Al-Risala · June 1999

Prima facie it stands rejected.

Al-Risala, June 1999, pp. 38–40

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ آیت میں یعظکم الله ان تعودوا لمثله ابداً (النور ۱۷) کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس حکم کا تعلق صرف حضرت عائشہ سے نہ تھا بلکہ اس کا تعلق تمام مسلمانوں سے اور ہمیشہ کے لئے تھا۔ اس شدید حکم کے باوجود آپ کی جماعت کے لوگوں نے اس مذموم فعل کو میرے ساتھ دہرایا اور اس کے خلاف آپ کی جماعت میں کوئی آواز بلند نہیں کی گئی۔ اس طرح آپ کی جماعت کے تمام لوگ براہ راست یا بالواسطہ طور پر علی الاعلان اس ممنوع فعل کے مرتکب ہو اس جرم سے آپ حضرات اس وقت تک بری الذمہ نہیں ہو سکتے جب تک اعلان و

اشاعت کے ساتھ آپ لوگ اس سے توبہ اور رجوع نہ کریں۔ مذکورہ خط جیسی تحریر صرف آپ حضرات کی سرکشی میں اضافہ کرتی ہے، وہ ہر گز آپ کے جرم میں کوئی کمی کرنے والی نہیں۔ ایک اور پہلو سے دیکھیے تو آپ کی جماعت کے لوگوں نے مجھ کو اس معاملہ میں جس - طرح شرمناک طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی وہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک بدترین جرم نظر آئے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ لۃ ۱۴۷ سے پہلے کے دور میں غیر منقسم ہندوستان میں ہر روز سیکڑوں آدمی اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد یہ عمل رک گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے کے دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نارمل تعلقات تھے۔ نفرت اور کشیدگی کا ماحول نہیں تھا۔ اس نارمل فضا میں روز مرہ کی ملاقاتوں کے دوران دعوت کا عمل فطری طور پر جاری تھا۔ ملکی تقسیم کی تحریک اور پاکستان کے قیام کے نتیجہ میں طرفین کے درمیان جو تلخی پیدا ہوئی اس نے اس دعوتی عمل (process) کوروک دیا۔

پچھلے تقریباً ۳۰ سال سے میں خاموشی کے ساتھ یہ کوشش کرتا رہا ہوں کہ دونوں گروہوں کے درمیان تلخی اور کشیدگی کا ماحول ختم ہو تا کہ دونوں کے درمیان دوبارہ اوپن ڈائیلاگ اور دعوت کا فطری عمل دوبارہ جاری ہو جائے۔ میرا یقین ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان نارمل فضا قائم ہوتے ہی عین وہی فائدہ یہاں حاصل ہو گا جو صلح حدیبیہ کے بعد اسلام کے دور اول میں حاصل ہوا تھا۔ اور خود اس ملک میں ۱۹۴۷ء سے پہلے کے دور میں عملاً

اس دعوتی ماحول کو قائم کرنے کے لئے میں نے غیر معمولی قربانیاں دیں۔ کے نقصانات اٹھائے۔ مثال کے طور پر ملک کے دوسرے مسلم رہنما کچھ نو پرابلم ہندوؤں کے ساتھ خوشگوار ملاقات کر لینے کو کافی سمجھے ہوئے تھے۔ میں نے تجربہ کے بعد دریافت کیا کہ اصل مسئلہ پرابلم ہندوؤں کو نارمل بنانے کا ہے۔ چنانچہ میں نے ہر قسم کی مصیبت اٹھا کر پرابلم ہندوؤں کے درمیان انٹر ایکشن بڑھا لیا جو کہ بلاشبہ ایک سخت دشوار کام تھا۔ اللہ کی تائید سے میری

اس کوشش کے غیر معمولی نتائج بر آمد ہونے لگے۔ ۱۹۹۲ کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا رک جانا میری انہی کوششوں کا ایک براہ راست نتیجہ ہے۔

مگر عین اس وقت آپ کی جماعت کے لوگوں نے میرے خلاف اندھی دشمنی کے نتیجہ ۔ میں تصویر کے جھوٹے شوشہ کو لے کر ایک ایسا عمومی ہنگامہ کھڑا کیا جو عملی طور پر میرے پورے دعوتی منصوبہ کو تہہ و بالا کر دینے کے ہم معنی تھا۔ آپ کی جماعت کے لوگوں نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت بڑے پیمانہ پر مجھ کو اس طرح بد نام کرنے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کی نظر میں میری تصویر اس طرح بگڑ جائے کہ وہ میرے پروگراموں میں شرکت یا تعاون سے توحش

آپ کی جماعت کے لوگ میرے خلاف دشمنی میں اتنے اندھے ہو گئے کہ انہیں یاد نہ رہا کہ وہ اپنی اس مہم سے صرف ایک شخص کو بدنام نہیں کر رہے ہیں بلکہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے ایک اہم اور دور رس منصوبہ کو معطل کرنے کی کوشش کے مجرم بن رہے ہیں۔ یقین ہے کہ آپ کی جماعت کی یہ مذموم کوشش یقینا بے اثر ہو کر رہ جائے گی۔ اور اللہ کی مدد سے یہ دعوتی عمل بدستور جاری رہے گا۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں آپ کی جماعت کے لوگوں نے اس گناہ عظیم کا ارتکاب کیا ہے جس کو قرآن میں صد عن سبیل اللہ (الاعراف ۴۵) کہا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی پوری جماعت براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس سنگین جرم کی مجرم بن چکی ہے، الا یہ کہ یہ لوگ اپنے اس جرم کا اسی طرح کھلے طور پر اعتراف کریں جس طرح انہوں نے کھلے طور پر اس جرم کا ارتکاب کیا تھا۔

دعاگو وحید الدین ۲۳ اپریل ۱۹۹۹ M. A. Jameel Ahmad. Islamic Foundation Trust 78, Perambur High Road, Madras-600 012 Tel. 6424401,6421101, (Fax-4835120)

Printed page