Al-Risala · April 1999

پکنورزن آفاقی اصول

Al-Risala, April 1999, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملے کا ایک پہلو اور ہے جس کی طرف قرآن میں بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ کنورزن کا معاملہ محدود طور پر صرف مذہب کی تبدیلی کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک آفاقی موجودہ کائنات میں تمام ترقیاں اسی کنورزن کے طریقہ پر ظہور میں آئی ہیں۔

کائنات اپنی ابتدا میں ایک بند مادہ کی صورت میں تھی، پھر اس میں داخلی تغیر ہوا۔ یہ بند مادہ کھل کر پھیلنا شروع ہوا یہاں تک کہ موجودہ وسیع کائنات بن گئی۔ ۳۰)زمین سوکھی پڑی ہوئی ہوتی ہے پھر بارش کے ذریعہ اس میں تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ چٹیل میدان ہری بھری فصلوں اور شاداب درختوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

اسی طرح کچھ بظاہر غیر ذی روح اجزاء ایک مادہ کے بطن میں مخصوص تغیرات کے مراحل سے گزرتے ہیں یہاں تک کہ وہ ایک مکمل قسم کے ذی روح وجود کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس کا نتیجہ چلتے پھرتے انسان اور چلتے پھرتے حیوان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے(الانہام ۹۶)اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گائے کے پیٹ میں گھاس اور دانہ داخل ہوتا ہے۔ وہ اس کے اندر ایک قدرتی نظام کے تحت کچھ تغیراتی مراحل سے گزرتا ہے یہاں تک کہ وہ دودھ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو انسان کے لئے ایک نہایت قیمتی غذا ہے۔ (النحل ۶۶) وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے قدرتی مظاہر کی مثال دے کر قرآن میں یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ یہ دنیا کنورزن کے عالمی اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر قسم کی ترقیاں ہمیشہ تغیراتی عمل(process) سے گذر کر وقوع میں آتی ہیں۔ ایک چیز اپنی ابتدائی حالت میں کچھ ہوتی ہے، اور پھر اس پر تغیر و تبدل کا عمل واقع ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ چیز ایک نئی بہتر چیز بن جاتی ہے۔ ........ دو قسم کے بادلوں کے ٹکراؤ سے نائٹروجن کا پیدا ہونا، دو قسم کی گیسوں کے ملنے سے پانی کا وجود میں آنا، خام لوہے کا متغیر ہو کر اسٹیل بن جانا۔ مختلف قسم کے کیمیکل کی آمیزش سے نئی نئی مفید دھاتوں کا بننا،

یہ سب وسیع تر معنوں میں کنورزن کی مثالیں ہیں۔ یہی کنورزن انسانی افکار کی دنیا میں بھی کار فرما ہے۔ اس دنیا میں مسلسل طور پر افکار کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے۔ اسی ٹکراؤ کے عمل سے ایک فکر بدل کر دوسرے بہتر فکر کی صورت اختیار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا میں سینکڑوں سال تک شمسی نظام کے بارے میں زمین مرکزی نظریہ (geo-centric theory) کا

پھر فکری تصادم کے نتیجہ میں اس میں تغیر شروع ہوا۔ یہاں تک کہ زمین مرکزی نظریہ کو علمی دنیا میں رد کر دیا گیا اور اس کی جگہ آفتاب مرکزی نظریہ(helio-centric theory) کو زیادہ صحیح قرار دے کر اس کو قبول کر لیا گیا وغیرہ۔

افکار کی دنیا میں اسی کنورژن کی ایک مثال وہ ہے جس کو ند ہی کنورژن کہا جاتا ہے۔ اعتبار سے مذہبی کنورژن فطرت کی وسیع تراسقیم کا صرف ایک جز ہے۔ یہ جز بھی اتناہی مطلوب اور ضروری ہے جتنا کہ اس کا کل۔

حقیقت یہ ہے کہ کنورژن فطرت کا قائم کردہ ایک عالم گیر قانون ہے۔ مادی دنیا کی تمام ترقیاں اسی کنورژن کے اصول پر ہو رہی ہیں۔ زندہ اشیاء (اننسان اور حیوان) کا جسمانی ارتقا تمام تر اسی کنورژن کے اصول پر ہوتا ہے۔ اسی طرح افکار کی دنیا میں ہزاروں سال سے جو ترقیاں ہو رہی ہیں وہ سب کی سب اسی کنورژن کے اصول کو اختیار کرنے کی بنا پر ہو رہی ہیں۔ چیز کو حق پا کر پوری طرح اختیار کر لینا۔ اس دنیا کا کوئی بھی ترقیاتی واقعہ اس کنورژن کے بغیر ممکن یہی معاملہ مذہب کا بھی ہے جو کہ روحانی سچائی کا دوسرا نام ہے۔ وہی مذہب کسی انسان کا مذہب بن سکتا ہے جس کو کسی آدمی نے ذاتی تلاش کے نتیجہ میں دریافت کیا ہو۔ مذہب کا نہایت گہرا تعلق یقین سے ہے اور یقین کا تعلق دریافت (discovery) سے۔ دریافت کے بغیر یقین نہیں ، اور یقین کے بغیر مذہب نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر سچے مذہب کے ماحول میں پیدا ہو تب بھی وہ صرف آبائی تعلق کی بنا پر اس مذہب کو نہیں پا سکتا۔ مذہب کو بطور ایک یقینی صداقت کے پانا اس کے لئے صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ وہ خود اپنے مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اس کو پائے، وہ ایک معلوم چیز کو دوبارہ دریافت(re-discover)کرے۔

Printed page