توہین کو برداشت کرنا
Al-Risala, January 1999, pp. 20–22
By Maulana Wahiduddin Khan
مشہور سیرت نگار ابنِ اسحق بتاتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کا نام مذمم پھر وہ آپ کا سب و شتم کرتے تھے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں سے فرماتے تھے کہ کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ اللہ نے کس طرح مجھ کو قریش کی ایذا رسانی سے بچالیا۔ وہ سب و شتم کرتے ہیں اور ایک مذمم شخص کی ہجو کرتے ہیں اور میں
وكانت قريش انما تسمی رسول الله ﷺ مذمما ثم يسبونه فكان رسول الله ﷺ يقول: ”الا تعجبون لما صرف الله عنی من اذی قريش يسبون ويهجون مذمما وانا محمد“ (سيرت ابن هشام (۱/ ۳۷۹)
پیغمبر اسلام ﷺ کا اصل نام محمد تھا جس کا مطلب ہے تعريف کيا ہوا۔ مکی دور میں جب قريش کو آپ کے ساتھ عناد پيدا ہوا تو انھیں پسند نہيں آيا کہ وہ آپ کو محمد (تعريف کیا ہوا) جیسے نام سے پکاریں۔ انھوں نے اپنے جذبہ عناد کی تسکین کے لئے بطور خود آپ کا نام مذمم رکھ دیا جس کے معنی ہیں مذمت کیا ہوا۔ قريش جب آپ کو برا بھلا کہتے تو وہ آپ کے لئے محمد کا لفظ استعمال نہ کرتے بلکہ وہ مذمم کا لفظ بول کر آپ کو برا بتاتے۔ ابولہب کی بیوی ام جمیل نے خود آپ کے سامنے آکر کہا: مذمما عصینا (صفحہ ۳۷۹) یعنی یہ مذمم ہیں اور ہم ان کو نہیں مانتے۔
یہ بلاشبہ ایک اشتعال انگیزی تھی اور آپ کی توہین بھی۔ لیکن پیغمبر اسلام نے ایک خوبصورت جواب دے کر اس کو نظر انداز کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ مذمم کی سب و شتم کرتے ہیں۔ مگر ان کی سب و شتم میرے اوپر پڑنے والی نہیں کیوں کہ میرا نام محمد ہے نہ
پیغمبر اسلام ﷺ ہجرت کرکے مدینہ آئے تو یہاں عبداللہ بن ابی آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ اس نے اگرچہ اسلام قبول کر لیا تھا مگر حسد کے جذبہ کے تحت وہ آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ آپ کی توہین کرنا، آپ کا سب و شتم کرنا اور آپ کے خلاف بری باتیں پھیلانا اس کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ وہ سب سے بڑا شاتم رسول حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو قتل
آپ نے فرمایا: دعہ لا يتحدث الناس ان محمدا يقتل اصحابه (فتح الباری ۸/ ۵۲۰) یعنی اس کو چھوڑ دو۔ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے
اس واقعہ سے پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک خاص اسوہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ...... توہین کو برداشت کر لو۔ کیونکہ اگر تم نے توہین کو برداشت نہ کیا تو اس سے بھی زیادہ بڑی برائی سامنے آئے گی، اور وہ خدا کے دین کی بدنامی ہے۔