قساوتِ قلب
Al-Risala, June 1999, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ کیا ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت اور ان میں سے اکثر نا فرمان ہیں (الحدید ۱۶)
اس آیت میں قساوت سے مراد دل کا سخت ہو جانا یا بے حس ہو جانا ہے۔ یہ کیفیت ہمیشہ ان قوموں کے ساتھ پیش آتی ہے جن کو خدا کی کتاب دی گئی اور پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ حامل کتاب گروہ کی ابتدائی نسل میں ایمانی حساسیت زندہ رہتی ہے۔ بعد کی نسلوں میں یہ کیفیت باقی نہیں رہتی۔ اس کے بجائے لوگوں میں بے حسی آ جاتی ہے۔ کا ظاہری ڈھانچہ اگر چہ ابھی باقی رہتا ہے مگر دین کی اسپرٹ ختم ہو جاتی ہے۔ اسی حالت کا دوسرا نام قساوت ہے۔ قساوت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں میں فرق کا احساس باقی نہیں اپنی بے حسی کی بنا پر لوگ ایک چیز کو دوسری چیز سے بہت زیادہ الگ نہیں کر پاتے۔ نتیجہ میں پورا معاشرہ اخلاقی ابتری کا شکار ہو جاتا ہے۔
بے حس لوگ علمی تنقید اور الزام تراشی کے فرق کے بارے میں زیادہ شدید نہیں اس لئے وہ لوگوں کے خلاف الزام کی زبان بھی اسی اطمینان کے ساتھ بولتے ہیں جس طرح حقیقت کا اظہار کرتے وقت انھیں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ ایک جھوٹ بات بھی اسی آسانی سے کہہ دیں گے جس طرح ایک سچ بات کہی جاتی ہے۔ وہ خیانت کا معاملہ کرنے میں بھی اتنا ہی جری ہوتے ہیں جتنا کہ امانت کا معاملہ کرنے میں۔
حساسیت اس بات کی ضامن ہے کہ آدمی حق اور ناحق کے فرق کو شدت کے ساتھ اس کے بر عکس جن لوگوں میں یہ شدت احساس موجود نہ ہو وہ دونوں کے فرق کو
نہیں سمجھیں گے ۔ وہ ایک ناجائز فعل کو بھی اسی طرح کھلے دل کے ساتھ کریں گے جس طرح کوئی شخص ایک جائز فعل کو کرتا ہے ۔
اس شدت احساس کا تعلق زندگی کے ہر پہلو سے ہے۔ کوئی آدمی اگر دوسرے کی غلطی پکڑنے میں شدتِ احساس کا مظاہرہ کرے تو اس کے اندر یہی شدت خود اپنی غلطی کو محسوس کرنے کے بارے میں بھی ہونی چاہئے ۔ یہ قساوتِ قلب کی علامت ہے کہ آدمی دوسرے کی غلطی کے معاملے میں شدید ہو اور اپنی غلطی کے معاملے میں وہ غیر شدید ہو جائے۔ اگر آپ دوسرے آدمی کی ایک غلطی کو لے کر اس کا زور و شور کے ساتھ اعلان کریں تو اس کے ساتھ آپ کے اندر یہ مادہ بھی ہونا چاہئے کہ جب یہ معلوم ہو کہ جس چیز کو آپ نے غلطی سمجھا تھا وہ غلطی تھی ہی نہیں تو آپ کو اسی شدت کے ساتھ خود اپنی غلطی کا اعتراف کرنا اس دنیا میں اعلانِ حق کا کریڈٹ صرف اس شخص کو ملتا ہے جو اسی طاقت کے ساتھ اعتراف حق کا ثبوت بھی دے سکے۔ اعلان حق وہی معتبر ہے جس کے ساتھ اعتراف حق کا جذبہ بھی آدمی کے اندر پوری طرح پایا جاتا ہو۔ اعتراف حق کا تعلق اپنی ذات سے ہے اور اعلان حق کا تعلق دوسرے کی ذات سے۔ اور خدا کا یہ قانون ہے کہ جو آدمی اپنی ذات کو حذف کر کے صرف دوسروں کے بارے میں سوچے اس کو کبھی اعلان حق یا اقامت حق کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا۔ بے حس انسان اور حساس انسان میں وہی فرق ہے جو ایک جانور میں اور ایک حقیقی انسان میں ہوتا ہے ۔ جانور حق و باطل کے احساس سے خالی ہے۔ ایک جانور اگر کسی کو سینگ مارے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت نہیں کرے گایا اگر وہ کسی غیر کے کھیت میں گھس کر اس کی فصل کھا لے تو اس کو یہ احساس نہیں ستائے گا کہ اس نے ایک ناحق کام کیا ہے۔ مگر انسان فطری طور پر اپنے اندر حق و باطل کی تمیز رکھتا ہے۔ یہ فطری تمیز جب تک اس کے اندر زندہ ہو اس وقت تک وہ انسان کے درجہ میں رہتا ہے اور جب اس کی یہ داخلی تمیز کند ہو جائے تو اس کے بعد وہ انسانیت کے درجہ سے گر کر حیوان کے درجہ میں پہنچ جاتا ہے۔