Al-Risala · June 1999

خبر کی تحقیق

Al-Risala, June 1999, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ کوئی فاسق اگر تمہارے پاس کوئی سنگین خبر لائے تو تم اچھی طرح اس کی تحقیق کرلو (الحجرات (۶) صحیح مسلم کی ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کفی بالمرء كذبا ان يحدث بكل ما سمع (مشكوة المصابيح ۱/۵۵) یعنی کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے (اور پڑھے) اس کو وہ بلا تحقیق بیان کرنے لگے۔ اس معاملہ کی ایک مثال یہاں درج کی جاتی ہے۔

عربی زبان کا ایک لغت ”المنجد“ کے نام سے ہے۔ اس کو ایک مسیحی پادری لوئیس معلوف نے تیار کیا ہے۔ وہ لبنان میں ۱۸۶۷ میں پیدا ہوا اور ۱۹۲۶ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کتاب المنجد کا ۲۶ واں ایڈیشن ہے جو بیروت سے ۱۹۷۳ میں چھپا ہے۔

عربی زبان کی اس مشہور اور متداول لغت میں الطلقاء کا مفہوم ان الفاظ میں دیا گیا ہے : الذين ادخلوا فى الاسلام كرها (صفحہ ۷۱۰) یعنی طلقاء سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اسلام میں جبرأ داخل کیا گیا۔

اگر کوئی شخص مذکورہ کتاب کے اس بیان کو لے اور مزید تحقیق کے بغیر اس کو پھیلانے اور نقل کرنے لگے تو قرآن کی مذکورہ تعلیم کے مطابق، یہ سخت گناہ کی بات ہوگی کیوں کہ کسی بات کا ایک کتاب میں چھپ جانا اس کا ثبوت نہیں کہ وہ کوئی درست بات ہے۔ عین ممکن ہے کہ چھپنے کے باوجود وہ ایک بے بنیاد بات ہو۔ اخبار یا میگزین میں چھپنا تو درکنار، حوالہ کی کتاب (ریفرنس بک) میں شاندار طور پر چھپنا بھی اس کی صحت کا کوئی ثبوت نہیں۔ اب اگر تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک سراسر لغو اور بے بنیاد بات ہے۔ عربی لفظ طلیق کی جمع ہے۔ اس کے معنی آزاد کے ہوتے ہیں۔ طلقاء کے معنی ہیں آزاد لوگ۔ طلقاء کا یہ لفظی مفہوم مذکورہ بیان کی کھلی تردید ہے۔ کیوں کہ جن لوگوں کو جبرأ مسلمان بنایا گیا ہو

ان کا نام طلقاء (آزاد) رکھنا سراسر نا قابل فہم بات ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ حقیقی واقعات مذکورہ بیان کی قطعی تردید کرتے ہیں۔ تاریخ میں الطقاء کن لوگوں کو کہا گیا تھا، یہ ایک معلوم اور مشہور واقعہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ نبوت کے بیس سال بعد مکہ فتح ہوا۔ اس وقت یہاں کے تمام سردار آپ کے پاس لائے گئے۔ مسلمہ طور پر جنگی مجرم کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی ۔ اور نہ ان کے ساتھ تشدد کا کوئی معاملہ کیا۔ اس کے بجائے آپ نے ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اذهبوا فأنتم الطلقاء (البداية والنهاية لإبن كثير، الجزء الرابع صفحه ۳۰۱) یعنی جاؤ، پس تم لوگ آزاد ہو۔

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ المنجد میں چھپی ہوئی بات اصل واقعہ کے سراسر خلاف مگر اس کا غلط اور بے بنیاد ہونا صرف اس وقت معلوم ہو گا جب کہ علمی اصول کے مطابق اس کی تحقیق کی جائے۔ اس بیان کا غلط ہونا المنجد کے صفحات میں نہیں ملے گا بلکہ اس خارجی مواد میں ملے گا جو اس بیان سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، الطلقاء کی لغوی اور تاریخی تحقیق سے نہ کہ صرف المنجد کے مذکورہ صفحہ کے پڑھنے سے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی آدمی ایک سنگین بات کو سنے یا پڑھے تو اس کو ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اس کو سن کر یا پڑھ کر مان لے اور اس کو لوگوں کے درمیان پھیلانے لگے۔ اگر آدمی کے اندر اللہ کا ڈر ہے تو اس کو اللہ کی پکڑ کے اندیشے سے ایسے فعل سے بچنا چاہئے۔ قرآن وحدیث کے مطابق یہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ کوئی آدمی اگر سنی یا پڑھی ہوئی خبر کی تحقیق نہ کرنا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ چپ رہے نہ کہ وہ بلا تحقیق بولنے لگے۔ ایسی حالت میں چپ رہنا تو آدمی کے لئے قابل معافی ہو سکتا ہے مگر بولنا ہر گز اس کے لئے قابل معافی نہیں۔ بری خبر کی تحقیق کرنا فرض ہے، اور بری خبر کو تحقیق کے بغیر بیان کرنا حرام ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو شریعت اسلامی کے اس اہم مسئلہ کو جانتے ہوں۔

Printed page