غیر مسنون تحریکیں
Al-Risala, May 1999, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
مکہ کے عربی ہفت روزہ العالم الاسلامی (۲۹ شوال ۱۴۰۹ھ ۔ 1989 Feb. 31) کے ساتھ چوبیس صفحات کا ایک فلسطینی ضمیمہ شامل ہے۔ اس ضمیمہ کے آخری صفحے پر بیت المقدس کی ایک بڑی تصویر چھپی ہے۔ اس کے اوپر جلی حرفوں میں یہ لکھا ہوا ہے: متی... تعود القدس (قدس کب واپس ہوگا)۔
موجودہ مسلمانوں کا لکھنے والا اور بولنے والا طبقہ قدس کے معاملے میں جس طرح سوچتا ہے، یہ اس کا ایک نمونہ ہے۔ ان لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ قدس (قبلہ اول) یہودیوں کے قبضہ میں ہے ایسی حالت میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اس کو یہودیوں کے سیاسی قبضہ سے نکالا جائے اس کے بغیر وہاں کوئی کام نہیں ہو سکتا۔
جو لوگ قدس کو قبلہ اول کا جذباتی نام دے کر اس کی واپسی کی خونی مہم چلا رہے ہیں، ان کو معلوم نہیں کہ ہجرت کے بعد جب پیغمبر اسلام نے قدس کو اپنا قبلہ بنایا تھا اس وقت بھی وہ اغیار کے سیاسی قبضہ میں تھا نہ کہ مسلمانوں کے قبضہ میں۔ ایسی حالت میں قبلہ اول کے نام سے جو لوگ یہ تحریک چلا رہے ہیں اس کا کوئی تعلق نہ قبلہ اول سے ہے اور نہ پیغمبر اسلام کی سنت سے۔ پیغمبر اسلام اپنی نبوت کے ابتدائی تیرہ سال تک مکہ میں تھے۔ اس وقت کعبہ کی حالت مزید اضافے کے ساتھ عین وہی تھی جو اس وقت قدس کی بتائی جاتی ہے۔ اس وقت کعبہ کے اوپر مشرکین کا مکمل قبضہ تھا۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ”متی تعود الکعبہ (کعبہ کب واپس ہوگا) بلکہ اس کو اسی حالت پر باقی رکھتے ہوئے آپ روزانہ کعبہ میں جاتے، اور وہاں عبادت کرتے، اور مشرکین سے مل کر انھیں پر امن طور پر توحید کا پیغام دیتے۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اسلام کے نام پر جو تحریکیں چلا رہے ہیں وہ کس قدر غیر اسلامی ہیں۔ انھوں نے دین کے ساتھ سیاسی اقتدار کو اس طرح
نا قابل تقسیم حد تک جوڑ رکھا ہے گویا کہ جب تک سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو کوئی دینی کام نہیں کیا یہ فکر پیغمبر اسلام کے طریقہ کے سراسر خلاف ہے۔ یہی غیر مسنون طریقہ ہے جس نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی اسلامی تحریکوں کو ایک بے فائدہ ہنگامہ بنا دیا۔ قربانی کی حد تک عمل کرنے کے باوجود ان تحریکوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔
پیغمبر اسلام کا طریقہ کیا تھا۔ مکی دور میں کعبہ پر مشرکین کا سیاسی قبضہ تھا، اس کے باوجود آپ نے کعبہ کو مرکز عبادت اور مرکز دعوت کے طور پر استعمال کیا۔ معراج کے وقت بیت المقدس پر غیر مسلموں کا قبضہ تھا اس کے باوجود آپ اللہ کے حکم سے وہاں گئے اور تمام نبیوں کے ساتھ اجتماعی نماز ادا کی۔ ہجرت کے بعد بیت المقدس پر عیسائیوں کا سیاسی قبضہ تھا، اس کے باوجود آپ نے تقریباً ڈیڑھ سال تک بیت المقدس کو اپنا قبلہ عبادت بنایا، وغیرہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ بروقت جو سیاسی حالت (political statusquo) قائم ہے اس کو سب سے پہلے توڑیں اور اس کے بعد اپنا دینی فریضہ ادا کریں۔ اس کے برعکس آپ کا طریقہ یہ تھا کہ موجود سیاسی اقتدار کے باقی رہتے ہوئے جو دینی یادعوتی عمل کیا جاسکتا ہے، اس سے اپنا عمل شروع کر دینا۔ سیاسی مسائل کو حالتِ التواء میں رکھ کر موجود مواقع کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔ یہی پیغمبر اسلام کی سنت ہے، اور اس دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کے لئے مقدر ہے جو پیغمبر اسلام کی سنت پر عمل کریں۔ مذکورہ قسم کا سیاسی فکر آدمی کو صرف محرومی اور جھنجلاہٹ میں مبتلا کرتا ہے، وہ کسی کو مثبت عمل کا حوصلہ نہیں دیتا۔ اس کے برعکس اگر سیاسی اقتدار کو چھیڑے بغیر ممکن دائرے میں اپنا کام شروع کر دیا جائے تو آدمی کو فوراً ہی مثبت کام کے لئے کھلا ہوا میدان مل جائے گا۔ آدمی امید اور حوصلے کے ساتھ اقدام کی پوزیشن میں ہو جائے گا۔ وہ رکاوٹ کی چٹان سے غیر ضروری ٹکراؤ کئے بغیر اپنے لئے تعمیری عمل کے مواقع پالے گا اب اس کا ہر قدم منزل کی طرف بڑھنے کے ہم معنی ہوگا۔