Al-Risala · April 1999

کنورژن کی حقیقت

Al-Risala, April 1999, pp. 28–31

By Maulana Wahiduddin Khan

کنورژن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی کچھ رسمی الفاظ ادا کرے ۔ اور اپنا نام بدل کر ایک

کلچرل گروپ کو چھوڑ کر دوسرے کلچرل گروپ میں شامل ہو جائے۔ کنورژن کا مطلب تبدیلی مذہب نہیں بلکہ تبدیلی شخصیت ہے۔ کنورژن یہ ہے کہ ایک آدمی تلاش حقیقت میں سرگرم تحقیق و جستجو کے تمام مراحل سے گزرے اور پھر اس کے نتیجہ میں اس کے اندر ایک نئی شخصیت کا ارتقاء ہو۔ کنورژن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نئی شخصیت کے ظہور کا نام ہے۔ ایسی ایک شخصیت کا بننا انسانی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ جب کسی سماج میں بڑی تعداد میں پیدا ہو جائیں تو وہ تاریخ کا عظیم ترین کارنامہ ظہور میں لاتے ہیں۔ کنورژن در حقیقت ڈسکوری (دریایفت) کے نتیجہ میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔ عظیم ڈسکوری کے بعد آدمی وہی نہیں رہتا جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ اب وہ مکمل طور پر ایک نیا انسان اسی قسم کی انقلابی تبدیلی کا نام کنورژن ہے۔ یہ تمام تر ذاتی فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ خارجی لالچ یا دباؤ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

کنورژن کا مطلب یہ ہے کہ ایک نہ پایا ہوا انسان پایا ہوا انسان بن جائے۔ ایک بے خبر انسان باخبری کے دور میں پہنچ جائے۔ ایک سویا ہوا انسان اپنے حواس کے ساتھ جاگ اٹھے۔ ایک شخص جو اندھے پن میں جی رہا تھا وہ بینا بن کر جینے کے قابل ہو جائے۔ ایک شخص جس کو اپنی کوششوں کا مرکز نہیں ملا تھا اس کو اپنی کوششوں کا ایک معلوم مرکز مل جائے۔ ایک شخص جو محدود دنیا میں جی رہا تھا وہ لا محدود دنیا میں داخل ہو کر سانس لینے لگے۔ ایک شخص جو صرف اپنے جسم کے دائرہ میں جی رہا تھا وہ اس سے اوپر اٹھ کر فکر کی اعلیٰ سطح پر جینے کا سامان کرلے۔ شخص جو بے مقصد حالت میں بھٹک رہا تھا اس کو با مقصد زندگی کا راز معلوم ہو جائے۔ ایک صحت مند تاریخی عمل غالباً ۱۹۹۰ء میں میں نے ایک ہندوستانی رائٹر کی ایک کتاب پڑھی تھی۔ اس کا نام کنورژن کی سیاست (Politics of Conversion) تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے کہا کہ اس کتاب سے مجھ کو صرف ایک اختلاف ہے۔ وہ یہ کہ کتاب کا نام (ٹائٹل) درست نہیں۔ اس کا صحیح نام

ہونا چاہئے: کنورژن کو سیاسی بنانا (Politicisation of Conversion) یعنی ایک سادہ فطری حقیقت کو سیاسی رنگ دے کر اس میں غیر ضروری طور پر سنسنی خیزی پیدا کرنا۔ کنورژن کیا ہے۔ عام طور پر کنورژن کو مذہب بدلنے (proslytisation) کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ کنورژن اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کنورژن فطرت کا ایک آفاقی قانون ہے۔ وہ ایک صحت مند تاریخی عمل ہے جو ناگزیر طور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ کنورژن کو روکنے کی کوشش کرنا گویا تاریخ کو روکنے کی کوشش کرنا ہے اور کوئی بھی اتنا طاقتور نہیں کہ وہ تاریخ کے عمل کو روک سکے۔ کنورژن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دو چیزوں کے ٹکراؤ سے ایک اور چیز کا پیدا ہونا ہے۔ یہ فطرت کا قائم کردہ ایک آفاقی قانون ہے جو خود اپنے زور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔

انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عمل اس کے اندر ہمیشہ جاری رہتا کارل مارکس نے اس کو غلط طور پر جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) سے تعبیر کیا تھا۔ زیادہ صحیح طور پر یہ ڈائیلاگ۔ کنورژن پر اس کا ہے۔ یعنی جب دو فکری نظام کے درمیان بحث و تبادلہ ہوتا ہے تو اس کے بعد ایک فکری انقلاب برآمد ہوتا ہے۔ کنورژن پر اس کا یہ عمل ہی تمام انسانی ترقیوں کا واحد زینہ ہے۔ دنیا میں کوئی تہذیبی انقلاب آیا ہے یا کسی انسانی گروہ نے اٹھ کر کوئی تخلیقی کارنامہ انجام دیا ہے تو وہ ہمیشہ اسی ڈائیلاگ۔ کنورژن پر اس ہی کے ذریعہ ظہور میں آیا ہے۔

اس عمل کی کوئی ایک صورت نہیں۔ یعنی یہ مذہبی بھی ہو سکتا ہے اور غیر مذہبی بھی۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار سال کی تاریخ میں اس کی دو بڑی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ایک مذہبی کنورژن کی صورت میں اور دوسری سیکولر کنورژن کی صورت میں۔

عربوں کی تاریخ مذہبی کنورژن کی مثال ہے۔ چھٹی صدی عیسوی تک عرب ایک مشرکانہ نظام کے تحت محدود قبائلی زندگی گزار رہے تھے۔ اس کے بعد ساتویں صدی کے آغاز

میں اسلام یعنی دین توحید کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد دین شرک اور دین توحید کے درمیان زبردست ڈائیلاگ شروع ہوا۔ (بحث و مباحثہ) یہ ڈائیلاگ مزید شدت اختیار کر کے جارحانہ تصادم تک پہنچ گیا۔ اس ڈائیلاگ اور تصادم کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ عربوں کے اندر ایک نئی سوچ بڑھتے بڑھتے وہ ایک عظیم فکری انقلاب بن گئی۔

اس ذہنی انقلاب یا اس فکر نو کی دریافت کا نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں کے اندر ایک نئی شخصیت ایک یورپی مورخ کے الفاظ میں، ان میں کا ایک ایک شخص اس طرح انقلابی شخصیت بنا کہ پوری قوم ہیروز کی ایک قوم (a nation of heroes) بن گئی۔ ہیروز کی اس قوم نے صرف پچاس سال کے اندر وہ تاریخی واقعہ برپا کیا جس کو ایک مورخ نے (miracle of all miracles) معجزات کا معجزہ قرار دیا ہے۔ بری فالٹ نے اس کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے کہ عربوں کے بغیر جدید مغربی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہیں آسکتی تھی۔

But for the Arabs, the western civilization would never have arisen at all. دوسری مثال یورپ کی مسیحی قوموں کی ہے۔ صلیبی جنگوں (کروسیڈس) کے بعد کئی سو سال کے تاریخی عمل کے دوران یہاں بھی ایک کنورژن ہوا۔ یہ کنورژن مذہبی نہیں تھا بلکہ ایک قسم کا سیکولر کنورژن تھا۔ چرچ اور سائنس کے درمیان زبردست مقابلہ پیش آیا۔ کی ایک روداد مندرجہ ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے:

Printed page