اسلام کا طریقہ
Al-Risala, April 1999, pp. 45–46
By Maulana Wahiduddin Khan
مکی دور کے ابتدائی زمانہ میں عمر بن الخطاب اسلام کے سخت مخالف بنے ہوئے تھے۔ کہ ایک روز وہ اپنے گھر سے تلوار لے کر نکلے کہ نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کا خاتمہ کر دیں۔ میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے جنھوں نے ان کے دل کو نرم کر دیا اور وہ اسلام کی طرف مائل اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مکہ میں اسلام کی سخت مخالفت ہو رہی تھی اور حالات بے حد شدید ہو گئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ صفا پہاڑی کے پاس اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ ایک مکان میں مقیم تھے جس کو دار ارقم کہا جاتا تھا۔ ایک صحابی خباب کے ذریعہ عمر بن الخطاب کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ صفا کے قریب ایک گھر میں ہیں۔ وہ صفا کی طرف روانہ ہو گئے۔ ان کے کندھے پر ایک تلوار لٹک رہی تھی۔ وہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ جب ان کی آواز سنی تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب کھڑے ہو گئے۔ اور دروازے کی دراز میں سے انھیں دیکھا کہ تلوار لئے ہوئے باہر کھڑے ہیں۔ وہ گھبرائے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے یہ عمر بن الخطاب ہیں اور تلوار لئے ہوئے ہیں۔ حمزہ بن عبد المطلب نے کہا: ان کو آنے کی اجازت دیجیئے۔ اگر وہ بھلائی کے ارادے سے آئے ہیں تو ہم ان کے ساتھ بھلائی ہی کا سلوک کریں گے۔ اور اگر وہ کسی برائی کے ارادے سے آئے ہیں تو ہم ان کو انہی کی تلوار سے قتل کر دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اذن له۔ “ انھیں آنے دو۔ اس شخص نے آنے کی رسول اللہ ﷺ اٹھ کر ان کی طرف چلے۔ ان کے پاس پہنچ کر ان کی چادر کو پکڑ لیا اور ان سے کہا کہ اے خطاب کے بیٹے، تم کو کیا چیز یہاں لائی ہے؟ خدا کی قسم میں نہیں سمجھتا کہ تم باز آؤ گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کوئی آفت تمھارے اوپر نازل فرمائے۔ عمر نے کہا: اے خدا کے رسول! میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ اللہ، اس کے
رسول اور اس چیز پر ایمان لاؤں جو اللہ کے پاس سے آپ لائے ہیں۔ راوی نے کہا: اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس زور سے تکبیر کہی کہ جو اصحاب گھر میں موجود تھے وہ جان گئے کہ عمر نے اسلام قبول کر لیا (سیرۃ النبی لابن ہشام، الجزء الاول - ۶۸ - ۳۶)
دور اول کا یہ واقعہ ایک رہنما واقعہ ہے۔ اس واقعہ سے کئی نہایت اہم سبق معلوم ہوتے یہ سبق مختصر طور پر یہ ہیں۔
پہلی بات یہ کہ کوئی شخص اگر مسلمانوں کے پاس آنا چاہے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کو بے روک ٹوک آنے کی اجازت دیں۔ خواہ آنے والا قلم لے کر آنے والا ہو یا تلوار لے کر۔ معاملہ میں مسلمانوں کی نظر خود اپنے دین کی تسخیری طاقت پر ہونا چاہئے نہ کہ دشمن کی دشمنی پر۔ دوسری بات ہے۔ ان کے بارے میں ہمیشہ پر امید رہنا، خواہ بظاہر وہ اسلام اور اہل اسلام کا مخالف ہی کیوں نہ بنا ہوا ہو۔ عمر بن الخطاب اس وقت اسلام کے بارے میں اتنے شدید تھے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "فوالله ما أرى أن تنتهى حتى ينزل الله بك قارعة" (۳۶۸) اس کے باوجود اسلام کی فطری صداقت نے عمر کو اس حد تک متاثر کیا کہ وہ اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔
تیسری بات حضرت حمزہ کے قول سے معلوم ہوتی ہے۔ یعنی اس کے حربہ سے اسی کو شکست دینا (قتلناه بسيفه) اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والا جس طاقت سے مسلح ہو کر آ رہا ہے اسی طاقت کو اس کے خلاف استعمال کیا جانا چاہئے۔ موجودہ زمانہ میں قلم نے تلوار کی جگہ لے لی آج کا حریف علم اور قلم کے ذریعہ اسلام پر وار کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ علم اور قلم کے میدان میں اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ تیار کریں تاکہ وہ فریق ثانی کے اپنے ہی میدان میں اس کو شکست دے سکیں۔