Al-Risala · June 1999

سوال و جواب

Al-Risala, June 1999, pp. 41–44

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اخلاص میں برکت ہے۔ جو کام اخلاص کے بغیر کیا جائے اس میں کوئی برکت اس کا مطلب کیا ہے۔ براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں (شاہ فیصل، دہلی) یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ یہ ایک سادہ حقیقت ہے۔ اس کو مذہب کی زبان میں کہنا ہو تو یہ کہیں گئے کہ اخلاص میں برکت ہوتی ہے۔ اور فطرت کی زبان میں کہنا ہو تو یہ کہا جائے گا کہ تاثیر صرف اس کام میں ہے جس کو انسانی درد کے ساتھ کیا گیا ہو۔ پروفیشنل طور پر کئے گئے کام میں کوئی تاخیر نہیں ہو سکتی۔ برکت یا تاخیر کا تعلق صرف بات سے نہیں ہے بلکہ اس سے ہے کہ بات کو کس طرح کہا گیا ہے۔ ایک پیشہ ور گیت کار مترنم لہجہ میں اخلاق اور محبت کا گیت گائے تو سننے والے اس سے وقتی لطف لے سکتے ہیں مگر اس کا یہ نتیجہ نہیں ہو سکتا کہ سننے والے اپنی عملی زندگیوں میں غیر اخلاقی روش کو چھوڑ دیں اور اخلاقی قدروں کو اپنی زندگی میں اختیار کر لیں۔ کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر پہلے ہی سے جانتے ہیں کہ یہ آدمی ذاتی مفاد کے لئے ایسا کر رہا ہے نہ کہ حقیقۂ اصلاح انسانیت کے لئے۔ اس کے بر عکس با مقصد اور در مند آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صبح و شام اس لئے تڑپ رہا ہوتا ہے کہ لوگ بے اخلاقی کا طریقہ چھوڑ دیں اور با اخلاق زندگی اختیار کریں۔ وہ اپنی تنہائیوں میں لوگوں کی اصلاح کے لئے دعائیں کرتا ہے۔ وہ رات دن سوچتا ہے کہ بات کو کس طرح زیادہ بہتر انداز میں کہے جو لوگوں کے لئے موثر ہو سکے۔ روحانیت اس کے لئے صرف کہنے کی بات نہیں ہوتی بلکہ وہ عملاً کرنے کی بات ہوتی ہے۔ وہ اس کو جنت اور جہنم کا مسئلہ سمجھتا ہے، اس لئے دوسروں کو سنانے سے پہلے وہ خود اس کا عملی پیکر بن جاتا وہ کہنے سے پہلے کرنے والا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس کا کہنا صرف کہنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے دل کے درد کو انڈیلینا ہوتا ہے۔ اس کا لکھنا اور بولنا صرف لکھنا اور بولنا نہیں ہوتا بلکہ اس میں اس کا پورا وجود شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے قلم کی سیاہی بازار کی سیاہی نہیں ہوتی بلکہ وہ آنسوؤں سے بنی ہوئی سیاہی

اس کی آواز ہوا کی لہروں پر سفر نہیں کرتی بلکہ وہ دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ایک روح سے نکل کر دوسری روح تک پہنچتی ہے۔ اسی کا نام اخلاص ہے، اور جو بات اس اخلاص کے ساتھ نکلے وہ از دل خیز در دل ریز کی مصداق ہوتی ہے، الایہ کہ سننے والا ایک ایسا انسان ہو جس کے سینہ میں بد قسمتی سے دل ہی نہ ہو، ایسا آدمی پتھر کا ایک مجسمہ ہوگا کہ حقیقتاً کوئی زندہ انسان۔ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اکثر آپ کے خلاف بولتے رہتے ہیں۔ مگر وہ ہمیشہ عیب جوئی اور الزام تراشی کی زبان میں بولتے ہیں۔ وہ شوشتے نکال کر آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ لوگ دلیل کی زبان میں آپ کی کاٹ کریں یا قرآن وحدیث کے حوالوں سے آپ کی بات رد کریں۔ آخر اس روش کے پیچھے نفسیات کیا ہے۔ یہ لوگ کیوں ایسا کرتے ہیں جب کہ مجھے یقین ہے کہ اس قسم کی باتوں سے نہ آپ کی تردید ہوتی ہے اور نہ کوئی ان سے متاثر ہو سکتا (ڈاکٹر انوار الحق، اعظم گڑھ)

اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔ آپ کے پاس اپنے حریف کے لئے اگر بم ہو تو آپ اس کے اوپر بم ماریں گے، آپ اس کی طرف کنکری نہیں پھینکیں گے۔ البتہ اگر آپ محسوس کریں کہ میرے پاس اپنے حریف کے خلاف کوئی طاقت ور ہتھیار نہیں تو دل کا بخار نکالنے کے لئے آپ اس کو گالیاں دیں گے۔ کنکری پھینک کر یہ تسکین حاصل کریں گے کہ آپ نے اس کو اپنی زد میں لے لیا جو لوگ میرے خلاف عیب زنی اور الزام تراشی کی مہم چلا رہے ہیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ دلائل کے اعتبار سے وہ بالکل بے بس ہیں۔ یہ الرسالہ کا ہر قاری جانتا ہے کہ میں جو کچھ لکھتا ہوں ہمیشہ قرآن وحدیث کے حوالوں کی روشنی میں لکھتا ہوں۔ ایسی حالت میں جو لوگ میرے خلاف عیب جوئی اور الزام تراشی کا طریقہ اختیار کریں انھوں نے صرف مجھ کو نشانہ نہیں انھوں نے قرآنی دعوت کو رد کیا۔ انھوں نے اپنی زبان حال سے یہ کہا کہ ہم کو قرآن

وحدیث سے کوئی مطلب نہیں، ہم کو صرف اپنے تعصبات سے مطلب ہے۔ بظاہر اگر چہ وہ مجھ کو برا بھلا کہتے ہیں مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ قرآن وحدیث کے مقابلہ میں سرکشی کر رہے ہیں۔ وہ نعوذ باللہ خدا ورسول کی ناقدری کرنے کے مجرم بن رہے ہیں۔ ان حضرات کی یہ روش اپنی حقیقت کے اعتبار سے قرآن کے اس ارشاد کی مصداق ہے ”یہ لوگ تم کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں۔

کچھ مسلمانوں کو آپ سے جو شکایت ہے، وہ اس وقت شروع ہوئی جب آرایس ایس اور کٹر ہندوؤں کے جلسوں میں جانے لگے۔ مسلمان عام طور پر ان عناصر کو مسلم دشمن سمجھتے ہیں۔ اس لئے جب آپ ان کے جلسوں میں جانے لگے تو کچھ لوگوں کو آپ کے بارے میں یہ شبہ ہوا کہ آپ خدا نخواستہ ان کے آلہ کار بن گئے ہیں۔ یہ سوال ان مسلمانوں کے ذہن میں بھی ہے جو اسلام کے بارے میں آپ کی تحریروں کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ براہ کرم اس مسئلہ کی وضاحت (عمران احمد اصلاحی، دہلی)

اس معاملہ میں لوگوں کا شبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ یہ تو میں ایک بھولی ہوئی سنت کو زندہ کر رسول اللہ ﷺ کافروں اور مشرکوں کی مجلسوں میں اور ان کے میلوں اور بازاروں میں جاتے تھے تاکہ انھیں اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ یہ لوگ خود اپنے اجتماعات ہی میں بڑی تعداد میں مل سکتے ہیں، کسی اور جگہ ہم ان کو نہیں پا سکتے۔ اس لئے ان کو عمومی طور اسلام سے متعارف کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ خود ان کے اجتماعات میں شرکت کی جائے۔ آر ایس ایس کے لوگ میرے اس مقصد کو بخوبی جانتے ہیں۔ چنانچہ آرایس ایس کے انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر (دہلی) نے میرے بارے میں دو قسطوں میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا: ایک مبلغ مولانا (A Missinary Maulana) آرایس ایس کے ایک لیڈر ڈاکٹر مہیش چندر شرمانے ہندی

اخبار راجستھان پتریکا میں میرے بارہ میں ایک مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ دوسرے مسلمانوں کا طریقہ عداوت کا ہے اور مولا نا وحید الدین کا طریقہ دعوت کا۔ دہلی کے قکی آڈیٹوریم میں ایک جلسہ ہوا۔ یہ جلسہ دہلی کے آرایس ایس حلقہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ صرف دو مقرر تھے۔ ایک میں اور دوسرے جناب اٹل بہاری واجپئی۔ میں نے اپنی تقریر کا موضوع وما ارسلناك الا رحمة للعالمين بنایا۔ اور تقریباً آدھ گھنٹہ کی پوری تقریر اسلام کے تعارف پر کی۔ اس کے بعد جناب اٹل بہاری واجپئی اسٹیج پر آئے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر کی اور شروع ہی میں مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مولانا صاحب، یہ وچ منچ ہے، یہ پرچار منچ نہیں۔ اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ میں ”کٹر ہندوؤں“ کے جلسوں میں جاتا ہوں تو وہاں میں اپنی تقریر میں کیا بات کہتا ہوں۔ جو لوگ پابندی کے ساتھ ماہنامہ الرسالہ پڑھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ میری زندگی کا واحد مشن دعوت ہے۔ اسلام کے پیغام رحمت کو تمام قوموں تک پہنچانا۔ اسی کو میں نے اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے۔ کے اندر اور ملک کے باہر ہر جگہ میں مسلسل یہی کام کر رہا ہوں۔ آرایس ایس کے جلسوں میں جانا بھی اسی سلسلہ تعارف کی ایک کڑی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانہ میں اسلام اجنبی ہو موجودہ زمانہ میں چونکہ غیر مسلموں میں جا کر انھیں اسلام کا پیغام پہونچانے کا کام تقریباً ختم ہو گیا ہے اسلئے کچھ لوگ اس کو اجنبیت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر مجھے یہ یقین ہے کہ میرا یہ عمل ایک عبادت ہے۔ میں اللہ سے یہ امید رکھتا ہوں کہ میرا یہ کام انشا اللہ اس مخصوص دینی عمل میں شمار کیا جائے گا جس کو حدیث میں مردہ سنت کو زندہ کرنے کا نام دیا گیا ہے۔ دین پر عمل کرنے والا فوراً لوگوں کی نظر میں مقبول بن جاتا ہے۔ لیکن متروک دین پر عمل کرنے کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دین کے متروک جزء پر عمل کرنا ہمیشہ نہایت مشکل کام ہوتا چنانچہ اس کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ ان اعظم الجزاء مع عظم البلاء (الترمذی، کتاب الزهد)

Printed page