صورتِ موجودہ کو مان لینا
Al-Risala, January 1999, pp. 26–28
By Maulana Wahiduddin Khan
جب بھی دو آدمیوں یا دو گروہوں میں نزاع پیدا ہو تو بالآخر دونوں کے درمیان ایک عملی حالت قائم ہو جاتی ہے۔ جس کو اسٹیٹس کو (Status quo) کہا جاتا ہے۔ اسٹیٹس کو بدلنے کی کوشش اکثر حالات میں بے نتیجہ ہوتی ہے۔ کیونکہ فریقِ ثانی اپنی پوری طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ صورت موجودہ (اسٹیٹس کو) بدستور باقی رہتی ہے۔ مزید نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس بے نتیجہ کوشش میں طرفین کے حاصل شدہ مواقع بھی بے فائدہ طور پر ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے نزاعی معاملہ میں پیغمبرِ اسلام کی سنت یہ ہے کہ موجودہ حالت (اسٹیٹس کو) کو مان لو۔ اس اسٹیٹس کو ازم کا یہ عظیم فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کو یہ فرصت مل جاتی ہے کہ اپنی قوتوں کو مزید استحکام میں لگا دیں۔ مقامِ نزاع سے ہٹ کر اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ آخر کار طاقت کا توازن بدل جائے اور کسی بڑے ٹکراؤ کے بغیر معاملہ کا فیصلہ کیا جاسکے۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر یہی حکمت اختیار فرمائی۔ آپ مدینہ سے روانہ ہو کر حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مکہ کے لوگ بھی چل کر وہاں آگئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو آگے جانے نہیں دیں گے۔ اس طرح حدیبیہ کے مقام پر ایک تعطل کی حالت پیدا ہو گئی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ایسا نہیں کیا کہ اس تعطل کو توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں بلکہ آپ حدیبیہ ہی سے دوبارہ مدینہ واپس آگئے۔
یہ گویا اپنے اور فریق ثانی کے درمیان قائم شدہ اسٹیٹس کو کو مان لینا تھا۔ کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیغمبر اسلام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنے آپ کو مزید مستحکم کر سکیں۔ ایسا ہی ہوا اور صرف دو سال کے اندر آپ کے لئے مکہ میں فاتحانہ داخلہ ممکن ہو گیا۔ مشکل میں آسانی پیغمبر اسلام ﷺ نے ۸ ھ میں مکہ فتح کیا۔ اس کے بعد آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ سے طائف کے لئے روانہ ہوئے۔ اس زمانہ میں عرب میں ہموار سڑکیں نہیں چلتے ہوئے ایک جگہ ایک تنگ راستہ آیا جو دو پہاڑیوں کے درمیان سے گزرتا چنانچہ یہ راستہ اپنی اسی صفت کے ساتھ مشہور ہو گیا تھا۔
پیغمبر اسلام ﷺ جب اس جگہ پہنچے تو آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ اس راستہ کا نام کیا ہے (ما اسم هذه الطريق) لوگوں نے جواب دیا کہ اس کا نام تنگ راستہ ہے (فقيل له الضيقة) آپ نے جواب دیا کہ نہیں، یہ ایک آسان راستہ ہے (فقال بل هی الیسری) سیرت ابن ہشام (۴ / ۱۲۷)
اس وقت پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ دس ہزار سے زیادہ آدمی تھے۔ اگر افقی انداز میں پھیل کر چلتے تو یقیناً ان کے لئے اس راستہ سے گزرنا مشکل ہو تا، ایسی حالت میں وہ ان کے لئے تنگ بن جاتا۔ لیکن یہی لوگ اگر قطار بنا کر چلیں تو ان کے لئے راستہ سے گزرنا مشکل نہ رہے گا، اور وہ بظاہر تنگی کے باوجود ان کے لئے عملی طور پر آسان ہو جائے گا۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے جواب میں اسی عملی حکمت کی طرف اشارہ فرمایا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے اس واقعہ سے زندگی کا ایک اہم راز معلوم ہوتا ہے۔ حسب حالت تدبیر ہے۔ اس حکیمانہ تدبیر کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔
تدبیر کو استعمال کر کے زندگی کی ہر مشکل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے میں 8ھ میں ایک جنگ ہوئی۔ یہ شام کی سرحد پر مؤتہ کے مقام پر ہوئی اسی نسبت سے اس کو جنگ مؤتہ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔ اس کے مقابلہ میں فریق ثانی کی فوجی تعداد غیر متناسب طور پر بہت زیادہ تھی۔ آخری مرحلہ میں خالد بن الولید اس کے سردار مقرر ہوئے انھوں نے لڑائی کو غیر مفید سمجھ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔ وہ تدبیری پسپائی (Tactical retreat) کے اصول پر مؤتہ سے واپس ہو کر مدینہ چلے گئے۔
عربوں کا مزاج لڑنے مرنے کا مزاج تھا۔ وہ اس پسپائی کی حکمت کو سمجھ نہ چنانچہ جب وہ مدینہ پہنچے تو وہاں کے نوجوانوں نے یا فرار کہہ کر ان کا استقبال کیا۔ اے بھاگنے والو۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس کو سنا تو آپ نے اس کی تردید فرمائی۔ کہا کہ یہ لوگ بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ خدا نے چاہا تو وہ اقدام کرنے والے ہیں۔ بالفرار ولكنهم الكرار انشاء الله تعالى) (سيرت ابن هشام ۲۳۸/۳)
پیغمبر اسلام ﷺ کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک صحیح اقدام وہ ہے جو نتیجہ خیز ثابت ہو سکے۔ محض جوش اور وقار کے لئے لڑ کر مر جانا کوئی مطلوب اسلامی کام نہیں۔ اگر اہل ایمان کے مقابلے میں فریق ثانی کی طاقت فیصلہ کن حد تک زیادہ ہو تو ایسی حالت میں مقابلہ کے لئے اقدام نہیں کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر مقابلہ پیش آجاۓ تو تدبیری پسپائی اختیار کی جائے گی۔ تاکہ مزید تیاری کر کے اپنے آپ کو نتیجہ خیز اقدام کے قابل بنایا جاسکے۔