Al-Risala · July 1999

تاریخ کو انتظار ہے

Al-Risala, July 1999, pp. 5–9

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوؤں کا ایک طبقہ ہندوستانی مسلمانوں کو ملک کے لئے اثاثہ (asset) کے روپ میں نہیں دیکھ پاتا۔ اس کے بجائے وہ ان کو ایک بوجھ (liability) کے روپ میں دیکھتا ہے۔ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ یہ کسی اقلیت کے اس فطری کردار کی نفی ہے جو اس کے لئے فطرت کے اٹل قانون کے تحت مقدر ہے۔

انگریز مؤرخ آرنلڈ ٹوائن بی نے اپنی مشہور کتاب اسٹڈی آف ہسٹری میں تاریخی شواہد کے ساتھ بتایا ہے کہ یہ اقلیتیں ہی ہیں جو ہمیشہ کسی ملک میں کوئی انقلابی کردار ادا کرتی ہیں۔ ہندوستان کی مسلم اقلیت بلاشبہ اس معاملہ میں کوئی استثنا نہیں۔

امام النسائی کی روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی ایک پیشین گوئی میں فرمایا کہ میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کو اللہ نے آگ کے عذاب سے محفوظ کر دیا ہے۔ گروہ وہ جو ہند میں غزوہ کرے گا۔ اور دوسرا اگر وہ وہ جو عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ہو گا (عصابتان من امتی احرزهما الله من النار: عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى ابن مریم) جامع الاصول في احاديث الرسول، الجزء التاسع، ۲۰۲۔

میرے نزدیک اس حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ ہندوستان کے مسلمان اس ملک میں ایک اہم تعمیری کردار ادا کریں گے۔ وہ اس ملک کو حقیقی عظمت اور ترقی کا مقام دلانے کا ذریعہ ثابت ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ وقت اب آخری طور پر آگیا ہے۔

اس پیغمبرانہ پیشین گوئی کی تکمیل کے لئے ہندوستانی مسلمانوں کو کیا کرنا ہے۔ صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس ملک میں احتجاجی گروہ کے طور پر رہنے کا انداز چھوڑیں اور تخلیقی گروہ

(creative group) بن کر رہنا سیکھیں۔ وہ لینے والے گروہ نہ رہیں بلکہ وہ اس ملک میں دینے والے گروہ بن جائیں۔ اور یہی اسلام کا تقاضا ہے۔ اس کے بعد ملک میں ایک نیا دور آ جائے گا۔ جب کہ ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک کے روپ میں ابھرے گا اور دنیا کے نقشہ میں اپنا وہ مقام حاصل کر لے گا جو اس کے لئے مقدر ہے۔

سوامی وویکانند نے ۱۸۹۸ میں کہا تھا کہ مستقبل کا ہندوستان ایک پر عظمت ہندوستان (glorious India) ہوگا اور اس پر عظمت ہندوستان کی تعمیر ہندو اور مسلمان دونوں مل کر کریں یہ بات بلا شبہ درست ہے مگر ہندو اور مسلمان دونوں کو یہ تاریخی کردار ادا کرنے کے لئے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرنا ہوگا۔ ضروری اہلیت کے بغیر دونوں میں سے کسی کے لئے بھی اس تاریخی کردار کو انجام دینا ممکن نہیں۔

ہندوؤں میں سے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ملک ان کے نام الاٹ کر دیا گیا ہے۔ ایک خطر ناک قسم کی غلط فہمی ہے۔ اس ذہن کے ساتھ ان کے لئے اپنا مطلوب کردار ادا کرنا ممکن ہندو بلا شبہ اس ملک میں اکثریتی فرقہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر ہر اکثریت آخر کار فطرت کے اٹل قانون کے تحت ہے نہ کہ اس سے آزاد۔ اس دنیا میں ہر اکثریت اسی طرح فطرت کے قانون کے تابع ہے جس طرح کوئی اقلیت۔

ہندوؤں کو یہ کرنا ہوگا کہ مسلمانوں کو وہ سادہ طور پر محض عددی تناسب کے نقطۂ نظر سے نہ دیکھیں بلکہ وہ انھیں اپنا فطری شریک کار سمجھیں۔ وہ مسلمانوں کو ہندوستانی گاڑی کے دوسرے پہیہ کی حیثیت سے قبول کریں۔ اس کے بغیر ملک میں کوئی حقیقی ترقیاتی عمل شروع نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ مذکورہ حدیث رسول کے مطابق، اس ملک میں انھیں جو تعمیری رول ادا کرنا ہے اس کی لازمی شرط بھی یہی اہلیت ہے۔

مسلمان اس اہم کردار کی ادائیگی کے اہل صرف اس وقت بن سکتے ہیں کہ وہ اپنے آپ میں وہ ضروری لیاقت پیدا کریں جس کو تخلیقیت (creativity) کہا جاتا ہے۔ تخلیقی گروہ وہ ہے جو منفی طرزِ فکر سے پاک ہو اور معاملات کو صرف مثبت انداز سے دیکھے، جو دوسروں کے ساتھ تعلقات میں بلند نظری کا طریقہ اختیار کرے نہ کہ تنگ نظری کا جو اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ڈیوٹی پر نظر رکھتا ہو۔ جو اپنے جذبات سے زیادہ دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا جانتا ہو، جو اشو اور نان اشو میں فرق کرے اور صرف ان چیزوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے جو تغیر و ترقی کے عمل کے لئے حقیقی اشو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تخلیقی گروہ وہ ہے جو گروہی ذہنیت سے پاک ہو اور معاملات کو انسانیت کے نقطۂ نظر جس کے دل میں دوسروں کے لئے خیر خواہی ہو نہ کہ نفرت و حقارت۔ جس کا تحمل کا مزاج اس کو اتنا اوپر اٹھا دے کہ وہ اشتعال انگیز چیزوں پر بھی مشتعل نہ ہو۔ جو اعلیٰ مقصد کے لئے جینے والا ہو نہ کہ محض ذاتی مفاد کے لئے جینے والا۔

تخلیقی گروہ وہ ہے جو اپنی اعلیٰ صفات کی بنا پر اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ مسلسل طور پر ذہنی اور فکری ترقی کرتا رہے۔ وہ اس قابل ہو کہ مسائل کا نیا اور برتر حل دریافت کر لے۔ زندگی کے ہر بند دروازہ کو کھولتا ہوا آخری منزل تک پہنچ جائے۔ کوئی بھی چیز اس کے سفر کو روکنے والی ثابت نہ ہو۔

یہی وہ صفات ہیں جن کو قرآن میں خلقِ عظیم (القلم۔ ۴) کہا گیا ہے۔ یعنی بلند نظری اور بلند کردار داری۔ بلند نظر اور بلند کردار لوگ ہی اس دنیا میں کوئی بڑا کام کرتے ہیں۔ اس دنیا کے لئے فطرت کا قانون یہ ہے کہ چھوٹے کردار کے لوگ چھوٹا کام انجام دیں اور بڑے کردار کے لوگ بڑا

اہل اسلام کو دین کی صورت میں جو نعمت ملی ہے وہ کسی ایک گروہ کی وراثت نہیں۔ ساری انسانیت کا مشترک سرمایہ ہے۔ دوسرے انسانوں تک اس سرمایہ کو پہنچانا ایک خدائی امانت

کی ادائیگی کا معاملہ ہے۔ اور صرف اسی جذبہ کے تحت اس کو صحیح طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانہ کا انسان ہزاروں سال تک کوئی بھی علمی یا تمدنی ترقی نہ کر سکا۔ تمام قابل ذکر ترقیاں اسلام کے ظہور کے بعد شروع ہوئیں۔

اس وقت کی دنیا مخلوقات کی پرستش میں پھنسی ہوئی تھی، اہل اسلام نے اس کو مخلوقات کی پرستش سے اوپر اٹھا کر خالق کی پرستش کا رستہ دکھایا۔ لوگ فطرت کے مظاہر کو مقدس مان کر اس کے سامنے صرف اظہار عقیدت کرنا جانتے تھے، اہل اسلام نے اس کے بجائے ان کے اوپر فطرت کی تسخیر کا دروازہ کھولا۔ لوگ دولت اور اقتدار کو معبود کا درجہ دے کر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھے ہوئے تھے۔ اہل اسلام نے دولت اور اقتدار کو ضرورت اور خدمت کے خانے میں ڈال کر انسان کو عظمت کا درجہ عطا کیا۔ لوگ اپنے مفروضہ عقائد کی بنا پر طرح طرح کے توہمات (superstitions) میں مبتلا تھے، اہل اسلام نے ان کو مفروضات اور توہمات سے نکال کر حقائق کی سطح پر سوچنے والا بنایا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ”اسلام دور جدید کا

فکر انسانی میں یہ انقلاب پہلی بار اہل اسلام یا اہل توحید کے ذریعہ وقوع میں آیا۔ انقلاب نے انسانیت کے اوپر تعمیر و ترقی کا وہ دروازہ کھول دیا جو ہزاروں سال سے اس کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔

قدیم زمانہ کا انسان مشرکانہ افکار میں جیتا تھا۔ زندگی کا ہر شعبہ شرک کے ماتحت ہو گیا تھا۔ شرک اپنی حقیقت کے اعتبار سے توہم پرستی کا نام ہے۔ اور توہم پرستانہ مزاج، بالفاظ دیگر غیر سائنٹفک مزاج، کے ساتھ کبھی کوئی حقیقی ترقی نہیں ہو سکتی۔ اہل اسلام کی صورت میں دنیا کو پہلی بار ایک ایسا انسانی گروہ ملا جس کا فکر خالص توحید پر مبنی تھا، وہ شرک اور توہم پرستی سے پوری طرح آزاد تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کے ذریعہ دنیا کو پہلی بار حقیقت پسندی کا سبق ملا۔ لوگوں کے لئے یہ ممکن ہوا کہ وہ توہمات سے آزاد ہو کر فطری قوانین کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تشکیل کریں۔

کاہی وہ خاص عطیہ ہے جس نے انسانیت کی تاریخ کو ترقی کے نئے دور میں داخل کر دیا۔ ہندوستان کی جدید تاریخ بھی اہل اسلام کے اسی توحیدی رول کا انتظار کر رہی ہے۔ ملک کی ترقی ٹھیک اسی مقام پر رکی ہوئی ہے جہاں بقیہ دنیا کی ترقی ماضی میں رکی ہوئی تھی۔ ملک میں ترقی کا نیا عمل عین اسی مقام سے شروع ہو گا جہاں سے وہ بقیہ دنیا میں پچھلے ہزاروں سال کے دوران شروع ہوا تھا۔ ہندوستان میں بھی بقیہ دنیا کی تاریخ کا اعادہ ہونا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسری چیز اس ملک کو حقیقی ترقی کی طرف لے جانے والی نہیں۔

Printed page