Al-Risala · April 1999

ایک انٹرویو

Al-Risala, April 1999, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے ساؤتھ ایشیا بیورو کے چیف مسٹر جاناتھن ہارلے (Jonathan Harley) نے ۲۲ فروری ۱۹۹۹ء کو راقم الحروف کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں دہلی میں تھا۔ پھر میں حال میں لاہور گیا تا کہ وہاں ہندوستانی وزیر اعظم اور پاکستانی وزیر اعظم کی ”بس ڈپلومیسی“ (۲۰۔ ۲۱ فروری) کور کر سکوں۔ ایک بات میں نے ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ کے مسلمانوں میں دیکھی۔ یہاں کے مسلمان یہ مانگ کر رہے ہیں کہ سلمان رشدی (مصنف سٹینگ ورسز) کو ہندوستان آنے کی اجازت نہ دی اسی طرح پاکستان کے مسلمان وہاں یہ مانگ کر رہے تھے کہ اٹل بہاری واجپئی (ہندوستانی وزیر اعظم) کو پاکستان آنے سے روکا جائے۔ اور جب گورنمنٹ کے انتظام کے تحت اٹل بہاری واجپئی وہاں پہنچ گئے تو پاکستانی مسلمانوں نے یہ نعرہ لگایا کہ ”اٹل بہاری گو بیک“۔ نے ایسا کیوں کیا۔ کیا اس طرح کے معاملہ میں اسلام کی تعلیم یہی ہے۔

میں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مسلمانوں کا یہ مطالبہ محض ان کی جذباتی سیاست کا نتیجہ تھا، نہ کہ اسلامی تعلیمات کا نتیجہ۔ اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم مسلمانوں کی اس روش کے بالکل

اسلام ایک تبلیغی مذہب ہے، اور تبلیغی مذہب کسی غیر مسلم کو مدعو کی نظر سے دیکھتا ہے نہ کہ دشمن یا حریف کی نظر سے، حتی کہ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ دشمن کو بھی امکانی دوست کے روپ میں دیکھو کیونکہ تمہارا احسن عمل اس کو بدل کر تمہارا دوست بنا سکتا ہے (حم السجده (٣٤) مذکورہ قسم کے معاملہ میں اسلام کی تعلیم کیا ہے، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : وان احد من المشركين استجارك فاجره حتى يسمع كلم الله ثم ابلغه مأمنه ذالك بانهم قوم لا يعلمون (التوبه (٦)

(اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے جوار مانگے تو تم اس کو جوار دے دو تا کہ وہ اللہ کے کلام کو سنے پھر اس کو اس کے مامن میں پہنچادو۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے) عمومی حکم کے اعتبار سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم یا بظاہر مخالف اسلام گروہ کا کوئی فرد مسلم علاقہ میں آنا چاہے تو تم اس کو وہاں بلا روک ٹوک آنے دو۔ اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اسلام کے پیغام کو جانے اور اسلام کے بارے میں اس کی بے علمی ختم ہو

If a non Muslim seeks a visit to your place let him come to you so that he may hear the word of God. And then arrange for his safe retrurn to his home. اس قرآنی تعلیم کا تقاضہ ہے کہ جب بھی کوئی "غیر شخص" مسلمانوں کے علاقہ میں آنا چاہے تو اس کی آمد کو روکنے کی مہم نہ چلائی جائے اس کے بجائے انہیں یہ کرنا چاہئے کہ وہ اسے خدا کے پیغام سے آشنا کرنے پر ساری طاقت خرچ کریں۔ وہ سیٹنگ ورسز کے جواب میں ہولی ورسز (Holy Verses) تیار کرکے شائع کریں۔ وہ ہندو ایجنڈا کے بجائے اسلامی ایجنڈا کی معنویت سے لوگوں کو آگاہ کریں۔

صحیح اسلامی ذہن یہ ہے کہ اس طرح کے مواقع کو ایک امکان (Opportunity) کے روپ میں دیکھا جائے اور اس کو بھر پور طور پر استعمال (avail) کیا جائے۔ موجودہ زمانہ پریس اور میڈیا کا پریس اور میڈیا، اپنے مزاج کے مطابق، ایسے موقع پر ہر چیز چھاپنے اور مشتہر کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اس لئے ایسے موقع کو اگر منظم طور پر اسلام کے تعارف کے لئے استعمال کیا جائے تو پریس اور میڈیا کے پورے نظام کو اس مقصد کے لئے اپنا زبر دست معاون بنایا جاسکتا

Printed page