Al-Risala · April 1999

Conflict between Science and Religion

Al-Risala, April 1999, pp. 31–34

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مقابلہ ڈائیلاگ اور ٹکراؤ کی صورت میں کئی سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ یورپی قوموں کے اندر ایک نیا فکری انقلاب آیا جس میں انھوں نے قدیم کو چھوڑا اور جدید کو اختیار کر لیا۔ اس انقلاب کو عام طور پر نشاۃ ثانیہ (renaissance) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس انقلاب نے یورپی قوموں کو اس قابل بنایا کہ وہ تاریخ کا عظیم ترین کارنامہ انجام وہ تاریخ انسانی کو روایتی دور سے نکال کر سائنسی دور میں پہنچا دیں۔ اصل یہ ہے کہ

انسان کا دماغ لامحدود طاقتوں کا ایک قدرتی خزانہ ہے۔ عام حالات میں یہ دماغ سویا ہوا رہتا ہے۔ صرف خارجی جھٹکے ہیں جو اس کو بیدار کرتے ہیں۔ یہ شاک ٹریٹمنٹ کا ایک عمل ہے۔ شاک ہو اتنا ہی بڑا ذہنی انقلاب انسان کے اندر پیدا ہوگا۔ یہ شاک ٹریٹمنٹ انسان کے اندر وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کو نفسیات کے علماء دماغی طوفان (brain storming) کہتے ہیں۔ طوفان آدمی کے اندر ایک نئی فکری تبدیلی، ایک نیا کنورژن وجود میں لاتا ہے۔ یہ کنورژن کسی قوم کے افراد کو ایک عام انسان سے اٹھا کر غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے اور پھر وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کارنامہ انجام دے سکے۔

مذہبی کنورژن اس پورے عمل کا ایک چھوٹا سا جز ہے۔ تاہم جب ڈائیلاگ۔ پر اس چلتا ہے تو اس کو کسی حد کا پابند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ لوگ فلاں فلاں قسم کا کنورژن کریں، اور مذہبی کنورژن نہ کریں۔ یہ ایک لامحدود سیلابی عمل ہے۔ سیلاب جب آتا ہے تو وہ کسی حد بندی کو قبول نہیں کرتا۔

جہاں تک مذہبی کنورژن کا تعلق ہے وہ صرف غیر مذہب کو قبول کرنے کے ہم معنی حقیقت یہ ہے کہ مذہبی کنورژن کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک انزی فیتھ کنورژن، دوسری انٹر فیتھ کنورژن۔ مثال کے طور پر سوامی وویکانند پہلے ایک ماڈرن قسم کے نریندر نا تھ پھر رام کرشنا پرم ہنس سے ان کا ذہنی ٹکراؤ ہوا جس کے بعد وہ سوامی وویکانند بن گئے۔ داخلی کنورژن (انزی فیتھ کنورژن) کی ایک مثال ہے۔

اس طرح اسی زمانہ کے ایک اور بنگالی ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے (وفات تاریخ) کا فکری تصادم مختلف مذاہب سے ہوا۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ انھوں نے پہلے فلسفہ کا مطالعہ اس کے بعد انھوں نے ایک درجن بڑے بڑے مذاہب کا مطالعہ کیا۔ آخر میں وہ ایک فکری دریافت تک پہنچے۔ انھوں نے اپنے آبائی مذہب ہند وازم کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ اور اپنا نام عزیز الدین رکھا۔ انھوں نے اپنے اس فکری ارتقاء کی داستان ایک کتاب کی صورت میں لکھی ہے

جس کا نام یہ ہے :

یہ انٹر فیتھ کنورژن کی ایک مثال ہے۔ Why I have Embraced Islam یہ کنورژن کوئی یک طرفہ عمل نہیں ہے۔ یہ دو طرفہ بلکہ کئی طرفہ طور پر چلتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں کچھ ہندوؤں نے اپنا مذہب بدل کر مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا ہے جب کہ یورپ اور امریکہ میں ہزاروں مسیحی اپنے مذہب کو چھوڑ کر ہندو بن گئے۔ آج دنیا میں انگریزی میں نکلنے والا سب سے بڑا ہند و اخبار امریکہ سے نکلنے والا انڈیا ابراڈ (India Abroad) ہے۔ اور اس کا مالک اور ایڈیٹر ایک ہندو کنورٹ ہے۔ انھوں نے مسیحیت کو چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لیا اور پھر یہ انٹر نیشنل اخبار نکالا۔

کسی قوم کو دوبارہ اٹھانے کے لئے عام طور پر تحریک احیا (revivalism) پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ یعنی قوم کے ماضی کو یاد دلا کر اس کو دوبارہ زندہ کرنا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کی احیائی تحریک کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ تاریخ میں غالباً کوئی ایک بھی قابل ذکر مثال موجود نہیں جب کہ صرف احیائے ماضی کی تحریک کے ذریعہ کوئی قوم دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ زندہ ہو کر کھڑی ہو گئی ہو۔ اس کی ایک مثال ہندوستان ہے۔ ہندوستان میں ہندو قوم کو بیدار کرنے کے لئے پچھلے کئی سو سال سے مسلسل احیائی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس میں بہت بڑی بڑی شخصیتوں کے راجہ رام موہن رائے ، سوامی وویکانند ، آرووند و ، مہاتما گاندھی وغیرہ۔ مگر لمبی مدت کی جدوجہد کے باوجود اس رخ پر ایک فی صد بھی کامیابی نہ ہو سکی۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کا الٹا نتیجہ برآمد ہوا۔

آزادی کے دور میں پہنچ کر ہندو سماج میں اخلاقی اقدار کا وہ نظام بھی باقی نہ رہا جو پہلے اس کے اندر پایا جاتا تھا۔ پہلے ایک جھوٹ بولنے پر یدھشتر کا اڑنے والا رتھ زمین پر گر پڑتا تھا ، مگر آج کے یدھشتر صبح وشام جھوٹ بولتے ہیں اس کے باوجود ان کار تھ نہایت تیزی کے ساتھ بلند فضاؤں میں اڑ رہا ہے۔ ماضی کے برعکس، آج کا ہندوستانی سماج صرف ایک کر پشن (بھرشٹاچار) کا

سماج بن گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے اندر انقلابی روح کبھی بھی ''ماضی کی طرف واپسی‘‘ سے نہیں پیدا ہوتی۔ یہ صرف جدید کی دریافت سے پیدا ہوتی ہے۔ انقلابی شخصیت کا ظہور قدیم کی طرف واپسی سے نہیں ہوتا بلکہ جدید کی طرف اقدام سے ہوتا ہے اور احیائی تحریک اپنی آخری تعریف کے مطابق صرف قدیم کی طرف واپسی کے ہم معنی ہے۔ وہ جدید کی دریافت یا جدید کی طرف اقدام کے ہم معنی بلاشبہ نہیں۔

سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ ہندو قوم ورلڈ لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر یہ انقلابی واقعہ ''احیا ماضی‘‘ جیسی کسی تحریک کے ذریعہ ظہور میں نہیں آسکتا جیسا کہ اب تک نہیں ہوا۔ ایسا واقعہ جب بھی پیش آئے گاوہ جدید کی دریافت یا نئے فکری انقلاب کے خواہ یہ فکری انقلاب مذہبی کنورژن کی صورت میں ہو یا سیکولر کنورژن کی صورت میں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کنورژن کا یہ واقعہ صرف انفرادی سطح پر نہ ہو بلکہ عوامی سطح پر ہو۔ وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی قوم کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے اور تاریخ عالم میں اپنا نام روشن کرے۔ خلاصہ یہ کہ کنورژن محدود طور پر مذہبی تبدیلی کا معاملہ نہیں، یہ دریافت نو کا معاملہ اور نفسیات اور تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی فرد یا کسی قوم کو متحرک کرنے کے لئے نیز اس کے اندر اخلاقی انقلاب لانے کے لئے سب سے زیادہ جو چیز مؤثر ہوتی ہے وہ یہی دریافت یہ احساس کہ میں نے ایک ایسی سچائی دریافت کی ہے جواب تک مجھے معلوم نہ تھی انسان کی تمام سوئی ہوئی طاقتوں کو جگادیتا ہے۔ وہ ایک عام انسان کی سطح سے اٹھ کر ایک ہیرو انسان بن جاتا ہے۔ اسی قسم کے ہیرو انسان ہیں جو سمندروں میں چھلانگ لگاتے ہیں، جو پہاڑوں کو پھاند جاتے ہیں، جو اپنے ہیروانہ کردار کے ذریعہ تاریخ کو نئے دور میں داخل کر دیتے آج انسانی تاریخ دوبارہ ایک تعطل (deadlock) سے دوچار ہے۔ تاریخ کو دوبارہ انتظار ہے کہ کوئی قوم دریافت نو کے تجربہ سے گزرے۔ وہ نئی انسانی طاقتوں سے بھرپور ہو کر تاریخ انسانی کو وہ دھکا دے جو اس کو ایک نئے اور بہتر دور میں پہنچادے۔

Printed page