Al-Risala · May 1999

ہما چل پردیش کا سفر

Al-Risala, May 1999, pp. 7–29

By Maulana Wahiduddin Khan

مفتی عبد العزیز صاحب رائے پوری نے ستمبر ۱۹۷۹ میں مسروالا (ہماچل پردیش) میں ایک مدرسہ قائم کیا اور اپنے شیخ مولانا عبد القادر رائے پوری کے نام پر اس کا نام مدرسہ قادریہ رکھا۔ اس کے بعد جلد ہی اپنے شاگرد مولانا کبیر الدین فاران مظاہری کو بلا کر اس کا انتظام ان کے حوالے کر دیا۔ ۱۹۸۰ سے مولانا کبیر الدین صاحب اس کے ناظم ہیں۔

پچھلے دس سال سے وہ برابر مجھ کو اپنے مدرسہ میں آنے کی دعوت دے رہے تھے، کبھی براہ راست اور کبھی ٹیلی فون پر۔ مگر کسی نہ کسی سبب سے وہاں کا سفر نہ ہو سکا۔ ۱۷ نومبر ۱۹۹۵ کی صبح کو وہ دہلی آئے اور کچھ اس انداز سے اصرار کیا کہ میرے لئے انکار نا ممکن ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اچھا، میں ابھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ چنانچہ میں اپنے پھیلے ہوئے کاموں کو چھوڑ کر صبح ۱۰ بجے ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔

ہماری گاڑی چلتے ہوئے اس سڑک پر پہنچی جہاں ایک طرف تاریخی جامع مسجد ہے اور دوسری طرف لال قلعہ کی سرخ دیواریں کھڑی ہوئی ہیں۔ لال قلعہ کو دیکھ کر مجھے اردو شاعر کی طویل نظم کا ایک شعر یاد آیا:

اے قلعہ سرخ اے اثر شاہجہانی برباد شدہ عظمتِ ماضی کی نشانی یہ شعر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ ماضی کی گزری ہوئی عظمتوں میں اتنا گم ہوئے کہ وہ حال کی حقیقتوں کا صحیح ادراک نہ کر سکے۔ پدرم سلطان بود کی نفسیات نے انہیں مثبت نقطۂ نظر سے محروم کر دیا۔ اس المناک صورتِ حال کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں جو لوگ مسلمانوں کے رہنما بن کر اٹھے وہ زیادہ تر شاعر اور خطیب اور انشاء پرداز قسم کے لوگ تھے انہوں نے رجز خوانی کی، جب کہ اس وقت اصل ضرورت حقیقت بیانی کی تھی چنانچہ ان لوگوں نے اپنی غیر حقیقی باتوں سے پوری ملت کے مزاج کو بگاڑ دیا۔ موجودہ زمانہ میں

شاید کوئی بھی ایثار رہنما نہیں جس نے معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھا ہو اور پھر حقیقت پسندانہ انداز میں مسلمانوں کو درست رہنمائی دی ہو۔

لال قلعہ اور قطب مینار کی حیثیت آج صرف آثار قدیمہ کی ہے جو گروہ لال قلعہ اور قطب مینار کی فضاؤں میں جیتا ہو وہ خود بھی آثار قدیمہ کی ایک مثال بن کر رہ جائے گا، وہ دور جدید میں باعزت مقام حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔

دہلی سے نکل کر آگے بڑھے تو سڑک کے دونوں طرف دور تک درخت اور سبزہ پھیلا میں نے سوچا کہ ساری کائنات کے مقابلہ میں زمین اس سے بھی زیادہ چھوٹی ہے جتنا کہ پوری زمین کے مقابلہ میں ایک ذرہ۔ مگر اب تک کی معلومات کے مطابق، زمین ہی ایک ایسی جگہ ہے، جہاں پانی اور سبزہ ہے۔ ساری وسیع کائنات میں کہیں بھی پانی اور سبزہ موجود نہیں۔ اسی پانی اور سبزہ نے زمین کو انسان جیسی زندہ مخلوق کے لئے قابل رہائش بنا دیا ہے۔ اس کے لئے نہ صرف رہائش کا سامان ہے بلکہ تمدنی ترقیوں کے لئے تمام ممکن اسباب بھی موجود یہ اللہ تعالیٰ کی انتہائی عظیم نعمت ہے۔ اس کا شکر صرف یہ ہے کہ آدمی دل سے اس عطیہ کا اعتراف کرے اور اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی تابعداری میں دے دے۔

یہ سفر مدرسہ کی کار سے ہوا۔ راستہ میں میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے پوچھا کہ ۱۹۴۷ میں جب ملک تقسیم ہوا اس کے بعد ہندوستان میں کتنے ایسے مولوی تھے جن کے پاس کار اور ٹیلی فون تھے۔ انہوں نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولے کہ شاید ایک بھی نہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ آج کیا حال ہے انہوں نے کہا کہ آج تو ملک میں ہزاروں مولویوں کے پاس کار اور ٹیلی فون موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے مولوی ہیں جن کو آج براہ راست یا بالواسطہ طور پر کار اور ٹیلی فون کی سہولت حاصل ہے۔

پھر میں نے کہا کہ مگر کوئی بھی مولوی ایسا نہیں جو تحریریا تقریر کے ذریعہ یہ اعلان کرتا ہو کہ مسلمان اس ملک میں ترقی کر رہے ہیں، نہ اکابر میں اور نہ غیر اکابر میں، بلکہ یہی لوگ ہیں جو

اپنی تقریروں اور تحریروں میں روزانہ ہندوستانی مسلمانوں کی بربادی کا چرچا کرتے ہیں۔ باہر کے ملکوں میں بھی جا کر وہ اسی قسم کی خبریں وہاں کے لوگوں کو سناتے ہیں۔ مثلاً مکہ کے اخبار ’’العالم الاسلامی‘‘ کے تازہ شمارہ ۱۲ نومبر ۱۹۹۵ میں ایک معروف عالم کا انٹرویو چھپا ہے۔ میں انہوں نے بتایا ہے کہ انڈیا کے مسلمان مخالفانہ مؤامرات کا اور ہندوؤں کی عداوت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کا عنوان ہے ـــــــ انڈیا کے مسلمان چکی کے دو پاٹوں کے درمیان (مسلمو الہند بین فکی الّرحّیٰ)

انٹرویو لینے والا اگر سمجھدار ہو تا تو وہ ان سے پوچھتا کہ جب تمام ہندوستانی مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں تو تم کس طرح اتنے شاندار طور پر اس سے بچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہم کو تو تم وہی تدبیر بتاؤ تا کہ ہم بشّرو ولا تنفروا کے اسلامی اصول پر ہندوستان کے مسلمانوں کو اس کی خوشخبری دے سکیں۔

اپنے ملک کے پڑھے لکھے مسلمانوں کی سوچ کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ماضی کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے مسلمانوں کے لیڈروں نے سمجھایا کہ ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ اس لئے ہمیں علیحدہ ملک چاہئے۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تمام دماغ آج تک ماضی کے اسی بے بنیاد پروپیگنڈے میں گم ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ماضی کے مسلم لیڈروں کی تقسیم کے مطابق، ہم ”ہندو انڈیا“ میں ہیں، اس لئے ہم ضرور تباہ حال ہوں گے۔ چنانچہ وہ ابھی تک وہی ماضی کی بولی بولے چلے جا رہے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ آج ہندوستان کے مسلمان پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے بھی زیادہ ترقی کر خود لکھنے اور بولنے والے طبقہ میں ایک ایک شخص اپنی ۱۹۴۷ کی حالت کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ ترقی حاصل کئے ہوئے ہے۔ مگر تخلیقی فکر کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے قریبی واقعہ تک کا علم نہیں۔

ماضی کے مسلم رہنماؤں کی سوچ قانون فطرت کے خلاف تھی۔ چنانچہ ان مسلم رہنماؤں

کی باتیں فضا میں گم ہو گئیں ۔ اور فطرت کا قانون خود اپنی طاقت سے قائم ہو گیا۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انہیں صرف اپنے اکابر کی باتوں کا علم ہے، انہیں خدا کے مقرر کئے ہوئے فطری قانون کا کوئی علم نہیں۔

دہلی سے مسر والا کا فاصلہ ڈھائی سو کلو میٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ سڑک اچھی ہے۔ میں سونی پت، پانی پت، کرنال، جمنا نگر وغیرہ پڑتے ہیں۔ ہم لوگ ایک کے بعد ایک ان مقامات سے گزرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ ان جگہوں کے نام اسی طرح صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن ان کے قدیم باشندے آج پیدا ہوں تو ان جگہوں کی بدلی ہوئی صورت کی بنا پر شاید وہ انہیں پہچان نہ سکیں۔

سونی پت سے آگے بڑھے تو سڑک کے کنارے دو کاریں الٹی پڑی ہوئی تھیں ۔ بالکل چکنا چور ہو چکی تھیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دونوں تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی تھیں چنانچہ جب دونوں کار کا آمنا سامنا ہوا تو دونوں میں سے کوئی بھی اپنی گاڑی کو کنٹرول نہ کر سکا اور دونوں ہی ٹکرا کر تباہ ہو گئیں۔

میں نے کہا کہ گاڑی خواہ کتنی اچھی ہو، اور ڈرائیور خواہ کتنا ہی ماہر ہو۔ بہر حال اس کو سڑک پر چلتے ہوئے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ سڑک کے اوپر دوسری گاڑیاں بھی دوڑ رہی اگر وہ اس حقیقت کا اعتراف نہ کرے تو کوئی بھی چیز اس کے کام نہیں آئے گی ۔ وہ خود بھی تباہ ہو گا اور اسی کے ساتھ اس کی تیز دوڑتی ہوئی گاڑی بھی۔

ڈیڑھ بجے ہم لوگ کرنال پہونچے۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد ہے جس کے اوپر ”مسجد صغرا“ لکھا ہوا ہے۔ اس میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ مسجد بظاہر قدیم تھی۔ مگر مزید تعمیر کر کے اس کو اندر سے نیا کر دیا گیا ہے۔ پوری مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ مجھے قرآن کی آیت یاد آئی کہ جمعہ کی نماز کی اذان ہو تو نماز کے لئے اکٹھا ہو جاؤ اور جب نماز ختم ہو تو خدا کی زمین میں منتشر ہو جاؤ۔ میں نے سوچا کہ مسجد منتشرین کا مقام اجتماع ہے۔

اہل ایمان خدا کی زمین میں پھیلنے والے لوگ ہیں۔ وہ صرف وقتی طور پر مسجد میں ٹھہرتے ہیں تاکہ اس سے نئی توانائی لے کر دوبارہ آگے بڑھ سکیں۔

کرنال میں سڑکوں پر بہت سی مسجدیں دکھائی دیں۔ ایک عمارت پیچھے سے مسجد کی شکل کی لیکن آگے سے اس کو گور دوبارہ بنا دیا گیا تھا۔

کرنال میں ایک بہت بڑی مسجد ہے۔ اس کو اندر جا کر دیکھا۔ اس کے امام سید انور حسین صاحب سے ملاقات ہوئی۔ امام صاحب نے چائے کے لئے اصرار کیا مگر ہمارے پاس وقت کم تھا اس لئے معذرت کرنی پڑی۔ مسجد کے باہر ایک کتبہ لگا ہوا ہے۔ اس پر لکھا ہے ــــــــــ تعمیر کردہ نواب عظمت علی خاں، رئیس اعظم کرنال ۔ وہ نواب زادہ لیاقت علی خاں کے چچا تھے۔ یہ مسجد ۱۹۲۵ میں بنوائی تھی۔

۱۹۴۷ میں کرنال مکمل طور پر مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا۔ اب دوبارہ مسلمان آکر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ اس وقت کرنال میں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ دوپہر کا کھانا ہم لوگوں نے کرنال میں میور ریسٹوران میں کھایا۔ کھانے سے فارغ ہو کر باہر آئے تو ایک صاحب آگے بڑھ کر مجھ سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو ٹی وی پر دیکھا تھا اس لئے پہچان گیا۔ آپ کی بات مجھے بہت اچھی لگی تھی۔ ان کا نام ایم آر کپور تھا۔ نے آٹو گراف کے لئے کہا۔ میں نے انگریزی کا ایک جملہ لکھ کر اس کے نیچے اپنے دستخط کر دیئے۔ اس درمیان میں کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے۔ ایک خاتون نے بھی آٹو گراف لیا۔ عصر کی نماز ہم نے جمنا نگر میں پڑھی۔ وہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد تھی۔ چار پانچ زیادہ عمر کے اور سیدھے سادے مسلمان نظر آئے ۔ ان سے پوچھا کہ جمنا نگر میں کتنی مسجدیں ہیں ، کسی نے کہا ایک ۔ کسی نے کہا تین ۔ غرض کافی پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں پانچ مسجدیں ہیں۔ اکبر الہ آبادی نے ۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں یہ شکایت کی تھی کہ : بازار میں ہیں لاکھوں، مسجد میں فقط حسن

آج اگر چہ کمیت کے اعتبار سے مسجد کے نمازیوں کی آبادی کافی بڑھ گئی ہے مگر جہاں تک کیفیت کا تعلق ہے، اب بھی مسجد کی آبادی میں زیادہ تر ”جتن“ قسم کے لوگ ہی دکھائی دیتے

کرنال کے ریستو ران سے کھانا کھا کر ہم لوگ نکلے تو مولانا کبیر الدین صاحب پاس کی ایک دکان پر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے پان خریدا جس کی قیمت دو روپیہ تھی۔ پان والا ایک نوجوان مولانا کبیر الدین صاحب نے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ اس نے کہا کہ سہارن پھر پان والے نے کہا، کیا آپ کبھی سہارن پور گئے ہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ ہاں، میں نے وہاں تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے بعد اس نے پان کی قیمت نہیں لی۔ اس نوجوان کا نام ازن تھا۔ وہ دکان سے آکر مجھ سے ملا۔

مذکورہ واقعہ احساس قرابت کا کرشمہ تھا۔ سامنے کے آدمی کو اگر کسی طرح آپ قربت کا احساس دلا دیں، خواہ وہ قربت بالکل معمولی نوعیت کی کیوں نہ ہو تو فوراً وہ آپ کا گرویدہ ہو جائے دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان اجنبیت ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے برعکس قربت اپنے آپ سارے معاملات کو درست کر دیتی ہے۔

ہم لوگ صبح ۱۰ بجے دہلی سے روانہ ہوئے تھے۔ شام کو عشاء کے قریب مسر والا پہنچے، اس سفر میں ہم کبھی آبادی کے درمیان سے گزرے اور کبھی خالی سڑک سے، کبھی ہمارا راستہ کھلے میدان سے طے ہوا اور کبھی ایسے راستہ سے جہاں دونوں طرف جنگل تھا۔

کبھی ہماری گاڑی نشیب پر چلی اور کبھی اس کو اونچائی کے اوپر چڑھنا پڑا۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح پوری زندگی ایک سفر ہے جو آخرت پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ دنیا میں آدمی مختلف احوال سے گزرتے ہوئے چلا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آتی ہے اور وہ آخری طور پر اگلی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔

نماز عشاء کے بعد مدرسہ کے دفتر میں اساتذہ اکٹھا ہوئے۔ اس موقع پر مختلف باتیں

ایک صاحب نے ا کہ کچھ لوگ آپ کے پیغام کے مخالف کیوں ہیں۔

میں نے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شخص میرے پیغام کا مخالف نہیں۔ میرا پیغام وہی ہے جو خود فطرت کا قانون ہے۔ اور فطرت کے قانون کو نظر انداز کرنا کسی کے لئے ممکن ہی نہیں۔

پھر میں نے کہا کہ میری تحریریں ۹۹ فیصد اسلام کے تعارف پر مبنی ہوتی ہیں۔ شخص ان کا مخالف نہیں۔ کیونکہ کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔ اس میں میں نے صرف یہ کیا ہے کہ اسلام کی متفقہ تعلیمات کو جدید اسلوب میں پیش کیا ہے۔ اس کا کوئی مخالف نہیں ہو سکتا۔ ایک فیصد وہ ہے جس کا تعلق برادران وطن سے ہے۔ اس سلسلہ میں میرا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ برادران وطن کے ساتھ مل جل کر رہیں اور اگر کبھی کسی کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تو اس سے اعراض کریں تا کہ پر امن فضا باقی رہے۔ اس پر بھی تمام کے تمام مسلمان عامل ہیں۔ آپ کسی بھی مسلمان کو لیجئے اور دیکھئے کہ اس کا ذاتی معاملہ جن ہندوؤں سے ہے اس کے ساتھ وہ کس قسم کا سلوک کرتا ہے۔ آپ پائیں گے کہ یہ عین وہی ہے جس کی طرف الرسالہ میں توجہ دلائی جارہی ہے۔ میں نے صرف یہ کیا ہے کہ میں لوگوں کے عمل کا اعلان کر رہا ہوں۔

عشاء کی نماز مدرسہ قادریہ کی مسجد میں پڑھی۔ مسجد بالکل جدید طرز کی ہے اور سادگی کے ساتھ خوبصورتی کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس کی خصوصیات کی تصویر کشی لفظوں میں بیان کرنا مشکل اس کو آنکھوں سے دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

عشاء کی نماز کے بعد طلبہ نے مصافحہ کیا۔ اکثر ایسے موقع پر لوگ بھیڑ کی صورت میں مصافحہ کرتے ہیں۔ مگر یہاں یہ ہوا کہ طلبہ نے مسجد کی دیوار سے مل کر قطار بنائی اور ایک ایک ۔ طالب علم آگے بڑھ کر مصافحہ کرتا رہا۔ اس طرح تقریباً دو سو طلبہ نے مصافحہ کیا۔ مدرسہ کے قریب سے ایک اہم سڑک گزرتی ہے۔ مگر اس سڑک کو مدرسہ سے جوڑنے

کے لئے درمیان میں پختہ راستہ نہیں تھا۔ ۱۹۸۴ میں مدرسہ میں ایک بڑا جلسہ ہو رہا تھا۔ نے ریاستی حکومت کے نام ایک درخواست بھیجی کہ ہمارے یہاں ایک بڑا مذہبی جلسہ ہونے والا لوگ دور دور سے اس میں شرکت کے لئے آئیں گے۔ مگر عام سڑک اور مدرسہ کے درمیان اچھا راستہ نہیں ہے۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے مدرسہ تک ایک پختہ سڑک میں نے چل کر دیکھا تو وہ ۲۸۰ قدم لمبی تھی۔

مدرسہ کے مہمان خانہ میں بیٹھا ہوا چائے پی رہا تھا۔ اتفاق سے میرا ہاتھ ہلا اور چائے میری چادر پر گر گئی۔ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری نے فوراً میری چادر لے کر ایک طالب علم کو دیا کہ اسے لے جا کر ابھی دھو دو۔ یہ رات کا وقت تھا۔ میں نے سوچا کہ اس وقت تو چادر سوکھے کل اس کو دھوپ میں ڈالنا ہوگا۔ پھر غالباً دوپہر تک وہ سوکھ کر مجھے ملے گی۔ خیال میں تھا کہ ۲۰ منٹ کے بعد طالب علم نے صاف چادر لا کر میرے پاس رکھ دی۔ اتنی دیر میں وہ دھوئی گئی، سکھائی گئی اور پریس کر کے تہ کی گئی اور پھر میرے پاس واپس آگئی۔

اس کا راز یہ تھا کہ یہاں مدرسہ میں جدید طرز کی واشنگ مشین موجود ہے جو دھونے کے بعد فوراً سکھانے کا کام بھی کردیتی ہے۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس سے مدرسہ کی حالت کا اندازہ نصاب کے اعتبار سے یہ ایک ”قدیم طرز“ کا مدرسہ ہے۔ مگر نظام اور تعمیرات کے اعتبار سے وہ بالکل جدید اور اپٹوڈیٹ ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ آپ نے تو اپنے مدرسہ کو ایک ماڈرن مدرسہ بنا دیا۔

اسی طرح مدرسہ میں آٹا پیسنے کی مشین ہے۔ مدرسہ کی ضرورت کا آٹا خود اپنی مشین میں پیسا جاتا ہے، وغیرہ۔

ایک بار ایک مسلمان تاجر مدرسہ قادریہ میں آئے۔ انہوں نے طلبہ کو دیکھ کر کہا آپ کے طلبہ کے کپڑے صاف نہیں ہیں۔ پھر یہی تبصرہ انہوں نے تمام مدارس کے بارہ میں کیا۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ آپ لوگ تنقید تو کر رہے ہیں مگر آپ اس کا حل نہیں انہوں نے کہا کہ حل کیا ہے۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ حل بہت سادہ ہے۔ آپ پیسہ دیجئے ہم واشنگ مشین منگاتے ہیں۔ اور پھر آپ دیکھیں گے کہ ہمارے مدرسہ کے بچے کتنے ستھرے ہیں۔

مذکورہ تاجر کو یہ بات اثر کر گئی۔ وہ فوراً اس پر راضی ہوگئے۔ چنانچہ دہلی جاکر انہوں نے مدرسہ کے لئے گاڈ ریج کی واشنگ مشین بھجوادی جو اس وقت سب سے اچھی سمجھی جاتی تھی۔ یہ ایک صحت مند مثال ہے۔ مدرسہ والے با عزت انداز میں تعاون مانگیں اور اصحاب خیر بھی با عزت انداز میں اپنا مالی تعاون دیں تو دینی اداروں کا کام نہایت حسن وخوبی کے ساتھ چلنے

عشاء کی نماز کے بعد مدرسہ کے دفتر میں نشست ہوئی۔ اساتذہ بھی آگئے۔ دیر تک ملتی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ میں نے مولانا کبیر الدین مظاہری سے کہا کہ آپ نے اپنے مدرسہ کو جدید انداز میں بنایا ہے۔ اب یہاں ایک اور روایت قائم کیجئے۔ میں نے کہا کہ باہر سے جب کوئی

شخص کسی مدرسہ میں آتا ہے تو عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ گفتگو یک طرفہ انداز میں ہوتی ہے۔ آنے والا بولتا ہے، اور مدرسہ کے لوگ صرف سامع بنے ہوئے بیٹھے رہتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں تبادلہ خیال کے انداز میں گفتگو ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں یہ روایت پہلے سے چنانچہ اسی انداز میں دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔

مدرسہ کا دفتر دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ بالکل جدید طرز کا ایک دفتر تھا۔ ایک خوبصورت میز کے گرد خوبصورت کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز پر کیلکولیٹر، ٹیلی فون، اور دوسری جدید نوعیت کی دفتری چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ مولانا کبیر الدین مظاہری برابر ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے لوگوں کو میری آمد کی اطلاع دیتے رہے اور پروگرام مرتب کرتے رہے۔ کیونکہ میں اچانک یہاں آیا تھا، اور اب ٹیلی فون ہی کے ذریعہ پروگرام کو منظم کیا جا سکتا تھا۔ ہماچل پردیش کا علاقہ ۱٩٧۲ء میں مکمل طور پر فرقہ پرستی کی زد میں تھا جو ملک کی تقسیم کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھی۔ چنانچہ مدرسہ قادریہ کے ساتھ بھی بار بار یہاں اشتعال انگیزی اور فساد کے مسائل پیدا ہوئے۔ مگر مولانا کبیر الدین صاحب نے حکمت اور تحمل کے ذریعہ ہر موقع پر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے چنگاری کو ہوا دینے کے بجائے اس کو پہلے مرحلہ ہی میں بجھا دیا۔ یہاں کی کئی چیزیں دوسرے مدارس کے لئے قابل تقلید ہیں۔ مثلاً یہاں کا اصول ہے کہ دو استاد اگر آپس میں جھگڑیں تو دونوں ہی کو با عزت طور پر رخصت کر دیا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہاں ایسا ہے کہ دو استادوں کے درمیان اگر نزاع پیدا ہو تو وہ آپ ہی آپ اس کو ختم کر لیتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسئلہ نظامت تک پہنچا تو دونوں کو علیحدہ کر دیا جائیگا۔ طلبہ کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اساتذہ کی ذاتی خدمت کریں۔ مثلاً کوئی طالب علم کسی استاذ کا سر اور پاؤں نہیں دبا سکتا اور نہ ہی سر میں تیل لگا سکتا ہے۔ اسی قاعدہ کو برقرار رکھنے کے لئے یہاں جوان العمر اساتذہ رکھے گئے ہیں کیونکہ اس قسم کے رواج اکثراً نہیں مدارس میں پائے جاتے ہیں جہاں بوڑھے اور زیادہ عمر کے اساتذہ ہوں۔ تاہم اسی کے ساتھ طلبہ کو یہ تاکیدی حکم ہے کہ وہ

ہرگز اپنے استاد کی نافرمانی نہ کریں۔

۱۸ نومبر کی صبح کو سوا پانچ بجے مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ یہ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر تھی۔ یہاں چاروں طرف فطرت کا ماحول ہے۔ اس ماحول میں اذان کی دھیمی آواز بہت اثر انگیز تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے موذن نے فطرت کے دھیمے لہجہ میں ذکرِ خدا وندی کا نغمہ بکھیر دیا ہو۔ فجر کی نماز میں امام صاحب نے سورہ جمعہ کی تلاوت کی۔ نماز کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہا کہ دیکھئے قرآن میں ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کی تسبیح کر رہی ہیں (الجمعہ ۱) مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ تسبیح سنائی نہیں دیتی۔ گویا فطرت کی زبان خاموشی کی زبان شور کی زبان فطرت کی زبان نہیں۔

مولانا کبیر الدین صاحب نے یہاں کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر نہیں لگایا ہے۔ اس کا علاقہ پر بہت اچھا اثر پڑا ہے۔ یہاں کے ہندو کہتے ہیں کہ دیکھو، یہ کتنا اچھا مولانا ہے۔ وہ شور والا کام نہیں وہ خاموشی کے ساتھ اپنے دھرم کی سیوا کر رہا ہے۔

میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے کہا کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ عین اسلامی طریقہ مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال تو مجھے ایک بدعت معلوم ہوتا ہے۔ حدیث میں فتنہ کے زمانہ کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بتائی گئی ہے کہ اس وقت مسجدوں میں آوازیں بلند ہوں گی (رفعت الاصوات في المساجد)۔

فجر کی نماز ختم ہوئی تو ایک بچہ نے کھڑے ہو کر مختلف اوقات کی دعائیں بلند آواز سے مثلاً کھانے کے بعد یہ دعا پڑھیں، سونے کے وقت یہ دعا پڑھیں، وغیرہ۔ نماز کے بعد طالب علموں کے اٹھ کر جانے کا انداز بھی نہایت منظم تھا۔ اچانک بھیڑ کی صورت میں نہیں اٹھے۔ میں نے دیکھا کہ لمبی صف کے دائیں طرف سے باری باری صرف ایک طالب علم اٹھتا اور خاموشی سے باہر چلا جاتا۔ اس طرح تمام طلبہ قطار بنا کر باہر مسجد کے گیٹ کے باہر آتے ہی تمام طلبہ نے دوڑ لگانا شروع کی۔ دوڑ ایک استاد کی نگرانی

میں نے سوچا کہ یہ منظر اگر ٹی وی پر دکھا دیا جائے تو لوگوں کو حقیقت معلوم ہو۔ مسلم حضرات غلط طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد اور مدرسہ میں ہتھیاروں کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ انہیں بر عکس طور پر نظر آئے گا کہ مسجد میں آداب حیات سکھائے جاتے ہیں۔ یہاں طلبہ کو جسمانی ورزش کرائی جاتی ہے۔ یہاں ایک ایک طالب علم کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ شہری تقاضوں کو نبھائے۔ وہ ڈسپلن والی زندگی گزار سکے ۔ وہ یہاں تربیت پا کر ایک اچھا انسان بن

نماز اول وقت میں ہوئی۔ چنانچہ مسجد کے باہر ابھی زیادہ اجالا نہیں ہوا تھا۔ کے مطابق تمام طلبہ سڑک پر پہنچے اور کچھ دیر تک دوڑ لگاتے رہے۔ یہ یہاں کاروزانہ کا معمول واپس آکر تمام طلبہ تلاوت قرآن میں مشغول ہو گئے۔

یہ مدرسہ ۳۶ بیگبہ زمین میں واقع ہے۔ وسیع رقبہ میں ایک شاندار اسلامی دنیا ابھر رہی مگر ایک صاحب کے الفاظ میں ” کبھی کوئی ہندو نہیں بولا۔ کبھی کوئی ہندو ڈنڈالے کر نہیں اتنا بڑا کام نہایت پر سکون طور پر یہاں انجام پا رہا ہے “۔ میں نے کہا کہ یہ سب حکمت کا نتیجہ ہے جس کو آپ لوگوں نے خدا کے فضل سے اختیار کیا ہے۔

ایک استاذ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ سیکولر لوگ سیاسی پلیٹ فارم پر آپس میں لڑتے ہیں اور پھر دونوں ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔ مگر علماء کا یہ حال ہے کہ دو عالم اگر ایک بار کسی بات پر لڑگئے تو دوبارہ وہ کبھی نہیں ملیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عالم سے میں نے یہ بات کہی تو انہوں نے جواب دیا کہ سیکولر لوگ مکار ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسا کرتے ہیں۔ مگر علماء تو مخلص لوگ ہیں۔ جب میں اپنے کو حق پر سمجھوں تو میں کس طرح دوسرے سے مل سکتا ہوں۔ استاذ نے کہا کہ آپ کا یہ جواب درست نہیں۔ اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ دو مسلمانوں کے در میان تین دن سے زیادہ ترک کلام اور ترک تعلق شریعت میں جائز نہیں۔

مذکورہ عالم کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اپنے مخالف کو غلط ثابت کرنے کے لئے وہ اسلام کے اصولوں کا حوالہ دے رہے تھے ، مگر خود اپنے اوپر اسلام کے اصول کو منطبق کرنے پر وہ راضی نہ

مدرسہ سے ملحق ایک زمین تھی۔ اس پر عملاً مدرسہ کا قبضہ تھا۔ تاہم کاغذی اعتبار سے وہ کچھ ہندوؤں کی تھی۔ چونکہ نئے قانون کے مطابق قابض ہی مالک ہوتا ہے ۔ اس لئے وہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ زمین اب ہم کو نہیں ملے گی۔

ایک بار زمین کے مالکان یہاں آئے۔ انہوں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے کہا کہ یہ زمین جو آپ کے قبضہ میں ہے، اس کے اصل مالک ہم لوگ ہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ اسلام میں قبضہ کوئی چیز نہیں۔ زمین کا جو مالک ہے وہی اس کا مالک رہے گا۔ مولانا کبیر الدین صاحب کی زبان سے یہ غیر متوقع بات سن کر وہ لوگ بہت متاثر انہوں نے کہا کہ ہم اس زمین کو بیچنا چاہتے ہیں۔ مگر آپ کو خریداری کا پہلا حق ہوگا۔ مزید یہ کہ انہوں نے مارکٹ ریٹ سے بہت کم قیمت میں اس زمین کو مدرسہ کے لئے دینا منظور حالانکہ مولانا کبیر الدین صاحب نے ان سے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہا تھا۔ بہت سے ہندی اخبار والے مدرسہ کو دیکھنے کے لئے آئے۔ انہوں نے اس کے بارہ میں اچھی رپورٹیں شائع کیں۔ ایک ہندی اخبار نے لکھا کہ یہ ہماچل پردیش کا شانتی نکیتن ہے۔ چندی گڑھ کے ہندی روزنامہ دینک ٹریبیون (۱۳ اگست ۱۹۹۲) میں ایک رپورٹ مسلم مدارس کے بارے میں چھپی۔ اس کی سرخی تھی: "بھارت کے مدرسوں میں ہو رہی ہے کٹر پنتھی اسی طرح پنجاب کیسری (۷ دسمبر ۱۹۹۲) میں رپورٹ چھپی جس کی سرخی یہ تھی: "ہماچل میں چلائے جا رہے مدرسے شکنجا پر ساز کے بجائے آتنک واد کا پر شکشن دے رہے ہیں" اسی طرح انڈین ایکسپریس کی چندی گڑھ اشاعت (۲۲ اگست ۱۹۹۲) میں رپورٹ چھپی جس کی سرخی یہ تھی : ISI bid to recruit HP youths via madrasas

اس قسم کی خبروں کے ذریعہ اس علاقہ میں دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ بڑھا۔ خاص نشانہ مسر والا کا مدرسہ قادریہ تھا۔ مگر یہ پروپیگنڈہ زحمت میں رحمت ثابت ہوا۔ انتظامیہ دونوں تحقیق کے لئے متحرک ہو گئے ۔ اور آخری رپورٹ عین مدرسہ کے حق میں نکلی۔ اس سلسلہ میں بہت سی موافق باتیں پریس میں آئیں جن سے فضا مزید اضافہ کے ساتھ مدارس کے حق میں ہو گئی۔ مثلاً جن ستا (۱۱ جون) میں رپورٹ چھپی۔ اس کا عنوان تھا: بھائی چارہ کا پرتیک ہے مسر والا کامدرسہ حتی کہ ہماچل کے چیف منسٹر راجہ ویر بھدر سنگھ نے اسٹیٹ اسمبلی میں اس کی تردید کی۔ دینک ٹریبیون (۲۰ دسمبر) میں یہ رپورٹ اس سرخی کے ساتھ چھپی: ”مدرسوں میں بھارت ورود ھی گتی ودھیاں نہیں۔ اخبار والوں کی کئی پارٹیاں مدرسہ قادریہ میں آئیں ۔ اور ہر چیز کو دیکھنے کے بعد اپنے اخباروں میں یہ رپورٹ چھاپی کہ ہم نے خود جا کر تحقیق کی اور تمام مخالفانہ پروپیگنڈوں کو غلط پایا۔ ان رپورٹوں کو پڑھنے کے بعد میں نے مدرسہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ یہ آپ کے حق میں رفع ذکر کا معاملہ تھا۔ اور جب آدمی حق پر ہو تو ہر رفع ذکر عسر میں یسر کا سبب بن جاتا ہے۔ مدرسہ قادریہ مسروالا ہماچل پردیش ایک ایسے علاقہ میں واقع ہے جس کے اطراف میں غیر مسلموں کی بڑی آبادی ہے۔ مدرسہ والوں کے ان حضرات سے گہرے مراسم کی وجہ سے ان حضرات کی برابر یہاں آمد و رفت رہتی ہے، حتی کہ خوشی اور غمی میں بھی وہ مدرسہ والوں کو شریک کرتے ہیں۔ اور اپنے نجی مسائل میں یہاں کے ذمہ داروں سے مشورہ کرتے ہیں۔ یہاں آکر اسلام کی معلومات، اسلامی اخلاق اور مدرسہ کی حب الوطنی اور سیاست سے دوری اور علماء کی سادگی کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ایسے اسلامی ادارے ملک کے گوشہ گوشہ میں ہونے چاہئیں۔ کیونکہ یہ ادارے امن و محبت کا پیغام ہوتے ہیں، حتی کہ وہ غیر مسلم جن کو عام طور پر کٹر پنتھی کہا جاتا ہے وہ بھی یہاں کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ ان آنے والوں میں عام سرکاری ملازم سے لے کر وزیر اعلیٰ ہماچل پردیش جیسے افراد بھی شامل ہیں۔

افغانستان کے طالبان میں سے بعض افراد نے ایک انٹرویو کے دوران یہ کہا تھا کہ ہماری تعلیم دیوبند کے مدرسہ میں ہوئی ہے۔ اس کو ہندوستان کے کچھ ہندی اخباروں میں اس طرح چھاپا گیا کہ طالبان نے جنگ جوئی کا سبق دیوبند کے مدرسہ میں رہ کر حاصل کیا ہے۔ اس کو مزید عام کر کے ہندی پریس میں یہ کہا گیا کہ ہندوستان کے اسلامی ادارے اگر واد اور علیحدگی پسندی کی تعلیم اس لئے ضروری ہے کہ ان مدرسوں کا بھارتیہ کرن کیا جائے۔ اس کے بغیر ہمارے ملک میں شانتی اور اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔

یہ بات بلاشبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ میں خود مدرسہ ہی کا ایک پروڈکٹ ہوں اور جانتا ہوں کہ ان مدرسوں کا کوئی تعلق اگر واد یا علیحدگی پسندی سے نہیں۔ یہ مدرسے سادہ طور پر عربی زبان اور دین اسلام کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ افغانی نوجوانوں نے دیوبند کے مدرسہ میں تعلیم پائی ہے مگر یہ تعلیم سادہ طور پر دین کی تھی نہ کہ جنگ جوئی کی۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور دوسرے کئی نیشنل لیڈروں کی تعلیم لندن میں ہوئی۔ واپس آنے کے بعد وہ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں شریک ہو گئے۔ اب کیا یہ کہنا صحیح ہو گا کہ ان لیڈروں کو لندن کے اسکولوں میں انگریزوں کے خلاف لڑنے کی تعلیم دی گئی تھی۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جو لوگ آزادی کی تحریک میں شریک ہوئے اور ”انگریز و بھارت چھوڑو‘‘ کانعرہ لگایاوہ تقریباً سب کے سب ہندوستان کے ان انگریزی اسکولوں کے پڑھے ہوئے تھے جو برٹش دور میں قائم کئے گئے۔ ان کی بابت لارڈ میکالے نے کہا تھا کہ ان انگریزی اسکولوں کا مقصد یہ ہے کہ یہاں ایسی نسل پیدا ہو جوپیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی ہو اور اپنی سوچ کے اعتبار مگر انہیں انگریزی اسکولوں میں پڑھ کر لوگ انگریز کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس وقت انگریزی اسکولوں میں انگریزی حکومت کے خلاف لڑائی کی تعلیم دی جاتی تھی۔

یہی معاملہ افغانیوں کا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ افغانی نوجوانوں نے ہندوستان کے دینی

مدرسہ میں داخلہ لے کر یہاں تعلیم حاصل کی۔ اس کی بعد اپنے وطن جاکر جب وہ وہاں کے عسکری تحریک میں شامل ہو گئے تو اس کا کوئی تعلق ہندوستان کے دینی مدرسہ سے نہ تھا۔ جوئی کا سبق انہوں نے خود اپنے ملک سے لیا۔ اس کا کوئی تعلق ان کی بیرونی تعلیم سے نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے یہاں کے مدرسہ میں حیدر آباد کا ایک طالب علم تھا۔ وہ جوڈو کراٹے سیکھے ہوئے تھا۔ مدرسہ کے قریب ایک نہر ہے۔ وہ اکثر اسی نہر پر جایا کرتا تھا۔ ایک روز وہاں ایک ہندو لڑکا تھا۔ وہ مذکورہ طالب علم کے پاس کھڑا ہو کر بار بار نہر میں کودتا تھا۔ اس کی وجہ سے طالب علم پر پانی کے چھینٹے آتے تھے۔ طالب علم نے منع کیا، وہ نہیں مانا تو طالب علم نے اس ہندو لڑکے کو مار دیا۔ وہ روتا ہوا گھر گیا۔ اس کے بعد اس کی ماں آئی اور طالب علم کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے طالب علم نے اس ہندو عورت پر جوڈو کراٹے کا فن استعمال کیا۔

اس سے ہندو آبادی میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ وہ لوگ مدرسہ پر آئے۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ یہ طالب علم کی غلطی ہے اور سب کے سامنے طالب علم سے معافی منگوائی۔ اس کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہو گیا۔

تاہم ایسے سنگین معاملہ میں اتنی آسانی سے ہندوؤں کے ٹھنڈا پڑ جانے کا ایک پس منظر اس سے پہلے مدرسہ کے طلبہ نے ہندو آبادی پر اچھا اثر ڈالا تھا۔ مدرسہ سے ملے ہوئے ان لوگوں کے کھیت ہیں۔ مگر طلبہ چونکہ مدرسہ کے تحت ڈسپلن میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کبھی ان ہندو کسانوں کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔ ایک بار گاؤں میں آگ لگ گئی تو تمام طلبہ دوڑ کر وہاں گئے اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر آگ بجھائی۔ اس پیشگی اخلاقی اثر کی وجہ سے ہندو زیادہ مشتعل

ان میں سے کچھ لوگوں نے خود ہی یہ کہنا شروع کر دیا کہ مدرسہ والے غلط لوگ نہیں ہیں۔ اس میں غلطی دونوں کی ہو گی۔

میں نے کہا کہ اس سنگین معاملہ کو فساد تک پہنچنے سے جس چیز نے روکا وہ "جوڈو کراٹے" کا

فن نہیں تھا۔ بلکہ اخلاق اور حسن کردار تھا۔ ایک استاد کے الفاظ میں ایسا اس لیے ہوا کہ : ”ہم نے پہلے سے یہ ثابت کر رکھا تھا کہ ہم آپ کے ہمدرد ہیں۔ ہم آپ کے غم میں شریک ہیں“۔ حاجی ڈی خان ۱۹۲۷) مسروالا کے قدیم باشندہ ہیں۔ ۱۸ نومبر کی صبح کو ان سے وہ گورنمنٹ سروس کر رہے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ نے یہاں ۱۹۴۷ سے پہلے کا زمانہ بھی دیکھا ہے اور ۱۹۴۷ سے بعد کا بھی۔ دونوں زمانوں میں کیا فرق ہے۔ نے کہا کہ بہت فرق ہے۔ پہلے دونوں فرقوں میں محبت تھی، اب دونوں کے اندر نفرت آگئی میں نے پوچھا کہ پہلے کیوں محبت کا تعلق تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے آپس میں ملنا جلنا خوب شادی بیاہ میں دونوں ایک دوسرے کے یہاں جاتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے تیوہاروں میں شریک ہوتے تھے۔ کام دھندے میں بھی بار بار ملنا ہوتا تھا۔ اب دونوں میں دوری

یہ بہت صحیح بات ہے۔ یہ سارا معاملہ اختلاط کا معاملہ ہے۔ دونوں میں دوبارہ خوش گوار تعلقات قائم کرنے کے لئے آج سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ دونوں میں زیادہ سے زیادہ اختلاط کی صورتیں پیدا کی جائیں۔

”ہمارے لوگوں میں قلبی لگاؤ نہیں خدا سے۔ دکھاوا زیادہ ہے، لگن کم ہے“ انہوں نے بڑی سادگی کے ساتھ کہا۔ انہوں نے بتایا کہ مسروالا میں دو مسجدیں تھیں۔ اب ایک اور مسجد بنائی

مولانا کبیر الدین صاحب جب اس علاقہ میں آئے تو پہلے وہ رائے پور میں مقیم ہوئے۔ وہاں آرایس ایس کا ایک آدمی تھا جس کا نام سری نواس بنسل تھا۔ عام مسلمان اس سے نالاں تھے۔ مگر وہ مولانا کبیر الدین صاحب کا معتقد ہو گیا۔ حتی کہ جب وہ مسروالا آگئے تو وہ ان سے ملنے کے لئے یہاں آنے لگا۔ وہ مولانا کے گھر کا کھانا نہیں کھاتا تھا بلکہ گاؤں میں جاکر کسی ہندو کے یہاں مگر مولانا کبیر الدین صاحب سے اس کے تعلقات بہت اچھے تھے۔

گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا کہ سری نواس بنسل کو مولانا کبیر الدین صاحب کی سادگی، اصول پسندی ، وقت کی پابندی اور کسی سے نفرت نہ کرنے کا مزاج اس کے لئے باعث کشش

18 نومبر کو ناشتہ کرتے ہوئے میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے پوچھا: "کوئی ہندو اپنے بچہ کو مدرسہ میں داخل کرنا چاہے تو آپ داخل کریں گے" انہوں نے فوراً کہا کہ ہاں۔ بولے: مگر دار الاقامہ میں نہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے کہا کہ اس کو یہاں تنگی میں نے دوبارہ پوچھا کہ اگر وہ تنگی کو برداشت کرے تو، انہوں نے کہا پھر تو کوئی ہرج ہم اس کو دار الاقامہ میں بھی رکھ لیں گے۔

عام طور پر مدارس کا یہ مزاج نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مدرسہ میں کوئی ہندو بچہ ہوگا تو وہ مدرسہ کے ماحول کو خراب کرے گا۔ حالانکہ یہ بالکل بے بنیاد اندیشہ ہے۔ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں لوگوں کے ماحول میں ایک غیر مسلم بچہ ہو تو وہ خود متاثر ہوگا نہ یہ کہ وہ دوسروں کو متاثر کر ڈالے۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں اسی ملک میں مسلم مدارس میں ہندو بچے بھی پڑھتے تھے اور اس کا نتیجہ اسلام کے لئے بہتر صورت میں

1992ء کے آخر میں کچھ فرقہ پرست عناصر نے یہ اعلان کیا کہ 6 دسمبر 1992ء کو وہ بڑی تعداد میں اجودھیا میں داخل ہوں گے اور بابری مسجد کو توڑ کر وہاں رام مندر بنائیں گے۔ اس کے بعد ملک میں جگہ جگہ تناؤ پیدا ہو گیا۔ اسی اثناء میں نومبر 1992 میں پونٹا صاحب (ہماچل پر دیش) کے پاس ایک گاؤں میں ایک اشتعال انگیز واقعہ ہوا۔ کچھ شرپسندوں نے ایک مسلمان کی زمین پر قبضہ کر کے رات کے وقت وہاں ایک مندر کی تعمیر شروع کردی۔

دیواریں کھڑی ہو چکی تھیں ، ابھی چھت نہیں بنی تھی کہ وہاں مسلمان آگئے اور فرقہ وارانہ نزاع کی صورت پیدا ہوگئی۔ اس کے بعد پولیس کیس بن کر معاملہ عدالت میں پہنچا۔

عدالت نے تحقیقات کے بعد تعمیر کو غیر قانونی قرار دے دیا اور حکم دیا کہ اس کو توڑ کر اس کی سابقہ حالت بحال کردی جائے۔

اس کے بعد گاؤں میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں پولیس افسر ، مقامی ہندو، علاقہ کے ایم ایل اے فتح سنگھ (بی جے پی) وغیرہ شامل تھے۔ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری بھی اس میٹنگ میں علاقہ کے عالم کی حیثیت سے موجود تھے۔ لوگ کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ رہے تھے۔ پولیس اگر مندر کو گرادے تب بھی یہ اندیشہ تھا کہ نفرت اور کشیدگی بڑھے گی اور نئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے جس کو روکنے کے لئے کوئی عدالت یا پولیس یہاں موجود نہ ہوگی۔ اس وقت مولانا کبیر الدین مظاہری نے جرأت مندانہ اخلاق کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک شبھ کام اشھد انداز میں ہوا ہے۔ مگر اب چونکہ یہاں مندر کی ایک صورت کھڑی ہو گئی ہے تو لوگ اس کو مندر کے نام سے جانتے ہیں۔ اور اگر اس کو توڑا جاتا ہے تو عوام میں یہ شور ہوگا کہ گاؤں کا ایک مندر توڑ دیا گیا۔ اس سے دونوں فرقوں میں نفرتیں پیدا ہوں گی اور مسئلہ پھر بھی نئی صورت میں باقی رہے گا۔ اس لئے اب ایسا کیا جائے کہ ہندو لوگ اپنا مندر تو وہیں پورا البتہ اس کے بجائے مالک زمین کو ایک اور جگہ اس کے معاوضہ میں دے دی جائے۔ اس پر سب لوگ متفق ہوگئے۔ مسلمان مالک کو دوسری زیادہ بہتر زمین اس کے معاوضہ میں دے دی گئی۔ مندر وہیں قائم رہا۔ مگر اس فیصلہ کا زبردست فائدہ یہ ہوا کہ مذکورہ ہندوؤں کے سر شرم سے جھک گئے۔ اور مسلمانوں کو مستقل طور پر اخلاقی برتری حاصل ہوگئی۔ میں اپنے سر پر سفید پگڑی باندھتا ہوں۔ اس کے اندر ٹوپی نہیں ہوتی۔ ایک بزرگ نے اس کو دیکھ کر کہا کہ آپ کا عمامہ سنت کے مطابق نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ اس طرح عمامہ باندھتے تھے کہ اس کے اندر ٹوپی ہوتی تھی اور آپ کے عمامہ کے نیچے ٹوپی نہیں۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ سنت اجمالی مطلوب ہوتی ہے نہ کہ سنت کلی۔ اور یہ عین فطرت کا تقاضا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اگر کامل پیروی کو ضروری قرار دیا جائے تو جو لوگ ٹوپی

کے اوپر عمامہ باندھتے ہیں ان کا عمامہ بھی مسنون عمامہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے عمامہ کا کپڑا ہاتھ کا بنا ہوا ہوتا تھا، جب کہ آج کل کے لوگوں کی ٹوپی اور عمامہ دونوں مل کے کپڑے سے تیار کئے جاتے ہیں۔

مدرسہ کے ایک استاذ مولانا انصار الحق مظاہری نے بتایا کہ جب وہ چودہ سال کے طالب علم تھے، مدرسہ کی رسید لے کر وہ چندہ وصول کرنے گئے۔ ایک حکیم صاحب کے یہاں پہنچے جو باقاعدہ عالم بھی تھے۔ انہوں نے بہت سخت انداز اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی مدرسہ والے کو چندہ نہیں دیتا۔ انصار الحق صاحب نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کچھ نہیں انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ نے تجربہ کیا ہے یا قیاسی طور پر ایسا کہہ رہے ہیں۔ صاحب نے اقرار کیا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی ذاتی تجربہ نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی الماری سے الجاحظ کی کتاب "اَلْحَيَوَان" نکالی۔ یہ غیر معرب انہوں نہ کہا کہ اس کتاب کو آپ نے دیکھا ہے۔ انصار الحق صاحب جو اس وقت کم عمر تھے، انہوں نے کہا کہ آپ نے یہ کیوں کہا کہ دیکھا ہے۔ آپ کو یہ پوچھنا چاہئے کہ کیا اس کو پڑھا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اچھا بتائیے، کیا آپ نے اس کو پڑھا ہے۔ انصار الحق صاحب نے کہا کہ میں نے اس کو پانچ بار پڑھا ہے۔ اور پھر اس غیر معرب نسخہ کو روانی کے ساتھ پڑھ کر سنانے

اس طرح کے کتنے ذہین نوجوان ہمارے مدارس سے پڑھ کر نکلتے ہیں۔ مگر دور جدید کی زبان نہ جاننے کی وجہ سے وہ سماج میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے پاتے۔ یہ لوگ اگر دینی تعلیم کے ساتھ انگریزی زبان بھی سیکھ لیں تو ان کی صلاحیتیں قوم کے لئے کئی گنا زیادہ مفید بن جائیں

موجودہ زمانہ میں اسلام کی ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ ہمارے درمیان بڑی تعداد میں ایسے اہل علم ہوں جو بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں اسلام

کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر ایسے افراد اتنے کم ہیں کہ وہ الشاذ کالمعدوم کے درجہ میں رکھے جانے کے قابل ہیں۔

میں نے مدرسہ قادریہ کے ذمہ داروں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ لوگ اپنے موجودہ نصاب کو چلاتے ہوئے ایک نئے کلاس کا اضافہ کریں۔ اس کو آپ لینگوئج کلاس یا لینگوئج کورس کہہ سکتے ہیں۔ اس میں صرف فارغ التحصیل افراد کو لیا جائے۔ عربی مدارس کے فارغین کو انگریزی زبان پڑھائی جائے اور انگریزی ادارہ کے تعلیم یافتہ افراد کو عربی زبان سکھائی جائے۔ فی الحال اس کی تعداد صرف دس ہو۔ پانچ عربی داں اور پانچ انگریزی داں ۔ ان کو پڑھانے کے لئے دو معلم مقرر کئے جائیں۔ ایک عربی معلم اور ایک انگریزی معلم۔ مدرسہ کے ذمہ داروں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ تاہم اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ کے بغیر شاید مدرسہ اس کام کو بحسن و خوبی انجام نہ دے سکے۔ اس سلسلہ میں جو لوگ شرکت یا تعاون کرنا چاہتے ہوں وہ ذیل کے پتہ پر خط و کتابت کریں :

Maulana Kabiruddin Faran Mazahiri, Nazim, Madrasa Quadria, Missarwala, Distt. Sirmour, Pin 173021, Tel. 01704-55126, Fax : 01704-55286 ایک صاحب نے کہا کہ آخر کیا بات ہے کہ غیر مسلموں میں آپ کی بہت پذیرائی ہو رہی ہے، ہندوؤں اور عیسائیوں کے جلسوں میں خطاب کرنے کے لئے آپ بار بار بلائے جاتے ہیں، دور جدید میں یہ پہلا واقعہ ہے جو کسی مسلمان عالم کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ آپ کے سوا کسی اور عالم کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔

میں نے کہا کہ یہ صرف اسلوب کے فرق کا معاملہ ہے، اصل یہ ہے کہ دوسرے عالم اور رہنما اسلام کو دفاعی نقطہ نظر سے پیش کرتے ہیں۔ جب کہ میں اسلام کو دعوتي اعتبار سے پیش کرتا انہوں نے دوسری قوموں کو اسلام کا دشمن سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کی تقریروں میں

مناظرانہ اور حریفانہ رنگ آگیا۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں کسی کو بھی اسلام کا دشمن نہیں سمجھتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام دین فطرت ہے اس بنا پر اسلام ہر انسان کا اپنا مطلوب دین ہے۔ میری اس سوچ کی بنا پر میری تقریر میں مذمت کے بجائے محبت ہوتی ہے۔ اظہار فخر نہیں ہوتا۔ اس میں مناظرہ بازی نہیں ہوتی۔ وہ فطرت کو جگاتی ہے اور ان کے سامنے خدا کے دین کا مثبت تعارف پیش کرتی ہے۔ میں ہندو یا عیسائی کے مقابلہ میں مسلمان کا کیس پیش بلکہ سب کو خدا کا بندہ مان کر ان کے سامنے خدا کی بات پیش کرتا ہوں۔ اسلوب کا یہی فرق ہے جس نے ان کی نظر میں میری بات کو پسندیدہ بنا دیا ہے۔

ہما چل پردیش کے مختلف حصوں کا سفر کرتے ہوئے میں نے پایا کہ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وہ نفرت اور تعصب نہیں ہے جو دہلی اور یوپی کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ دونوں خطوں میں اس اعتبار سے واضح فرق ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ دہلی اور یوپی کا علاقہ عرصہ دراز تک سیاسی لوگوں کا مرکز رہا ہے اور آج اس طرح اس علاقہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کا ماحول قائم ہو گیا۔ اس کے برعکس ہماچل پردیش کا علاقہ کبھی بھی اس قسم کی فرقہ وارانہ سیاست کا مرکز نہیں رہا۔ اسی فرق نے دونوں خطوں کے درمیان وہ فرق پیدا کر رکھا ہے جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ انسانی سرگرمیوں کو اگر دو قسم میں بانٹا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ سیاسی سرگرمیاں باہمی نفرت پیدا کرتی ہیں اور تعمیری سرگرمیاں باہمی محبت۔

مدرسہ میں ایک مسلمان بڑھئی کام کر رہے تھے ان کا نام محمد حنیف ہے۔ اس وقت یہاں مسجد میں ماربل لگانے کا کام بھی ہو رہا تھا۔ مذکورہ بڑھئی نے کئی روز ماربل کے مستریوں کو دیکھا۔ انھیں ان کا کام اچھا نہیں لگا۔ اگر چہ خود انھوں نے کبھی ماربل کا کام نہیں کیا تھا اور نہ اس کو کہیں تا ہم اپنے اندرونی جذبہ کے تحت انہوں نے مدرسہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ ماربل لگانے کا کام آپ مجھے دے دیں، میں اس کو کروں گا۔ چنانچہ یہ کام انہیں دے دیا گیا۔ اس کے بعد

انہوں نے ماربل لگانے کا کام شروع کیا اور مستریوں سے کہیں زیادہ اچھا لگایا۔ میں نے بعد میں چاروں طرف دیکھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ کام کسی ماہر کاریگر نے کیا ہے۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ یہ ایک نئے آدمی نے انجام دیا ہے۔

مسلمان آج کل ہر جگہ کاریگری کے کام میں آگے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔ تعلیمی پس ماندگی نے ان کے اندر نیا جوش پیدا کیا۔ وہ سرگرمی کے ساتھ کاریگری کے کام میں لگ گئے جس میں تعلیم کی ضرورت نہ تھی۔ یہ قدرت کا نظام ہے۔ آدمی اگر ایک میدان میں ناکام رہے، تو وہ دوسرے میدان میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ پہلے تو لوگ آپ کی چیزیں بہت شوق کے ساتھ پڑھتے مگر جب آپ نے کہا کہ مسلمان بابری مسجد ہندوؤں کے حوالے کر دیں تو لوگ آپ کے خلاف ہو گئے۔ میں نے کہا کہ یہ تو ایک لغو بات ہے۔ میں نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد میں نے صرف یہ کہا تھا کہ مسلمان اب اس اشو پر عملاً خاموشی اختیار کر لیں۔ اور آپ دیکھئے تو تمام کے تمام مسلمان، خواہ اصاغر ہوں یا اکابر، سب اس اشو پر خاموشی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں گویا اس معاملہ میں فارسی شعر کا معاملہ ہے کہ :

Printed page