Al-Risala · April 1999

سوال و جواب

Al-Risala, April 1999, pp. 38–42

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے وجود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر خدا نہ ہو تا تو کائنات کو کون پیدا کرتا۔ یہ ہے کہ اگر خدا نے کائنات کو پیدا کیا تو خود خدا کو کس نے پیدا کیا (خوشونت سنگھ، دہلی) یہ ایک غلط قیاس ہے۔ موجودہ زمانہ میں کائنات کے سائنسی مطالعہ سے یہ ثابت ہوا کہ کائنات خود اپنے آپ کو پیدا نہیں کر سکتی۔ ضرورت ہے کہ کائنات کے باہر اس کا کوئی موجد یا خالق پایا جاتا ہو۔ مثال کے طور پر بگ بینک کا نظریہ یہی بتاتا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، کائنات ایک خارجی دھماکہ سے وجود میں آئی ہے۔ علمی اور عقلی طور پر دیکھا جائے تو ایسی حالت میں ہمارے لئے انتخاب (choice) با خدا کائنات اور بے خدا کائنات میں نہیں۔ بلکہ باخدا کائنات اور غیر موجود کائنات میں ہے۔ ہم مجبور ہیں کہ کائنات کو موجود مانیں، اس لئے ہم مجبور ہیں کہ خدا کے وجود کو بھی مانیں۔ خدا کے وجود کو مان کر ہم کائنات کے وجود کی توجیہہ پا لیتے ہیں۔ جب کہ خدا کے وجود کو نہ ماننے کی صورت میں خود کائنات بلا توجیہہ رہ جاتی ہے، اور علمی طور پر یہ توجیہہ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ آپ دعوتی نقطہ نظر سے ایک کام کر رہے ہیں لیکن اسی کے ساتھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلم دشمن عناصر کے لئے مواد فراہم کرتے ہیں۔ مثلاً جا بجا مسلمانوں کی خامیوں کا ذکر کرنا وغیرہ۔ اس سے انھیں موقع ملتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو مطعون کر سکیں ۔ آپ کو اس سے احتراض کرنا چاہئے۔ (خالد ندوی، دہلی)

الرسالہ کا مقصد خاص طور پر مسلمانوں کی اصلاح ہے۔ اسی لئے میں الرسالہ کو ایک نصیحت نامہ نصیحت کا یا اصلاح کا طریقہ کیا ہے اس کو جاننے کا واحد ذریعہ قرآن ہے۔ نصیحت یا اصلاح کے بارے میں قرآن کا جو اسلوب ہے وہی اسلوب میں نے اختیار کیا ہے۔ اور قرآن کا اسلوب اس معاملہ میں یہی ہے کہ جہاں کوئی داخلی کو تاہی نظر آئے اس کو کھلے طور پر ظاہر کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مذکورہ

قسم کے اندیشے کا لحاظ کرنا قرآنی اسلوب کے سراسر خلاف ہے اور اسی لئے بے فائدہ بھی۔ طور پر غزوہ بدر کے بعد دشمنوں کے ستر آدمی گرفتار ہو کر مدینہ آئے۔ چند صحابہ (حضرت عمر فاروق اور حضرت سعد بن معاذؓ) کی رائے یہ تھی کہ ان کے جنگی جرم کی بنا پر انھیں قتل کر دیا جائے۔ صحابہ بشمول حضرت ابو بکرؓ اور خود رسول اللہ ﷺ کی رائے یہ ہوئی کہ فدیہ لے کر انھیں چھوڑ دیا اس پر اللہ تعالیٰ کا عتاب اترا اور فرمایا گیا کہ ۔ تم دنیا کا مال چاہتے ہو اللہ چاہتا ہے آخرت (الانفال ۶۷) یہ آیت بظاہر یہ بتاتی ہے کہ صحابہ کی اکثریت خدا خواہستہ حب مال میں مبتلا ہو گئی تھی۔ نصیحت کا مذکورہ معیار درست ہو تو قرآن کو مسلمانوں کی اس کمزوری کا اس طرح اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا کیوں کہ اس طرح اغیار کو یہ کہنے کا موقع مل رہا تھا کہ تم لوگوں کی ساری جدوجہد مال کے لئے ہے۔ اس اندیشے کے باوجود قرآن میں مذکورہ تنبیہ نازل کی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق نصیحت کے معاملہ میں مذکورہ قسم کا اندیشہ سراسر غیر معتبر ہے۔ اس معاملہ میں حقیقت حال کو جیسا ہے ویساہی بیان کیا جائے گا۔ اس معاملہ میں اخفا کا طریقہ اختیار کرنا اگر مطلوب ہوتا تو قرآن میں مذکورہ آیت ہرگز نازل نہ ہوتی (اس طرح کی کئی اور مثالیں قرآن میں موجود ہیں)

آپ کہتے ہیں کہ اسلام کی پرامن تبلیغ ہونی چاہئے۔ مگر نبیوں کے واقعات بتاتے ہیں کہ ہر نبی کو وقت کے اقتدار سے سنگھر ش کرنا پڑا۔ ہمیشہ حق کو باطل سے مقابلہ آرائی کرنا پڑا اس لئے پرامن تبلیغ کس طرح ہو سکتی ہے (شکیل احمد، ورور مہاراشٹر)

ہر نبی نے اقتدار کے خلاف جنگ کی ۔ یہ خود ساختہ مفروضہ ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ جنگ کا تعلق دعوت سے نہیں بلکہ دفاع سے ہے۔ ناگزیر حالات میں حسب استطاعت دفاع کیا جاتا ہے۔ کسی نبی کی تاریخ میں اگر جنگ کا واقعہ پیش آیا تو وہ خارجیت کے خلاف دفاع کے لئے تھا نہ کہ اپنے پیغام کی اشاعت کے لئے۔ اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ پیغمبر کا اپنے ہم عصر لوگوں سے جو ٹکراؤ پیش آیا وہ ایک زمانی چیز تھی۔ قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا اس لئے ہر مذہب کو دوسرے مذہب کے مقابلہ

میں تشدد کا تجربہ پیش آتا تھا۔ مگر اب آزادی فکر کا زمانہ ہے۔ اب اظہار رائے کی آزادی کو ہر انسان کا لازمی حق سمجھا جاتا ہے اس لئے اب اگر صحیح اسلوب میں دعوت کا کام کیا جائے تو عملاً متشددانہ ردِ عمل پیش آنے کا کوئی امکان نہیں۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : کان حقا علینا نصر المومنین (الروم ۴۷) اس آیت کا ترجمہ حضرت شیخ الہند نے اس طرح کیا ہے: اور حق ہے ہم پر مدد ایمان والوں کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکل اوقات میں خدا نصر اور اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس کو اپنے اوپر اہل ایمان کا حق سمجھتا مگر ہم دیکھتے ہیں پچھلی کئی نسلوں سے مسلمان تقریباً ساری دنیا میں اغیار کی زیادتیوں کا مسلسل شکار ہو رہے ہیں مگر ان پر خدا کی وہ مدد نہیں آتی جو زیادتیوں کا یہ سلسلہ ختم کردے اور مسلمانوں کو دوبارہ سر بلند کردے اور اس طرح ہمارے اوپر خدا کا وعدہ پورا ہو۔ (عبد الرحیم امدادی، مرشد آباد) اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ بلاشبہ بر حق ہے۔ مگر اس آیت میں مومنین کے لفظ سے مراد عمومی مفہوم میں مسلم ملت یا مسلم قوم نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو خدا کے اس مطلوب مشن کو لے کر اٹھیں جس کو رسول اللہ کے زمانہ کے اہل ایمان لے کر اٹھے اور اس میں اپنی جان و مال کی قربانی دی تھی۔ جب اہل ایمان کا کوئی گروہ اس قسم کا ربانی مشن لے کر اٹھے اور کچھ لوگ اس کو چیلنج کریں تو ان کا یہ چیلنج خود خدا کے خلاف چیلنج کے ہم معنی ہوتا ایسے لوگوں کی مخالفانہ کارروائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے خدا کے خلاف ہوتی ہے نہ کہ محض اہل ایمان کے خلاف۔ یہی وجہ ہے کہ خدا ایسے اہل ایمان کی مدد پر آ جاتا ہے۔ کے مسلمانوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کی ان مقابلہ آرائیوں میں خواہ اسلام کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے، ہر حال میں وہ مسلمانوں کی اپنی قومی یا سیاسی لڑائیاں ہیں۔ خدا کا نہ کورہ وعدہ موجودہ قسم کی قومی لڑائیوں پر نہیں ہے بلکہ وہ اصحاب رسول جیسی خالص دینی جد و جہد کے اوپر ہے۔

قرآن کی آیتوں میں بالکل واضح ہے مثال کے طور پر فرمایا کہ ” ان تنصروا اللہ ينصر کم“ (محمد ۷) یعنی اگر تم اللہ والا کام کرنے کے لئے اٹھو گے تو اللہ تمہاری مدد کر کے تم کو کامیاب اس سے واضح ہے کہ مدد کا وعدہ اللہ والے کام پر ہے نہ کہ مسلمانوں کے اپنے قومی

کیا آپ اس حقیقت سے انکار کریں گے کہ ہندوؤں ہی کی طرح انگریز بھی ہمارے مددعو آخر ان کو ملک سے نکال باہر کرنے کی تحریک کس دعوتی جذبے کے تحت درست قرار دی غالباً آپ اس پر اس لئے تنقید نہیں کرتے کہ یہ ایک ناگزیر تاریخی عمل تھا۔ نزدیک یہی اصول تحریک پاکستان کے معاملہ میں بھی کارفرما ہے (طالب محسن، لاہور) ہندستان میں ملکی آزادی کی جو تحریک چلائی گئی اس میں اگر چہ علما بڑی تعداد میں شریک مگر میں اس کو کوئی اسلامی تحریک نہیں سمجھتا۔ اور نہ اس کے لئے جہاد آزادی کے لفظ کا استعمال شرعاً درست سمجھتا ہوں۔ یہ بات میں نے بار بار الرسالہ میں اور اپنی کتابوں میں لکھی میرے نزدیک آزادی کی یہ تحریک ایک قومی تحریک تھی۔ اور اسی اعتبار سے اس کا جواز اگر پاکستان کی تحریک کے بارے میں یہ مان لیا جائے کہ وہ ایک قومی تحریک تھی نہ کہ کوئی اسلامی تحریک تو اس کے بارے میں بھی میری رائے مختلف ہو جائیگی۔ میں نے بار بار لکھا ہے کہ جن علما نے انگریزوں کے خلاف سیاسی آزادی کی تحریک چلائی انہیں انگریزوں کے معاملہ میں دعوتی تحریک چلانا چاہئے تھا۔ اسی طرح جن مسلم رہنماؤں نے ہندو مسئلہ کے خلاف علیحدہ پاکستان کی تحریک چلائی، ان کے لئے بھی زیادہ صحیح یہ تھا کہ وہ ہندوؤں کے مقابلہ میں دعوت کی میری ایک ہی رائے دونوں قسم کے مسلم رہنماؤں کے بارے میں ہے۔

آپ کہتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ مگر قرآن میں اس کا بالکل الٹا ہے۔ مسلمانوں کو قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو مارو۔ کی مقدس کتاب ہے۔ پھر اسلام امن کا مذہب کیسے ہو سکتا ہے (بینکٹھیلال شرما پریم، نئی دہلی) قرآن میں جہاں قاتلوا المشرکین کا حکم آیا ہے، وہ عام معنی میں نہیں ہے، بلکہ خاص معنی یعنی اس سے مراد ساری دنیا اور ہر زمانہ کے مشرکین نہیں ہیں بلکہ پیغمبر اسلام کے معاصر یعنی وہ لوگ جو پیغمبر اسلام کے خلاف جارحیت کر رہے تھے۔ جنھوں نے آپ کے خلاف یک طرفہ طور پر جنگ چھیڑ دی تھی۔ ان سے دفاع کے طور پر لڑنے کا حکم دیا گیا۔ اسلام میں صرف ایک ہی جائز جنگ ہے اور وہ دفاع کی جنگ ہے۔ اس کے سوا کوئی اور جنگ اسلام میں جائز نہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ”فکر اسلامی“)

قرآن میں قتال کے حکم کو آپ گیتا کے تقابلی مقابلہ سے سمجھ سکتے ہیں۔ گیتا ہندوؤں کی ایک مقدس کتاب ہے۔ اس میں کرشن جی ارجن کو لڑنے پر ابھارتے ہیں۔ وہ ارجن سے کہتے ہیں کہ تم یدھ کے لئے آگے بڑھو۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ گیتا اپنے ماننے والوں سے کہتی ہے کہ تم لوگ ہمیشہ اور ہر جگہ دوسری قوموں سے لڑتے رہو۔ تم ہر ایک کے خلاف مار کاٹ کرو۔ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ گیتا میں کرشن جی کی جنگی تلقین وقتی معنی میں ہے نہ کہ ابدی معنی میں۔ تمہارے سامنے جو اپناتائی لوگ ہیں ان سے لڑو۔ انھیں پر یہ جنگ شروع ہوئی اور انھیں پر ختم ہو جائے گی۔ اسی طرح قرآن میں جس جنگ کا حکم ہے وہ پیغمبر کے زمانے کے ایک جارح گروہ کے خلاف تھی۔ یہ جنگ انھیں پر شروع ہوئی اور انھیں پر ختم ہوگئی۔ بعد کے زمانہ میں اس کا حکم اگر باقی ہے تو صرف جارحیت کرنے والوں کے مقابلہ میں دفاع کے لئے ہے نہ کہ عمومی طور پر لوگوں سے لڑنے مرنے کے لئے۔

Printed page