ہم معنی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ذہنی انقلاب (intellectual revolution) یا روحانی تغیر (spiritual transformation) کے نتیجہ میں ایک شخص کی زندگی میں پیش آتا ہے۔ یہ سادہ طور پر ایک مذہبی ڈھانچہ سے نکل کر دوسرے مذہبی ڈھانچہ میں جانا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی نے اپنی تلاش و تحقیق کے ذریعہ سچائی کو دریافت کیا۔ اور پھر اپنے ذاتی فیصلے کے تحت ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کر لیا۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے ۶ ھ کے آخر میں اس زمانہ کے پڑوسی حکمرانوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے تھے۔ ان خطوط میں ان کو اسلام قبول کرنے کی براہ راست طور پر دعوت دی گئی مثال کے طور پر آپ نے باز نطینی حکمراں ہر قل (1-Heraclius) کے نام دعوتی مکتوب روانہ کیا تو اس میں یہ الفاظ لکھے۔ ”اسلم تسلم“ (اسلام لاؤ تم سلامتی پاؤ گے) اسی طرح مکہ میں جہاں کہیں لوگوں کا مجمع ہو تا وہاں جا کر آپ فرماتے ”ایھا الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا“ کہو کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں، تم فلاح پاؤ گے)
یہ بظاہر لوگوں کو مذہب بدلنے کی دعوت تھی۔ مگر قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقہً تبدیلی فکر کی دعوت تھی نہ کہ سادہ طور پر محض مذہب بدل لینے کی۔ دور اول میں عرب کے کچھ دیہاتی لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے جب کہ ان کے اندر گہرے قسم کی کردار ی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ان کے بارے میں قرآن میں یہ سخت آیت اتری۔ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اطاعت قبول کی،
اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (الحجرات ۱۴) اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کنورژن کا مطلب ایک انسان کی پوری زندگی کی تبدیلی ہے نہ کہ معروف معنوں میں صرف مذہب کی تبدیلی۔
اسی طرح قرآن میں یہود و نصاریٰ کے طریقہ پر نقد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: کہو کہ ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کیا۔ اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں (البقرہ ۱۳۸) یہود و نصاریٰ کے یہاں مذہب بدلنے کا ایک رسمی طریقہ رائج تھا جس کو اصطباغ یاپتسمہ (baptism) کہا جاتا ہے۔ اس رسم میں آدمی کو پانی میں غوطہ دیا جاتا تھا۔ وہ پانی کے رنگ کو پاکی کی علامت سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مذہبی پیشوا کے ذریعہ صاف پانی میں غوطہ دینے سے ایک ناپاک آدمی پاک ہو جاتا ہے اور اس طرح وہ نئے مذہب میں داخل ہو جاتا قرآن کی مذکورہ آیت میں کہا گیا کہ جسم کے اوپر ظاہری طور پر پانی ڈالنے سے کوئی شخص پاک نہیں ہوتا۔ پاکی یہ ہے کہ آدمی کی پوری شخصیت بدل جائے، اس کے اندر اللہ کا رنگ داخل ہو جائے، وہ اپنے قول و عمل میں پوری طرح خدائی طریقہ کو اختیار کرلے۔
اس معاملہ میں قرآن یہاں تک جاتا ہے کہ وہ رسمی تبدیلی مذہب کی سرے سے تصدیق ہی نہیں کرتا۔ قدیم مدینہ میں تقریباً تین سو آدمی ایسے تھے جو اسلام کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے تھے۔ وہ بظاہر نماز روزہ بھی کرتے تھے مگر یہ سب کچھ انھوں نے اوپری طور پر یا منافقانہ طور پر کیا تھا۔ ان کی اندرونی حالت ان کے ظاہری اقرار کے موافق نہیں تھی۔ وہ زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے تھے مگر قلبی کیفیت کے اعتبار سے ان کے اندر اسلام کی اسپرٹ موجود نہ تھی، ایسے لوگوں کے اسلام کو قرآن میں جھوٹا اسلام کہا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ : جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک تم اس کے رسول ہو، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔
قرآن کے مطابق تبدیلی مذہب سے مراد کیا ہے۔ اس کا اندازہ چند آیتوں کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ایک واقعہ کا ذکر ہے جب کہ تقریبا ستر عیسائیوں کے ایک مجمع میں قرآن کی آیتیں پڑھی گئیں۔ اس کو سن کر وہ لوگ تڑپ اٹھے اور اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: اور جب انھوں نے اس کلام کو سنا جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ہیں اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ
اسی طرح قرآن میں ایمان لانے والوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھادیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت ہیں اور ان کے لئے عزت کی روزی
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے نزدیک تبدیلی مذہب حقیقت میں وہ ہے جو معرفت (realisation) کے نتیجہ میں پیش آئی ہو، جب کہ ایک انسان کی تلاش حق اپنی تلاش کا قابلِ یقین جواب پالے۔ یہ پانا اس کے لئے اتنا گہرا تجربہ ہو کہ اس کا دل تڑپ اٹھے۔ اس کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں۔ اس کا پورا وجود اس سچائی کے رنگ میں ڈھل جائے۔ اس کے بعد وہ ایک نیا اور بالکل مختلف انسان بن جائے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کنورژن کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔
کنورزن کے معاملہ کو بتانے کے لئے دوسرے زیادہ با معنی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ طور پر قرآن جس دعوتی مشن کے تحت اتارا گیا ہے اس کا تذکرہ قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے : بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک ظاہر کرنے والی کتاب آچکی ہے۔ کے ذریعہ سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں اور اپنی توفیق سے ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لا رہا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی
اسی طرح جو لوگ قرآن کے مطالعہ سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوتے ہیں ان کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے: جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے وہ حق ہے ، کیا وہ اس کے مانند ہو سکتا ہے جو اندھا ہے۔ نصیحت تو عقل والے لوگ ہی قبول کرتے ہیں (الرعد ۱۹) اس آیت کے مطابق ، حقیقی کنورزن وہ ہے جو علم کی سطح پر واقع ہو، جس میں آدمی یہ محسوس کرتا ہو کہ وہ نہ جاننے کے مرحلہ سے نکل کر جاننے کے مرحلے میں داخل ہوا اسی لئے حدیث میں داخلہ اسلام سے پہلے کے دور کو ” جاہلیت “ کہا گیا ہے، یعنی بے خبری کا
اسی طرح قرآن میں مومن اور غیر مومن کے فرق کو موت کے بعد زندگی پانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ : کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، اس سے نکلنے والا نہیں۔
اس حقیقت کو قرآن میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ زمین کی تمثیل کے ذریعہ اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو زرخیز زمین ہری بھری فصل سے لہلہا اٹھتی ہے۔ اسی طرح جن افراد کے دلوں میں استعداد ہے وہ سچائی کو پا کر جاگ اٹھتے ہیں۔ ارشاد ہوا ہے: اور جو زمین اچھی ہے اس کی پیداوار نکلتی ہے اس کے رب کے
حکم سے اور جو زمین خراب ہے اس کی پیداوار صرف ناقض نکلتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی نشانیاں مختلف پہلوؤں سے دکھاتے ہیں ان کے لئے جو شکر والے ہیں۔
اس بات کو قرآن میں ایک اور مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے: کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے۔ اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک خراب درخت کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے۔ کوئی ثبات نہ ہو۔ اللہ ایمان والوں کو ایک پکی بات سے دنیا اور آخرت میں مضبوط کرتا ہے۔ ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے۔ اور اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ قرآن کی ان آیتوں میں اس فرق کو بتایا گیا ہے جو سچائی کو پائے ہوئے انسان اور سچائی کو نہ پائے ہوئے انسان کے درمیان ہوتا ہے۔ جو آدمی سچائی کو نہ پائے وہ گویا ایک جھاڑی کی مانند ہے جو زمین کے اوپر اگ آتی ہو۔ ایسی جھاڑی کچھ دن تک بے فائدہ طور پر زمین کے اوپر رہتی اور اس کے بعد وہ یا تو خود مٹ جاتی ہے یا اکھاڑ کر پھینک دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ایک مفید اور پھل دار درخت زمین کے اوپر اس طرح اگتا ہے جیسے کہ وہ زمین کے لئے ہے اور زمین اس کے لئے۔ وہ زمین اور فضا سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہوئے خوب ترقی کرتا ہے۔ لوگوں کو ہر قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ وہ زمین پر ایک مطلوب اور بامعنی وجود کے طور پر کھڑا ہوادکھائی دیتا ہے۔