معیارِ نجات
Al-Risala, June 1999, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ لوگ اگر اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو انھوں نے ہدایت پائی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ہدایت کا معیار کیا ہے جو آدمی کو نجات تک پہنچانے والا وہ یہ ہے کہ آدمی اس معرفتِ ایمان کا ثبوت دے جس کا ثبوت پیغمبر کے معاصر مؤمنین نے دیا تھا۔ اس معرفت سے کم تر درجہ کا ایمان خدا کے یہاں مقبول اور مطلوب نہیں۔ روشنی میں انسان کے معاملہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات یا جنت کا حصول انھیں انسانوں کے لئے ہے جو دوبارہ اس معیار پر پورے اتریں جس پر پیغمبر کے معاصر مؤمنین پورے پیغمبر کے معاصر اہلِ ایمان نے جس معرفت کا ثبوت دے کر پیغمبر کو پہچانا اور ایمانی زندگی اختیار کی، بعد کے زمانہ میں بھی معرفت کا وہی درجہ مقبولیت کی شرط ہے۔ اسی معرفت کا ثبوت دے کر پیغمبر کے معاصر مؤمنین اپنے زمانہ کے پیغمبر کے ساتھی بنے تھے۔ پیغمبر کے معاصر مؤمنین نے پیغمبر کو اس کی مجرد صورت میں پہچانا۔ وہ پیغمبر کی تاریخی عظمتوں کو دیکھے بغیر اس پر انھوں نے اس وقت پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ پیغمبر کے ساتھ مادی یا دنیوی عظمتیں شامل نہیں ہوئی تھیں، جب کہ پیغمبر لو گوں کے درمیان ایک متنازعہ شخصیت بنا ہوا تھا نہ کہ آج کی طرح ایک مسلمہ شخصیت۔
یہی اللہ کے نزدیک ہدایت کا معیار ہے۔ جو لوگ اس خدائی معیار پر پورے اتریں وہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔ اصحابِ رسول تمام مسلمانوں کے لئے معیار ہیں۔ صرف اس معنی میں نہیں کہ انہوں نے شکلاً جس طرح نماز پڑھی اسی طرح ہم بھی نماز پڑھیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اصحابِ رسول جس طرح ایمان لائے ہم بھی اسی طرح ایمان لائیں۔