لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں
Al-Risala, May 1999, pp. 29–41
By Maulana Wahiduddin Khan
۶ دسمبر کے بعد مسلم رہنماؤں نے یہ مانگ شروع کر دی کہ ”مسجد دوبارہ وہیں بناؤ“ جب کسی نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا تو اب وہ خاموش ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک تاجر کا انتقال ہو اس کے بعد اس کا لڑکا اس کی جگہ مالک بنا۔ ایک ملازم نے جوش کے انداز میں لڑکے سے کہا کہ ”میری تنخواہ بڑھائیے ورنہ...“ لڑکے نے اس کی طرف گھور کر دیکھا اور کہا: ”ورنہ تم کیا اب ملازم دھیمی آواز میں بولا: ”اسی تنخواہ پر کام کریں گے“۔
یہی معاملہ ان نام نہاد رہنماؤں کا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد وہیں بناؤ ورنہ ... جب ذمہ داروں نے انہیں نظر انداز کر دیا تو اب وہ بزبان حال کہہ رہے ہیں ”پھر ہم بھی خاموشی اختیار
کر لیں گے“۔
۱۸ نومبر کی سہ پہر کو مسر والا سے ناہن کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں ہارٹی کلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ دیکھا۔ اس کا یہاں بہت بڑا فارم ہے۔ ایک باغ میں کینو کے خوبصورت پھل لگے ہری شاخوں کے درمیان لال رنگ کے پھل فطرت کے حسن کا مظاہرہ کر رہے
کینو ایک نیا پھل ہے جو مو سمبی اور سنترے کی قلم تیار کر کے بنایا گیا ہے۔ اس میں رس کی مقدار دونوں ہی سے زیادہ ہوتی ہے۔
اس کے آگے شکتی نگر میں کچھ دیر کے لئے ٹھہرے۔ یہاں ایک افسر مسٹر یعقوب بیگ ان سے ملنے کے لئے ہم لوگ چند منٹ رکے تو اندر سے مسٹر آر ایس ور مانکل آئے جو بجلی بورڈ میں سپر نٹنڈنگ انجینئر ہیں۔ (01702-22281 .Tel) انہوں نے کہا میں اخباروں میں آپ کے آرٹیکل پڑھتا رہا ہوں، اور میرے پاس ان کی کلپنگ بھی ہے۔ مجھے آپ کی باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔
راستہ میں مولانا کبیر الدین صاحب نے ایک بڑے کام کی بات کہی، انہوں نے کہا کہ: ”اگر ہمیں دین کا کام کرنا ہے تو ہم کو اسٹیج اور مظاہرہ کا طریقہ چھوڑنا ہو گا۔ مغرب کی نماز ہم لوگوں نے ناہن میں پڑھی۔ یہاں چار مسجدیں ہیں۔ مسجد کچا تالاب بس اسٹینڈ کے بالکل قریب ہے اور کافی آباد ہے۔ اس مسجد میں نماز مغرب کے بعد جلسہ کا پروگرام رکھا گیا تھا۔
جلسہ سے پہلے کچھ دیر ہم لوگ امام صاحب قاری حسین احمد کے کمرہ میں بیٹھے۔ صدر انجمن جناب شیخ نثار احمد ایڈوکیٹ بھی آگئے۔ وہ میرے مضامین پڑھتے رہے ہیں۔ نے کہا کہ ہماری پالیسی وہی ہے جو آپ بتاتے ہیں۔ یعنی ٹکراؤ سے نہیں بلکہ پیار سے۔ یہ علاقہ ریاست سر مور میں شامل تھا۔ ۱۹۴۷ میں یہاں کے راجہ راجندر پر کاش تھے۔
تمام مسلمان ان کی تعریف کرتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ ۱۹۴۷ میں جب ہر طرف فساد پھیل گیا تو راجہ راجندر پر کاش نے مسلمانوں کی حفاظت کے لئے اپنی فوج لگادی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی ایک مسلمان بھی یہاں سے چھوڑ کر جائے۔
ڈاکٹر حشمت علی صاحب بھی کمرہ میں آگئے۔ وہ یہاں مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھانے کے لئے کافی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بات یہ بتائی کہ ناہن میں دینی کام سب کا سب مقامی چندہ سے ہو تا رہا ہے۔ یہاں کا آدمی کبھی بھی باہر چندہ مانگنے کے لئے نہیں گیا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: "ناہن کے مسلمانوں میں جو اجتماعیت ہے وہ بہت کم کسی شہر میں دکھائی دے گی۔
۱۸ نومبر کی شام کو مغرب اور عشاء کے درمیان تقریر کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام مسجد کے اندر رکھا گیا تھا۔ زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ لیکن شہر کے معروف ہندو بھی قابلِ لحاظ تعداد میں موجود تھے۔ مہاراجہ سر مور کی بہو انجنا سنگھ بھی شریک تھیں۔ مسٹر آرایس ورما (سپرنٹنڈنگ انجینئر) اور دوسرے کئی اعلی تعلیم یافتہ ہندو آئے۔ سب نے کہا کہ ہم آپ کے آرٹیکل اخباروں میں پڑھتے تھے۔ اور ہم کو آپ کی باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ R.S. Verma, S.E. (Gen.) Nahan, (H.P.) Pin- 173001 Tel. 2281 (R) 2282 (O), 2437 (O) STD Code- 01702 ناہن سے رات ہی کو ہم لوگ مسروالا کے مدرسہ میں واپس آگئے۔ یہ مدرسہ بستی سے کچھ باہر واقع ہے۔ ۱۹ نومبر کو میں نے مدرسہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی۔ نماز کے فوراً بعد بستی کے ایک صاحب ملے۔ انہوں نے بستی آکر یہاں کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی تھی۔ کہا کہ بستی میں لوگ منتظر ہیں کہ آپ وہاں چل کر انہیں کچھ دین کی باتیں بتائیں۔ فجر کی نماز مدرسہ میں اول وقت غلس میں ہوتی ہے۔ اور بستی کی مسجد میں دیر کے بعد اسفار میں۔ ہم لوگوں کے لئے یہ ممکن ہو گیا کہ مدرسہ میں نماز ادا کرنے کے بعد وقت پر بستی کی نماز میں پہنچ
نماز کے بعد مستری یوسف صاحب کے اصرار پر ان کے گھر پر صبح کی چائے پی گئی۔ بستی کے کچھ لوگ جمع ہوگئے۔ ان سے مختصر گفتگو ہوئی۔ واپسی کے بعد صبح 9 بجے میری قیام گاہ پر ۔ مدرسہ کے اساتذہ اور کچھ دوسرے افراد اکٹھا ہوئے۔ ان کے سامنے علم دین کے موضوع پر گفتگو اس سلسلہ میں میں نے مختلف علمی واقعات ماضی اور حال کے سنائے۔ جس میں ہر ایک کے لئے سبق تھا۔
مدرسہ قادریہ اور اطراف کی مسجدوں کی تعمیر میں خاص طور پر جناب حاجی موسی بٹلہ صاحب اور جناب ایف ڈی ریاض الدین وغیرہ کا خصوصی حصہ رہا ہے۔ اس علاقہ کی مسجدیں اور مدرسے ایک زندہ علامت کے طور پر بتا رہے ہیں کہ اہل مال کھلے دل کے ساتھ اہل دین کا تعاون کر رہے ہیں۔ اہل مال اور اہل دین کا یہ اشتراک بلاشبہ ملت کا قیمتی سرمایہ ہے۔ مہمان خانہ کے جس کمرہ میں یہاں میں ٹھہرا تھا، اس کے اندر ایک بڑی الماری تھی جس میں بہت سی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ انہیں میں سے ایک کتاب مصنف ابن ابی شیبہ (م ۲۳۵ھ) کا مکمل سٹ تھا جو ۱۹۸۶ء میں کراچی سے تصحیح کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ اس کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ اس میں زیادہ تر احکام ومسائل والی روایات ہیں۔ الجزء العاشر میں فضائل القرآن کے باب میں ایک روایت میں بتایا گیا تھا کہ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں یہ کہنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ( قرأت القرآن كله) حدیث نمبر ۱۰۱۴۱ میں یہ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے کہا کہ میں نے پورے قرآن کو پڑھ لیا۔ انھوں نے فرمایا کہ تم نے اس میں سے حاصل کیا کیا ( قال رجل قرأت القرآن كله . قال عبدالله بن عمر : وما ادرکت منه )
دور اول میں لوگوں کی توجہ اس پر ہوتی تھی کہ انہوں نے قرآن کے کسی حصہ کو پڑھا تو اس سے کیا حاصل کیا۔ اب ساری توجہ اس پر ہوتی ہے کہ انہوں نے قرآن کو کتنی بار ختم کیا۔
پہلے قرآن کے معنوی پہلو پر زور دیا جاتا تھا، اب اس کے الفاظ ہی کو کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ کے مقابلہ میں موجودہ دور میں جو فرق ہے وہ اصل میں یہی ہے۔
۱۹ نومبر کو فجر کی نماز میں ایک بوڑھے مسلمان حاجی محمد رمضان بھی موجود تھے۔ وہ فتح پور کے رہنے والے تھے جو یہاں سے ڈھائی کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ان کے یہاں مسجد نہیں تھی۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے یہاں کی فضا خراب ہوئی، اسی زمانہ میں مسلمانوں میں شوق ہوا اور انہوں نے یہاں ایک مسجد کی بنیاد ڈال دی۔
مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو مقامی ہندو رکاوٹ ڈالنے لگے۔ ہندوؤں کی رکاوٹ سے وہاں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا، جب حالات زیادہ خراب ہو گئے تو وہاں پولیس افسر اور ایس۔ ڈی ایم سٹی چوہان (موجودہ اے ڈی ایم شملہ) تھے۔
پولیس آئی تو مسلمان چپ رہے۔ مگر ہندوؤں نے جوش دکھایا۔ گاؤں کے ہندو چودھری کا لڑکا بھی وہاں آگیا۔ وہ اس وقت شراب پئے ہوئے تھا۔ وہ چیخ چیخ کر کہنے لگا کہ یہاں کبھی مسجد اس لئے یہاں ہم ہرگز مسجد بننے نہیں دیں گے۔ اس کی اس زیادتی پر پولیس افسر اور ایس ڈی ایم کو غصہ آگیا۔ اس نے کہا ”اس وقت تو میں میٹھی گولی دے رہا ہوں۔ کڑوی گولی بھی ہے“ اس نے باقاعدہ مسلمانوں کی حمایت شروع کر دی۔ اس نے کہا کہ وہ لوگ اپنی زمین پر اپنے پیسہ سے مسجد بنا رہے ہیں تو تم کو کیا مصیبت پیش آ رہی ہے۔ خلاصہ یہ کہ پولیس مسلمانوں کی حمایت پر کھڑی ہو گئی۔ یہاں تک کہ مسجد مکمل ہو گئی۔ اب وہاں پنج وقتہ نماز قائم حاجی محمد رمضان صاحب (۶۵ سال) اس مسجد کے امام ہیں۔
۱۹ نومبر کو مسر والاسے سہارن پور کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں پونٹا آیا۔ وہاں ہم لوگ کچھ دیر کے لئے مسٹر اشوک کمار شرما کے مکان پر ٹھہرے۔ یہیں پر پنجاب کیسری کے نمائندہ ڈاکٹر برجیندر کمار آگئے۔ انھوں نے اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ پنجاب کیسری اس وقت پورے ہندوستان میں سب سے زیادہ کثیر الاشاعت اخبار ہے۔
انہوں نے ایک سوال یہ کیا کہ مذہب زیادہ بڑا ہے یا انسانیت۔ میں نے کہا کہ اس قسم کا تقابل فٹ اور میٹر میں کیا جا سکتا ہے۔ مگر کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں اس قسم کا تقابل مثلاً کوئی آپ سے پوچھے کہ آپ کی ماتازیادہ قابلِ عزت ہیں یا آپ کے پتا۔ آپ کہیں گے کہ میرے لئے تو ماتا اور پتا دونوں یکساں طور پر قابلِ عزت ہیں۔ یہی معاملہ مذہب اور انسانیت کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں ہی کی اہمیت ہے۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے، تو سچے مذہب میں انسانیت اپنے آپ شامل ہوتی ہے۔ مولا نا ممتاز احمد قاسمی نے بتایا کہ ۱۹۸۴ میں کشمیر میں نوجوانوں نے مندر جلا دیا تھا۔ شملہ کے ہندو پھر گئے۔ انہوں نے جلسہ کیا اس میں اس قسم کی تقریریں کیں کہ شملہ کی ایک ایک مسجد کو ہم جلا دیں گے۔ کوئی مسجد یہاں دکھائی نہیں دے گی ۔
اس وقت شملہ کا ڈپٹی کمشنر آف پولیس مہندر لال تھا۔ وہ ہندوؤں کے یہاں گیا۔ کہا کہ اگر تم شملہ کی مسجدوں یا یہاں کے مسلمانوں کے گھروں کو جلانا چاہتے ہو تو شوق سے جلاؤ۔ تم جتنا مانگو، تیل اور پٹرول تم کو دینے کے لئے میں تیار ہوں، مگر ایک بات سن لو۔ بھڑ کے گی تو وہ ہندو اور مسلمان نہیں دیکھے گی۔ وہ مسلمانوں کے گھروں کے ساتھ تمہارے گھروں کو بھی جلائے گی۔ اس وقت تم فائر بریگیڈ مانگو گے تو میں ایک بھی فائر بریگیڈ نہیں دوں گا۔ اس کے بعد وہ ٹھنڈے ہو گئے اور شملہ میں کوئی جوابی فساد نہیں ہوا۔
پونٹا صاحب سے آگے بڑھے تو میلوں تک ہمارا سفر اس علاقہ سے ہوا جس کو دون وادی (Doon Valley) کہا جاتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف نہایت پر کشش قدرتی مناظر تھے۔ سبز پوش پہاڑوں کی بلندی، رواں دواں نہر، دور تک نشیب و فراز میں پھیلی ہوئی ہریالی، اس کے اوپر نیلا آسمان، قدرتی حسن کے اس ماحول نے ہمارے سفر کو ایک رومانی سفر بنا دیا۔ تاہم اسی کے ساتھ ایک تلخ احساس میرا پیچھا کر تا رہا۔ یورپ اور امریکہ میں میں نے اس قسم کے زمینی خطے بار بار دیکھے ہیں۔ وہاں کا حال یہ ہے کہ انسانی منصوبہ بندی نے اس کو ڈیولپ کر
کے اس کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔ اسی کے ساتھ ان کے درمیان جو سڑکیں اور، راستے بنائے گئے ہیں وہ نہایت عمدہ ہیں۔ جب کہ یہاں یہ حال تھا کہ نا ہموار اور جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی سڑکیں، اسی کے ساتھ حسن کاری کا شدید فقدان۔ انسان کی نسبت سے سہولتوں کی عدم
سہارن پور آتے ہوئے ایک بار ایک ٹرک سامنے آگیا۔ ہمارے ڈرائیور نے بار بار ہارن دیا مگر وہ سائیڈ نہیں دے رہا تھا۔ آخر کار ہمارے ڈرائیور نے گاڑی کو سڑک سے نیچے اتار کر اس کو
میں سمجھا کہ ٹرک ڈرائیور شاید پئے ہوئے تھا یا وہ سرکشی کی بنا پر سائیڈ نہیں دے رہا تھا۔ پھر میں نے اپنے ڈرائیور سے پوچھا کہ وہ آخر سائیڈ کیوں نہیں دے رہا تھا۔ ڈرائیور نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ اس کا سائلنسر نکلا ہوا تھا۔ اس کا اپنا ٹرک اتنا زیادہ شور کر رہا تھا کہ وہ ہمارے ہارن کی آواز نہ سن سکا۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے کیسے جانا۔ ڈرائیور نے کہا کہ ٹرک کی آواز سے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کس طرح غلط استنباط کرتا ہے اور کسی کے بارہ میں ایک ایسی رائے قائم کر لیتا ہے جو بالکل بے بنیاد ہوتی ہے۔ مولانا انصار الحق مظاہری یہاں کے ایک لائق استاذ ہیں انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ہمارے اکابر نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ یہاں اسلامی شعائر کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ کے بعد جو دور آیا اس میں شعائر کی بے حرمتی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی اور مذہبی آزادی میں پہلے سے زیادہ رخنے ڈالے جانے لگے۔ مگر اب ہمارے علماء اس ملک کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ نہیں دے رہے ہیں۔ آخر یہ تضاد کیوں؟
یہ سوال قابل غور ہے۔ اگر ۱۹۴۷ سے پہلے کانپور کی مسجد کا صرف غسل خانہ توڑے جانے سے ہندوستان دارالحرب بن سکتا تھا تو آج وہ شدید تر معنوں میں دارالحرب قرار پائے گا۔
کیوں کہ آج پوری مسجد توڑ کر اس کو مٹا دیا گیا ہے۔
اس تضاد کی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان کو دار الحرب قرار دینے کا جو فتویٰ دیا گیا وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک سیاسی فتویٰ تھا۔ نہ کہ کوئی دینی فتویٰ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ثنائیت (dichotomy) بجائے خود درست نہیں۔ اس فقہی تقسیم کے مطابق، جو ملک دار الاسلام نہ ہو وہ دار الحرب قرار پاتا ہے۔ حالانکہ ” دار “ کی اور بھی قسمیں ہو سکتی ہیں۔ دار الدعوة اور دار الامن، وغیرہ۔
میرے نزدیک ہندوستان نہ ۱۹۴۷ سے پہلے دار الحرب تھا اور نہ وہ ۱۹۴۷ کے بعد دار الحرب ہے۔ اس قسم کی دوگونہ تقسیم قرآن وحدیث میں موجود نہیں۔ وہ عباسی دور کے بعض فقہاء نے زمانی حالات کی بناء پر بنائی تھی۔ اس تقسیم کو شریعت کی طرح ابدی قرار دینا ہر گز
شام کو ہم لوگ رائے پور پہنچے۔ یہاں کچھ دیر مدرسہ فیض ہدایت رحیمی میں ٹھہرے۔ عصر کی نماز بھی اسی مدرسہ کی مسجد میں پڑھی گئی۔ مدرسہ کے مہمان خانہ میں اساتذہ جمع ہو گئے۔ ان کے سامنے بعض موضوعات پر اظہار خیال کیا گیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ مدارس کے لئے آپ کا مشورہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مدارس خدا کے فضل سے بہت اہم کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ ملت کے خیمہ کے لئے کھونٹے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آج کل مدارس کے خلاف جو بد گمانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ان کو دور کرنے کا حل نہ احتجاج ہے اور نہ حکومت کے ذمہ داروں سے مل کر مطالبات کا میمورنڈم پیش کرنا۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہم خود کو شش کر کے لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کریں۔ اس کا سب سے طاقتور ذریعہ یہ ہے کہ مدارس قرآن کی آیت واما ما ينفع الناس فيمكث في الارض کا مصداق بنیں۔ ماحول میں اپنے آپ کو نفع بخش بنائیں اور اس طرح اپنے لئے ایک نئی زندگی کا استحقاق ثابت
ظہر کی نماز کسی قدر تاخیر کے ساتھ بادشاہی باغ کی مسجد میں پڑھی گئی۔ میں نے سوچا کہ سڑک کے کنارے مسجدوں کا ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔ یہاں مسلمان وقفہ وقفہ سے کچھ وقت کے لئے ٹھہرتے ہیں۔ وہ وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ سفر کے دوران بار بار وہ ان مسجدوں میں لمحاتی قیام کر کے خدا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے سفر دنیا کو سفر آخرت کا ایک حصہ بنا لیتے
اس کے بعد ہماری گاڑی ایک مقام پر مڑی اب وہ رائے پور جارہی تھی۔ یہ پانچ کلو میٹر کا راستہ اس طرح طے ہوا کہ سڑک کے کنارے بہتی ہوئی نہر، اور پھر دونوں طرف دور تک سر سبز اس کو دیکھ کر میرے سینہ میں شکر کا بے پناہ جذبہ ابھر آیا۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں مومن کی سب سے بڑی کمائی یہ ہے کہ وہ شکر خداوندی کا رزق پاسکے۔ دنیا کے کسی خطہ ارض میں جب تک مومن کو شکر الہی کا رزق مل رہا ہے وہ محروم نہیں ہے۔ وہ عظیم سرمایہ کا مالک ہے۔ نعمت کے ملتے ہوئے دوسری چیزوں سے محرومی پر واویلا کرنا ایک قسم کی ناشکری ہے جو مومن کے لئے جائز نہیں۔
سہارن پور میں ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک مسجد ہے۔ یہاں مغرب کی نماز پڑھی گئی۔ نماز سے فارغ ہو کر اٹھا تو میرے ساتھی مسجد میں نظر نہیں آئے۔ میں حیران تھا کہ وہ لوگ کہاں کچھ دیر کے بعد ایک ساتھی آئے۔ ان سے اصل بات معلوم ہوئی۔
سہارن پور سے مجھے شتابدی اکسپریس کے ذریعہ دہلی کے لئے روانہ ہونا تھا۔ ساتھیوں کا خیال تھا کہ اس کا وقت یہاں سے ساڑھے آٹھ بجے ہے۔ مگر مسجد میں کسی نے بتایا کہ سہارن پور سے اس کا وقت ساڑھے چھ بجے ہے۔ چنانچہ میرے ساتھی تیزی سے چل کر اسٹیشن وہاں معلوم ہوا کہ سہارن پور سے اس کا رزرویشن کوٹہ نہیں ہے۔ اس لئے اگر سیٹ ہو تو ٹرین پر ہی ٹکٹ مل سکتا ہے۔ یہ ایک غیر یقینی بات تھی۔ چنانچہ وہ لوگ اسٹیشن کے افسر اعلیٰ سے یہ مسٹر جو گندر سنگھ تھے۔
Mr. Joginder Singh, Station Superintendant Rly. Station, Saharanpur Jn. (Tel. 744853)
مسٹر جو گیندر سنگھ نہایت شریف آدمی بیس اور علمی ذوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہم لوگوں کو اپنے دفتر میں بٹھایا۔ اس کے بعد انہوں نے ٹیلی فون کر کے اسٹیشن کے ایک صاحب کو ۔ بلایا اور ان سے کہا کہ ’’مولانا صاحب کے لئے ایک ٹکٹ کا انتظام کرو‘‘ وہ آدمی ہمارے ایک ساتھی کو لے کر گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ٹکٹ مجھے مل چکا تھا۔ مسٹر سنگھ نے مزید یہ کیا کہ وہ اپنے آفس سے اٹھ کر ہم لوگوں کے ساتھ ٹرین تک آئے۔ جب انہیں پورا اطمینان ہو گیا کہ مجھے سیٹ مل چکی ہے، اس کے بعد وہ واپس گئے۔
گفتگو کے دوران مسٹر جو گندر سنگھ نے بہت سی قابل تذکرہ باتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ اب مجھے ریٹائر ہونے میں صرف چھ مہینے باقی ہیں۔ جب میں نے سروس شروع کی تھی تو اس وقت لوگ ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے۔ آج یہ حالت ہے کہ ’’کسی کو اچھی بات سکھانے کی کوشش کرو تو وہ سیکھنا نہیں چاہتا۔ ہر آدمی سمجھتا ہے کہ جتنا مجھے آتا ہے اتنا کسی کو نہیں آتا۔ چاہے حقیقت میں وہ کچھ نہ جانتا ہو‘‘۔
شتابدی اکسپریس میں ہر چیز بالکل ہوائی جہاز کے انداز پر بنائی گئی ہے۔ وہ ہندوستان کی نہایت تیز رفتار ٹرین سمجھی جاتی ہے۔ وہ سواسو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔ اس کے اندر اس طرح پر سکون طور پر نہیں لکھ سکتا تھا جس طرح میں ہوائی جہاز کے سفر میں ہمیشہ لکھتا ہوں۔ اس کے وجہ یہ تھی کہ وہ مسلسل اتنی زیادہ ہلتی ہے کہ قلم کو کاغذ پر جمانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ ہندوستان میں ہر معاملہ میں ترقی یافتہ ملکوں کی نقل کی جارہی ہے، جب کہ ترقی یافتہ ملکوں والی ہیں (base) یہاں موجود نہیں۔ شتابدی اکسپریس اتنی زیادہ اس لئے ہلتی ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں جیسی مضبوط پٹریاں یہاں بچھائی نہیں گئی۔ اسی طرح آزادی ہمارے یہاں
انار کی اس لئے بن گئی کہ اس کے لئے سیلف ڈسپلن کی میں موجود نہ تھی۔ جمہوریت ہمارے یہاں اس لئے ناکام ہے کہ ایجو کیشن میں ہمارا ملک ابھی بہت پیچھے ہے، جب کہ ایجو کیشن ہی جمہوریت کی بنیاد ہے، وغیرہ۔
۱۹ نومبر کو ٹرین ٹھیک وقت پر دہلی پہنچی۔ میں اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑا ہوا تو ایک صاحب میرے قریب آئے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ ”صوفی نور خان ہیں۔ میں نے کہا کچھ دیر خاموشی کے بعد انہوں نے میرا نام پوچھا، میں نے انہیں نام بتایا تو وہ بہت خوش انہوں نے کہا کہ آپ کا الرسالہ تو میں پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ الرسالہ میں حقیقت پسندی کی جو تعلیم دیتے ہیں، اگر میں اسی پر چلتا تو میں ایک بڑے نقصان سے بچ جاتا۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے جلد دولت کمانے کے جوش میں اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ بڑا ایک صنعتی یونٹ لگا لیا۔ وہ اس کو چلانے میں کامیاب نہ اب وہ قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد جب میں اسٹیشن سے گھر کی طرف روانہ ہوا تو شہر کے مختلف مناظر کو دیکھنے کے بعد یہ خیال آیا کہ اس کی ذمہ داری تنہا ایک شخص پر نہیں بلکہ پورے مسلم معاشرہ پر ہے۔ موجودہ معاشرہ کا حال یہ ہے کہ اس میں نشو و نما پانے والا ایک شخص کہیں بھی سنجیدگی اور حقیقت پسندی کی تعلیم حاصل نہیں کرتا۔ وہ اس معاشرہ میں جہاں بھی جاتا ہے اس کو ہر جگہ فخر پسندی اور جذباتیت کا سبق دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر کوئی بھی شخص اس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ وہ دوسرے کو صحیح اور خیر خواہانہ مشورہ دے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر آدمی خود رو پودے کی طرح اگتا ہے۔ صحیح معاشرہ وہ ہے جو افراد کے لئے اس کی زندگی کی تعمیر میں معاون بنے مگر موجودہ مسلم معاشرہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر یہ ذمہ داری ادا نہیں کر پاتا۔ اس کا نتیجہ مختلف شکلوں میں ہر ایک کو بھگتنا پڑتا ہے۔
سفر سے واپسی کے بعد نظام الدین کی کالی مسجد میں نماز کے لئے گیا تو یہاں ایک پوری
تاریخ یاد آگئی۔ یہ مسجد جس کو کالی مسجد یا کلاں مسجد کہا جاتا ہے، آج ایک وسیع اور شاندار مسجد دکھائی دیتی ہے۔ مگر ۱۹۴۷ میں یہ ایک کھنڈر کی صورت میں تھی جس پر کچھ لوگوں نے قبضہ کر لیا میوات کے حافظ عبد الغفور صاحب نے اس کو دوبارہ آباد کرنے کی خاموش کوشش شروع کردی ـــــــــ لمبی جد و جہد کے بعد یہ مسجد دوبارہ مسلمانوں کو مل گئی۔ اس کے بعد حافظ عبد الغفور صاحب کے بھا نجے مولانا محمد ہارون صاحب کی مسلسل کوشش کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ آج یہ مسجد اس علاقہ کی سب سے زیادہ شاندار مسجد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حافظ عبد الغفور صاحب ۷۲ سال کی عمر میں دسمبر ۱۹۹۲ء میں وفات پاگئے۔
حافظ عبد الغفور صاحب بظاہر ایک غیر معروف شخص تھے مگر انھوں نے معروف شخصیتوں سے زیادہ بڑا کام کیا۔ ان کی شروع سے یہ کوشش رہی کہ غیر آباد مسجدیں آباد ہوں اور مدارس کا قیام زیادہ سے زیادہ عمل میں آئے۔ انھوں نے اپنی لگن اور جد و جہد سے ۲۲ غیر آباد مسجدیں آباد کرائیں ۔ ۱۵ مدرسے قائم کئے ۔ دہلی میں جو مسجدیں انھوں نے آباد کرائیں ان میں سے چند یہ ہیں: فیروز شاہی جامع مسجد، بستی نظام الدین ۔ جامع مسجد ڈیفنس کالونی، جامع مسجد خیر المنازل بالمقابل چڑیا گھر، مسجد پنج پیراں وغیرہ ۔ اسی طرح مدرسہ زینت القرآن حوض رانی، مدرسہ اشاعت الاسلام (واقع فیروز شاہی جامع مسجد)، مدرسہ تعلیم القرآن جامع مسجد ڈیفنس
حافظ صاحب نے جب بھی کوئی مسجد آباد کی یا کوئی مدرسہ قائم کیا تو ان مقامات پر اپنا قبضہ جمانے کے بجائے لائق شخصیات کو وہاں متعین کر کے ان کو ان کے حوالے کر دیا، مثلاً خیر المنازل میں مولانا الیاس امینی کو امام متعین کیا۔ اسی طرح ڈیفنس کالونی کی جامع مسجد میں مولانا محمد عیسیٰ کو امام مقرر کیا۔ وہ مدرسہ تعلیم القرآن کے مہتمم اور ناظم بھی ہیں۔ مولانا عیسیٰ نے اپنی محنت سے اس مسجد اور مدرسہ کو کافی وسیع کر لیا ہے۔ وہاں آج ہزاروں کی تعداد میں مسلمان نماز جمعہ وعیدین ادا کرتے ہیں۔ کلاں مسجد بستی نظام الدین میں اپنے بھتیجے مولانا محمد ہارون (موجودہ امام و خطیب
کو مقر ر کیا۔ حافظ عبد الغفور صاحب اپنے بھتیجے مولانا محمد ہارون کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے اور اس طرح ان کی تربیت کرتے رہتے۔ ابتداء سے ہی کلاں مسجد بستی نظام الدین کا نظم و ضبط مولانا ہارون کے ذمہ رکھا۔ مولانا ہارون صاحب کا کام گویا کہ حافظ صاحب کے خواب کی عملی تعبیر مولانا ہارون آج بھی کلاں مسجد کی تعمیر و توسیع کے سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کے اندر حافظ صاحب کا قائم کیا ہوا مدرسہ اشاعت الاسلام بھی ترقی کر رہا ہے۔ اس میں بیرونی طلبہ کے قیام و طعام کا معقول انتظام ہے۔ دوسری جگہوں کی نگرانی بھی حافظ صاحب نے انہیں کے سپرد کی۔ تمام مقدمات کی پیروی بھی مولانا ہارون صاحب ہی کرتے رہے۔ صاحب کو آخر وقت تک حافظ صاحب کی یہی تاکید تھی کہ مسجد کو کبھی سیاسی اکھاڑہ نہ بننے دینا۔ حافظ صاحب کی عمر کا ایک طویل عرصہ آثار قدیمہ، ڈی ڈی اے ، کارپوریشن، تیس ہزاری کورٹ، دہلی وقف بورڈ اور جمعیۃ علماء کے چکر کاٹنے میں گزرا۔ کیوں کہ انہیں پرامن اور قانونی ذرائع سے انھوں نے یہ کامیابی حاصل کی اور ایک تعمیری جدوجہد کی تاریخ چھوڑی۔ ۱۹۴۷ء کے بعد مسلمانوں میں بہت سے مثبت کام ہوئے ہیں۔ یہ تمام کام زیادہ تر انھیں لوگوں نے کئے ہیں جنھوں نے مسجد اور مدرسہ کو اپنے عمل کا میدان بنایا اور خاموش اور پرامن انداز کو اپنی جدوجہد کے لئے اختیار کیا۔ اس کے بر عکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جنھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا جس کو عام طور پر سیاسی طریقہ کہا جاتا ہے، ایسے لوگوں نے ملت کو صرف نقصان پہنچایا، وہ ملت کو کوئی بھی مثبت تحفہ نہ دے سکے۔
حافظ عبد الغفور صاحب جیسے بہت سے خاموش دینی خادم ملک میں موجود ہیں۔ یہ ہے کہ مسجد اور مدرسے کی راہ سے کام کرنے کا طریقہ ہی صحیح اور نتیجہ خیز طریقہ ہے، سیاسی ہنگامہ آرائی صرف شخصی لیڈری ہے نہ کہ واقعی معنوں میں کوئی ملی اور دینی کام۔