Al-Risala · June 1999

(۱۴ / ۴۷

Al-Risala, June 1999, pp. 11–12

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ چیزوں کو ربانی نظر سے دیکھے اور معاملات کے اوپر اس اعلیٰ اسلوب میں کلام کرنے لگے جو خدا کی خصوصی توفیق سے کسی کو حاصل ہوتا ہے۔

مومن اور غیر مومن کا فرق یہ ہے کہ غیر مومن چیزوں کے ظاہر کو دیکھ کر اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ جب کہ مومن چیزوں کے ظاہر سے گزر کر اس کے باطن تک پہنچ جاتا ہے۔ اندرونی حقائق کے اعتبار سے اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ یہی وہ خاص صفت ہے جس کی وجہ سے دونوں کی رایوں میں یہ فرق پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک کی رائے بے پناہ حد تک طاقتور ہوتی ہے، اور دوسرے کی رائے بے وزن اور بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔

مثلاً ایک شخص ہے جس کو اللہ سے تعلق نہیں۔ وہ بس اپنی ذات میں جیتا ہے اور اپنی عقل

سے رہنمائی لیتا ہے۔ ایسے شخص کو ایک آدمی گالی دیتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ اب یہ ہوگا کہ اس شخص کی انا بھڑک اٹھے گی۔ اس کی عقل اس کو بتائے گی کہ اس آدمی کو سبق سکھانا ہے۔ اگر میں نے اس کو سبق نہیں سکھایا تو وہ مجھ کو بزدل سمجھ لے گا اور آئندہ میرے خلاف زیادتیوں کے لئے وہ اور بھی جری ہو جائے گا۔ یہ سوچ کر وہ مذکورہ آدمی سے لڑ جائے گا۔ خواہ اس کے نتیجہ میں اس کو مزید تباہی کے سوا کچھ اور ملنے والا نہ ہو۔ اس کے برعکس جس آدمی کے خوف خدا نے اس کو متواضع بنارکھا ہو۔ جس کو خدا کی بڑائی کی معرفت اس طرح حاصل ہو جائے کہ اس کے اندر سے اپنی بڑائی کا احساس نکل جائے۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے خلاف اشتعال انگیز بات کرے تو اس کی تواضع کی نفسیات اس کو اس انجام سے بچائے گی کہ وہ اشتعال انگیزی پر بھڑک اٹھے۔ خوف خدا اس بات کا ضامن بن جائے گا کہ بھڑکانے والی بات کے باوجود وہ معتدل بنا رہے۔ اشتعال انگیزی پر بھڑک اٹھنے والا آدمی اگر اپنی عقل کو کھو بیٹھتا ہے تو اشتعال انگیزی پر نہ بھڑکنے والے آدمی کو یہ خصوصیت حاصل ہوگی کہ اس کے جذبات پوری طرح اس کے قابو میں ہوں اور اس کی عقل معاملے کو ٹھیک ٹھیک سمجھے اور وہ درست طور پر اپنی جوابی کاروائی کا منصوبہ مومن کی یہی صفت ہے جو اس کو صاحب فراست بناتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ بے پناہ حد تک نا قابل تسخیر ہو جاتا ہے۔

مومنانہ عمل، دوسرے لفظوں میں، ایک صابرانہ عمل ہے۔ اور غیر مومنانہ عمل اس کے مقابلے میں ایک عاجلانہ عمل۔ صابرانہ کاروائی منصوبہ بند کاروائی کا نام ہے اور عاجلانہ کاروائی غیر منصوبہ بند کاروائی کا نام۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عاجلانہ کاروائی ہمیشہ ناکام ہوتی ہے، اور صابرانہ کاروائی ہمیشہ کامیاب۔ تاریخ کے تمام تجربات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں کوئی بھی استثناء نہیں۔

Printed page